عاشق رسول ﷺ

بالاکوٹ کا ہائی سکول کافی دلچسپ ہے۔ وہ اس طرح کہ عام طور پر کسی بھی قصبے کا مرکز اس میں موجود سرکاری دفاتر یا پھر کسی کمیونٹی ہال قسم کی شے کو سمجھا جاتا ہے، لیکن زلزلے سے پہلے تک بالاکوٹ کا مرکز بالاکوٹ کے ہائی سکول کو سمجھا جاتا تھا۔ ایسا شاید کہیں دوسری جگہ پر بھی ہوتا ہو، لیکن ایک تحصیل میں عدالت، محکمے کے دفاتر، ڈگری کالج، تھانہ، گرڈ اسٹیشن، جامع مساجد اور اسی طرح کے دوسرے مقامات ہونے کے باوجود اگر ایک ہائی سکول کو اس کا مرکز مانا جاتا ہو تو یہ نسبتاً عجب بات محسوس ہوتی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ تو اس کا جواب شاید میں اس کے علاوہ دوسرا نہیں سمجھتا کہ یہ کافی پرانا ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر آباد دور دور سے لوگ یہاں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جو پڑھ لکھ کر بالاکوٹ سے باہر جاتے تو وہاں کے لوگوں کو بالاکوٹ کا مرکز ہائی سکول بتاتے، یہاں تک کہ غالباً پانچویں جماعت کی تدریسی انگریزی کتاب میں بھی بالاکوٹ کا مرکز ہائی سکول کو بتایا گیا۔ اب تو ہر جگہ سرکاری سکول ہیں لیکن افسوس معیار برقرار نہیں رہا جو کبھی اس ہائی سکول یا کسی بھی سرکاری سکول سے وابستہ ہوتا تھا۔ اب تو اس کی بھی حالت کچھ ایسی نہیں رہی، بدامنی ایسی بڑھ گئی ہے کہ لوگ تھانہ کچہری کو ہی قصبے کا مرکز مانتے ہیں۔
خیر، بات کہیں اور جا نکلی، بات میں بتانے جا رہا تھا یہاں کے اساتذہ کی۔ یہاں کوئی انوکھے اساتذہ نہیں ہیں، بالکل وہی سرکاری سکولوں کے اساتذہ جیسے ہی ہیں۔ غم روزگار میں گھرے ہوئے، کرخت اور غصیلے ۔
یہاں اسی سکول میں ایک استاد محترم ہوا کرتے تھے ، بالاکوٹ کے ہی رہائشی تھے ۔ طلباء پر سختی برتتے تھے مگر باہر شہر میں کافی نیک اور ملنسار مشہور تھے۔ ان کی مشہور ہونے کی بڑی وجہ بالاکوٹ کے ہائی سکول میں درس وتدریس کے علاوہ یہ بھی تھی کہ وہ خوابوں کی تعبیر خوب بتایا کرتے تھے۔ میں نے تو یہاں تک سنا تھا ان جناب کو نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت بھی نصیب ہوئی تھی۔ اساتذہ سے منسوب احترام اور ڈر کی وجہ سے کبھی میں اس بات کی تصدیق ان کی زبانی نہیں کرپایا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ قصبے میں ایک شادی میں ان سے چھپنے کی بہتیری کوشش کی لیکن کھانا آتے ہی کچھ ایسی اودھم مچی کہ "چوکی" پر میں ان کے سامنے آ ہی گیا۔ سلام کیا اور سر جھکا کر کھانے کا انتظار ۔ صاحب نے پلیٹ اٹھائی اور باقی سارے کھانوں کو چھوڑ کر سبزی اور ایک چپاتی لے کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔ اب میں کافی الجھن میں پڑ گیا، ان کے ہوتے کھایا نہ جاتا تھا اور اس طرح میں کھا نہیں سکتا تھا۔ تھوڑا انتظار کیا اور آخر رہا نہ گیا تو جناب کی جانب دوسرے لوازمات جیسے پلاؤ، گوشت، دہی، میٹھا اور کولڈ ڈرنک وغٖیرہ سرکا دیے۔ جناب نے شان نے نیازی سے مجھے منع کر دیا اور کہا کہ، "میاں تم شروع کرو کھانا اور میری پرواہ ہر گز مت کرو"۔ ان کی محبت تھی کہ میری جھجھک تھوڑی کم ہوئی تو ان کو ایک بار پھر دعوت دی کہ جناب اور کچھ نہیں تو یہ گوشت والا سالن ہی لے لیں، نہایت عمدہ ہے۔
صاحب مسکرائے اور بولے، "بیٹا! میرے نبی کریم ﷺ نے ایک وقت میں کبھی دو سالن نہیں کھائے، تم ہی بتاؤ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں؟"
بس اس دن کے بعد مجھے کسی سے یہ جاننے اور تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ عاشق رسول ﷺ کیا ہوتا ہے ؟۔

(عید میلاد النبی پر لکھی گئی)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر