پانی میں بٹے

میں جب بھی یہ کہتا کہ، "اگر مان لیا جائے کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا اور صوبے کو پختونخواہ بھی تسلیم کر دیا جائے گا، تو بتاؤ بھلا تمھاری عوامی نیشنل پارٹی کیا کرے گی؟" ظاہر ہے میں اسے چھیڑنے کو کہتا تھا، وہ چھڑ جاتا۔ عدم تشدد کا فلاسفہ ایک بار پھر پوٹلی سے باہر نکلتا اور وہ ساتھ میں پختون قوم کی حالت زار پر رونا ڈال دیتا۔ اکثر و بیشتر وہ فکرمند ہو جاتا کہ بالفرض ایسا ہو جاتا ہے تو واقعی یہ سوال اہم ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کیا کرے گی؟
یہ تو رہا ایک طرف، اس سے بھی گھمبیر صورتحال تب پیش آتی جب میں کہتا،"ہاں میاں تو بتاؤ زرا کہ کالاباغ ڈیم بنانے میں قباحت کیا ہے؟" یہ سنتے ہی اس کے نتھنے پھول جاتے اور تڑک کر کہتا، "کیا تمھیں نوشہرہ ڈوبتا ہوا دکھائی نہیں دیتا؟" اس پر میرا بھی خون کھول اٹھتا اور میں ترکی بہ ترکی جواب دیتا، "جب تربیلا ڈیم بناتے ہوئے ہزارہ ڈویژن کے کئی گاؤں ہری پور میں زیر آب آئے اور دربند میں ریاست امب کا تاریخی مرکز ڈوبا تھا تو اس وقت تمھارے لیڈران کہاں تھے؟  ہری پور کے کھلا بٹ ٹاؤن میں اب بھی متاثرین تربیلا، امداد کے انتظار میں سڑ رہے ہیں، تو ان کا کیا؟" آپ یقین جانیے ہم گھنٹوں الجھتے، پانچ سالوں میں بیسیوں بار ہوئی بحث میں کبھی ہم میں سے کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ درحقیقت ہے کیا؟
یہاں لوگ اسے اباسین کہتے ہیں، ابا سین کا پشتو میں مطلب دریاؤں میں سب سے بڑا دریا، چھوڑیے لغت آپ یہ سمجھ لیجیے کہ دریاؤں کا ابا!۔ وہاں میں نے مچھلی کھانے کے علاوہ لوگوں کو ڈوبتے ہی دیکھا ہے، یا حادثہ ورنہ خودکشی، اور کسی کام کا نہیں ہے یہ دریا۔ یہاں بہاؤ اتنا تیز ہے کہ اس سے زمینیں سیراب کروانا ناممکن ہے، ہاں بجلی پیدا ہو سکتی ہے اور تھاکوٹ کے قریب ضلع بٹگرام میں کوئی منصوبہ چل رہا ہے چین کی مدد سے۔ یہ کوئی چھوٹا سا منصوبہ ہے جہاں پانی کو عارضی رکاوٹ ڈال کر سیدھا ٹربائن پر گرانا ہے اور بجلی پیدا ہوتی رہے گی، ساتھ میں اباسین، ابا سین ہی رہے گا۔
بحث چل پڑی ہے پھر سے کالا باغ ڈیم کی، مجھے کبھی بھی کسی صورت اس معاملے میں دلچسپی نہیں رہی کہ یہ تعمیر ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ فیڈریشن کا صدر میرا دوست تھا تو اس کے کہنے پر دو ایک مظاہروں میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں نعرے بھی لگائے تھے اور ہاں ایک بار اٹک پل پر گھر جاتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کا کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں جلسہ منعقد ہو رہا تھا پرویز مشرف کے دور میں تو وہاں جی بھر کے نعرے لگائے تھے ورنہ میری طرف سے جائے بھاڑ میں، مجھے کیا؟
 مجھے اس کے تکنیکی پہلوؤں کا ہی نہیں پتا اور نہ میں نے کبھی جاننے کی کوشش کی تو میری اس بارے ہر بحث قومیت سے شروع ہو کر سیاسی جماعتوں کی سیاست پر ہی ختم ہونی ہے تو کیا فائدہ اس ہا ہو کا!!!۔
لیکن صاحبو! دو ایک دن سے میں بنا گلا پھاڑے نعرے لگا رہا ہوں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہیے، ہر گز نہیں بننا چاہیے۔ سندھ کے ساحلوں کے جنگلات اور ڈیلٹا مجھے اس کی تعمیر کی حمایت سے روکے جا رہا ہے۔ ہمارے ایک استاد نے اک بار کہا تھا کہ، "قدرتی وسائل کو اگر تم بہتر نہیں بنا سکتے تو کم از کم انھیں اپنی آنے والی نسلوں کو اسی حالت میں ضرور پہنچاؤ، جیسے تمھیں ملے تھے"۔
     

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر