بدھو

پاکستان کا تو پتہ نہیں، لیکن میری معیشت کا آج کل  بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ اب  ۔پچپن۔۵۵ یا ۔ساٹھ۔۶۰ کلو بندے کی معیشت کتنی کچھ وزنی ہو گی کہ اسے "ڈوب جانے میں اک زمانہ لگے"۔ اصل مصرعہ پتہ نہیں ایسا ہے یہ نہیں، لیکن میں بضد ہوں کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے!۔
 اسی ضد کے ہونے نے تو مجھے ڈبویا ہے۔ کبھی تو میں ضد میں آ جاؤں تو اپنی تنخواہ کا بیڑہ غرق کر دیتا ہوں۔ "اپنی" تو میں نے مروتاً کہہ دیا، ورنہ دوست یاروں کی تنخواہ کوئی پرائی تو ہے نہیں، کہ اب میں اسے ایسا پرایا کہوں اور ان کی ناراضگی الگ مول لوں، توبہ توبہ۔
 یعنی میں ضد میں اپنا تیاپانچہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دوست یاروں کی بیڑی میں بھی "بٹے" ڈال سکتا ہوں۔ تو میرے دوست احباب اب مجھ سے ہوشیار ہو گئے ہیں، یعنی بدھو نہیں رہے لیکن میں رہا وہی بدھو کا بدھو۔ وجوہات دو ہیں، پہلی واضع ہے کہ  میں  ضدی ہوں، اور دوسری یہ کہ میں بدھو ہوں جو ضد کرتا ہوں، "کھیلنے کو چاند مانگ بیٹھتا ہوں!"۔
بدھو سے مراد بدھ مت والا بکشو ہر گز نہیں ہے! بلکہ یہ دو مختلف "کیفیتوں" کا نام ہے، ایک وہ کہ جسے عرف عام میں نالائقی کہتے ہیں۔ یعنی کہ ایسا بندہ جس کے ذہن کا"سٹیرینگ بکس" الٹا نصب ہو، دائیں موڑو تو بائیں مڑ جائے۔ سوال پوچھو تو بغلیں جھانکے اور جواب معلوم ہو تو پس و پیش سے کام لے اور ہونقوں کی طرح تصدیق میں وقت ضائع کر بیٹھے۔ 
 دوسری کیفیت خودساختہ ہے، یعنی بندہ سوچتے سمجھتے اپنی سدھ بدھ مار دے، اور وقت گذرنے پر معلوم پڑے کہ اگلے بندے کو بدھو بنا گیا۔ اس کیفیت کو عیاری و مکاری کہنے میں کوئی تامل نہ برتا جائے۔
جی نہیں میں عمرو عیار کی بات نہیں کر رہا، بلکہ میں تو اس کی ذنبیل کی بات کر رہا ہوں کہ جس میں دنیا جہاں کی خرافات بھری پڑی رہتی ہیں، جن میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جو لکھاری بچوں کو بدھو بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بچے بھی ایسے بدھو نہیں بلکہ ہوش سنبھالتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ بچپن میں کیسے کیسے بدھو لکھاریوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے، ورنہ ایسے  بھلے ممکن ہو، لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
 اس مثال سے دونوں کیفیتوں کو واضع کیا جاسکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہےکہ پڑھنے والا اپنے اوپر دونوں میں سے کوئی ایک کیفیت طاری کر لے!۔
اب تک کی گفتگو سے یہ واضع ہوتا ہے کہ قِسموں کے لحاظ سے بدھو دو ہیں، لیکن جو چیز ابھی بھی مبہم ہے۔ یہ کہ بدھو ہوتا کیا ہے؟ ایسے موقعہ پر یہ تو ایک ایسا سوال ہے جس کی امید کسی بدھو ہی سے رکھی جا سکتی ہے ورنہ ایسے ایسے نمونے ہیں پیش کرنے کو کہ بدھو کی "عالمی تصدیق شدہ" تعریف کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔
اکثر لوگ بدھو کو پہچاننے میں پس وپیش سے کام لیتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی سعی بجا نہیں لاتے، مثلاً میں!۔ 
خدا گواہ ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ بدھو کس بلا کا نام ہے؟ اس کا نین نقش کیسا، بال سیدھے یا گھنگریالے، جنس مرد یا عورت، قد چھ فٹ یا ساڑھے تین فٹ، مونچھیں کسی سات انتیس سائز تار جیسی یا باریک استاد امانت علی خان جیسی، اسی طرح دوسری اہم نشانیاں!۔
حالانکہ اس مشاہدے اور علم کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، صرف اتنی سی محنت ہے کہ آئینہ میسر آ جائے۔ بدھو تو میں بھی ہوں اور نجانے کتنے ہوں گے جو اس آس پر جی رہے ہیں کہ، "اب راج کرے گی خلق خدا، جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں"!۔
۔۔بٹے: ہندکو کا لفظ، جس کے معنی پتھر کے ہیں۔
۔۔۔
اعلان: کشف المحجُوب کی قسط نمبر ۵ پوسٹ کر دی ہے، مصروفیت کی وجہ سے تعطل پر معذرت خواہ ہوں!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر