جنوبی پنجاب میں۔۔۔: جنوب کا قضیہ

فرض کیجیے، میں ایک توہم پرست ہوں ۔ ایسی صورت میں یہ کہ جنوب سے میرا پیچھا نہیں چھوٹتا، میں نے اپنی زندگی کے اب تک کےاہم ادوار میں جہاں گیا وہ جنوب تھا۔ بالاکوٹ سے جنوب کی جانب مانسہرہ میں، تعلیم کے لیے صوبہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اب تلاش روزگار میں ملک کے صوبہ پنجاب کے جنوبی حصے میں۔
جنوب ایک سمت ہے، اور جیسے جیسے یہ زندگی مجھے اس سمت میں اندر ہی اندر، اور گہرا دھکیل رہی ہے ویسے ویسے میری رائے کی سمت بھی واضع ہوتی جا رہی ہے۔ میری رائے کی یہ سمت، دنیا بارے جنوب کے جیسے، گہرائی میں گرتی جا رہی ہے، دنیا کا اصل روپ واضع ہوتا جاتا ہے اور ہر گزرتا لمحہ مجھے اس دنیا سے دور ہی لےجاتا جا رہا ہے۔ یہ بلاگی سیریز، جو میں آج سے حوالہ قرطاس کرنے جا رہا ہوں بھی ایک سمت سے دنیا کا مشاہدہ ہے، میری نگاہ کی سمت سے۔
جنوب بارے لکھنا دلچسپ تجربہ ثابت ہو سکتا ہے، یہ حقیقت کل ہی مجھ پر افشاء ہوئی۔ یہاں کا ماحول اس دنیا کے بے شمار حقائق میں سے وہ حقیقت ہے جو مجھ پر یہاں آنے پر آشکار ہوا۔ پنجاب کے جنوب میں واقع یہ سرائیکی پٹی ہے جہاں کا اپنا رنگ ہے، جہاں کے اپنے رواج اور جہاں کے آم کی مٹھاس ملک اور بیرون ملک لوگوں کے منہ میں رس گھولتی ہے۔ سرائیکی زبان کی مٹھاس اور لوگوں کی عاجزی آپکا دل موہ لیتی ہے ۔ یہاں رہ کر یہ مشاہدہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہاں کا انسان کیسا ہے؟ یہاں کا انسان کیا سوچتا ہےاور کیا واقعی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے؟ مرد کا یہاں کے معاشرے پر کتنا اثرہے اور وہ اثر کیا نتائج برآمد کرتا ہے؟ اور عورت کا حال کیسا ہے؟ بچے کس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں؟ اور یہاں کے بزرگ کیا سوچ کر اب تک جی رہے ہیں؟ یہاں بھانت بھانت کے لوگ، قبیلے اور رواج آباد ہیں تو وہ قبیلے کیا واقعی پہچان کے واسطے ہیں؟ رواج کیا لوگوں کی زندگیوں کو آسان کرتے ہیں؟ تو کیا لوگ واقعی اپنی قسمت کے خود مالک ہیں؟
یہاں کے شہروں اور دیہاتوں میں کتنا فرق ہے ۔اس خطے کے شہر کیسے ہیں اور دیہات کیا احوال رکھتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو کبھی تو پنجاب کے خوشحال صوبہ میں پسماندہ ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اسے بڑے دریا سیراب کرتے ہیں۔ دریاؤں کے بند پار کرتے ہی طرز زندگی کیسے تبدیل ہو جاتی ہے؟ سیلاب یہاں کے کھلیانون کو کیسے اجاڑتا ہے تو یہاں کی آبادی دریا کے ساتھ کیسے گزارہ کرتی ہے؟ اگر کسی کے لیے کہیں ڈیم سیاست کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب دریا کا بہاؤ کسی کا حق؛ تو درمیان میں آباد مخلوق کے لیے اسی ڈیم کا نہ بننا، زندگی اور موت کا کیسا مسئلہ ہے؟
یہاں کے آم اگر لذت میں مشہور ہیں تو عام عوام، بالخصوص دیہاتی آبادی کی زندگیاں کس لذت سے آشناء ہیں؟ شہروں میں اگر چمچماتی گاڑیوں میں مربعوں کے مالک زمیندار گھومتے نظر آتے ہیں تو ان چمچماتی گاڑیوں کاایندھن کمانے والا غریب کاشتکار دور کہیں اندرون میں کسی کھیت میں کیا سوچتا ہے؟ ہمارے جسموں کو ڈھانپنے والے کاٹن کے ملبوسات کے بارے میں پتہ چلا کہ جس کپاس سے یہ بنا ہے، اس کپاس کو چننے والی عورتیں کس حال میں زندہ ہیں؟ یہاں کی زندگی دو انتہاؤں پر رواں دواں ہے، جس کی ایک انتہاء وسائل کی بہتات سے تعبیر ہے جبکہ دوسری انتہاء غربت کی پاتال میں مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں چند لوگ اس لیے مخدوم ہیں کہ باقی کی تمام آبادی خادم۔یہاں کی عورت کی اگر ایک مثال مختار مائی ہے تو دوسری جانب یہاں کے وڈیروں کےگھروں کی ناموس اور عزت عورتیں ہی ہیں۔ مختار مائی سے ملاقات کیسی رہی اور اب مختار مائی کے معمولات کیا ہیں؟
پنجابی طالبان کا سہرا اسی خطہ کی پیشانی پر سجتا ہے؛ یہ اگر لال مسجد کے بنیاد پرست مولانا عبدالرشید غازی کی بنیاد ہے تو دوسری جانب روشن خیالی کے دعویدار عملی سیاست میں سرگرم ہیں ۔ روٹی کا مسئلہ کیسے پنجابی طالبان کو جنم دیتا ہے تو دوسری جانب روٹی فراہم کرنے کے دعویدار سیاستدان ہر بار کس بنیاد پر لوگوں سے ووٹ اینٹھتے ہیں؟
صاحبو، بے ہنگم انداز میں لکھی جائے گی یہ رپوتاژ، جیسے کہ بے ہنگم یہاں کی زندگی ہے۔ اس سلسلے کے تسلسل کی امید رکھے بغیر پڑھیے گا کہ یہ ایک معاشرے کا احوال ہے ، جسے باہر سے نوارد ایک شخص نے مشاہدہ کیا ہے اور وہ اگلے پورا ایک سال یہاں کی زندگی کا حصہ رہے گا اور جتنا موقع ملا، وہ حال یہاں پہنچائے گا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر