ٹالی دے تھلے بے کے

جانوروں کے پیچھے پیچھے آج کل میں پہاڑ سر کر رہا ہوں۔ گذشتہ دو سالوں میں ضلع مانسہرہ کا کوئی گاؤں شاید ہی میری مہم جوئی سے بچ نکلا ہو، ورنہ میرے خیال میں تومیں ضلع بٹگرام کا آدھا حصہ جس میں ہمارا ادارہ کام کر رہا ہے بھی سر کر چکا ہوں۔ پہاڑوں پر چڑھنا ایک فن ہے، اور یہ فن میں نے تین یا چار بار لڑھکنے کے بعد سیکھا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جانا ایسی ہی خوشی دلاتا ہے جیسے کہ عروج کو کوئی پا لے!۔ 

کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چلتے چلتے، پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گاؤں میں پل بھر کو سانس لینے کو کسی درخت نیچے رکتا ہوں تو بس کیا بتاؤں، کچھ تھکن کا احساس ہوتا ہے اور کچھ ٹھنڈی ہواؤں اور صاف شفاف ماحول کا، رشک آنے لگتا ہے ان پہاڑوں کی مشکل زندگی پر۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی "مذعرے" کی چارپائی، چنار کے درخت نیچے چھاؤں میں پڑی، لسی اور ٹھنڈے پانی کے دو مٹکے بھرے ہوئے اور رقاب بھری ہوئی پہاڑی خوبانیوں کی!۔ خیال تو خیال،  ان پہاڑی لوگوں کو اکثر ایسی ہی "پکنک" مناتے دیکھ بھی لوں تو ایک کڑک سا خیال دل میں لہر جاتا ہے کہ "ہم شہروں میں بسنے والے کتنی مادہ پرست، فانی دنیا کی اور لاحاصل دوڑ دوڑ رہے ہیں!"۔

میرے بھائی کا خیال ہے کہ زلزلے کے بعد جو پہاڑوں پر لوگوں کو ایک لاکھ پچہتر ہزار روپے حکومت گھر بنانے کو قسطوں میں ادا کرتی رہی ہے، وہ لاحاصل ہے، اس سے کچھ بھی نہیں بن پائے گا، ایک کمرہ بھی نہیں!۔ چونکہ میری آنکھوں کے سامنے کوئی چالیس ہزار کے قریب گھر پندرہ یونین کونسلوں میں ایس آر ایس پی کے ہاتھوں بنے ہیں، تو میں بھائی صاحب کو ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ، "جی، ان لوگوں کے لیے گھر بس سر چھپانے کا ذریعہ ہے، جبکہ میرے آپکے لیے گھرخاردار جھاڑیوں سے بھرے جنگل میں  ایک اڑتی چڑیا، جس کو پکڑنے کے لیے اپنا تن، من، دھن ہم چھلنی کر دیتے ہیں!"۔

۔۔۔

مزعرہ: رسی کی ایک قسم جو کہ درخت کی چھالوں سے بنائی جاتی ہے، انتہائی آرام دہ ہوتی ہے۔

ایس آر ایس پی: سرحد رورل سپورٹ پروگرام (صوبہ سرحد کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام کرنے والا ایک ادارہ: اسی ادارے سے آجکل میں منسلک ہوں)۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر