کانسپیریسی پکوڑے اور گدھ

میں یہاں "کانسپیریسی پکوڑے" پکانے جا رہا ہوں۔ زیادہ مرچ مسالے  چونکہ ہاضمہ خراب کرتے ہیں تو وکی نیوز کی مثال آج کے لیے کافی ہے۔ وکی نیوز کی مثال بھی میں نہ دیتا، پر بین الاقوامی پکوڑے پکانے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔  چھوٹے موٹے پکوڑوں کے لیے اپنے ملک میں اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی کمی نہیں ہے اور یقین جانیے ایک محب وطن ہونے کے ناطے میں ان کے ہی طریقہ پر عمل کر رہا ہوں، میں اس بات کا کٹر حامی ہوں کہ "مصنوعات" اپنی ہی استعمال کرنی چاہیے۔ روزنامہ ٹیلی گراف، گارڈین، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وہ جرمنی کا میگزین جس کا مشکل سا نام ہے، کافی اچھے طریقے سے پکوڑے پکانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ قارئین کا ہاضمہ ہمیں عزیز ہے تو وکی نیوز مرچ مسالے کم رکھنے کے کام آتا ہے اور دوسرا یہ کہ اپنے تئیں یہ ایک دلچسپ آن لائن اخبار ہے۔
دلچسپ اس لیے کہ اسے  میرے اور آپ جیسے عام لوگ ہی چلا رہے ہیں اور یار لوگ اگر کسی کو "عالمی سازش" کا حصہ قرار دینے کی کوشش کریں تو میں چاہتا ہوں کہ آسمان پر تھوکا منہ پر تو آنا ہی چاہیے۔ پڑھنے والا اگر کوئی غیر معمولی پکوڑا پکانے کی کوشش کرے تو اپنے آپ کو ہی اس کا الزام دے۔ اب یہ کوئی کمرشل قسم کا اخبار تو ہے نہیں کہ دس روپے کے عوض آپ مدیر اعلیٰ پر قادیانی، یہودی نواز یا امر یکے کے ایجنٹ کا چھاپہ لگائیں اور ہاتھ جاڑ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔
خیر، دفع کریں اور میری آج کی اصل بک بک سنیں۔ وکی نیوز پر آپ تشریف لے جائیں۔ وہاں موجود خبروں کا مشاہدہ کریں۔ عام طور پر بین الاقوامی خبریں ہی موجود ہوتی ہیں اور وہ بھی ایسی کہ جو واقعی کوئی بہت بڑا واقعہ یا بات ہو اور وہ خبر بن جائے۔  یہاں موجود خبروں اور وثائق میں موجود برپا ہونے والے واقعات کے تذکروں کا آپ بغور مشاہدہ کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام خبروں کا اگر زیادہ نہیں تو پندرہ فیصد حصہ تو پاکستان سے متعلق ضرور ہی ہو گا۔ اب دنیا کی کل خبروں کا اگر پندرہ فیصد بھی اس ملک سے متعلق ہو تو آپ کانسپیریسی پکوڑوں کی ترکیب کی رو سے اس بات کو سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ "تو مان نہ مان یہ تو کھلی ڈلی سازش ہے"۔  یہی دیکھیے کہ امر یکے جیسے بڑے ملک میں اتنی خبریں نہیں بنتیں جتنی اس ملک میں۔ اس پر طرہ امتیاز یہ ہے کہ تمام خبریں جو پاکستان سے متعلق ہیں وہ افسوسناک حد تک کوئی اچھی خبریں نہیں ہیں۔  دھماکے، حملے، حادثے، قدرتی آفات، سیاسی چالیں، الزامات اور بہت سا دوسرا گند بلا پاکستان سے متعلق آپ کو وکی نیوز پر ملے گا۔ اگر آپ ایک جذباتی اور "محب وطن" پاکستانی ہیں تو آپ کا خون کھول جانا چاہیے، اور کھول بھی کیوں نہ اٹھے کہ امر یکے کی بات ہو تو کلنٹن کی بیٹی کی شادی کی خوشیاں اور وہ تیل بہہ جانے والے واقعے کے متاثرین کی داد رسی۔ بھارت کی بات ہو تو معاہدوں پر معاہدے۔ برطانیے کی بات کر رہا ہے وکی نیوز تو نئی حکومت کی ولولہ خیز باتیں۔ اور بات آئے پاکستان کی تو کوئی خبر پچاس ساٹھ آدمیوں کے مرنے کی ہی ہو گی، اور اگر کسی کے مرنے کی نہ بھی ہو تو پڑھنے والے محب وطن پاکستانی کو مار دینے کے لیے کافی ہو گی۔
وطن سے محبت کا تقاضہ ہے کہ اس ناہنجار اخبار کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے نتھنے پھول جائیں۔ وکی نیوز کے مدیران پر سو سو لعنتیں، اور اس کے بعد ایک کام ضرور کریں۔ وکی نیوز پر کفر کا فتویٰ لگائیے، سارے مدیران کو یہودی نواز قرار دیجیے، انٹرنیٹ پر چار حرف کہ ایسی باتیں آپ کو پڑھنی پڑیں اور یقین جانیے اگر آپ نے فوراً سے پہلے میری طرح ایک بلاگ پوسٹ میں وکی نیوز کی مذمت نہ کی تو آپ قطعاً محب وطن پاکستانی نہیں ہیں۔ میری طرح آپ بھی بے غم ہو جائیں کہ "محب وطن" ہونے کا فرض آپ بخوبی ادا کر چکے ہیں۔
لیکن، ایک منٹ۔ ایسا ہے کہ اگر آپ واقعی سیخ پا ہیں تو وکی نیوز کی پالیسی کا فائدہ اٹھائیے۔ پاکستان سے متعلق خبروں میں ترمیم کریں اور بحث میں حصہ لے کر باقی کے  کم علم اور پاکستان نفرت سے لبریز عوامی مدیران کو لاجواب کر دیں۔ ان پر حقائق سے  ثابت کر دیں کہ یہ خبریں غلط ہیں اور صرف کانسپریسی پکوڑے ہیںم دھماکوں میں سماج کے بگاڑ کا کوئی قصور نہیں ہے، سیلاب ہماری نالائقی اور آپسی جھگڑوں کی وجہ سے نقصان نہیں کرتے اور پاکستان کے اکثریت اندرونی مسائل میں ہمارا اپنا زرا برابر ہاتھ نہیں ہے، اٹھیے اور جا کر ثابت کر دیجیے۔ 
اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اب زرا  اپنے گریبان کے دو بٹن کھو لیے اور دیدے پھاڑ کر اندر جھانکیے۔ کیا نظر آیا؟ اپنے گریبان میں تو مجھے تو سب سچ ہی نظر آ رہا ہے۔
پھر بھی، چنداں فکر مت کیجیے۔  یہی سچ  جس کا میں زکر کر رہا ہوں، ہمیں ناکوں چنے کیوں چبوائے، یہ تو ہمارے کانسپیریسی پکوڑوں کا مواد ہے۔ اگر آپ مولوی ہیں تو اس سچ کو ایمانی بھٹی میں پگھلا کر پاکستان کے خلاف طاغوتی قوتوں کی سازش قرار دے دیں۔ اگر وکیل ہیں تو اس سچ کی کڑواہٹ کو عدلیہ کی آزادی کی مٹھاس میں گھول کر بیچیے۔ حکمران ہیں تو اٹھائیں اپنا کشکول اور سچ کا مسخ شدہ رونا روتے ہوئے  فرینڈز کے پیچھے بھاگیے اور بیوقوف بنائیے۔۔۔ دل میں ہنسیے کہ یہ مکار ہنسی آپ کو کڑواہٹ محسوس نہیں ہونے دے گی، اور تھوڑا صبر کریں، کیری لوگر بل کا پیسہ سارے مسئلے یعنی غیرت کا رونا، حمیت پر وار اور قوم کی بے حسی کو چٹکی میں حل کر دے گا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے آپ اصل سچ کو اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی شکل میں ڈھال دیجیے، آپ کے پاس حکومت کے علاوہ ہر قسم کا مادر پدر آزاد اختیار ہے۔  "تجزیہ کار" ہیں تو گھولیے اپنے کانسپیریسی پکوڑوں کا بیسن اور شام میں اٹھارہ کروڑ عوام کے منہ پر مل دیجیے۔ ٹی وی اخبار کے مالک ہیں تو بیچیے صابن تیل کے ساتھ لگا کر اسے اور آمدن کو اپنے ضمیر (جسے عرف عام میں پیٹ کہا جاتا ہے) میں ٹھونس دیجیے۔
رہی بات وکی نیوز کی۔۔۔ تو لعنت بھیجیے حضور، سالے مغرب میں بیٹھ کر ہماری لاشیں گن رہے ہیں، اور ویسے بھی جتنی زیادہ گنیں گے، آپ کا ہی فائدہ ہے۔ گدھ دراصل لاشوں پر ہی پلتے ہیں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر