قسط نمبر ۷: کشف المحجوب

گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کریں: ذمرہ: برقی کتب، اقساط: قسط نمبر ۱، قسط نمبر ۲، قسط نمبر ۳، قسط نمبر ۴، قسط نمبر ۵، قسط نمبر
۶
۔۔۔
تصوف کے بارے میں
تصوف کی حقیقت؛ خُلُق
حضرت محمد بن علی بن حسین بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں؛ تصوف نیک خوئی کا نام ہے، جتنا کوئی شخص نیک خوئی میں بڑھا ہوا ہو گا، اتنا ہی تصوف میں بڑھ کر ہو گا“۔
اخلاق کے دو اجزاء
اور اخلاق (نیک خوئی) کے دو اجزاء ہیں۔ ایک خالق کے ساتھ اخلاق، اور دوسرا مخلوق کے ساتھ اخلاق
(١) خدا کے ساتھ اخلاق اور نیک خوئی برتنے کا مطلب یہ کہ بندہ اس کی قضاء پر راضی ہو۔ اس کے کسی فیصلے پر اسے شکایت نہ پیدا ہو۔ اس کا ہر فیصلہ اسے بسروچشم اور سر بسر تسلیم ہو۔
(٢) مخلوق کے ساتھ اخلاق اور نیک خوئی یہ ہے کہ مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق سے جو زمہ داریاں اس پر عاید ہوتی ہیں ان کو خدا کے لیے اٹھائے اور خدا ہی کی رضاءجوئی اور خوشنودی کے لیے ان کو ادا کرے۔ اس کام میں کوئی اور غرض اس کے سامنے نہ ہو۔
حضرت مرتعش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تصوف نیک خُلُق کا نام ہے، اور اس کی تین قسمیں ہیں،
ایک خدائے بزرگ وبرتر کے ساتھ نیک خُلُقی، جس کا مطلب اس کے تمام احکام کی سرموریا کے بغیر اور پورے اخلاص کے ساتھ تعمیل اور اطاعت ہے۔
دوسرے مخلوقات کے ساتھ نیک خُلُقی، جس کے معنی اپنے بزرگوں کے ساتھ عزت، اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور اپنے ہم رتبہ لوگوں کے ساتھ برابری اورمساوات کا برتاؤ کرنا ہے۔ اور اس کے بدلے میں کسی بدلے کی خواہشیں نہ رکھنا ہے۔
تیسرے قسم نیک خُلقی یہ ہے کہ شیطان اور خواہشات نفسانی کی پیروی ہر گز نہ کی جائے۔
حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ تصوف کی آٹھ خصلتیں ہیں، سخاوت، رضا، صبر، اشارت، غربت (اجنبی ہو جانا)، لباس صوف، سیاحت اور فقر۔ سخاوت کا نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ انھوں نے اپنی جان سے لے کر اپنے بیٹے تک سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔ رضا کا نمونہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں کہ رضاء الہٰی کے آگے بسر و چشم اپنے آپ کو زبح کے لیے پیش کر دیا۔ صبر کا نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام کہ انھوں نے خدا کی غیرت کی خاطر اپنے وسیع کنبے اور سارے گھر بار کی اپنی آنکھوں کے سامنے تباہی اور اپنے پورے جسم میں کیڑے پڑ جانے کی تکلیف کو نہایت صبر کے ساتھ برداشت فرمایا۔ اشارت کا نمونہ حضرت زکریا علیہ السلام ہیں جنھوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں کلام تک بند کر دیا اور کئی روز تک صرف اشاروں سے بات کرتے رہے۔ غربت کا نمونہ حضرت یحیٰ علیہ السلام ہیں جو خدا کی رضا جوئی میں اپنے وطن میں اپنے خویشوں سے بیگانہ رہے۔ صوف پوشی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نمونہ ہیں، جو اون کے کپڑے پہنتے تھے۔ خدا کی راہ میں سیاحت کے لیے حضرت عیسٰی علیہ السلام نمونہ ہیں جو بس اسیک پیالہ اور کنگھی لے کر گھر سے چلے لیکن جب ایک شخص کو پیالے کی بجائے چُلو سے پانی پیتے دیکھا تو پیالہ بھی پھینک دیا اور جب ایک دوسرے شخص کو دیکھا کہ وہ کنگھی کی بجائے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے بالوں کو خلال کر لیتا ہے تو کنگھی بھی پھینک دی۔ فقر کا نمونہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں کہ آپ ﷺ کو خداوند تعالٰی کی طرف سے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں کہ شان و شوکت اور آرائش کے ساتھ زندگی گزاریں لیکن آپ ﷺ نے اس کو پسند فرمایا کہ ایک روز پیٹ بھریں اور دو روز بھوکے رہیں، اور جیسا کہ گزشتہ باب میں گذر چکا ہے اللہ تعالٰی سے آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے خدایا! مجھے فقر ہی کی حالت میں زندہ رکھ، فقر ہی کی حالت میں مجھے موت دے اور فقراء ہی کے زمرے میں میرا حشر فرما۔
اصلی صوفی کے اوصاف
۔تصوف اور صوفی۔ دراصل لفظ ۔صفا۔ سے مشتق ہیں۔ اس کی ضد کدر (کدورت) ہے- پس جس شخص نے اپنے اخلاق اور معاملات کو مہذب بنایا اور اپنی طبیعت کو کدورتوں سے پاک صاف کرلیا اور اسلام یعنی اللہ تعالٰی کی سچی عبودیت کا وصف اپنے اندر پیدا کر لیا تو وہ صوفی بن گیا اور اہل تصوف میں شامل ہو گیا۔ گویا صفا کی اصل غیر اللہ سے دل کو منقطع کر اور دنیا غدار سے دل کو خالی کر لینا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ میں یہ دونوں صفات بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔
حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دل غیر اللہ سے کس طرح کلی طور پر منقطع اور شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہو چکا تھا، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ کی وفات سے تمام صحابہ رضی اللہ تعالٰی اجمعین بے حال ہو رہے تھے بلکہ ان کا زہنی توازن اس درجہ متزلزل ہو رہا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ ہاتھ میں ننگی تلوار لیے اعلان فرما رہے تھے کہ جس نے یہ کہا کہ محمد ﷺ وفات پا گئے ہیں میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور یہ صورتحال دیکھ کر بآواز بلند فرمایا؛ سُن لو! جو شخص محمد ﷺ کی بندگی کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا گئے ہیں اور جو شخص محمد ﷺ کے رب کی بندگی کرتا تھا اس کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ رب بدستور زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا“۔ اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی؛ (٣۔١٤٤) محمد ﷺ (بھی خدا کے رسولوں کی طرح) اللہ کے ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت رسول گذرے چکے ہیں، تو کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم پیٹھ موڑ کر بھاگ جاؤ گے؟“
اس اعلان حق کا کانوں میں پڑنا تھا کہ سب لوگوں کی آنکھیں کُھل گئیں۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دل دنیا غدار سے کس درجہ خالی ہو چکا تھا یہ واقعہ اس کا مظہر ہے کہ جب غزوہ تبوک کے موقع پر گھر کا پورا اثاثہ لے کر حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا؛ کہو! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟“ حضرت صدیق نے جواب دیا؛ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور ان کی پیروی۔“
یہی دو چیزیں ہیں جو تصوف اور سچے صوفی کی اصل متاع ہیں۔ زوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ صوفی وہ ہے کہ جب بولے تو اس کی زبان پر حق جاری ہو اور جب خاموش ہو تو اس کے جسم کے ایک ایک رونگٹا زمان حال سے شہادت دے کہ اس کے اندر دنیا کی کوئی ہوس موجود نہیں“۔
اہل تصوف کی قسمیں
اہل تصوف کے ہاں تصوف کی تین قسمیں ہیں
(١) صوفی، اس شخص کو کہتے ہیں کو اپنے آپ کو حق میں فنا کرے اور اس کے اندر کوئی کدورت اور تیرگی باقی نہ ہو۔
(٢) متصوف، اس شخص کو کہتے ہیں جو مجاہدہ سے اس درجے کے حصول کے لیے کوشاں ہو اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے معاملات کو درست کرنے کی سعی میں مشغول ہو۔ ینی جو سچا صوفی بننے کی کوشش میں لگا ہو۔
(٣) مستصوف، وہ ہے جو دنیا کا مال ومتاع اور مرتبہ و عزت حاصل کرنے کے لیے وضع قطع اور طور اطوار اختیار کیے ہوئے ہو۔ مگر صفا اور تصوف کی اسے کچھ خبر نہ ہو۔ ان لوگوں کے بارے میں صوفیاءکرام نے فرمایا؛ صوفیائے کرام کے نزدیک مستصوف مکھی کی مانند حقیر اور قابل نفرت ہیں کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں ہوس ہوتی ہے اور غیر صافیاء(عام لوگوں) کے لیے وہ بھیڑیوں کی مانند ہیں کہ ان کے دین وایمان کو چیرتے پھاڑتے پھرتے ہیں۔
تصوف کی ضرورت
تصوف کے اثبات کی بحث کے آخر میں حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ پہلے منکرین تصوف کے جواب میں ابو الحسن ابو شحنہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ؛ آج کل تصوف تو صرف ایک نام ہے جس کے پیچھے کوئی حقیقت موجود نہیں ہے لیکن اس سے پہلے (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین، اور سلف کے زمانے میں) یہ ایک حقیقت تھا، اس دور میں اس کا نام تو بے شک نہیں تھا مگر بطور حقیقت وہ موجود تھا“۔ اوریہ قول نقل کر کے حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ تصوف کے بارے میں جو رائے قائم کر رہے ہو وہ اس کی موجودہ صورت کو دیکھ کر قائم کر رہے ہو، اس تصوف سے تو ہم بھی نالاں ہیں۔ اگر تصوف کے انکار سے تمھاری مراد محض اس کے نام سے انکار ہے تو کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ اگر معنی اور ان کی حقیقت تصوف سے انکار کرتے ہو تو سمجھ لو کہ یہ توکل شریعت کا انکار ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل حمیدہ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اوصاف جمیلہ کا انکار ہے۔ کیونکہ اس انکار کے بعد پورا دین ریاکاری بن جاتا ہے۔ دین کی اصل روح اور اس کی جان تو احکام الہٰی کی اخلاص ومحبت کے ساتھ پیروی ہی ہے۔ اگر اس کا انکار کر دیا تو پھر دین کہاں رہا۔ لیکن اگر اس کو مانتے ہو اور یہ موجود ہے تو اسی کو ہم تصوف کہتے ہیں۔
حضرت ابو الحسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ تصوف کسی خاص وضع قطع یا علمی سندات کا نام نہیں ہے، تصوف تو ایک وصف اور اخلاق کا نام ہے“۔ اور حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ تصوف نام ہے نفس اور حرص وہوا کی غلامی سے آزادی پانے کا، باطل کے مقابلہ میں جرات ومردانگی دکھانے کا ، دنیوی تکلفات کو ترک کر دینے کا، اپنے مال کو دوسروں پر صرف کر دینے کا اور دنیا کو دوسروں کے لیے چھوڑ دینے کا“۔ اور حضرت ابوحفص حداد نیشا پوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ تصوف کا کل آداب واحکام کی پابندی کا نام ہے۔ اور ہر وقت، ہر مقام اور ہر حال کے لیے متعین آداب واحکام ہیں۔ جو شخص ہر موقع محل کے آداب واحکام کی پابندی کو اپنے اوپر لازم کر لے وہ اس مرتبہ کو پہنچ گیا جہاں آدمی کو پہنچنے کی تمنا کرنی چاہیے اور جس نے ان آداب واحکام کی پرواہ نہ کی اور ان کو ضائع کر دیا تو ایسا شخص اس مقام سے بہت دور ہے جہاں سے وہ بارگاہ خداوندی میں باریابی نہ کرسکے“۔
۔۔۔
قسط نمبر ۸ میں ملاحظہ کریں: صوفی کے لباس کے بارے میں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر