کنسلٹنٹ

صاحبان مبارک ہو! اب میں ایک کنسلٹنٹ ہوں۔
کنسلٹنٹ کی اگر ہم جامع اور کتابی تعریف کرنے بیٹھیں تو وہ نہ صرف اس پوسٹ کا بڑا حصہ کھا جائے گی بلکہ شاید میری اور آپکی سمجھ سے بھی باہر ہو جائے گی۔ سو ہم ایسے جھنجھٹ میں نہ ہی پڑیں تو اچھا رہے گا۔ ایک اچھے کنسلٹنٹ کی طرح، مجھے بھی بس کچھ سرسری باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے، جو کنسلٹنٹ کی تعریف بخوبی بیان کر سکیں۔
یقین جانیے مجھے سمجھ نہیں کہ کنسلٹنٹ کس چڑیا کا نام ہے، بس میری طرح آپکو بھی ان دو ایک لطیفوں پر یقین کرنا پڑے گا، جن سے میں واقف ہوں۔
لطیفوں کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر نہ کروں گا تو میں کنسلٹنٹ کہلانے کے لائق نہیں، کیونکہ زیادہ تر کنسلٹنٹ یہی کرتے ہیں!۔ ویسے بھی ہمیں آسانی سے کیسے سمجھ آئے گی کہ کنسلٹنٹ کیا "شے" ہوتی ہے، کیونکہ کنسلٹنٹ اصل بات کبھی بتایا بھی نہیں کرتا۔
لیجیے، کنسلٹنٹ کی سادہ، آسان اور سلیس تعریف پڑھیے اور سر دھنیے کہ اب ایک کنسلٹنٹ بھی دستیاب ہے آپ یار دوستوں کو،۔
ایک گڈریے کو کسی شخص نے کہا: "بھائی جان! اگر تو میں آپ کو کھڑے کھڑے اپنے علم کے مختلف زاویوں کی روشنی میں یہ بتا دوں کہ آپ کے ریوڑ میں کتنی بکریاں اور کتنی بھیڑیں ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔؟"۔
گڈریے نے فرط حیرت سے اس شخص کو دیکھا اور بولا، "اگر تو ایسا ہو جائے تو بھیا، ان میں سے ایک بکری تیری"۔
ایک کاغذ، ایک پینسل اور چند ٹیڑھی لکیروں کی مدد سے پانچ منٹ میں اس شخص نے کمال مہارت دکھائی، جسے آپ "ایفی شینسی" بھی کہہ سکتے ہیں، صحیح تعداد بتا چکا تو اپنی گاڑی میں ایک موٹی تازی، تگڑی بکری بغیر پوچھے لاد دی۔
اس سے پہلے کہ وہ شخص اپنی گاڑی میں سوار ہو اور گڈریے کے منہ پر منوں دھول اڑاتا"نو دو گیارہ" ہوتا گڈریے نے اس شخص کو روکا اور بولا، "حضور اگرتو آپ کو میں یہ بتا دوں کہ آپ کون ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟"۔
اب کہ حیران ہونے کی باری اس شخص کی تھی، فٹ بولا، "اگر تو ایسا ہو جائے ۔ بھائی جان! انعام کے طور پر وہ بکری جو آپ نے مجھے دی، وہ آپکی!!!"۔
گڈریا ہنسا اور بولا" تو مان نہ مان، تو کنسلٹنٹ ہے"۔
کنسلٹنٹ نے حیرت سے انگلیاں چبا ڈالیں اور گڈریے سے پوچھا، "آپ کو کیسے پتہ چلا بھیا!"۔
گڈریے نے سر کو جھٹکا دیا اور بولا"دو چیزوں سے، پہلی تو یہ کہ تو نے مجھے وہ بات بتائی جو میں جانتا تھا، دوسرا یہ کہ جو بکری تو اپنی گاڑی میں لاد کر لے جا رہا ہے، وہ بکری نہیں میرا کتا ہے، فوراً اتار اسے۔۔۔۔۔۔!"۔
صاحبان! دوسرا لطیفہ سنانا بطور کنسلٹنٹ ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً یہ کہ
۱۔ پہلا لطیفہ کافی تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے۔
۲۔ دوسرا یہ کہ آپ کچھ کر لیں دوسرا لطیفہ میں سناؤں گا بھی نہیں۔
۳۔ تیسرا یہ کہ وہ تھوڑا بالغ قسم کا بھی ہے
ہاں اتنا ضرور ہو سکتا ہے کہ جاتے جاتے میں ایک "قابل" کنسلٹنٹ کی طرح کچھ اشارے دے دوں۔ بس یاد کیجیے وہ مرغوں اور پروفیسر والا قصہ، جہاں جہاں پروفیسر ہے وہاں کنسلٹنٹ لگا دیجیے۔
مجھے یقین ہے کہ یہ دو لطیفے کافی حد تک کنسلٹنٹ کی تعریف بیان کرتے ہیں، بھاڑ میں جائے سب اگر کسی کو سمجھ نہیں لگی۔
خیر، کچھ بھی ہو، کیسے بھی حالات ہوں اب میں بھی ایک کنسلٹنٹ ہوں۔ میں بہتیرا انکار کروں، بھلے دنیا میرے پیچھے سکھوں اور پٹھانوں کی قسم کے لطیفے جوڑے، میں مان چکا (ڈھیٹ ہو جانا زیادہ مناسب ہے)، آپ بھی مان لیجیے کہ میں کنسلٹنٹ ہوں!۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! کیونکہ اگر کنسلٹنٹ یہ کہہ دے کہ کام ختم تو صاحب وہ بھوکا مر جائے!!۔)۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر