آئن سٹائن نے ایک بار کہا تھا کہ، "ایک خاص عمر اور مرحلے کے بعد بھی اگر لوگ مطالعے میں مصروف رہیں تو وہ اپنی دماغی صلاحیتیں اور خداداد سوچ کو کھو بیٹھتے ہیں"۔

اس مقولے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، اگر تو کوئی اس سے متفق نہ ہو تو وہ ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ شاید اس کو لگے کہ آئن سٹائن شاید لوگوں کو مطالعے سے دور رکھنا چاہ رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی خیال اس مقولے بارے میرا کچھ عرصہ پہلے تک قائم تھا، جو کہ اب یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ 
مطالعہ ایک انتہائی اچھی عادت ہے۔ بلکہ مطالعہ ایک نشے کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ مطالعہ کے عادی شخص کے لیے یہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں جیسے کھانا، پینا، سونا وغیرہ جیسا ہی ہوتا ہے۔
لیکن ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ مشاہدے کا کیا؟ بس یہی ایک پہلو ہے جو مجھے آئن سٹائن کے اس قول کا حامی بنا دیتاہے۔
ٓعلم ضروری ہے، لیکن عمل اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ علم اور عمل دو پہیے والی بات کہ لازم وملزوم ہیں۔ اور اسی فاش غلطی کے مرتکب ہمارے اعلٰی تعلیمی ادارے بنے ہوئے ہیں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر