اصل چرسی

آپ یقین کیجیے یہ بڑا معمہ ہے، میں نے پشاور جیسا شہر آج تک نہیں دیکھا۔ کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ شہر پاکستان کے دوسرے شہروں سے الگ ہے۔ ہر بات نرالی، اب یہی دیکھیے کہ یہاں پر باڑہ یعنی علاقہ غیر کی سرحدیں ہیں، یہاں سمگل شدہ مال ملا کرتا تھا اور ہم شوق سے کریمیں اور ایمپیریل لیدر اصلی والا سستے داموں استعمال کے لیے لایا کرتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ برقی آلات اور کپڑا یہاں کا پورے صوبہ سرحد میں مشہور تھا۔ قصہ خوانی میں کئی بار اس شوق سے گیا کہ قہوے کے ساتھ قصے سننے کو ملیں گے۔ قہوہ توتب مل جایا کرتا تھا، قصے اب سنتے ہیں وہاں روز برپا ہونے والی قیامت کے۔
میرے وہ دوست جو عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھا کرتے تھے،سے  ہمیشہ ہی اختلاف رہا، وہ اسے "باچا خان چوک" جبکہ میں "چرگانو چوک" (مرغیوں والا چوک) کہنے پر مصر ہوتا، میں بھی کیا کرتا لوکل ٹرانسپورٹ والے اسے یہی کہتے تھے، دو ایک بار تو نظریاتی جنگ بھی چھڑ گئی تھی اس موضوع پر، وہ تو خدا خوش رکھے میرے ایک مردان کے دوست کو ورنہ پختونوں کی غیرت جاگتے کتنا وقت لگتا ہے۔
قلعہ بالاحصار کی فصیل پر چڑھ کر وہاں سے شہر کا نظارہ کرنا یقیناً دلفریب کام رہا ہو گا، ہمیں تو یہ نصیب نہ ہوا کیونکہ فرنٹئیر کانسٹیبلری کا مرکز جو ٹھہرا، پتہ نہیں ایسا کیوں کرتے ہیں یہ حکومتی لوگ۔ تاریخی و سیاحتی مقام ہے مگر دیکھ لیجیے وہاں کیا برپا ہے۔ لیکن یہ بھی ٹھیک ہی ہے، ورنہ نا جانے اب تک کتنے دھماکے ہو چکے ہوتے، فتح کرتے ان دہشت گردوں کو کتنا ہی وقت لگتا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو رحمان بابا کا مزار فتح کیا تھا دھماکہ کر کے۔
میرے لیے دلچسپی کی جگہ پشاور یونیورسٹی رہی ہے، اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں یہاں اور دوسری یہ کہ پشاور جاؤں تو ہوٹل کا خرچہ بچ جاتا ہے۔ رات کسی کے پاس بھی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گذارنا کافی سودمند کام ہے۔ فلمیں دیکھو، گپیں ہانکو اور مفت میں ارد گرد چرس پیتے طالبعلموں کے دھویں سے شغف کرو، کیا بات ہے!۔
بات اگر چرس کی ہو رہی ہے تو باڑہ مارکیٹ میں پہلے پہل وہ مارکیٹیں بھی تو ہوا کرتی تھیں۔ کافی عرصہ ہوا اس طرف جانا نہیں ہوا، لٹ جانے کا ڈر اور پولیس کے بے تکے سوالوں کے جواب اب کون اور کہاں تک دے۔ مجھے یاد ہے ایک باریش شخص، وہ سر اوپر شراب سجائے، منہ کے سامنے چرس کے پرت رکھے، غیر قانونی بجلی سے روشن ہیٹر کو تاپتے ہوئے مسلسل تسبیح پر کچھ ورد کیے جاتا تھا اور دکان کے باہر شیشے پر جلی حروف میں تحریر تھا، "بسم اللہ چرس شاپ"!۔
اچھا اگر تو کوئی پشاور گیا ہے اور اس نے نمک منڈی میں کھانا نہیں کھایا، میرے خیال میں وہ محروم رہ گیا۔ روایتی کھانا "نمکین" تو ضرور کھایا  لیکن اصل مزہ تو بھئی مجھے "چرسی تکہ شاپ" کا ہی آیا۔ تکے تو خیر آجکل وافر دستیاب ہیں، انسانی بھی لیکن سب سے مذیدار پہلو چرسی تکہ شاپ والوں کا بزنس کارڈ ہے جس پرتحریر ہوتا تھا، "پشاور میں اصلی چرسی ہم ہی ہیں، ہمارے علاوہ دوسرے سارے چرسی نقلی ہیں، ہوشیار!"۔
پشاور نے کافی ترقی کر لی ہو گی، لگتا تو ایسے ہی ہے۔ پہلے شام پڑتے ہی صرف تہکال سے گولیاں چلنے کی آوازیں آیا کرتی تھیں، اب سنا ہے پورا شہر دھماکوں سے گونج رہا ہے۔۔۔۔ آہ۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر