مقصد حیات

نوٹ: یہ تحریر صاحب بلاگ کے ایک دوست، محمد وحید نے ارسال کی ہے۔
زندہ رہنا کیوں ضروری ہے؟
جو جواب میرے ذہن میں آیا اس سے کافی حد تک میرا اختلاف نہیں ہے، لیکن اس جواب کے بعد میں اپنے آپ سے خوش نہیں ہوں۔
ہماری زندگی میں ہمیشہ دوسروں کی بہت اہمیت رہی ہے کیونکہ، آپ نے ہمیشہ دوسروں کی وجہ سے زندہ رہنا ہوتا ہے۔ آپ کی پیدائش دوسروں کی وجہ سے، آپ کی پرورش دوسروں کے ہاتھ، آپ کی تعلیم دوسروں کی ایماء پر اور آپ کی سماجی زندگی دوسروں کا اختیار۔  درحقیقت، آپ کا آخری آرام گاہ تک کا سفر اور زمین بوس ہونے کی بھی ذمہ داری دوسروں کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مقصد حیات دوسروں کے لیے زندہ رہنا ہے۔
کیسے؟
جو میری سمجھ میں آیا، وہ انسانی سوچ ہے جو اللہ بزرگ و برتر نے انسان کے لاشعور میں ڈال دی ہے۔ اسی سوچ کا نام ہے "خیال رکھنا" اور "ضرورت"، یعنی کہ دوسرے ہمارا خیال رکھتے ہیں اور ہمیں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہمیں والدین کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہمارا خیال رکھتے ہیں، کھلاتے ہیں، سنبھالتے ہیں، پرورش کرتے ہیں، کیونکہ انھیں ہم سے محبت ہو جاتی ہے۔ سکول، کالج، جامعہ میں اساتذہ ہمیں ایک بہتر انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ہمارا خیال رکھتے ہیں  اور ہمیں ایک بہتر اور قابل انسان بنانا ان کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ہم کسی بہتر مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کی محبت اور خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے اور ہم ان کی محنت اور کوشش کی وجہ سے ان کی عزت اور ان سے پیار کرتے ہیں۔ ہمارے دوست ہمارے مزاج کے عکاس ہوتے ہیں، ہمیں جب بھی  ان کی جس طرح ضرورت ہوتی ہے وہ ہمارا خیال رکھتے ہیں، ہمیں وقت دیتے ہیں اور ہم سے پیار کرتے ہیں۔
لیکن، ہماری چھوٹی سی سوچ بھول جاتی ہے۔۔۔۔ کہ یہ سب کچھ اللہ جی کی ہم سے محبت کی وجہ سے ہے۔ اللہ جی ہم سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ زندگی کے جس سنگ میل پر ہمیں جن جن احباب کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اللہ جی انھیں ہمارے ساتھ کر دیتے ہیں۔ جب زندگی کی روش تبدیل ہوتی ہے، چہرے بدل جاتے ہیں لیکن ان کے پیچھے صرف ایک زات کی محبت ہوتی ہے، اللہ جی کی!۔ ان سب کی محبت کے پیچھے اللہ جی کی محبت ہوتی ہے، صرف ہمارے لیے۔ ان سب سے محبت اور عزت کرنا ہی اللہ جی سے محبت کرنے کا راستہ ہے۔
ہمارا مقصد حیات اللہ جی سے محبت کرنا ہے، اطاعت کرنا ہے، لیکن ہم بہت کم دل سے سوچتے ہیں اور ہماری محبت ہمیں مرتے دم تک ڈھونڈتی رہتی ہے اور ہم دوسروں سے محبت اور ان کی عزت کرنے کی بجائے اپنے لیے زندہ رہنے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔۔۔ افسوس کہ اسی کشمکش میں زندگی ختم ہو جایا کرتی ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر