ہجرت

گھر سے نکلنا کافی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، چاہے وہ گلی کی نکڑ سے دہی لانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ ہم میں سے بیشتر نے روزگار، علم یا پھر کسی اور مقصد کے لیے گھر سے رخصت ضرور لی ہوگی۔ میری ذاتی آراء میں اگر کسی نے ایسا نہیں کیا تو شاید اس نے اصل دنیا اور زندگی کی حقیقت سے آگا ہی حاصل نہیں کی۔
سفر واقعی ایک مشکل کام ہے۔ شاید اسی لیے مذہب اسلام نے مسافر کے لیے کئی سہولتیں رکھ دیں، جیسے سفرانہ نماز، روزے کی چھوٹ، سفر اگر خیر کے لیے ہو تو عبادت اور اگر موت واقع ہو جائے تو شہادت۔ اگر یہی سفر ہجرت بن جائے تو صاحبو! یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔
آج یونیورسٹی کی لائبریری میں ایک کتاب ہاتھ لگی، موضوع تھا، "جانوروں کے رویے اور عادات"۔ کسی بھلے مانس گورے نے بڑے دوستانہ اور خوب انداز میں تحریر کی تھی۔ ایک باب جس کا موضوع "جانوروں کی ہجرتَِ: نفع ونقصان" کافی دلچسپ تھا۔
اس باب کا لب لباب کچھ ایسے تھا کہ ہر سال جو آبی پرندے ہجرت کرتے ہیں، آدھے سے زیادہ سفر پورا نہیں کر پاتے، ساتھ میں یہ درج تھا کہ ہجرت کرنے والے جانور جیسے پرندے، جنگلی بھینسے، ہرن، زیبرے وغیرہ میں سے تقریباً ۲ فیصد گوشت خور جانوروں کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہجرت کرنے والے جانوروں کی تعداد کا ۲ فیصد بھی لاکھوں میں ہوتا ہے۔ مصنف کا اصل سوال یہ تھا کہ آخر اتنی تکلیف، نقصان اور وقت کو صرف کرنے کا مقصد کیا ہے؟
تو ایسا کچھ لکھا اس بھلے آدمی نے کہ تین چیزیں ہیں جو ان جانوروں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہیں، "خوراک، بہتر نسل کشی اور موسم"۔
صاحبان! یہ ہی ایک قدرتی کلیہ ہے، جو بڑا دلچسپ ہے۔ ہر وہ ہجرت جو قدرت کے قانون کے مطابق ہوتی ہے، بڑی تکلیف دہ ضرور ہوتی ہے، مگر اس میں امن، صلح اور صبر کا عنصر نہایت ہی خوبی سے موجود رہتا ہے۔ نبی پاک ﷺ کی ہجرت کو دیکھ لیں، امن کی خواہش اور دین کی سرپرستی کے لیے کی گئی ہجرت تکلیف دہ ضرور تھی مگر اس میں کیسا راز پنہاں تھا کہ آج ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے فخر محسوس کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں ہر سال گڈریے اپنے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سمیت موسم کی تناسب سے ہجرت کرتے ہیں۔ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے، مگر اس میں کئی فوائد ہیں۔ ایسے ہی کئی انسان تلاش روزگار یا حاجت علم، ہجرت کرتے ہیں، بڑا ہی تکلیف دہ عمل مگر ضروری!۔
سوات، باجوڑ، بونیر اور دیر سے لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے ہیں۔ ہمیشیہ ایسی ہجرت جو انسانی فعل کا نتیجہ ہو، غیر فطری ہو، انتہائی خوفناک پہلو رکھتی ہے۔
۱۹۴۷ کی ہجرت میں کیسی کیسی قربانیاں اور ذخم سہے، جنگ افغانستان کا خمیازہ اب تک بھگت رہے ہیں۔ کشمیری جو مظفر آباد اور آزاد کشمیر کے دوسرے شہروں میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئے تھے، اب بھی حسرت و یاس کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔
مجھے نہیں پتہ حالیہ جنگ کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ یہ راہ راست آپریشن کب اختتام پذیر ہوگا۔ سوات کب فتح ہو گا اور باجوڑ میں امن کب آئے گا۔
ہاں صاحبو یہ مجھے ضرور معلوم ہے کہ ایسی ہجرت تباہ کن ہے، یہ امن پسند معاشرے کے لیے زہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہاں، درست ہی کہا تھا کسی نے کہ "کسی بھی آفت یا تباہی کے نتیجے میں سب سے پہلے اس علاقے کا سماج، رواج اور قانون ہلاک ہوجاتا ہے!"۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر