قسط نمبر ۶: کشف المحجوب 

گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کریں: ذمرہ:برقی کتب۔ اقساط: قسط نمبر۱، قسط نمبر ۲، قسط نمبر ۳، قسط نمبر ۴، قسط نمبر۵
۔۔۔
فقر کے بارے میں
فقر کا مرتبہ اور اس کی حقیقت
خدا کے ہاں فقیری اور درویشی کا مرتبہ بہت بلند ہے- حضور نبی کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے؛ اے میرے اللہ! مجھے فقیری کی حالت میں زندہ رکھ، فقیری کی حالت میں موت دے اور فقراء کے زمرے ہی میں میرا حشر فرما“۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی فرمائے گا؛ میرے دوستوں کو میرے پاس لاؤ۔ فرشتے پوچھیں گے کہ آپ کے دوست کون ہیں؟ اللہ تعالٰی فرمائے گا، فقراء اور مساکین“۔
لیکن فقراء اور مساکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا پر بھروسہ کر کے دنیا کمانے کی فکر سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ کو خدا کے کام اور اس کی ملازمت کے لیے وقف کر دیں۔ جیسے اصحاب صفہ رضی اللہ تعالٰی عنہم، ہر وقت مسجد نبوی ﷺ میں حاضر رہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ جس وقت جو کام چاہیں ان سے لے سکیں۔ یہ لوگ ظاہری اور باطنی تمام اسباب کو نظر انداز کر کے خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی کی زات کے ساتھ دوستی اور محبت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ اس کی زات کے سوا کسی کو دوست نہیں بناتے۔ اسی طرح کے لوگوں کے بارے میں یہ ارشاد ہوا کہ، (٢۔٢٧٣) تمھاری فی سبیل اللہ امداد اور خدمت کے حقدار وہ فقراء ہیں جو خدا کے کام میں اس طرح سے گھر گئے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ اور ان کی خودداری کو دیکھ کر ایک ناواقف آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ مالدار ہیں“۔ انہی لوگوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ (٦۔٥٢) اے نبی ﷺ! ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ پھینکو جو رات دن اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں“۔
فقر کی اصل متاع دنیا کا ترک اور اس سے علیٰحدگی نہیں ہے۔ بلکہ دل کو اس کی محبت سے خالی اور بے نیاز کرنا ہے۔ چنانچہ تصوف کی اصطلاح میں فقیر وہ ہوتا ہے جو متاع دنیا سے بالکل بے نیاز ہو۔ اس کے پاس خواہ سرے سے کچھ موجود نہ ہو یا اس کے پاس دنیا کے سارے اسباب موجود ہوں، دونوں میں سے کسی حالت میں اس کی کسی چیز میں خلل نہ آئے۔ نہ کسی چیز کے نہ ہونے سے اسے کوئی پریشانی لاحق ہو اور نہ سارے اسباب موجود ہونے سے وہ اپنے آپ کو غنی اور دولتمند محسوس کرے۔ گویا دنیا کی کسی متاع کا ہونا اور نہ ہونا اس کے نزدیک یکساں ہو۔ بلکہ تنگدستی اور افلاس کی صورت میں وہ زیادہ خوش ہو۔ کیونکہ فقیر جس قدر تنگدست ہو ٹھیک ہے کہ اس صورت میں اس پر حال کا انکشاف زیادہ ہو گا۔ اور اس پر غفلت کم طاری ہو گی۔ چناچنہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا؛ بھوکے پیٹ رہنے والا خدا کے نزدیک ستر صاحب عقل عابدوں سے زیادہ محبوب ہے“۔ نیز یہ کہ؛ بھوک اس دنیا میں خدا کی غذا ہے“۔
اصلی فقیر
ایک شیخ فرماتے ہیں؛ فقیر وہ نہیں ہوتا جو زاد راہ اور متاع دنیا سے خالی ہاتھ ہو، اصل فقیر وہ ہے جو مراد(طلب دنیا) اور حرص سے خالی ہو“۔ اور حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ فقیر وہ ہے جسے اللہ عزوجل کے سوا کسی اور چیز سے چین نہ آئے“۔ اور حضرت رویم بن محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ؛ فقیر کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے بھید کی حفاظت کرے اور اپنے نفس پر نظر رکھے اور اسے آفتوں سے بچائے اور خداوند تعالٰی کے عائد کردہ فرائض کو ادا کرے“۔
پس ذات خداوندی کے ماسواء تمام چیزوں سے دل کو فارغ رکھنے کا نام فقر ہے۔ فقیر کی اصل عزت یہ کہ اس کے تمام اعضاء وجوارح خدا کی نافرمانی سے محفوظ ہوں اور ان کو وہ تمام نامناسب چیزوں سے بچائے رکھے۔ وہ کسی معصیت میں مبتلا نہ ہو یہاں تک کہ اس کا بدن روحانی اور اس کا دل ربانی ہو جائے۔
فقر اور غناء اور ان کے بارے صحیح روش
مشائخ رحمہم اللہ میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ فقراء اور غناء کی حالتوں میں سے افضل حالت کونسی ہے۔ لیکن میں علی بن عثمان جلابی کہتا ہوں کہ یہ ایک بیکار بحث ہے۔ غنی خدا کا نام ہے اور وہی اس کا سزاوار ہے۔ مخلوقات فی الحقیقت اس نام کی مستحق نہیں ہو سکتی۔ انسان تو پیدا ہی محتاج اور فقیر ہوا ہے۔ اس لیے اس کے لیے فقر کا نام ہی سزاوار ہے۔ ہاں خدا کے ماسوا کسی اور کو مجازاّ غنی کہہ دیا جائے تو جائز ہے۔ خداوند تعالٰی اپنی زات سے غنی ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ اس کے غناء کے لیے نہ کوئی سبب ہے اور نہ اس کے لیے کسی سبب کی ضرورت ہے۔ بندے کو جو غناء حاصل ہوتا ہے وہ خدا کا عطا کردہ اور اسباب کار ہین منت ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے؛ (٣٥۔١٥) اے لوگو! تم سب خدا کے محتاج اور فقیر ہو اور خدا جو ہے وہی حقیقتاّ غنی اور حمید ہے“۔ دوسری جگہ فرمایا؛ (٤٧۔٣٨)اللہ ہی غنی ہے، تم سب محتاج اور فقیر ہو“۔
پس بندہ پیدائشی محتاج اور فقیر ہے۔ اگر اس پر غناء کی حالت کسی درجہ میں آتی ہے تو وہ اللہ کی عطا اور بخشش سے آتی ہے۔ غنی وہ ہے جسے اللہ غنی کر دے۔ اور جب وہ چاہتا ہے غناء کو فقر سے اور فقر کو غناء سے بدل دیتا ہے۔
چونکہ یہ جہان ابتلاء اور آزمائش کا محل ہے، اس لیے اس جہان میں غناء کی حالت ہو یا فقر کی، دونوں انسان کے لیے ابتلاء اور آزمائش کی صورتیں ہیں۔ انسان کو فقر کی حالت میں صبر کرنا چاہیے اور غناء کی حالت میں شکر کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب علیہ السلام کو فقر اور مصیبت کی حالت میں شدت صبر کی بدولت نعم العبد قرار دیا (٣٨۔٤٤) اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو شکر نعمت کی بدولت نعم العبد فرمایا (٣٨۔٣٠)۔ گویا صبر ایوب علیہ السلام اور شکر سلیمان علیہ السلام دونوں بارگاہ الہٰی میں ایک درجہ میں ہیں۔ ورنہ متاع دنیا سے خالی ہاتھ ہونا جہاں خدا کی طرف رجوع اور تضرع کا سبب ہو سکتا تھا، وہاں اس سے روگردانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ اندیشہ ہے کہ متاع دنیا سے محرومی کفر کی صورت نہ اختیار کر جائے“۔ اس لیے صحیح صورت یہ ہے کہ جس حال میں مالک رکھے اس پر قانع اور اس کی بندگی واطاعت کی راہ پر قائم رہنا چاہیے۔ غناء بھی خدا کی نعمت ہے۔ اس میں غفلت کرنا آفت ہے، اور فقر بھی خدا کی نعمت ہے، اس میں حرص اور بے صبری میں مبتلا ہونا آفت ہے۔ میرے استاد محترم حضرت ابو القاسم قشیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا؛ لوگوں نے فقر اور غناء کے بارے میں بحثیں کی ہیں اور اپنا ایک نہ ایک مذہب مقرر کر لیا ہے۔ مجھے اگر خداوند تعالٰی غنی کرے تو میں غافل ہونے کی بجائے اس کا شکر ادا کروں گا اور اگر وہ مجھے فقیر بنا دے تو حریص اور اس سے منہ پھیرنے والا بننے کے بجائے صبر کروں گا“۔
مصنوعی فقیر
مخلوقات میں سے وہ شخص بہت ہی کمینہ اور رذیل ہے، جو درحقیقت تو خدا کا فقیر نہ ہو لیکن لوگ اسے ایسا سمجھیں۔ اور وہ خود بھی اپنے آپ کو ایسا ظاہرکرے اور اس طرح لوگوں میں عزت اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ جو چیز بندے کو خدا سے دور اور غائب کرے وہ عزت نہیں بلکہ بدترین قسم کی ذلت ہے۔ مشائخ رحمہم اللہ نے ہمیشہ مریدوں کو اس صورتحال سے متنبہ کیا ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ درویشوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا؛ اے درویشوں کے گروہ کے لوگو! تم لوگوں میں اللہ والوں کی حیثیت سے جانے جاتے ہو اور اللہ سے تعلق رکھنے کی بناء پر ہی تعظیم کیے جاتے ہو، جب تم اللہ کے ساتھ تنہائی میں ہو اس وقت اپنا جائزہ لیا کرو کہ خدا کے ساتھ تمھارے تعلق کا فی الواقع کیا حال ہے“۔ شیخ ابو سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ اصل فقیر وہ ہے جو اللہ کے ساتھ غنی ہو“۔ جب اسے خداوند تعالٰی مل جائے تو پھر اور کسی اور شے کی اسے حاجت نہ رہے اور وہ نہ ہو تو اسے چین نہ آئے۔
۔۔۔
قسط نمبر ۷ میں ملاحظہ کریں: تصوف کے بارے میں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر