مقدمہِ انٹرنیٹ

افضل صاحب نے شروعات کیں، راشد کامران سے ہوتے ہوئے براستہ جعفر کے حال دل مجھ تک یہ کڑی پہنچی ہے۔ تو لیجیے حاضر ہیں جوابات کے بھیس میں چند مغالطے:۔
سوال نمبر ۱: انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کب مجھے انٹرنیٹ میسر آجائے۔ پہلے پہل جب میں صرف ڈیسکٹاپ کمپیوٹر استعمال کیا کرتا تھا تو غالباً سارے دن میں شاید چار سے پانچ گھنٹے انٹرنیٹ پر بسر ہوا کرتے تھے، لیکن اب تو اس موئی نوٹ بک اور موبائل پر انٹرنیٹ پیکجز کی وجہ سے بارہ سے چودہ گھنٹے۔ بعض لوگوں کے لیے شاید یہ کم ہی ہوں لیکن مجھے زیادہ مسئلہ اس لیے بھی ہے کہ میرے کام کی نوعیت شاید اس سے میل نہیں کھاتی، سو ہمہ وقت کافی مسئلہ رہتا ہے وقت تقسیم کرنے میں۔ سوچ رہا ہوں کہ روٹین بدلی جائے، یہ کسی طور بھی مثبت نہیں ہے۔

سوال نمبر ۲: انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
دیکھیے، بات یہ ہے کہ تبدیلی تو ہر ایک چیز کے ساتھ آتی ہی ہے، مثبت یا منفی! یہ منحصر ہے بندے پر، یا حالات پر۔ جہاں تک رہن سہن کی بات ہے تو میرے خیال میں دو ایک چیزیں بڑی اہم ہیں۔ شخصیت، یعنی کہ اپنے آپ کو اور لوگوں کو سمجھنے میں اب کافی آسانی رہتی ہے، اور میرے دو ایک دوست سمجھتے ہیں کہ میں پہلے کی نسبت سے بہتر"انسان" بن گیا ہوں۔ معاشی تبدیلی تو ہے ہی انٹرنیٹ کی بدولت میری زندگی میں، کیونکہ میں تو انٹرنیٹ کو ہی استعمال کر رہا ہوں ریفرنس کے طور پر، کتابیں بھی یہیں پڑھتا ہوں میں، اور پھر اسی علم کو استعمال بھی کرتا ہوں۔ اسی طرح اور کئی معاشی فائدے جو کہ فری لانس لکھائی سے حاصل ہوتے ہیں تو وہ کافی مددگار ہیں میرے رہن سہن اور طرز زندگی میں۔ جہاں تک بات ہے زندگی، سماج اور گھر کی تو دھیرج رکھیے، جواب آیا ہی چاہتا ہے۔
سوال نمبر ۳: کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
حضور، جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ایک طرح سے انٹرنیٹ دکان کی سی چیز ہے۔ یعنی اللہ جی نے اس کو میرے رزق کا وسیلہ بنایا ہی ہے، ساتھ میں نئے تعلقات بھی بڑھتے رہتے ہیں، اور سرراہ شہر کے وسط میں بیٹھا ہوا دکاندار رزق کماتا ہے تو ساتھ میں معلومات اور خبر بھی رکھتا ہی ہے، تو جیسے ایک دکان ایک دکاندار کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے تو بالکل ایسے ہی میری زندگی پر بھی یہ اثر انداز ہوا ہے۔ یونیورسٹی اور اب بھی جب میں دفتر یا گھر سے باہر ہوتا ہوں، پھر تو ٹھیک ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔ لیکن مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب میں یہ دکان گھر پر بھی سجائے بیٹھتا رہتا ہوں۔ نہ صرف مجھے، بلکہ گھر والوں کو بھی مسئلہ ہونا ایک قدرتی امر ہے۔
انٹر نیٹ پر اچھے دوست ملے ہیں، بہت پیار کرنے والے، اچھی بات ہے لیکن ان کا کیا جو میری گلی میں رہتے ہوئے مجھ سے بچھڑ چکے ہیں؟۔ 
سوال نمبر ۴: اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
نہیں اب تک تو نہیں، چان تو خیر نہیں چھوٹ سکتی، البتہ یہ ارادہ ضرور ہے کہ اس کو کسی طرح سے حد میں رکھا جائے۔ یعنی کچھ ایسا ہو جائے کہ یہ جو افراتفری بنی پڑی ہے زندگی میں وہ تھم جائے۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جب ہر دن ختم ہونے کو آئے تو بھاگ دوڑ کے بعد کچھ وقت تنہا، اپنے آپ کے ساتھ بیت سکے۔
علت شاید سارا انٹرنیٹ نہیں ہے، بلکہ اس کا بہت ہی قلیل حصہ ہے، تو میں صرف اس سے جان چھڑانا چاہ رہا ہوں، آپ صاحبان ہی کچھ مشورہ دیجیے، اپنی سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا۔

 سوال نمبر ۵: کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
میری نوکری کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے ہر آئے دن ایک نیا پہاڑ سر کرنا پڑتا ہے، تو جناب میں اگر نہ بھی چاہوں، انٹرنیٹ بھلے مجھے روکے مجھے وہ "آؤٹ ڈور" کھیل تو کھیلنا ہی ہوتا ہے، تو جواب ہے نہیں!۔
 اسی ڈوری میں اب میں باندھوں گا، کامران اصغر کامی، شاہدہ آپی، بلو بلا، اور عبدالقدوس کو۔   

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر