اٹھا کے پھینک دو باہر گلی میں

لوکل ٹرانسپورٹ ہمارے دلوں پر چھریاں چلاتی رہتی ہے، جس کا اظہار میں یہاں کر چکا ہوں، لیکن یہی لوکل ٹرانسپورٹ ایک درسگاہ بھی ہے۔ بھانت بھانت کے لوگ اور طرح طرح کے رویے، کیا کچھ نہیں سکھاتی۔ آج کل میں جس روٹ پر روزانہ سفر کرتا ہوں، وہاں بڑی سہولت ہے۔ کیری ڈبے میں سوار ہو جائیں، ویگن سے تھوڑا زیادہ کرایہ دیں اور بس۔ سارے راستے آپ نہ صرف ہچکولوں، دھکوں اور مکوں سے بچے رہیں گے، بلکہ تیز آواز میں نئے انڈین گانے ووفر کی سہولت کے ساتھ سننے کو بھی ملیں گے۔ یہ سہولیات صرف اس وجہ سے میسر ہیں کہ یہ روٹ یونیورسٹی کا ہے اور دوسرا ہمارے ہم عمر ڈرائیور حضرات اپنی کیری ڈبوں کو بڑی شوق سے سنوارتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وجہ سے سہولت ہو جاتی ہے ورنہ لوکل ٹرانسپورٹ کا حال تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔
چونکہ اس سروس کو یونیورسٹی کے استاد، طالبعلم اور دوسرے پڑھے لکھے لوگ زیادہ استعمال کرتے ہیں، کچھ سہولت اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج شنکیاری میں اپنے دفتر سے واپسی پر ایک بابا جی بھی سوار ہو گئے۔
باباجی بڑے زبردست آدمی تھے، ہلکی سی مسکراہٹ، سفید داڑھی کو دیکھتے ہیں میں مودب ہو گیا، ان کا ہاتھ بھی ہلتا تو پہلے بسم اللہ پڑھتے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت کا روحانی پہلو بھی کچھ چھینٹے اڑا گیا۔
اب صورتحال یہ ہوئی کہ باباجی عین تھانے کے سامنے سوار ہوئے تھے، کچھ پریشان تھے، سو میں نے انھیں اپنی سیٹ پیش کی، کیونکہ جس طرف وہ بیٹھے تھے ، میں نے سوچا دھوپ میں تنگ ہوں گے۔ مطلب میرا نہ صرف ادب تھا بلکہ بات چیت شروع کرنے کا بہانہ بھی ڈھونڈنا تھا!!!۔
ایک سپیڈ بریکر پر جیسے ہی بابا جی اور میں بیک وقت اچھلے تو ہم دونوں کے سر چھت سے ٹکرائے اور میں نے غصے میں طنزاً ڈرائیور بابو کو پکارا، "استادو، پہلے موت کے کنوئیں میں گاڑی چلاتے رہے ہو کیا؟"۔
میرا خیال تھا کہ بابا جی کا رویہ بھی کچھ ایسے ہی ہو گا لیکن، "ہوہوہوہو، کمال کر دیا جی!!!" بابا جی ایسے چہکے، جیسے چوٹ نہ لگی ہو بلکہ کسی نے انھیں اڑن کھٹولے پر بٹھا دیا ہو اور مفت میں مزے لٹوا دیے ہوں۔
بابا جی کو میں نے حیرت سے دیکھا تو بابا جی بولے، "کوئی بات نہیں، یہ اس دور کا قصور ہے!!!"۔
گاڑی میں بجتا ٹیپ چنگھاڑا،۔
کہنے کو جشن بہاراں ہے،۔
عشق یہ دیکھ کے حیراں ہے،۔
پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں،۔
چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں!!!۔
گانے کا کورس ختم ہوتے ہی جھٹ سے بابا جی نے میرے دُکھتے سر پر تھپکی دی اور مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑے شاپر سے ایک سیب پکڑایا اور ٹھیٹھ پشتو میں بولے، "بیٹا جی، ہم بوڑھے سیب چکھ کر مان لیتے ہیں کہ یہ کھٹا ہے، مگر تم جوان لوگ پورا بھی کھا لو نہیں مانتے۔ ڈگریاں لے لیں، بابو بن گئے مگر خوش ہونا نہیں سیکھ پائے!!!"۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر