رسید لکھ دی تاکہ سند رہے

صاحبان لیجیے میں حاضر ہوں، ان صاحبان سے معذرت جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ گناہ گار مر کھپ چکا، بعض تو عاق کرنے کے اشتہار چھاپ بیٹھے اور میں سوچنے لگا کہ، اس سے پہلے کل کلاں کوئی ایسا اشتہار چھپ گیا جس میں میری کُل دولت کا بٹوارا کرنے واسطے لوگ جمع ہو جائیں، کیوں ناں میں آن پہنچوں اور اس بات کا ثبوت پیش کروں کہ سانسیں ابھی چل رہی ہیں۔ سرمایہ دار قسم کے لوگوں کو یقیناً مایوسی ہوتی، کچھ مال تو ہے نہیں، لے دے کر یہ کچھ سو کے لگ بھگ بلاگی تحریریں ہیں جن کو یار دوست اگر چاہیں تو آنکھیں بند ہوتے ہی دو یا چار چار کر کے پتاسوں کی طرح بانٹ دیں۔ ہاں اس بات پر بحث ضرور ہو سکتی ہے کہ تقسیم کیونکر ہو، قارئین کی سہولت واسطے زمرے بنا دیے ہیں، اپنی مرضی کا زمرہ لیجیے اور بس سر کھپاتے پھریے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم منظرنامہ ایوارڈ کے پہلے ہی دور میں باہر ہونے کی وجہ سے ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے، ہمیں ایسا غم لگا کہ ہم دل برداشتہ ہو کر بلاگ سمیت اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ فیس بک پر تو بس ایک پرچھائی ہے جو دکھائی دے جاتی ہے۔ وہ تو خدا بھلا کرے ایک محسن کا جس نے بروقت دوستوں کو مطلع کر دیا کہ ہم اردو وکیپیڈیا نامی ایک چنچل حسینہ سے عقد باندھے بیٹھے ہیں۔ اب ہنی مون کے اس دور میں کون کافر یہاں اپنے دکھ بیان کرتا پھرے۔
ہمارے محلے میں ایک بندہ خدا ہوا کرتا تھا، اس کا نام محمد اقبال تھا۔ وہ لمبا چغا پہنتا تھا اور چہرے پر چھوٹی داڑھی سجائے ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔ مسجد میں کبھی کبھار دکھتا تھا۔ جب بھی دیکھتے، اس کے ہاتھ میں ایک تسبیح ہوا کرتی تھی۔ چوتھی جماعت تک ہمارا خیال تھا کہ محمد اقبال منافق کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی، مسجد میں نظر نہ آؤ اور ہاتھ میں تسبیح اور منہ پر داڑھی سجائے پھرو، اور ستم یہ کہ نماز کی نیت باندھ لو تو میاں ایسے نظر آؤ جیسے کوئی موم کا پتلا ہو اور ابھی کے ابھی پگھلنے لگے گا۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ محمد اقبال راولپنڈی میں کچھ کام دھندہ کرتا تھا، مہینے دس دن میں گھر آتا تو تب ہی مسجد میں بھی نظر آ جاتا تھا، ورنہ وہ تو بڑا ہی بیبا بندہ تھا، یہ منافق تو کچھ اور لوگ ہوا کرتے ہیں۔
محمد اقبال ہمیشہ اپنی جیب میں ریوڑیاں رکھتا تھا، اس بات سے قطعہ نظر کہ وہ ہماری نظر میں ایک منافق تھا، ہم ریوڑیوں کے لیے اس کا مہینہ بھر انتظار کیا کرتے تھے۔ اس وقت انتظار کرنا بڑا دلچسپ بھی ہوا کرتا تھا، ورنہ آج کل تو جیسے روح پر بن آتی ہے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوتا، کھنکار تا اور ریوڑیاں بانٹنے میں مشغول ہو جاتا۔ وہ وہاں نماز میں پگھل رہا ہے تو ریوڑیاں یہاں ہماری زبان تلے زائل ہورہی ہیں، اس کے چلے جانے کے بعد ہم پھر سے اس کو منافق سمجھتے اور اگلی نماز کے بلاوے کا انتظار کرتے۔
صاحبان، بھلے آپ ہمیں منافق گردانیے، اسی لکھے کو ریوڑیاں سمجھیے اور اگلے بلاوے کا انتظار کریں!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر