میں ایک عدد انسان ہوں

یہ ایک میں ہوں، مزید یہ کہ میں ایک عدد انسان بھی ہوں۔

سیانے چاہیں تو فٹ پوچھ لیں، "میاں! دنیا میں بے تحاشہ انسان ہیں، ان میں سے اکثریت "میں" کی ہے تو بھلا یہ کیا تعارف ہوا؟" باریک بینی سے غور کیجیے کہ یہ سوال نہ صرف وزن رکھتا ہے بلکہ جگہ بھی گھیرتا ہے۔
تو تفصیلاً اس سوال کا جواب دیے دیتا ہوں کہ ، "میں ایک خواہ مخواہ انسان ہوں!"۔
مثال: میں ایک بھوکا انسان ہوں۔
جواب : سارے انسان ہی بھوکے ہوتے ہیں، کئی طرح سے بھوکے ہوتے ہیں اور جو بھوکے نہیں ہوتے وہ انسان نہیں ہوتے۔
۔۔۔
مثال: میں ایک ننگا انسان ہوں۔
جواب: تو اس کا مطلب ہے کہ جو ننگا نہیں ہے وہ انسان نہیں ہوتا؟ اور کیا یہ جو تمام جانور ننگے پھرتے ہیں یہ بھی ایک طرح سے انسان ہیں؟
۔۔۔
مثال: میں ایک پڑھا لکھا انسان ہوں۔
جواب: تو اس میں کیا خاص بات ہے۔ دنیا پڑھے لکھوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر تو تمھیں لگتا ہے کہ پڑھنا لکھنا کچھ فوقیت ہے تو سن رکھو عددی اعتبار سے دنیا ان پڑھوں سے زیادہ بھری پڑی ہے اور ان میں کئی پڑھے لکھے بھی شامل ہیں۔
۔۔۔
مثال: میں ایک خواہ مخواہ انسان ہوں۔
جواب: خواہ مخواہ تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، انسان ہوا تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی خواہ مخواہ انسان ہو۔
۔۔
بات ختم، میں نے تو پہلے ہی واضع کر دیا تھا کہ، "میں ایک خواہ مخواہ انسان ہوں!"۔ آپ کیا کہتے ہیں کہ آپ کونسے انسان ہیں؟

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر