قسط نمبر ۵: کشف المحجُوب

گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: زمرہ: برقی کتب، اقساط: قسط نمبر ۱، قسط نمبر ۲، قسط نمبر ۳، قسط نمبر ۴۔
۔۔۔

علم اور اس کے حصول کے بارے میں
علم حاصل کرنا فرض ہے
دین ہو یا دنیا علم کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں پا سکتا۔ اسی لیے حضور نبی کریم ﷺ نے یہ تاکید فرمائی کہ؛ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے“۔ پھر فرمایا؛ علم حاصل کرو چاہے اگرچہ یہ چین (نہایت دور دراز ممالک) میں جا کر حاصل کرنا پڑے“۔ قران مجید میں اللہ عّزوجل نے ارشاد فرمایا؛ (٣٥۔٢٨) یعنی خدا کے بندوں میں سے جو علم رکھنے والے ہیں وہی خدا سے ڈرتے ہیں“۔ نیز فرمایا  (٥٥۔۴۶) یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں“۔ گویا خداوند تعالٰی کا خوف جنت کی کنجی ہے۔ اور یہ خوف علم سے پیدا ہوتا ہے۔ 
لیکن دین میں جس علم کے حصول کو فرض قرار دیا ہے۔ اس سے مراد دنیا جہان کے ہر علم کا حصول نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا میں تو علوم بےشمار ہیں۔ ان سب کا حصول نہ ہر انسان کے لیے ممکن ہے اور نہ اس کے لیے ضروری اور فرض ہے۔ جس علم کا سیکھنا ہر ایک کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے، وہ خداوند تعالٰی کی شریعت اور خصوصاً اس کے فرائض وواجبات کا علم ہے۔ اس کے ساتھ دوسرے علوم کا اس حد تک حصول جس حد تک یہ شریعت الہٰی کے احکام اور ان کے مختلف پہلو سمجھنے کے لیے درکار ہوں وہ آپ سے آپ ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلاً علم طبیعات، علم حساب، علم جغرافیہ، علم نجوم ہیئیت، علم سیاست واقتصادیات، علم قانون، اور علم صنعت وتجارت وغیرہ۔ کیونکہ ان کے کم از کم اصولی علم کے بغیر انسان کی انفرادی واجتماعی اور عمرانی زندگی کے مسائل کا فہم وادراک اور ان پر اصول شریعت کا انطہاق کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے زائد جس قدر علوم آدمی حاصل کرے وہ مستحسن اور مطلوب ہے لیکن فرض نہیں ہے۔
جہاں تک انسان کے لیے مضر اور نقصان دہ اور غیر نافع علوم کا تعلق ہے ان کی اللہ تعالٰی نے بھی مذمت فرمائی ہے اور نبی پاک ﷺ نے بھی اس سے پناہ مانگی ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا؛ (۲۔۱۰۶) یعنی وہ ان باتوں کو سیکھتے جو ان کو ضرر پہنچانے والی ہیں، اور ان کو کوئی فائدہ پہنچنے والی نہیں ہیں“۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع دینے والا نہ ہو“۔ اس لیے ایسے علوم سے الگ رہنا چاہیے۔
علم اور عمل لازم وملزوم ہیں:۔
یاد رکھو کہ علم کے ساتھ عمل ضروری ہے۔ نہ عمل کے بغیر علم نافع ہے، اور نہ علم کے بغیر عمل نفع بخش ہے۔ جس علم کی پشت پر عمل موجود نہ ہو وہ علم جہل ہی کے زمرے میں شامل ہے۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا؛ (٢۔١٠١)۔ یعنی اہلل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا انھیں کچھ علم ہی نہیں ہے۔ اسا سے معلوم ہوا کہ بے عمل عالم اصحاب علم کے زمرے سے ہی خارج ہے، چہ جائیکہ اس علم سے اسے کوئی نفع حاصل ہو۔ اگر عمل کے بغیر مجرد علم کسی درجے میں بھی قابل قدر ہوتاتو اللہ عزوجل کی طرف سے یہ نہ فرمایا جاتا کہ؛ (٦١۔٢-٣) یعنی کیوں کہتے ہو وہ باتیں جو کرتے نہیں ہو۔ یاد رکھو کہ اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی اشتعال انگیز ہے کہ آدمی کہے اور کرے نہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ “ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (قیامت کے روز) خدا کی عدالت سے کوئی شخص خلاصی نہیں پا سکے گا جب تک اس سے ان پانچ چیزو ں کا حساب نہ لے لیا جائے؛۔
١۔ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کن کاموں میں کھپایا۔
٢۔ اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس کو اس نے کن مشاغل میں لگایا۔
٣و٤۔ اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے اس نے کن طریقوں سے اور کیسے کمایا اور کیسے اور کہاں خرچ کیا؟
٥۔ اور یہ کہ جو علم اسے حاصل تھا، اس پر کہاں تک عمل کیا۔
پس جان لو کہ عمل کے بغیر علم کچھ کام نہ آئے گا۔ اور ابھی جب کہ مہلت کی گھڑی حاصل ہے اس بات پر نگاہ کرو کہ کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے فرض اور واجب قرار دی ہیں۔ لیکن آپ ان سے غافل ہیں۔ اور اس کے برعکس کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں خدا اور اس کے رسول ﷺ نے وعیدیں سنائی ہیں۔ اور ان کو ناپسند قرار دیا ہے۔ اور آپ ان میں مبتلا ہیں۔
جس طرح سے عمل کے بغیر علم نافع نہیں ہے، اسی طرح سے علم کے بغیر عمل بھی نافع نہیں ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ بے سمجھے عبادت کرنے والے آدمی خراس کے گدھے (کولھو کے بیل) کی مانند ہے“۔ اس سے معلوم ہوا کہ بے سمجھے بوجھے عبادت کرنے والا عابد کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی شخص صبح سے شام تک فاقے سے رہے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہ خداوند تعالٰی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا زریعہ ہے، تو ان میں سے کوئی فعل بھی عبادت میں داخل نہیں ہو گا۔ ان افعال کو عبادت میں داخل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف اسے ان کے خدا کی رضا کے کام ہونے کا علم ہو بلکہ اس کے ساتھ اس کے دل و جان میں ان کو خدا کی عبادت کے طور پر کرنے کی نیت بھی ہو۔
یہی نہیں، بلکہ جب تک انسان اپنے علم پر عامل نہ ہو، اس کے لیے آگے راہ ہی نہیں کھلتی۔ اپنے علم پر وہ جتنا وہ عمل کرتا جائے گا اس کے لیے آگے راہ کھلتی چلی جائے گی۔ اور جہاں وہ ٹھہر جائے گا آگے راستہ بند رہے گا۔ حضرت ابراھیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ایک پتھر کو راستے میں پڑا دیکھا، جس پر لکھا تھا کہ مجھے الٹ کر پڑھو، میں نے اسے الٹ کر دیکھا تو دوسری طرف لکھا تھا، “جو کچھ تو جانتا ہے اگر اس پر عمل نہیں کرے گا تو اندر ان باتوں کو جاننے کی طلب کیسے پیدا ہو گی جو تو نہیں جانتا“
پس علم اور عمل لازم وملزوم ہیں۔ ایک طرف علم سے صحیح عمل کی راہ کھلتی ہے اور آدمی کو صحیح اور غلط، اور جائز اور ناجائز، اور بھلے اور برے میں تمیز حاصل ہوتی ہے۔ دوسری طرف معلوم پر عمل پیرا ہونے سے ہی علم سے نفع اور فیض حاصل ہوتا ہے۔ اور آگے مزید علم کی راہ کھلتی ہے۔ 
علم کی قسمیں:۔
علم دو ہیں۔ ایک علم خداوند تعالٰٰی کا اور دوسرا علم مخلوق کا۔
خداوند تعالٰی کا عل، اس کا پنا اور کی زاتی صفت ہے۔ اور اس کے ساتھ قائم ہے۔ اس کے علم کی نہ کوئی حد ہے اور نہ انتہا۔ اس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں- وہ تمام موجودات کو بھی جانتا ہے اور تمام معدومات کو بھی۔ یعنی اسے ان سب باتوں اور چیزوں کا بھی علم ہے جو موجود ہیں اور ان سب کو بھی جانتا ہے جو موجود نہیں ہیں۔ قران پاک میں ہے؛ (٢۔ ١٣٢)یعنی اللہ ہر شے کا علم رکھتاہے۔ نیز فرمایا؛ (٦٥- ١٢) یعنی اللہ کا علم ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ (٦۔ ٧٣) یعنی وہ سب کچھ جو مخلوق سے پوشیدہ ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ مخلوق کے لیے ظاہر و معلوم ہے اس کو بھی جانتا ہے“۔ 
اس کے برعکس مخلوق کا علم سب کا سب خدا کا عطا کردہ ہے۔ اور اس کی ایک حد اور انتہا ہے جو خداوند تعالٰی کی طرف سے مقرر کی جاتی ہے۔ یہ حاصل بھی ہوتا ہے اور ضائع بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ (٢۔٢٥٥) یعنی بندے اس کے علم میں سے کوئی چیز کو اپنے احاطہ علم میں نہیں لاسکتے۔ مگر اتنا کہ ہی جتنا وہ خود ان کو دینا چاہے۔ اور پھر فرمایا۔ (١٧۔٨٥)یعنی تمھیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے“۔ اور یہ جان لو کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی خدا کے ساتھ اس کے سارے علم میں شریک نہیں۔ اس لیے طالب کو چاہیے کہ وہ خدا وند تعالٰی کے عطاکردہ علم وہدایت کی مشعل راہ بنائے۔ اور اپنے تمام اعمال میں اس بات کو سامنے رکھے کہ خدا اسے اور اس کے تمام افعال کو دیکھتا ہے۔ 
پھر انسان کے علم وعمل کا ایک ظاہر ہے اور ایک ان کا باطن ہے۔ مثلاً کلمہ شہادت کا ظاہر یہ ہے کہ اسے زبان سے ادا کیا جائے اور اس کی صداقت کا اقرار کیا جائے۔ اور اس کا باطن یہ ہے کہ اس کے پس پشت حقیقت کی معرفت آدمی کو حاصل ہو اور اس کا دل اس کی تصدیق کرے۔ اسی طرح معاملات زندگی کی ظاہری شکل وصورت ان کا ظاہر ہے۔ اور ان کے پیچھے کارفرما نیت اور ان کا اصل محرک ان کا باطن ہے۔ 
باطنی حقیقت کی موجودگی کے بغیر محض ظاہر کا اہتمام نفاق ہے۔ اور ظاہری شکل وصورت کے بغیر محض باطن کا دعویٰ صریح بے دینی اور زندقہ ہے۔ اہل طریقت باطن کے بغیر ظاہر کو ۔نقص۔ اور ظاہر کو کے بغیر محض باطن کو ۔ہوس۔ قرار دیتے ہیں۔ اس لیے طالب حق کے لیے ظاہر اور باطن دونوں کی درستی یکساں ضروری ہے۔ 
فرض علوم:۔
جن علوم کا سیکھنا انسان کے لیے فرض ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک علم حقیقت اور دوسرا علم شریعت
علم حقیقت؛۔
علم حقیقت جسے علم اصول بھی کہتے ہیں، اس کے تین ارکان ہیں۔ 
١۔ خدا کی زات اور اس کی توحید اور شرک کے حدود کا علم 
٢۔ خدا کی صفات اور اس کے حکام و فرامین کا حکم۔
٣۔ خدا کے افعال اور ان کی حکمتوں کا علم-
خدا کی زات کا علم یہ ہے کہ ہر عاقل و بالغ یہ جان لے کہ اللہ تعالٰی موجود ہیں۔ وہ ایک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کے واسطے نہ کوئی سمت وجہت مخصوص ہے اور نہ مکان۔ اس کے واسطے نہ زوال ہے اور نہ کوئی حد۔ نہ اس کے کوئی مثل ہے اور نہ مثال اور نہ جنس۔ وہ ہر جگہ موجود ہے اور سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے۔ کسی دل کا کوئی بھید بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ خلق کو پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک ہے، نہ امر و تدبیر میں اور نہ فرمانروائی میں۔ کسی حیثیت اور کسی معاملے میں بھی شریک ہونا تو درکنار کسی دوسرے کو اس کی جناب میں دم مارنے کا بھی یارا نہیں ہے۔ بس وہی ایک خالق اور باقی سب مخلوق ہے۔
خدا کی صفات کا علم یہ ہے کہ اس کی تمام صفات اس کی زات کے ساتھ قائم اور موجود ہیں اور دائمی ہیں۔ لیکن نہ اس کا جزہیں اور نہ اس سے علیحدہ ہیں۔ وہ الٰہ ہے اور الٰہ واحد ہے۔ زندہ جاوید ہے۔ ہر چیز پر قادر اور ہر موجود ومعدوم اور ہر غیب و شہادت سے پوری طرح باخبر ہے۔ جا چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اس کی ہر بات حق، اس کا ہر حکم شدنی اور مخلوق کے لیے واجب التعمیل اور واجب الطاعت ہے۔ دوسرے تمام احکام اور اطاعتیں اس کے احکام اور اطاعت کے تحت ہیں۔ مستقل بالذات اطاعت صرف اسی کا حق ہے۔ 
خدا کے افعال کا علم یہ ہے کہ تمام مخلوق اور اس کی کائنات میں جو کچھ ہے سب کا خالق اور پالنہار بھی اللہ تعالٰی ہے اور موت وحیات، عروج وزوال، رزق کی کمی بییشی، خیر و شر، خشک و تر اور تمام موجودات اور اس کے سب تغیرات بھی خداوند تعالٰی کے افعال ہیں۔ اور ان میں سے ہر فعل اپنے فاعل کی نشاندہی کررہا ہے۔ اسی لیے فرمایا (٨٨۔١٧۔٢٠) یعنی کیا یہ لوگ اس پر نظر نہیں کرتے کہ ہم نے اونٹ کو کیسا (موزوں) بنایا؟ آسمان کو کیسے بلند فرمایا؟ پہاڑوں کو کیسا جما دیا اور زمین کو کیسا بچھا دیا؟“، پھر فرمایا؛ (٣۔ ١٩٠) یعنی زمین وآسمان کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری سے آنے میں عقل رکھنے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ اگر ان کو آنکھیں کھول کھول کر دیکھو اور ان پر غور و فکر کرو تو ان میں سے ہر شے تمھیں اپنے خالق و فاعل اور اس کائنات کے پس و پردہ حقیقت کا پتہ دے گی۔
خداوند تعالٰی کی زات اور صفات کے بارے میں اس کے حسب زیل ارشادات خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ 
١۔ (٤٧۔١٩) جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ 
٢۔ (٨۔٤٠) خوب جان لو کہ اللہ ہے تمھارا آقا۔
٣۔ (٢٢۔٧٨) اللہ کا دامن پکڑو، وہ ہے تمھارا آقا
٤۔ (٧۔٥٩) اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔ 
٥۔ (١١٢۔١تا٤) ان کو بتا دو کہ وہی ایک خدا ہے۔ اسے کسی کی حاجت نہیں۔ نہ کوئی اس کا بیٹا ہے اور نہ باپ اور نہ ہی کوئی اس کے برابر کا ہے۔
٦۔ (٧٢۔ ٣) نہ اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے اور نہ اپنا بیٹا۔
٧-  (٤٢۔١١) اس کے مثل کوئی نہیں ہے۔
٨۔ (٢۔٢٥٥) اللہ وہ زندہ جاوید ہستی کو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے (یعنی کوئی نہیں) جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے۔ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔ اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کے علم میں نہیں آ سکتی۔ الایہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی بزرگ و برتر زات ہے۔ 
٩۔ (٧۔٥٤) خبردار، مخلوق بھی اسی کی ہے اور بادشاہی بھی اسی کی۔
١٠۔ (٢۔١٨١) اللہ سب کچھ جانتا ہے اور سنتا ہے۔
١١۔ (٥۔٧) اللہ دلوں کے چھپے راز تک جانتا ہے۔
١٢۔ (٨٥۔١٦) وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے-
١٦۔ (٢۔١٧) اور جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ۔ہو جا۔ اور وہ ہو جاتی ہے-
١٧- (٦۔٧٣) اس کی ہر بات بالکل سچ اور ہو کر رہنے والی ہے-
١٨۔ (٦۔١٦٥) تمھارا رب سزا دینے میں بہت تیز دست ہے اور درگزر اور رحم فرمانے والا بھی بہت ہے۔
١٩۔ (٨٥۔١٢) تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
٢٠۔ (١٢۔١٩٢) اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
٢١۔ (٨٥۔١٤) اور وہ بڑا ہی بخشنے والا اور (اپنی مخلوق سے)محبت کرنے والا ہے۔
علم شریعت:۔
علم شریعت کے بھی تین ارکان ہیں۔
١۔ خدا کی کتاب
٢۔ رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت
٣۔ اجماع امت
شریعت کا رکن اول خدا کی کتاب کی آیات محکمات ہیں۔ ان سے مراد عقاید، فرائض اور امر و نہی سے متعلق وہ آیات ہیں جن کے معنی ومفہوم اور مدعا ومقصود متعین کرنے میں اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا؛ (٣۔٧) یعنی اس میں ایک تو آیات محکمات ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات (جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے) جہاں اور جس مسئلہ میں کوئی اشتباہ یا اختلاف پیدا ہواسے ان محکمات کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھنا چاہیے کہ ان سے اقرب اور زیادہ مطابقت رکھنے والی کون سی شکل ہے۔ صحیح صورت وہی ہو گی جو محکمات سے اقرب اور ان کے پیش کردہ تصور دین سے زیادہ مطابق ہو گی۔
شریعت کا دوسرا رکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یعنی آپ ﷺ کا طریقہ ہے۔ خداوند تعالٰی کے احکام اور ان کے ٹھیک منشاء ومفہوم کو جاننے کا انسانوں کے پاس واحد مستند زریعہ حضور نبی کریم ﷺ کی زات ہے۔ اور اب آپ ﷺ کی زات سے مراد آپ ﷺ  کے فرمودات وتقاریر اور آپ ﷺ  کے افعال ہیں جو اللہ عزوجل نے اپنی کمال مہربانی سے احادیث اور سیرت کی کتب میں محفوظ کرا دیے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا؛ (٥٩۔٧) یعنی جو کچھ خدا کا رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے تمھیں منع کرے اس سے رک جاؤ“۔ نیز فرمایا۔ (٣٣۔٢١) یعنی تمھارے لیے ہر معاملہ میں رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے“۔ پھر اللہ تعالٰی نے اپنے رسول نبی کریم ﷺ کو حکم دیا؛ (٣۔٣١) یعنی اے پیغمبر ﷺ! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائیں بخش دے گا“۔ 
شریعت کا تیسرا رکن اجماع امت ہے۔ اس کے رکن شریعت ہونے کی بنیاد آپ ﷺ  کا یہ ارشادہے؛ میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ تم سواد اعظم کے ساتھ رہنا“، اور قران مجید میں اللہ تعالٰی نے فرمایا؛ (٤۔١١٥) یعنی راہ راست واضع ہو جانے کے بعد جا رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کی راہ کے سوا کسی اور راہ پر چلے تو اسے ہم اسی راہ پر چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے“۔ ظاہر بات ہے کہ “سبیل المومنین“ سے مراد اسلام کی وہ راہ ہے جس پر اہل ایمان کے تمام اہل علم یا ان کی اکثریت متفق ہو یعنی جس پر ان کا اجماع ہو۔ 
علم کے ساتھ فکر کی ضرورت اور اہمیت:۔-
علم کے ساتھ فکر بھی ضروری چیز ہے۔ کیونکہ فکر اور تدبر کے بغیر نہ تو آدمی کے اندر صحیح فہم پیدا ہوتا ہے۔ اور نہ اس کے بغیر علم آدمی کی زندگی پر کوئی گہرا اور دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ ایک گھڑی فکر و تدبر کرنا ساٹھ برس کی (نفل) عبادت سے بہتر ہے“۔ 
انسانی علم کی حد:۔
کوئی شخص یا ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی اپنے اور دوسرے انسانوں کے نزدیک علم میں خواہ وہ کتنا ہی کمال حاصل کر لیں، لیکن ان کے اس علم کی ایک حد ہے، اور اصل علم جو صرف خدا کے پاس ہے اس کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انسانی علم کا تو یہ حال ہے کہ تمام انسان مل کر بھی خدا کی کائنات کے ایک زرے تک کے بارے میں پورا علم رکھنے کا دعوٰی نہیں کر سکتے۔ انسانی علم کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ فی الحقیقت وہ کچھ نہیں جانتا۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالٰی سے عرض کیا؛ خدایا میں تیری صفت بیان کرنے سے قاصر ہوں“۔ اللہ تعالٰی نے تو صرف اپنی نعمتوں اور کلمات کے بارے میں فرمایاہے؛ (١٤۔٣٢۔١٦۔١٨) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو صرف شمار کرنے لگو تو ان کو شمار نہیں کر سکتے“۔ اسی طرح پھر فرمایا؛ (١٨۔١٠٩) اگر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو یہ سمندر ختم ہو جائیں گے مگر میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے خواہ ان کے ساتھ اتنے ہی سمندروں کی اور بھی سیاہی کیوں نہ بنا لی جائے“۔ 
صحیح علم اور ادراک کا زندگی پر اثر:۔_
حضرت حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب سے میں نے چار علموں کو حاصل کر لیا ہے اس وقت سے میں دوسرے تمام علوم و افکار سے فارغ ہو گیا ہوں۔ لوگوں نے پوچھا کہ وہ چار علم کونسے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا؛۔
١۔ جب سے مجھے یہ علم ہو گیا ہے کہ میرا رزق میرے لیے علیٰحدہ کر کے رکھ لیا گیا ہے، جو کسی صورت میں بھی کم و بیش نہیں ہو سکتا، اس وقت سے میں غم روزگار یعنی رزق زیادہ طلب کرنے کی فکر سے آزاد ہو گیا ہوں۔ 
٢۔ جب سے میں نے یہ جان لیا ہے کہ اللہ تعالٰی کا مجھ پر ایک حق ہے جس کو میرے سوا میری طرف سے کوئی اور ادا نہیں کر سکتا، اس وقت سے میں اس حق کو ادا کرنے میں مشغول ہو گیا ہوں۔ 
٣۔ جب سے مجھے یہ یقین حاصل ہو گیا ہے کہ میرے سر پر موت سوار ہے اور اس سے میں کہیں بھاگ نہیں سکتا ، میں نے اس سے سازگاری کر لی ہے۔ اور 
٤۔ جب سے میں نے یہ جان لیا ہے کہ میرا ایک خدا ہے جو میرے تمام افعال کی خبر رکھتا ہے تو میں نے ایسی تمام باتوں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جن کے ارتکاب سے قیامت کے روز مجھے اس کے روبرو نادم و شرمسار ہونا پڑے۔ 
اور حکایتوں میں بیان کرتے ہیں کہ بصرہ کا ایک رئیس اپنے باغ میں گیا اور اس کے نظر اپنے سنار کی حسین بیوی پر پڑی۔ رئیس نے سنار کو تو کسی کام کے لیے باہر بھیج دیا اور اس کی عورت کو حکم دیا کہ گھر کے تمام دروازے بند کر دو۔ اس عورت نیک سیرت نے کہا کہ میں اور تمام دروازے بند کر سکتی ہوں لیکن ایک دروازہ بند نہیں کر سکتی۔ رئیس نے دریافت کیا کہ وہ کونسا دروازہ ہے جسے تو بند نہیں کر سکتی؟ عورت نے جوابدیا کہ جس دروازے سے ہمارا خدا ہم کو دیکھ رہا ہے۔ عورت کی یہ بات سن کر وہ رئیس سخت نادم ہوا ۔ اپنے ارادہ بد سے توبہ کی اور اس عورت سے معافی مانگ لی۔ 
قابل اجتناب پیشوا:۔
حضرت شیخ المشائخ یحیٰی بن معاز رازی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا؛ تین قسم کے لوگوں سے بچو، ایک غافل علماء سے، دوسرے چکنے چپڑے اور دکھاوے کے فقراء سے اور تیسرے جاہل صوفیوں سے۔ 
غافل علماء وہ ہیں جنھوں نے حصول دنیا کو اپنا قبلہ مقصود بنا رکھا ہے۔ ظالم حکمرانوں کے درباروں کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ خدا کی بجائے مخلوق سے عزت و مرتبہ کی طلب رکھتے ہیں۔ بزرگان دین اور دوسرے اہل علم کی تحقیر کرتے ہیں اور حسد اور عناد کو اپنا مذہب بنائے ہیں۔ 
مکار اور دکھاوے کے فقراء وہ ہیں جنھوں نے ظاہر میں فقیری کا روپ بنا رکھا ہے۔ باطن میں حرص کے بندے ہیں۔ جب کوئی شخص کوئی کام ان کی خواہش کے مطابق کرتا ہے تو خواہ وہ باطل ہی کیوں نہ ہو، وہ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ اور جب کوئی شخص کوئی کام ان کے خلاف کرتا ہے تو خواہ وہ حق ہی کیوں نہ ہو، وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اور مخلوقات کو حق کی بجائے باطل کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور اپنا شکار بناتے ہیں۔ 
جاہل صوفی وہ ہوتا ہے کہ جس نے نہ کسی بزرگ کی صحبت اختیار کی، نہ کہیں سے تربیت حاصل کی اور نہ اسے حق اور باطل کی تمیز ہو، بلکہ یونہی اپنےآپ کو لوگوں میں صوفی مشہور کر دیا ہو۔
محض علم ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے:۔
یہ بھی یاد رکھو کہ محض علم آدمی کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے۔ حقیقت اور شریعت کے علوم ہدایت کا زریعہ بھی ہیں اور انسان کے تجرباتی علوم اس میں مددگار ہوتے ہیں۔ طلب ہدایت کے لیے ان علوم کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ مگر ہدایت اللہ تعالٰی کی عنایت اور عطا سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے حصول علم کے ساتھ اخلاص اور تضرع کے ساتھ اللہ تعالٰی کی طرف رجوع اور اس سے ہدایت کی مخلصانہ طلب ضروری ہے۔ کوئی عالم ہو یا صوفی یا فقیر، شریعت کا علم سب کے لیے لازم ہے۔ شریعت کے علم کے بغیرنہ کوئی عالم کہلا سکتا ہے اور نہ صوفی نہ فقیر، اور نہ ان میں سے کسی چیز کا وہ دعویٰ کر سکتا ہے۔
۔۔۔


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر