مقدمہ نسوار

نسوار دلچسپ سوغات ہے، دسویں جماعت تک کے سائنس کے طالب علموں کے لیے یہ صرف مینڈکوں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی  اک دوائی ، جبکہ اسے کھانے والوں کے لیے فرحت اور شغل  کا سامان۔
دنیا آج بھی مخمصے کا شکار ہے اور سمجھ نہیں پاتی  کہ نسوار استعمال کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ شراب نوش کی جاتی ہے، پان چبایا جاتا ہے اور بیڑی پی جاتی ہے مگر نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی ہی نہیں جا سکتی، اگر اسے کھائے جانے کی کوشش کی جائے تو  کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ  اپنے معدے میں موجود  سارا مواد واپس الٹ دے، اور پھیپھڑے صرف باہر کو ہوا پھینکیں۔۔۔ ایسا جانیے کہ اسے کھانے والے کا دل کھایا جاتا ہے۔ صاحبان کی معلومات کے لیے بتائے دیں اور رائے جانیں کہ  نسوار استعمال کرنے کا عمل تین حصوں میں منقسم ہے؛  پہلے حصے میں جیب سے نسوار برآمد کر کے اس پر لپٹی "ربر بینڈ" اس احتیاط سے کھولی جائے کہ پلاسٹک کی گتھی کی شرررر ہوا میں بکھر جائے۔ دوسرے حصے میں پلاسٹک کی گتھی کے اوپر سے ہی خراماں خراماں ایک گولی تخلیق کی جائے اور تیسرے حصے میں اس گولی کو احتیاط سے اوپری یا نیچے والے ہونٹ اور جبڑے کے درمیان سجا دیا جائے۔ اب اس عمل کو کیا کہیے گا، ہمارے رائے میں کھانا تو ہر گز نہیں ہے۔
بات یہیں تک محدود نہیں، نسوار بارے  ابھی تک اس کے صحیح مقام کا تعین بھی ممکن نہیں ہوا،  اسے کہاں شمار کیا جائے؟ یہ نشہ آور اشیاء میں شمار ہو گی یا پھر اسے استعمال میں لانے والوں کے لیے صرف شغل کا سامان  گردانا جائے۔ جو استعمال نہیں کرتے، ان کے لیے یہ اگر نشہ آور نہ بھی سہی، صحت کی بربادی کا موجب  ضرور ہے۔ اور جو اسے استعمال کرتے ہیں ان سے اس بارے دریافت کرنا ہی فضول ہے۔
کہتے ہیں کہ نسوار استعمال کرنے کا  اصل نشہ اس کی گولی بنانے میں ہے، منہ میں دبائے رکھنا تو بس اک رواج ہے۔  کہنے والے نے اپنی منطق کو ثبت کرنے واسطے مثال دی کہ لوگوں کو ایک دوسرے کو پان بنا کر پیش کرتے دیکھا ہو گا مگر آج تک ایک "نسواری" کو دوسرے "نسواری" کی جانب نسوار کی گولی اچھالتے نہیں پایا ہو گا۔  نسوار کی گولی بھی خوب شے ہے، لوگ اس کے حجم سے "نسواری" کی عادت کی تاریخ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سگریٹ نوش، وقت کے ساتھ سگریٹوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں اور "نسواری" وقت کے ساتھ اس کی گولی کے حجم میں۔
نسوار کے نشے آور ہونے بارے متضاد رائے ہیں،  آج تک اس فتنہ پرور پر کسی مفتی کا فتویٰ سننے میں نہیں آیا   مگر پھر بھی یہ بحث اکثر سماعتوں میں رس گھولتی ملتی ہے کہ آیا جیب میں نسوار کی پڑیا رکھ کر نماز ادا ہو جاتی ہے؟  حالانکہ دو ایک مولویوں کو ہم نے خود نسوار کی گولی اوپر کے جبڑے میں سجائے نماز تراویح  کی امامت کرتے پایا۔
سیانے کہتے ہیں کہ نسوار کے اجزاء تین ہی ہیں؛ تمباکو، چونا اور پانی۔  تینوں میں سے ایک بھی نشہ آور شے کا خطاب سر لینے کو تیار نہیں۔ چونا اگر نشہ آور ہے تو صاحبو، فوجی چھاؤنیوں کے تمام درخت اور ٹرکوں اور جیپوں کے ٹائر ہر وقت نشہ میں دھت رہتے ہوں گے ، اور پانی اگر نشہ آور شے ہے تو شراب کشید کرنے کا فائدہ؟ رہا تمباکو تو اس بارے کچھ تسلی سے کہا نہیں جا سکتا۔ ایک "نسواری" سے دریافت کرنے پر عجب منطق سامنے آئی کہ، " سگریٹ اور نسوار میں فرق یہی ہے، نسوار میں آپ چرس بھر کر نہیں پی سکتے تو اس لحاظ سے نسوار صحت بخش شغل ہے"۔ 

(نسوار بارے اس تحریر کا موجب، یہ تحریر ہے)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر