قسط نمبر ۸: کشف المحجوب

گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کریں: ذمرہ: برقی کتب، اقساط: قسط نمبر ۱، قسط نمبر ۲، قسط نمبر ۳، قسط نمبر ۴، قسط نمبر ۵، قسط نمبر ۶، قسط نمبر۷
۔۔۔
صوفی کے لباس کے بارے میں

گودڑی (مخصوص لباس) پہننے کے حق میں صوفیاء کا استدلال
صوفیاء کا عام طریق لباس گودڑی پہننا ہے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا سنت ہے، اس لیے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ نبی ﷺ صوف (پشم کا بنا ہوا لباس) پہنتے تھے اور گدھے کی سواری فرماتے تھے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ صوف (اون کا لباس) اختیار کرو، اس سے تم اپنے دلوں میں ایمان کی مٹھاس پاؤ گے“۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا؛ اے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا، کپڑے کو ضائع نہ کیا کرو جب تک پیوند لگا کر اسے خوب چلا نہ لو“۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کپڑوں میں تیس تیس پیوند لگے ہوتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے کہ اچھا کپڑا وہ ہے جس کی قیمت کم ہو۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو صوف کے کپڑے پہنے دیکھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی صوف کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ پیوند لگے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ہرم بن حبان رضوان اللہ علیہم اجمعین تینوں کا بیان ہے کہ انھوں نے ان کو پشم کے لباس میں دیکھا جس پر چیتھڑے لگے ہوئے تھے۔ اور حسن بصری، مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہم اللہ سب کے سب پیوندوں والی گودڑی پہنتے تھے۔ اور محمد بن علی ترمذی اپنی کتاب تاریخ المشائخ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی شروع میں صوف پوش اور گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور حضور ﷺ نے آپ سے فرمایا؛ کیا تمھارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ میری سنت کو زندہ کرنے کے لیے لوگوں کے درمیان رہو؟“ آپ نے فوراً گوشہ نشینی کی زندگی ترک کر دی۔لیکن اس کے بعد بھی کبھی بیش قیمت لباس نہیں پہنا۔ حضرت ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ بھی پیوند لگے پشم (صوف) کے کپڑے پہنتے تھے۔ اور ایک مرتبہ اسی حال میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں تشریف لائے۔ امام صاحب کے شاگردوں نے انھیں حکارت کی نظر سے دیکھا۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ان کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا؛ یہ ہمارے سردار حضرت ابراہیم ادھم ہیں۔ شاگردوں نے اسے مذاق سمجھا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ امام صاحب کبھی ہنسی مذاق کی بات تو نہیں کرتے، انھوں نے سرداری کا مرتبہ کیسے پالیا۔ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو بتایا کہ انھوں نے یہ مرتبہ اس طرح پا لیا کہ یہ ہمیشہ خدا کی بندگی کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور ہم اپنی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔
صوفیاء کا یہ مسلک ان عملی مثالوں اور نبی کریم ﷺ کے مذکورہ بالا ارشادات کے علاوہ حضور ﷺ کے اس ارشاد پر بھی مبنی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا؛ “جو شخص کسی گروہ کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں گروہ کا فرد شمار ہوتا ہے“۔ چونکہ زیادہ تر خدا کے برگزیدہ لوگ پھٹے حالوں اور چیتھڑوں میں ہی ملبوس رہے، اس لیے بندے کا ان کے سے حال میں رہنا حق سے قربت کا زریعہ ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے ظاہر کو اہل اللہ کے موافق آراستہ کرتے ہیں اور جو کچھ لازم ہے اسے بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ باطن بھی اس ان کے موافق ہو جائے۔ نیز یہ کہتے ہیں کہ اہل اللہ کا لباس زیب تن کرنے سے تمام مخلوقات ہماری محافظ بن جاتی ہے اور یہ اس طرح سے کہ اگر ہم یہ لباس پہن کر اہل اللہ کے مرتبے کے خلاف کوئی بات کریں گے تو ہر طرف سے ہم پر زبان طعن دراز ہوگی اور ہر کوئی ہم کو ملامت کرے گا کہ یہ اہل اللہ کے نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اس طرح سے ہم اپنے آپ کو معصیت میں مبتلا کرتے ہوئے شرمائیں گے۔ ہمارے نزدیک گودڑی وفا کا پیراہن ہے۔ ہم گودڑی اور گودڑی والوں سے محبت کرتے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے؛ “ہر شخص جس گروہ سے محبت رکھتا ہے، حشر کے روز اسی گروہ کے ساتھ ہو گا“۔
چنانچہ اس مسلک کے مشائخ خود بھی گودڑی پہنتے ہیں اور اپنے مریدوں کوبھی اسی لباس میں آراستہ کرتے ہیں تاکہ یہ ان کے اہل اللہ کے گروہ میں سے ہونے کی علامت ہو اور تمام مخلوقات ان کی محافظ بن جائے۔
گودڑی پہننے کی شرطیں
اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پیشہ ور صوفیوں کی تو بات دوسری ہے، لیکن اصلی اہل طریقت میں سے جو گودڑی پہننا اور اپنے مریدوں کو اس کا پہنانا ضروری قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک گودڑی پہننا کفن پہننے کے ہم معنی ہے، اور اس کی شرائط بھی وہی ہیں جو کفن پہننے کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ آدمی دنیا سے اسی طرح سے دست کش ہو کر گودڑی پہنے جس طرح دنیا سے دستکش ہو جانے کے بعد ہی آدمی کو کفن پہنایا جاتا ہے۔ وہ دنیا اور اس کی لذتوں سے بےنیاز (کنارہ کش نہیں) ہو جائے اور اس کے بعد اپنی تمام عمر خدا کی ملازمت کے لیے وقف کر دے۔ گویا یہ مجاہد فی سبیل اللہ ہونے کی ایسی علامت ہے کہ اب گودڑی پوش اپنی جان سمیت سب کچھ خدا کے لیے قربان کرنے کے لیے کھڑا ہے۔ گودڑی پہنانے کا اصل طریقہ جو مشائخ نے جاری کیا وہ یہی ہے کہ جب مرید اس درجہ کو پہنچ جائے اس وقت ہی پیر اس کو اس خلعت سے آراستہ کرے اور پھر مرید اس کا حق ادا کرنے کی پوری پوری کوشش کرے۔ چنانچہ ان مشائخ عظام رحمہم اللہ کا دستور یہ ہے کہ جب کوئی طالب عقبٰی ان سے تعلق پیدا کرتا ہے تو وہ تین سال تک اسے ادب سکھاتے اور اس کی تربیت کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی طلب میں صادق اور عزم میں پختہ نکلا تو بہتر ورنہ اسے صاف طور پر فرما دیتےہیں کہ تجھے طریقت قبول نہیں کرتی۔ اور ان تین برسوں میں ایک برس مخلوقات کی خدمت میں، ایک برس خدا کا حق بجا لانے کی ملازمت میں اور ایک برس اپنے دل کی حفاظت و پاسبانی میں لگایا جاتا ہے۔ مخلوقات کی خدمت کے لیے ضروری ہے کہ آدمی تمام مخلوق خدا کو بلا تمیز مخدوم اور اپنے آپ کو اس کا خادم سمجھے۔ ان سب کو اپنے سے بہتر اور سب کی خدمت کو اپنے اوپر واجب تصور کرے۔ ورنہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا خود ایک آفت ہے جس کا مداوا ضروری ہے۔ خدا کی ملازمت اور خدمت آدمی اس وقت بجا لاسکتا ہے کہ جب وہ اپنی تمام لذتوں کو خواہ وہ دنیا کی ہوں یا عقبٰی کی، سب کو چھوڑ دے اور ہر طرف سے یکسو ہو کرخدا کی بندگی کے کام میں مشغول ہو جائے۔ دل کی محافظت اور پاسبانی اس وقت آدمی کر سکتا ہے جب کہ دل کو دوسرے تمام غموں اور ارمانوں سے فارغ کر کے صرف عقبٰی کے غم اور ارمان کو اس میں آباد کر لے۔
جب یہ تینوں شرطیں پوری ہوجائیں، تب مرید کو گودڑی پہنائی جاتی ہے اور تبھی پہنائی جانی چاہیے۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، گودڑی پہننا کفن پہننے کے مترادف ہے۔
طریقت اور اخلاص فی الدین کا مدار لباس نہیں ہے
لیکن گودڑی پہننے اور پہنانے پر اصرار کے سلسلے میں پہلی توجہ طلب بات یہ ہے کہ تصوف وطریقت اور اخلاص فی الدین کسی خاص قسم کا لباس پہننے پر منحصر نہیں ہیں۔ ان کا مدار انسان کے عمل اور اس کے قلب کی کیفیت پر ہے۔ جو شخص طریقت سے آشنا ہے اس کی قبائے امیرانہ بھی قبائے فقیرانہ کی طرح ہوتی ہے، اور جو شخص طریقت سے بیگانہ ہے، اس کی گودڑی بھی قیامت کے روز اس کے لیے نحوست کی نشان اور عقوبت وبدبختی کا فرمان ہوگی۔ پس اے گودڑی پوش! اگر تو یہ لباس (گودڑی) اس لیے پہنتا ہے کہ اللہ تعالٰی تجھے پہچان لے تو وہ بغیر اس لباس کے بھی پہچان لیتا ہے۔ اور اگر اس لباس کو اس لیے اختیار کرتا ہے کہ مخلوقات تجھے اولیاء اللہ کے زمرے میں سمجھے تو دو صورتوں میں سے ایک بہر حال ہو گی۔ اگر تو فی الحقیقت اس زمرے میں داخل ہے تو اس کا اظہار ریاء ہو گا، اور اگر تو ان میں داخل نہیں ہے تو یہ نفاق ہو گا۔ اور جو شخص اپنے معاملات کو اپنے ظاہر کے مطابق درست نہیں رکھتا، اس کا لباس (ظاہر) اس کے جھوٹے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ اوراس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا لباس صفا کا نہیں فریب کا لباس ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ (٦٢۔٥) ان لوگوں کی مثال جن کوتورات کے حامل بنایا گیا لیکن انھوں نے اس ذمہ داری کا حق ادا نہ کیا، اس گدھے کی مانند ہیں جس پر کتابیں لدی ہوں“۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ظاہر سے پہلے باطن کی درستی کی فکر کرنی چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے امت کے لیے کسی خاص وضع کے لباس کو مقرر نہیں فرمایا۔ آپﷺ کی اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زندگیاں بھی اسی پر گواہ ہیں۔ جو چیز سب میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ جو اور جیسا لباس میسر آیا اسے انھوں نے پہن لیا۔ البتہ جس بات کا اہتمام فرمایا اور تاکید بھی فرمائی وہ یہ کہ تمھارا لباس تقوٰی کا لباس ہو۔ یعنی یہ پوری طرح سے ساتر ہو، زینت میں حد سے بڑھا ہوا بھی نہ ہو اور آدمی کی عام حیثیت سے گرا ہوا بھی نہ ہو۔ غرور وتکبر اور ریاء کی شان لیے ہوئے نہ ہو۔ مرد کے لباس میں زنانہ پن نہ ہو اور عورت کے لباس میں مردانہ پن نہ ہو، اور نہ کسی دوسری قوم کی اسی مشابہت اس میں پائی جائے جو ذہنی غلامی اور احساس کمتری سے پیدا ہوتی ہے۔ جہاں تک اپنے اوپر مصنوعی طور پر مفلسی کے آثار طاری کرنے اور اپنے ظاہر کو اپنی حیثیت سے فروتر بنا کر رکھنے کا تعلق ہے، اس چیز کو دین میں پسند نہیں کیا گیاہے-
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ “اللہ جب کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر ظاہرہو“۔ یعنی یہ کہ وہ اس نعمت سے لطف اندوز بھی ہو اور اس کے لیے اپنے منعم کا شکر گزار بھی ہو۔ یہی نہیں قران مجید میں تو ارشاد ہے؛ (٧۔٣٢) “اے نبی! ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، دنیا میں بھی یہ ساری چیزیں دراصل ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن تو صرف انھی کے لیے ہوں گی“۔
صحیح اور اعتدال کی راہ
چنانچہ میں علی بن عثمان جلابی اسی طریقہ پر عامل ہوں اوراسی کو پسند کرتا ہوں کہ لباس کے بارے میں کسی تکلف سے کام نہ لیا جائے۔ جیسا ملا پہن لیا جائے۔ اگر ایک وقت میں قبا ملی تو وہی پہن لی اور اگر گودڑی میسر آئی تو اس کو پہن لیا اور کچھ نہ ملا تواسی طرح وقت گذار لیا۔ بلکہ بہتر صورت یہ ہے کہ کسی چیز کو بھی عادت نہ بنائے، کیونکہ جب کوئی چیز عادت بن جاتی ہے تو آدمی کو اس سے محبت ہو جاتی ہے اور یہ اس کی طبیعت میں داخل ہو کر حجاب بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ “سب (نفلی) روزوں میں سے بہتر روزہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ؛ “وہ ایک روز روزہ رکھتے اور ایک روز ناغہ کرتے تاکہ نفس کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی عادت نہ ہو جائے اور اس عادت کے سبب وہ محجوب نہ ہوجائے“۔
میرے شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی طریقہ تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ لباس میں صوفیوں کے رسوم سے کنارہ کش رہے۔ پس جو ملا اور میسر آیا پہن لیا۔ حضرت موید غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی طریقہ ہے۔ شیخ محمد بن حنیف رحمتہ اللہ علیہ جنھوں نے خود بیس سال ایک سخت ٹاٹ پہنا، ہر سال چار چلے کھینچے اور ہر چلہ میں علوم کی باریکیوں پر ایک کتاب تصنیف فرمائی، ان کے ہم عصر ایک عالم محمد بن زکریا پارس رحمتہ اللہ علیہ پارس میں رہتے تھے اور انھوں نے کبھی گودڑی نہیں پہنی تھی۔ شیخ محمد بن حنیف رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ گودڑی پہننے کی شرط کیا ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، “وہی جو محمد بن زکریا سفید پیراہن میں بجا لا رہے ہیں۔ یاد رکھو! ان کے لیے اس پیراہن کا پہننا اسی طرح سے واجب ہے جس طرح سے میرے لیے یہ ٹاٹ۔ کیونکہ خداوند تعالٰی نے اسے وہ لباس عطا فرمایا ہے اور مجھے یہ دیا ہے۔

۔۔۔
قسط نمبر ۹ میں ملاحظہ کریں: طریق ملامت کے بارے میں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر