جیے بھی تو کیا جیے

پچیس پورے ہوئے تھے تو ہم سوچتے تھے کہ ہمیں ایک موقع ملنا چاہیے، ہم کچھ پچیسیا یا ڈاکو قسم کی چیز بننا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ حسرت بھی دوسری کئی خواہشوں میں دب کر رہ گئی۔ اکثر گلی میں لوگ تبصرہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ "مہنگائی اور قلت اس لیے ہے کہ حکومت دہشت گردی سے عوام کا دھیان ہٹانا چاہتی ہے۔" بس کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے۔

یہ سال بھی کچھ ایسے گذرا جیسے کوئی جان سے گذر جائے۔ ذاتی زندگی میں ایسے مصروف رہے کہ جیسے کوئی چیونٹی مصروف رہے اور سوچوں میں ایسے غرقاب جیسے کوئی جہاز عین سمندر میں ڈوبے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ ملکی حالات کا رونا نہیں روؤں گا کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، ہم جنگل میں میں گھاس خور جانوروں کی طرح ہیں، جو دوسرے ساتھی کو مرتے دیکھتے ہیں، قسمت کا لکھا سمجھ کر پھر گھاس چرنے میں ایسے مصروف ہو جاتا ہے جیسے شیر کے لیے جسم پر گوشت نہ بڑھایا تو ناجانے کیسی ہزیمت اٹھانی پڑ جائے۔
چٹھہ کھولوں تو کچھ ملے گا نہیں، یہ صفحہ سفید چھوڑ دوں تو سو نہ پاؤں۔ سو برداشت کیجیے، جیسے پچھلے چھبیس سال سے یہ دھرتی ہمارا بوجھ برداشت کیے جا رہی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ ہم گذرے سالوں کو کیسے تولیں، کوئی معیار بھی تو مقرر نہیں ہے۔ اگر نیکی و بدی کا ترازو لگاؤں تو شاید اپنے آپ کو بھی منہ نہ دکھا پاؤں، سو رہنے دیجیے کچھ ایسا معیار مقرر کیجیے کہ چت بھی اپنی ہو اور پٹ بھی، بس ہار نہ ہو۔
ہارنے سے یاد آیا، پچھلے سال میں اس کوشش میں بھی تو لگا رہا کہ ہارنے نہ پاؤں۔ جیت کی دوڑ میں ایسا پیچھے رہ گیا کہ ابھی تک سانس واپس نہ آسکی۔ طرز زندگی میں بہتری کی دوڑ کچھ ایسی ظالم شے ہے کہ بندے کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑتی۔ زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا چکر ہمارے چھبیس سال برباد کر گیا۔ اولین چھ سال چھوڑ کر اگر باقی کا حساب رکھوں تو سترہ تعلیم کے اور تین نوکری کے بچ رہتے ہیں۔ بیس سال لگاتار بھاگنے کے بعد اب محسوس ہوتا ہے کہ اب دم نکلا کہ تب۔ وہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ہر وقت مایوسی پھیلاتا رہتا ہوں، سو رہنے دیجیے اب یہ قصہ، کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہترین آدمی ہیں، ایک جملہ کہہ دیا اور خلاصی پا لی، ہمیں بھی تو بتائیے ہم کیا کریں؟
یقین کیجیے میں مایوس نہیں ہوں۔ پچھلے ایک سال میں سب برا نہیں ہوا، بس یاد صرف برا رہ گیا۔ میں اخبار کھولتا ہوں تو سب برا ہی لکھا ہوتا ہے، کہیں دھماکہ، کہیں ڈاکہ تو کہیں لوٹ مار۔ اخبار والے بھی بس برا ہی یاد رکھتے ہیں، برے کو اچھالو، برا سنو، بولو برا، برے کو جیو اور برے کو مرو۔ ہم کیا برے کے لیے یہاں وارد ہوئے ہیں؟ کتنی برائیاں ہیں جو اتنی اچھالیں کہ اب ہر طرف عام ہیں۔ اجی، ہم احمقوں کو بھی تو سمجھایے کہ کوئی چیز اچھالنے یا ابھارنے سے بھی ٹلی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ نئی نسل ہی خراب ہے، ساری برائیاں تو اسی میں پنہاں تھیں، ہونہہ!!۔
اچھا رہنے بھی دیجیے، اب اگر میں یہ کہوں کہ "مایوسی گناہ ہے!!" تو آپ کا خیال آپ کو بھگا کر اس کوچے میں لے جائے گا جہاں سلاجیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں سنیاسی بابا مت سمجھیں، ہم تو صرف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم مایوس بالکل بھی نہیں ہیں۔دیکھیے کیسے خوش باش، ہمیں کوئی ایسا روگ نہیں ہے بلکہ ہم ہٹے کٹے اور تگڑے ہیں اور جیسے پچھلے چھبیس کا سامنا کیا ہے آگے کو بھی تیا ر ہیں۔ پچھلے ایک سال میں جیسا کہ ہم نے بتایا سب برا نہیں ہوا، کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ اچھا بھی ہوا ہے۔ کئی اچھے، جن کو ہم یاد نہیں رکھتے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جیو، خوب جیو لیکن ویسے مت جیو جیسے تم اب تک جیتے آئے ہو۔ کچھ ایسا کرو کہ تمھیں تمھاری ستائیسویں بہار، بہار ہی لگے ناں کہ جاڑا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر