سوگ

بالاکوٹ سے کوئی بارہ کلومیٹر باہر بے ہنگم ٹریفک اورسلائیڈنگ کی وجہ سے جب ہم نے پیدل شہر کی جانب سفر شروع کیا تو ابھی بالاکوٹ پہاڑوں میں کہیں اوجھل تھا، یہ تو نظر پڑتے ہی معلوم ہوا کہ بالاکوٹ تو حقیقتا گم ہو چکا ہے، بہتر ہے کہہ لیجیے کہ مرحوم ہو چکا تھا۔
مرحومین سے میری پرانی آشنائی ہے، جب سے ہوش سنبھالا ہے سال میں ایک آدھ مرحوم سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے۔ دادا، نانا اور نانی کے رشتے سے میں قطعا ناآشنا ہوں، کیونکہ وہ سب تو میری پیدائش سے پہلے ہی جا چکے تھے، تایا میرے اس دنیا میں آنے سے دس سال پہلے قتل کر دیے گئے، اور گھر میں جو بچ رہے وہ زندہ لاشیں تھی۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ میری دادی اماں اتنی سخت طبیعت کیوں ہیں؟
مُردوں سے مجھے کبھی ڈر نہیں لگا، ہاں بین کرتی عورتوں سے مجھے بڑی وحشت ہوتی۔ میں اپنے عزیزوں کے ہر ماتم والے گھر میں پہنچ جاتا اورٹانگوں تلے رینگتے ہوئے جنازےکے عین سامنے منہ کی جانب پہنچ جاتا اور پھر وہاں گھنٹوں اکڑوں بیٹھا رہتا۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ہر عورت اونچی آواز میں بین کرتی، ہاتھ ملتے ہوئے مرحوم کے گھر والوں سے لپٹ جاتی اور بھیانک ماتم مجھ پر جیسے کپکپی طاری کر دیتا۔ جب ساری عورتیں بین اور مرد خاموش کھڑے مرحوم کو تک رہے ہوتے تو میں من ہی من ، مردے سے باتیں کرتا رہتا۔ میں اسے مخاطب کرتا اور دل میں ہی اس سے پوچھتا کہ وہ ایک ہی رخ پر اتنی دیر سے سانس بند کیے کیسے لیٹتا ہے!۔
ابا کی وفات کے تیسرے دن مجھے ایسے لگا کہ جیسے دنیا خالی ہو گئی ہو، میں خالی ذہن رات کو بستر پر لیٹا تھا کہ اچانک پچھلے دس سالوں سے جتنے بھی عورتوں کے ماتم دیکھے اور سنے تھے ، میرے کانوں میں بجنے لگے اور میری آنکھوں کے سامنے بین کرتی عورتیں گھومنے لگیں۔ یہ پہلی بار تھی کہ مجھے بہت ڈر محسوس ہوا۔
ابا کے جانے کے بعد عید، عید نہ رہی۔ بی بی جی موقع ملتے ہی روتیں، چھپ کر روتیں یا پھر گھر آئے عزیزوں کے ساتھ مل کر روتیں۔ گھر میں وحشت پھیل گئی تھی، مجھے گھر آئے مہمانوں سے نفرت ہو گئی، کیونکہ جب بھی کوئی عزیزہ چکر لگا جاتیں تو اس کی موجودگی اور پھر جانے کے بعد گھنٹوں بی بی جی روتی رہتیں، میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بی بی جی کیا باتیں کرتی ہیں مہمانوں سے اور پھر وہ سارے مل کر روتے رہتے ہیں۔ اس دوران میں یا تو میں کسی کونے کھدرے میں گھس جاتا یہ آنکھ بچا کر گلیوں میں بے مقصد پھرتا رہتا۔ نہ جانے کیسی وحشت تھی کہ میں اب تک من کی گلیوں میں بے مقصد پھر رہا ہوں۔
زندگی ایسے ہی گذر رہی تھی کہ ، یونیورسٹی میں ایک دن اطلاع آئی کہ اب کے پورا شہر ہی زمین بوس ہو گیا ہے، مجھے قطعا یقین نہ آیا۔ دس بارہ دوست میرے ساتھ ہوئے اور جب ہم شہر میں داخل ہوئے تومیرے ایک چچا زاد نے مجھے دیکھا اور دیکھتے ہی مجھ سے لپٹ گیا، دیر تک بین کرتا رہا۔ کیا کرتا، اب کے شاید عورتیں بین جوگی بھی نہ رہی تھیں۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ اگر کوئی مرد بین کرے تو وہ بڑی بھیانک ہوتی ہے، میرے ساتھ چلتے ہوئے کوئی ڈیڑھ کلومیٹر تک وہ اب تک دفنا ئے جانے والے عزیزواقارب کے نام گنوا چکا تھا ، اور اگلی منزل تک مجھے ابھی دفنائے جانے والے اور گمشدہ عزیزوں کی بابت معلوم ہو رہا۔ باقی کے ہم وطنوں بارے دو سال لگے، مر کھپ گئے یا ابھی سانس لیتے ہیں۔
اپنے گھر کے ملبے تک پہنچتے پہنچتے ، ارد گرد بکھری لاشیں گنتے، ملبے تلے سے باہر کو نکلے بازؤں سے مرحومین کا اندازہ لگاتے جب میں اپنے گھر کے ملبے پر پہنچا تو میں یہ بھی جان گیا کہ میری دادی اماں اتنی سخت طبیعت کیوں تھیں اور کدال سے کھدائی کرتے، جنازوں کو کندھے دیے جب ڈیڑھ فٹ کی قبروں میں اترتا تو میری نس نس میں جیسے "مرحوم" بھی اترتا چلا جاتا۔ جب شہر پر شام آتی تو ملبے پر اکڑوں بیٹھے، کپکپاتے ہوتے مجھے صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا کہ خاموشی، بین سے بھی زیادہ وحشت ناک ہوتی ہے۔
(زلزلے کے چار سال مکمل ہونے پر تحریر کی گئی : دوسرا حصہ: سوگ بنا روگ، یہاں ملاحظہ کیجیے

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر