ماں کی دعا جنت کی ہوا

میرے ایک ماموں ہیں، نام ان کا خادم حسین۔ سگے ماموں نہیں ہیں، میری اماں کے ماموں زاد بھائی۔ جنھیں میں برملا سگا کہہ سکتا ہوں، وجہ یہ ہے کہ میری اماں سے ان کو بڑی نسبت ہے۔ دونوں کا بچپن ایک ساتھ گذرا ہے، میری اماں کی بہت عزت کرتے ہیں تو اسی وجہ سے مجھے بڑے عزیز ہیں۔ میری اماں کا خیال ہے کہ وہ ایک "فراڈیے" ہیں۔
جب بھی پوچھو تو کہتی ہیں، "ارے فراڈیا نہیں تو کیا؟ یہ بھی بھلا کوئی بات ہے، کبھی تو ہفتے میں ۲ بار چکر لگائے گا اور کبھی مہینوں غائب"۔ بات ان کی بھی ٹھیک ہی ہے۔ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آتی۔ کبھی تو ایسے غائب جیسے ہیں ہی نہیں۔ اور جب ہوں تو ایسے کہ آلتی پالتی مار کے بیٹھے اور گھنٹوں اماں سے راز و نیاز جاری۔ علاقے کی نسبت بھی کچھ ایسے سن رکھیں۔ ہمیں اکثر لگتا ہے کہ اسلام آباد کے رسیا ہیں اور اپنے قصبے سے کوئی نسبت ہی نہ ہو۔ لیکن جب بھی قصبے میں مرگ موت ہو جائے تو جی اعلان وہی کر رہے ہوتے ہیں، قبر بنوانا تو جیسے ان کا من پسند شعبہ۔ کوئی جنازہ ایسا میری نظر میں نہیں گذرا جس میں ان کی شرکت نہ ہو۔
میں تو ان کو باقاعدہ چھیڑ بھی دیتا ہوں کہ جی یا تو آپ جناب الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا پھر گورکنوں کی کوئی تنظیم چلا رہے ہیں۔
آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا، ہماری ایک عزیزہ وفات پاگئیں، قریبی رشتہ تھا، اور کچھ ذمہ داریاں سو فوراً سے پہلے بالاکوٹ جا پہنچا۔ میرا خیال تھا کہ میں کافی جلدی پہنچا ہوں، لیکن پہنچتے ہی دیکھا کہ یہ صاحب قبر تیار کروا رہے ہیں۔ مجھ پر نظر پڑی تو دور سے اشارہ کر دیا۔ میں ہٹ کر دیکھنے لگا۔ کوئی ایک آدھ گھنٹہ میں تماشہ کرتا رہا، جناب ایسی ماہرانہ طریقے سے قبر بنوا رہے تھے کہ جیسے ان کا "پروفیشن" ہی یہ ہو۔ خیر جب قبر مکمل ہو چکی تو میں سلام دعا کو حاضر ہوا۔
قبر سے تھوڑی دور لے گئے اور سگریٹ سلگا لیا۔ حال احوال، مصروفیات، اور رسمی باتیں ہو چکیں تو سوئی آن اٹکی میری اماں جی پر۔ دو ایک نصحیتیں حسب معمول والدہ کے حقوق اور فرائض پر کر چکنے کے بعد ایک دم سے بولے، ۔
"میں تو کہتا ہوں، تو سہیلی بنا دے اماں کو، سہیلی ہاں۔ دلوں کو ٹٹول کر رکھ دو ایک دوسرے کے، کوئی بات نہ رہ جائے۔ جیسے وہ دو سہیلیاں ہوتی ہیں ناں، اور ہاں یاد رکھنا، تمھارا والد تمھارے نام اپنی جائیداد، بینک بیلنس اور زمین ہی کر سکتے تھا، مگر بلے بلے ہو جائے گی تیری گر اماں کو سہیلی بنا دیا تو"۔
میں نے پوچھا کہ بھئی بلے بلے کیسے؟
تو بولے، "ابے او احمق! جنت تو تجھے اماں نے ہی دلانی ہے ناں!"۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر