گھریلو آپریشن، لیپ ٹاپ کا

 آج اتوار تھا اور میری حالت خراب۔ اب یہ نہ سمجھیے گا کہ چھٹی مجھے ناگوار گذرتی ہے، کس کافر نے یہ کہا کہ چھٹی ناگوار شے ہے۔ میں تو یہ عرض کر رہا تھا کہ صبح جاگ ہوئی تو معلوم پڑا کہ میری عزیز برقی نوٹ بک جس کی حالت گذشتہ شب سے ناساز تھی، اب کے چلنے سے قاصر ہے۔ وجہ اس کی پاور سپلائی اور پاور پلگ کی "جیکٹ" تھی۔ میں کافی عرصہ سے اس کو زور بازو پر چلا رہا تھا۔ آج یہ ہر حیلہ بہانہ خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایسے منہ بسورے بیٹھی تھی کہ جیسے نئی نویلی دلہن، جس کے دماغ میں الگ گھر کا خناس سما جائے!۔
قصور اس بیچاری کا کہاں، میں ایسے شہر میں رہائش پذیر ہوں جہاں لیپ ٹاپ کا کوئی مکینک، انجنئیر وجود نہیں رکھتا، بلکہ مانسہرہ کیا ایبٹ آباد میں بھی شاید ایسا کوئی بندہ خدا اس معاملے میں سنجیدگی کا عنصر نہ رکھتا ہو گا۔ تو سب سے قریب ترین اسلام آباد یا پشاور۔ سو میں دونوں طرف جانے سے قاصر، وجہ وہی ازلی سستی اور کاہلی!۔
آج جب منت سماجت سے تنگ آ گیا، ہارڈ وئیر انجئیروں کی مٹی پلید کر چکا جو بڑے شہروں میں جا ٹھہرے ہیں، اور ایسے ہی اپنا جی بھی کڑا کر لیا تو سوچا "ہُن کی کریے!"۔
سو کڑھ کے بیٹھ گیا، نوٹ بک الگ منہ بسورے اور میری طبیعت پڑوس میں جاری شادی کی دھما چوکڑی سے خراب۔ خوب سوچا اور آن لیا اپنے بڑے بھیا کو، جو ویک اینڈ پر گھر پدھارے تھے۔ 
آدھ گھنٹے کی منت سماجت اور ہا ہو کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ بھائی صاحب اس غیر معمولی طور پر وزنی مشین کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانے سے قاصر ہیں، اور اس چیز کو جسے میں "لیپ ٹاپ" کہنے پر مصر ہوں، اگر اس کو "لیپ" یعنی گود میں رکھو، تو ہفتوں درد کشا مرہموں کا لِیپ کرنا پڑے۔ سو ایسی چیز کے لیے وہ ہرگز اپنی چھٹی برباد نہیں کر سکتے۔
ایسے موقعوں پر میں نے اپنی روایتی عیاری و مکاری کا سہارا لیا اور منت سماجت نئے جوش و جذبے سے شروع کر دی۔ ٹسوئے بہائے، یونیورسٹی کا کام نامکمل رہ جانے پر فیل ہو جانے کی وعید سنائی۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو پاؤں ہی پڑ گیا۔ جس سے ان صاحب کا دل پسیجا اور اس مشین کا آپریشن آج اسی وقت اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا جانا طے ہوا ہی، ساتھ میں یہ میری زمہ داری کہ جی  یا آر یا پار، ڈو آر ڈائی جیسے، کامیابی ان کے سر کا تاج، جبکہ ناکامی کے نزلے کا میں سزاوار!۔
یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ میرا علم اس معاملے میں صفر سے کچھ اوپر ہے جبکہ بھائی صاحب ٹانکے لگانے اور سرکٹوں کی نبض سے کسی حد تک واقفیت رکھتے ہیں۔
سو پہلے مرحلے میں پلاس، پیچ کس وغیرہ کی مدد سے ایک ایک کر کے پیچ کھولنے کا عمل میرے زمے لگایا گیا، اور میں ایک سعادت مند شاگرد چھوٹے کی طرح اس کام میں جھٹ گیا، جیسے اس سے اہم کام اس فانی دنیا میں باقی نہ رہا ہو۔
شروع میں ہی، چھوٹے، بڑے، کالے، سفید، چھوٹے، موٹے غرض ہر طرح کے پیچوں کا ایک انبار لگ گیا۔ بڑے بھائی کا کہنا تھا، کہ مجھے پیچ لیبل کر دینے چاہیں، وہ معاملہ نہ پیش آ جائے کہ، "کسی نے اپنا نیا جاپانی ریڈیو کسی مکینک کے ہاں بجھوایا، اس بندہ باکمال نے نے ریڈیو تو ٹھیک کر دیا، لیکن ساتھ ہی ایک تھیلے میں چند پیچ بھی بجھوا دیے، رقعہ میں لکھ بھیجا کہ، "صاحب، ریڈیو تو میں نے درست کر دیا، لیکن چند پیچ اضافی نصب تھے، سو ساتھ بجھوا رہا ہوں!"۔ میں نے اس لطیفے پر غیر ارادی طور پر گلا پھاڑ کر قہقہہ بلند کیا، جس پر بھائی صاحب کو لگا کہ میں شاید ان کے شگفتہ مذاق کا مذاق اڑا رہا ہوں، سو حالات کو بھانپتے ہی میں نے چہرے پر اپنی خاص، عیارانہ مسکراہٹ سجا لی۔
 احتیاطاً ہر مرحلے پر پیچوں کو سلیشی کاغذ سے لیبل کرتا گیا۔ سو پیچیدہ مرحلہ تب درپیش ہوا جب کہ اس معصوم صورت برقی نوٹ بک کا اوپری پرت اتر گیا، اندر کا منظر دیکھ کر میرا سر چکرانے لگا۔ شیطان کی آنت جیسے سرکٹ اور نجانے کیسے کیسے جناتی آلات، اور ان پر پڑی بے حساب دھول، جو اس کارخانہ پیچیدہ کو اور بھی ہولناک بنا رہی تھی۔ ایسے میں بڑے بھائی نے اپنی زمہ داری سنبھالی۔
 اب سے بڑے بھیا استاد اور میں روایتی چھوٹا۔ میں پیچ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو لیبل کرتا، ہر چیز کو احتیاط سے رگڑ کر صاف کر دینے کے بعد ایک طرف ترتیب سے رکھتا جاتا اور ساتھ ہی ساتھ برمحل استاد کے لیے چائے، پانی اور مختلف کھانے پینے کی چیزیں باہم پہنچاتا رہا۔ ساڑھے تین گھنٹے کی مشقت سے برقی نوٹ بک ریزہ ریزہ ہو گئی، میرے پہلو میں قالین سلیشی کاغذ کی پوٹلیوں سے بھر گئی جس میں ہر پرت کے پیچ احتیاط سے ترتیب وار رکھے گئے تھے، اور ان پر لیبل علیحدہ سے!۔ ایسے میں کہ جب کھولنے کو کچھ  باقی نہ رہا تو، اب کے نشست دوپہر کے کھانے کے بعد ہونی قرار پائی۔
کہتے ہیں کہ تخریب آسان جبکہ تعمیر وبال جان، کھانا کھاتے ہی پھر سے جھٹ گئے۔ اب میرے معمولات میں تبدیلی آ گئی تھی، دوسری زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اب میں اضافی زمہ داریاں جیسے، "کاویہ" گرم کرنے، معقول مشورے نوازنے اور ڈانٹ سننے کے علاوہ بدست قہر خاموش رہنے کے فرائض بھی سرانجام دے رہا تھا۔ 
موسم کچھ سرد تھا لیکن "پاور جیکٹ" ٹھیک کر چکنے کے بعد واپس جوڑنے کا کام انتہائی درجے کی حرارت پیدا کر رہا تھا، میرے تو پسینے چھوٹ رہے تھے، اور رہ رہ کر مجھے اپنے ان بھائی جان کا خیال آ رہا تھا، جنھوں نے مجھے یہ برقی نوٹ بک دلائی تھی، کہ انھوں نے میرا یا تو تکہ بوٹی ایک کر دینی ہے۔ اور ہو سکتا ہے، فیشن کے طور پر شاید سوات میں طالبان کی سزا کے مصداق چالیس کوڑے لگانے سے بھی گریز نہ کریں، کہ واہ بھیا تو نے اچھی درگت کی، ایسی مہنگی مشین کی!۔
خدا خدا کر کے جب ہم آخری کیل بھی ٹھونک چکے، تو میری گناہ گار آنکھیں، خدا جھوٹ نہ بلوائے،  پیچوں کی ایک کاغذی پوٹلی کو دیکھ رہی تھیں۔ استاد جی کھلے منہ پانی پینے اور پاؤں پسارنے کے موڈ میں تھے کہ، میں نے تھوڑے دور رہتے ہوئے، دروازے کے عین قریب سے ان کی توجہ پیچوں کی پوٹلی کی جانب مبذول کرائی، پوٹلی پر نظر پڑتے ہی  صاحب نے ایک خون آلود نظر دوڑائی، کچھ لمحے تامل کیا اور کس کر بیچ کس میری طرف اچھال دیا، جس سے میں کمال فنکاری سے اپنی جان تو بچانے میں کامیاب رہا۔ لیکن لہراتی، بل کھاتی چپل بہرحال میری کمر دوہری کر گئی۔ عافیت میں نے اسی میں جانی کہ باہر کو دوڑ لگا دوں۔ 
تھوڑی دیر کو اپیا سے حالات ایس ایم ایس پر معلوم کیے(خدا خوش رکھے، موبائل کے موجد کو)،  واپس پہنچا تو، بھائی صاحب پیچوں کی تیسری پرت اتارنے میں مشغول تھے۔ خاموشی سے پینے کا پانی ایک گلاس ان کی جانب سرکایا اور لیبل کرنے میں مشغول ہوا۔
قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مشقت سے پھر دوبارہ سب پیچ اپنی جگہ نصب کر چکنے کے بعد تجربہ کیا، تب ہی کہیں صاحب کا غصہ کافور ہوا، کہ برقی نوٹ بک اب کے بالکل صحیح تھی۔ اور پاور پلگ اپنی جگہ صحیح بیٹھ چکا تھا، ورنہ پہلے تو پاور سپلائی بحال کرنے کو، پلگ کے نیچے "گٹکا" یعنی ایک عدد سہارا رکھنا پڑتا تھا۔ کوئی دس گھنٹے سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والے کامیاب آپریشن سے میری کمر اور بھائی صاحب کا دماغ تو دوہرا ہوا ہی،  لیکن ساتھ ہی  کمپیوٹر شاپس پر خواری، اور پنڈی اسلام آباد کے ایک چکر سے بھی بچ گیا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی میسر آیا۔
 تمت بالخیر
 
 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر