نچ او غلام نبی

دیکھیے مذمت کرنے کو میرے پاس کئی موضوعات ہیں۔ شخصیات  چلا چلا کر پکار رہی ہیں کہ ان پر تنقید کروں اور واقعات پے در پے برپا ہو رہے ہیں کہ میں گھنٹوں ان کے محرکات پر سر کھپاؤں۔ لیکن میں ہوں کہ خود اپنے آپ پر اٹکا ہوں، خود پر بات کرتا ہوں تو دوسرے افراد خود بخود اس تنقید کی  زد میں آتے چلے جاتے ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو بطور انسان سوچتا ہوں، اور  پھر اسی لیے سماجی جانور ہونے کے ناطے اپنی ذات کو دوسرے انسانوں سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان  تمہیدی کلمات کو میری جانب سے پیشگی معذرت  جانیے، کہ کچھ اختلافی خیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔
اگر میں لوگوں کو اپنے خیالات میں گھسیٹ لاتا ہوں، اور اپنے ساتھ انھیں بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہوں  تو بے جا نہیں کرتا، مثلاّ میں زندگی کی دوڑ میں شریک ہوں تو اپنے ارد گرد کے جیتے جاگتے انسانوں کے مقابلے میں دوڑ رہا ہوں۔ اس دوڑ میں انھیں پیچھے چھوڑ دینے کی دھن  میں جب منہ کے بل گرتا ہوں تو  خود کو کوسنے نہیں دے سکتا، انھیں مورد الزام ٹھہراتا ہوں کہ وہ اتنا تیز کاہے کو بھاگ رہے تھے کہ میں ساتھ نہ دے سکوں اور دیکھو، اب منہ کے بل گر بھی گیا۔ ایسے ہی دوسری مثال سن لیجیے کہ  مسجد کبھی کبھار جاتا ہوں کہ وہاں بیٹھے ایک انسان، جسے عرف عام میں مولوی صاحب یا پیش امام  پکارا جاتا ہے، معاف کیجیے گا ، میں کوئی صابر شخص نہیں ۔۔۔ مسجد کی محفل  سے میری رغبت  میں کمی انھی صاحب  کی عادات اور بیانات کا شاخسانہ ہے۔اب میرا خدا سے رابطہ کم ہے تو میں کل کلاں،  قیامت کے روز مولوی صاحب کا گریبان پکڑنے کا متمنی ہوں۔
مولوی  صاحب سے یاد آیا، اسلام میری زندگی میں داخل ہے۔ زندگی میں شاید میں بعد میں داخل ہوا ہوں، اسلام پہلے داخل ہو چکا تھا، مدعا یہ ہے کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور میرے آباؤاجداد  صدیوں سے اسلام کی مالا جپتے آ رہے ہیں۔  اسلام تو میری آنکھ کھلنے سے پہلے میرے نصیب میں داخل تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہو پایا (ذاتی تسکین کے لیے سمجھتا ہوں کہ مکمل طور پر اسلام میں داخل نہیں ہو پایا)۔  ہاں  تو اور کیا، اگر آپ پیدائشی کلمہ  توحید پڑھنے اور خدا کی ذات پر صرف یقین رکھنے کو اسلام کہتے ہیں تو میں اسلام میں داخل ہوں ورنہ جو تعریف اسلام میں دخول کی مولوی صاحب کرتے ہیں۔۔۔۔ اللہ معاف کرے، مولوی صاحب سے متنفر رہنے کی یہ معقول وجہ ہے۔
مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے کہ مجھے مولوی صاحب کی تشریح اسلام پر اعتراض ہے، مسئلہ یہ  بھی ہے کہ مولوی صاحب اپنی سمجھ کے مطابق میرے دماغ سے کھیل رہے ہیں۔  ہر گلی، ہر موڑ اور ہر مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے  اپنی سمجھ کا اور اپنے ہی علم میں جکڑا اسلام نشر ہو رہا ہو تو بتائیے میں کہاں جاؤں؟
تبرک کے لیے نعمت اللہ کا حال سنتے جائیے۔ نعمت اللہ بیبا بندہ ہے، پیشے سے ڈرائیور اور انتہائی انکساری کا حامل۔  صابر اتنا کہ برا بھلا کہنے پر اف تک نہ کرے اور غیرت مند اتنا کہ  ایک بار میں نے خود اسے ملاحظہ کیا ؛  وہ  دو دن بھوک سے نڈھال رہا مگر مجال ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوں۔ خدمت میں اعلیٰ  مقام رکھتا ہے، مثال دوں تو   اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بندے کو محسوس  تک نہیں ہوتا کہ وہ سفر کی آزمائش سے دوچار ہے۔ لوگوں کی سنتا ہے، خدا پر یقین رکھتا ہے اور راہ سلوک کا داعی ہے۔ کسی پیر صاحب کے ہاتھوں بیعت کر چکا ہے اور اب ادھیڑ عمری میں پیر صاحب کی راہنمائی میں خدا کی خوشنودی پانے کو بے چین رہتا ہے۔ نعمت اللہ کا معمول ہے کہ پیر صاحب کی آمد پر خوب اہتمام کرتا ہے اور جان جوکھوں میں ڈالے رکھتا ہے کہ اس سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے ۔  اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ ایسا موقع  آ گیا  کہ راہ سلوک کے رہنماء کی ناراضگی کے سبب  ،  خدا کی خوشنودی سے ہاتھ دھونا پڑ گئے تو وہ کہاں جائے گا۔ ۔؟ قصہ مختصر، وہ راہ سلوک میں مجاہدے کا قائل ہے۔
 نعمت اللہ کا ایک واقعہ آج کل  حلقہ احباب میں عام ہے۔ بیان ایسے ہے  کہ نعمت اللہ اپنے پیر صاحب کی  آمد پر کئی دوسرے مریدین کے ہمراہ باہر  سڑک پر ٹھٹھر رہا تھا کہ وہاں اس کے دفتر کے ساتھی ڈرائیور کا گزر ہوا۔ ساتھی ڈرائیور کا  کہنا ہے کہ نعمت اللہ سے حال احوال پوچھنے کو وہ لمحہ بھر رکا، تو اسی اثناء میں پیر صاحب کی آمد کا شور برپا ہوا۔۔۔ پیر صاحب جیسے ہی منظر عام پر واضع ہوئے تو ڈھول پر تھاپ پڑنی شروع ہوئی۔ جملہ مریدین   حال برپا کرنے کو رقص میں مصروف ہوئے۔ موقع پر حال جاری ہو گیا  اور مریدین میں سے ہر شخص  ڈھول کی تھاپ پر دیوانہ وار رقص میں غرق ہوتا چلا گیا۔
 ان دیکھے خوف میں مبتلا نعمت اللہ کی نظر اپنے ڈرائیور ساتھی پر پڑی، جو ایک جانب کھڑا  مریدین کے رقص سے محظوظ ہو رہا تھا اور موقع پر پیر صاحب کے بعد دوسرا شخص تھا  جو رقص کے مرکزی حال سے بے خبر  اورجسے تمام افراد کے مشاہدے کا شرف حاصل تھا۔ نعمت اللہ چلایا، "نچ او غلام نبی، گناہ گار ہوندا پیا ایں۱"۔ (ناچ اے  غلام نبی، گناہ گار ہو رہا ہے!")۔ اس کے بعد کے بیانات ہیں کہ غلام نبی قریباّ آدھے گھنٹے تک ناچتا رہا اور پسینے میں شرابور گھر پہنچا۔ غلام نبی جب بھی یہ واقعہ بیان کرتا ہے تو منہ بھر کر اپنی بیوقوفی پر قہقہہ برآمد کرتا ہے اور اس بیوقوفی کو سننے والا  شخص قہقہہ اگر نہ بھی بلند کرے،  بیوقوفی سنانے کے انداز پر ہنستا ضرور ہے۔
لیکن، اکثر میں نے غلام نبی بن کر سوچا ہے۔ غلام نبی کہتا ہے، کہ ناچنے کی دعوت پر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، مگر گناہ کے خوف میں مبتلا ایک دوسرے انسان کا اسے  گناہ گار ہونے کی وعید  سنانے کا  حال، اس کے اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔ وہاں ہر شخص، گناہ کے خوف میں مبتلا روحانیت  اور سلوک کے حال سے ناواقف تھا، ہر شخص خوف کے حال میں جی رہا تھا۔   غلام نبی نہ چاہتے ہوئے بھی، آدھ گھنٹہ صرف اس ڈر سے ناچتا رہا کہ، کیا خبر وہ نہ ناچ کر خدا کے کس طرز کے غصے کو دعوت دے رہا ہے؟  پیر صاحب بارے، غلام نبی خاموش ہے کہ اسے یہ خوف بچپن میں گھونٹ گھونٹ پلایا گیا تھا کہ بزرگ اور خاص طور پر وہ جو ولی اللہ کا دعویٰ کرے، سراسر بے ادبی ہے۔ خود کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔
صاحبان، معذرت مگر یہ تسلسل سے جاری ہونے والی خوف کی زنجیر ہے، جس میں ہر شخص اپنا وقت، اپنی سمجھ کے مطابق  خوف کی حد  آنے پر بندھا چلا جاتا ہے۔ اس زنجیر  کی ہر کڑی ہمیں ہر وقت خوف میں مبتلا رکھتی ہے اور یہ گناہ کا خوف   ہمیں نیکی تو کجا، بدی کو بھی درست طریقہ سے برپا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ میرا ماننا ہے کہ خدا کا خوف، انسان کو انسان بناتا ہے مگر یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا، ہماری سمجھ بوجھ گروی رکھ لیتا ہے؟
 غلام نبی ناچ رہا ہے، ہر شخص کے گلے میں پڑا نظریات اور عقیدے کا  ڈھول تھاپ پر تھاپ دے رہا ہے اور غلام نبی وحشیانہ انداز میں خوفزدہ،  اس تھاپ پر ناچتا جا رہا ہے۔ ہم سب میں کہیں نہ کہیں، ایک غلام نبی  ہر وقت گناہ کے ڈر سے ناچتا ہے۔ صبح و شام ناچتا ہے، جہاں کہیں سے اسے اپنے افعال، اپنی روزمرہ زندگی میں گناہ گار ہونے کی مہین بھر آہٹ محسوس ہوتی ہے، وہ ناچتا ہے۔ وہ اپنے افعال کی شکل میں ناچتا ہے، وہ  مولوی صاحب کے خطبات کی روشنی میں ناچتا ہے اور وہ اپنی سمجھ کے بوجھ تلے ناچتا ہے۔
مسئلہ ناچنے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس خوف کے سائے تلے غلام نبی ناچ رہا ہے، وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ غلام نبی ایک وقت آنے پر بے خوف ہو جاتا ہے۔ صاحبان، بے خوف شخص، سراسر شیطان ہوتا ہے۔ اس کی سمجھ بوجھ مستقل طور پر گروی رہ جاتی ہے اور وہ انسان نہیں رہتا، شیطان ہو جاتا ہے۔ وہ قتل کرتا ہے، وہ زنا کرتا ہے، وہ چوری کرتا ہے اور وہ ہر قبیح فعل کرتا ہے جن کے نتائج بارے سوچ کر ہم میں سے تقریباّ لوگ خوفزدہ رہتے ہیں۔
صاحبو! میں اکثر غلام نبی بن کر سوچتا ہوں، کہ خوف کا کچھ پیمانہ مقرر کروں، خود پر تنقیدی نظر ڈالوں کہ کہیں کل کلاں میں بے خوف ہو گیا تو مجھ سے بڑا شیطان اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہو گا۔ روز قیامت میں شیطان اور مولوی صاحب کے گریبان پیچھے بھاگوں گا اور خدا کے مقرر کردہ کارندے مجھے تلاش رہے ہوں گے، شیطان کو ڈھونڈ رہے ہوں گے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر