سگریٹ نوشی صحت کے مضر ہے

دیکھیے یہ میرا قصور نہیں ہے، یہ سراسر جامعہ گومل کی غلطی ہے۔ جامعہ کی لائبریری اگر طلباء کو تدریسی کتابیں فراہم کرتی ہے تو لازمی بات ہے وہ پیسہ جو ہم گھر سے کتابوں واسطے خاص طور پر منگوایا کرتے تھے، اس کا کہیں نہ کہیں تو استعمال ہونا ہی ہوتا تھا۔ زیادہ گل جھڑیوں میں اڑا دیتے اور جو بچ رہتا، شہیدوں میں نام لکھوانے واسطے شہر میں واقع نیشنل بک فاونڈیشن میں ادبی تحریروں پر بہا آتے۔ گل جھڑیوں سے مراد وہ سگریٹ ہیں جو ہم خریدی گئی کتابوں کو پڑھتے پیا کرتے تھے۔ حضور، گالیاں مت دیجیے ہم نے تو یہ سن رکھا تھا علمی و ادبی حلقوں میں چائے اور سگریٹ کو کلیدی حیثیت عطا رہی ہے۔
سگریٹ اگر عادت بن جائے تو بتائے دوں یہ بھی میرا قصور نہیں ہے، ایسی چیز بنتی ہی کیوں ہے جس کو کوئی عادت بنا لے؟ خیر چھوڑیے، سگریٹ نہ صرف عادت بنی بلکہ سوہان روح بھی۔ جو لگا بندھا پیسہ مہینے کے خرچ واسطے ملتا تھا، بچا کر ہم یا تو سگریٹ پیتے یا پھر چائے۔ مشکل اس وقت بڑھ گئی جب دوست کو بھی سگریٹ پینے پر اس خیال سے آمادہ کیا کہ صاحب چلو "ادھار" سگریٹ مل جایا کریں گے، لیکن وہ جناب تو ہم سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے۔ سر عام مجرم ٹھہراتے کہ یہ بد عادت ہمارے ہاتھوں ان تک پہنچی ہے اور اس کا جرمانہ دن میں آدھی ڈبیہ سگریٹ ہم سے ہی وصول کرتے!۔
جب اپنے علاوہ اپنے دوست کے سگریٹوں کا بھی خرچ ہم اٹھائے پھرتے کچھ وقت بیتا تو مسئلہ ہماری سمجھ میں آن دھمکا، ہمارا خیال تھا کہ بوجوہ اضافی خرچ ہم تھوڑے عرصے میں یہ بد عادت ترک کر چکے ہوں گے، لیکن جیسے جیسے گھر سے ماہانہ خرچ میں اضافہ ہوتا گیا یہ عادت بگڑتی گئی۔ ہمیں محسوس ہوا اگر اضافی پیسے خرچ کرنے کا متبادل ڈھونڈ لیا جائے تو یہ بد عادت اگر چھوٹی نہ تو شدت میں کم ضرور ہو سکتی ہے۔ سوچتے ہی عملی جامہ پہنانے نکل کھڑے ہوئے۔
پیسہ مسجد کے باہر لگے چندے کے ڈبے میں ٹھونس آئے، بعد میں پتہ چلا وہ مسجد کی تعمیر واسطے نہ تھا بلکہ چند لونڈوں نے شغل کے طور پر وہاں لگا رکھا تھا تاکہ ہفتے دس دن بعد لذیذ جلیبیاں کھا سکیں۔ مت ماری گئی تھی ہماری، بھلا جامعہ کے اندر مسجد واسطے چندہ جمع کرنے کی کیا تُک،؟ ہم ابھی تک سگریٹ نوشی کو اس کا الزام دیتے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی کچھ کم عقل واقع ہوئے ہیں۔ دو ایک نسخے اور آزمائے لیکن بے سود!۔
کرنی خدا کی یہ کہ مملکت پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سیلاب امڈ آیا، دیکھتے ہی دیکھتے یار لوگوں کے ہاتھوں میں رنگ برنگے موبائل گردش کرنے لگے۔ شوق چرایا تو ایک نسبتاً سستا موبائل ہتھیا لیا، انٹرنیٹ کی سہولت میسر تھی تو پیسہ وہاں خرچ ہونے لگا۔ پھونک پھونک کر قدم رکھا اور جامعہ کی لائبریری سے جان چھڑا کر دم لیا، کون جامعہ کی امانت گلے میں لٹکائے پھرتا رہے۔ خدا خوش رکھے وکیپیڈیا اور چند ایک دوسری شعبہ سے متعلقہ ویب سائٹوں کے موجدوں کو۔ جامعہ کے حلقہ احباب میں اپنے علم کی دھاک تو بیٹھی ہی، ساتھ میں سگریٹ نوشی سے بھی جان چھوٹ گئی۔
چند روز پہلے کچھ ایسا ہی معاملہ پھر درپیش تھا، انٹرنیٹ پر بیتائے وقت کا بڑا حصہ  ضائع چلا جاتا تھا، بحث چل پڑی وکیپیڈیا کی مشکل اصطلاحات پر۔ لگے ہاتھوں تجرباتی طور پر جا بیٹھے اس حلقہ میں، تھوڑے سست رہے مگر جب سے فراغت پاتے ہیں، وہیں جا کر دم لیتے ہیں۔ 
ہم تو صاحب اس کلیہ پر عمل پیرا ہیں کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی موجودہ سرگرمیاں منافع بخش یا مثبت نہیں ہیں تو ترجیحات بدل دیجیے!۔        

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر