زندگی کی روح

سفر ہمیشہ سے میرے لیے اذیت رہا ہے۔ کتنی عجب حالت ہوتی ہے کہ بندہ بہت کچھ کرتے ہوئے (ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب گامزن ) بھی کچھ نہیں کر رہا ہوتا۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ معلق ہیں اور آپ بہت کچھ کرتے ہوئے بھی بے بس ہیں۔ اس طرح آپ گاڑی کی ایک نشست پر اپنے آپ کو قفس میں مبتلا پاتے ہیں۔ ایسی حالت میں، آپ کچھ ہی کام ہیں جو سرانجام دے سکتے ہیں؛ پہلا تو یہ کہ باہر دوڑتے مناظر کو تاڑیں، دوسرا یہ کہ ساتھ بیٹھی سواری سے خواہ مخواہ گپیں ہانکیں، تیسرا یہ کہ کچھ مطالعہ وغیرہ کر لیں، چوتھا یہ کہ سو جائیں یا پانچواں یہ کہ اپنے تخیل کے گہرے پاتال میں گرتے چلے جائیں۔ مجھے بہرحال، چوتھا اور پانچوں فعل زیادہ بھاتا ہے۔


لوگوں کی اکثریت جنھیں میں جانتا ہوں، دن میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مجھے رات کی تاریکی میں سفر پسند ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو آپ باہر بھاگتے مناظر تاڑ کر اپنے آپ کو تھکن کا شکار نہیں کرتے اور دوسرا آپ اپنے تخیل میں ڈوب کر رہ سکتے ہیں۔ خاموشی تیسرا عنصر ہے جو مجھے سفر میں پسند ہے، اور ہمسفروں بالخصوص اجنبی لوگوں تک میری شناسائی صرف سلام دعا تک ہی رہتی ہے جو کہ اکثر" ایکس کیوز می" سے شروع ہو کر "تھینک یو "پر ختم ہو جاتی ہے۔

سفر میں خاموشی اور اپنی ہی دھن میں مست رہنا مجھے اتنا بھاتا ہے کہ اکثر اگر مجھے یہ جاننے کی حاجت ہو کہ ہم کس مقام سے گزر رہے ہیں تو بجائے پہلو میں براجمان شخص سے جاننے کے، میں باہر دوڑتے مناظر میں سے اچک اچک کر سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سنگ میل جہاں ہوں تو سہولت ، ورنہ تیزی سے بھاگتے سائن بورڈوں کے آخر میں مقام کا نام تو ضرور ہوتا ہی ہے۔ شہروں سے گزرنا مجھے ایک ذرا نہیں بھاتا۔ وجوہات کئی ہیں، کہ ایک تو گاڑی کی رفتار کم ہو جاتی ہے، دوسرا ڈرائیور حضرات خواہ مخواہ ہارن بجاتے گزرتے ہیں اور تیسرا شہر مجھے میرے تخیل سے کھینچ کر باہر لاتے ہیں اور اپنی جانب متوجہ کر دیتے ہیں۔ ہر صورت میں شہر کے گزر جانے کے بعد، مجھے اپنے تخیل سے ربط قائم کرنے کو کچھ وقت ضرور درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سفر کے دوران، چونکہ سو جانا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ سفر میں نیند، آرام دہ ہر گز نہیں ہوتی مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ رہتا ہے کہ آپ سفر کی اذیت اور منزل کے تمع سے محفوظ رہتے ہیں۔ اکثر جاگنا، گاڑی کے پریشر ہارن کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ شہروں میں ڈرائیور حضرات جا بجا ہوا میں بکھیر کر دندناتے پھرتےہیں۔ایسی صورت میں ، میں ہڑبڑا کر سیدھا ہوا اور باہر کی بھاگتی آبادی کے سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور تاریکی میں ایسا کرنا سوہان روح بن جاتا ہے۔

فی الوقت توآپ صاحبان یہ جانیے کہ شہروں سے گزرنے کا تجربہ ہمیشہ مجھے اس فعل میں مصروف رکھتا ہے کہ میں اس شہر کی دکانوں، مکانوں وغیرہ کے سائن بورڈ پڑھ کر جانوں کہ ہم کہاں سے گزر رہے ہیں۔ ایک بار، کچھ دن پہلے ہی مجھے سفر کے دوران ایک خیال نے جنجھوڑ ڈالا کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ میں یہ جانوں یا محروم رہوں کہ ہم کس مقام سےگزر رہے ہیں؟ ہماری منزل اہم ہے نہ کہ وہ سنگ میل جو ہم شہروں کی صورت میں متعین کرتے ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا ہر گزرتے شہر بارے سطحی معلومات اکٹھی کرنا مجھے تکلیف دیتا ہے، میں سائن بورڈوں کا پیچھا کرتے کرتے تھک جاتا ہوں اور ہر گاؤں، قصبے، شہر کا اپنے آبائی علاقے سے موازنہ کرتا ہوں، اور پھر میری مقام بارے دلچسپی مجھے اس بات سے بھی محروم کر دیتی ہے کہ میں اس شہر کی زندگی کا مشاہدہ کروں، باہر چلتے پھرتے انسانوں پر توجہ کروں اور وہاں کی رواں دواں زندگی، اور کبھی کبھار رات کی خاموشی کو اپنے اندر سمو لوں۔ میں نے ایسا کبھی نہیں کیا، اور مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ میں ایسا نہ کر کے کس طرح ایک نعمت سے محروم ہوں، آج تک کتنے ہی گاؤں، قصبے اور شہر گزار گیا اور کبھی بھی کسی بھی مقام کی زندگی کی حرکت نہ جانچ سکا۔

اس سفر میں، ابھی میں اسی خیال میں ڈوبا تھا کہ میرے خیالات کا ربط پریشر ہارن چھن کر کے توڑ گیا۔ ہم، ایک شہر میں داخل ہوا چاہتے تھے اوروہ شہر رات کے دو حصے گزار چکا تھا، اور میں نہایت مشکل سے اپنے آپ کو وہاں کے سائن بورڈ پڑھنے سے روک سکا۔

پہلا منظر ایک ہوٹل کا تھا، جہاں دو چار شخص بیٹھے اونگھ رہے تھے اور ان کے درمیان ایک شخص بیٹھا حقے سے شغل فرما رہا تھا۔ محسوس ہوا کہ وہ شخص ہوٹل کا مالک ہےجبکہ ارد گرد اونگھتے نوجوان، چھوٹے۔ وہ منظر زیادہ تر مشاہدے میں نہ رہا، مگر روایتی ہوٹلوں کی طرح ایک تھل جس پر دیگچے پڑے دکھائی دیے، اور باہر ایک انگیٹھی سلگ رہی تھی، جس پر توا جل رہا تھا اور اس پر گھی جلنے کا دھواں بلب کی روشنی میں اٹھتا دکھائی دیا۔ اتنی دور ہوتے ہوئے بھی، میں نے نتھنوں میں جلتے گھی کی مہک محسوس کی۔ بان کی چارپائی، چار چھ پلاسٹک کی کرسیاں، دو میزیں، بان کی چارپائیاں، چند دیگچے، دو ایک انگھیٹیاں، اور ہوٹل کے چھوٹے کل اثاثہ جات تھے، جن کے بل بوتے درمیان میں بیٹھا حقے سے شغل کرتا شخص مخمور بیٹھا تھا۔ میں سوچتا رہا کہ ان اثاثہ جات میں ہوٹل کے چھوٹے وہ اثاثہ تھے جنھوں نے اس شخص کی شان قائم کر رکھی تھی ورنہ مادے میں اتنی خاصیت کہاں کہ ایک شخص کو اس قدر جلا بخشے؟

میرا دھیان بٹ گیا، سائیکل پر ایک شخص بنیان پہنے رواں دواں تھا اور سائیکل کے کیرئیر پر ایک لڑکا ادھر ادھر تاڑ رہا تھا، اس کو بھی کرنے کو میری طرح کچھ بھی میسر نہ تھا۔ گاڑی کے اے سی کی پھیلائی ٹھنڈک کا احساس مجھے اس شخص کی بنیان سے ہوا۔ ایک لمحے کو میں حیران ہوا کہ یہ شخص بنیان پہنے کیوں گھوم رہا ہے؟ پھر احساس ہوا کہ دراصل بس سے باہر شدید گرمی ہے۔ اس معاملہ نے جیسے میرے اندر ہلچل مچا دی۔ میں سوچنے لگا کہ ہم انسان کس قدر احمق ہیں، ہم کیسے ایک ہی رخ سے اس ست رنگی دنیا کو دیکھنے کے ایکدم عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم کیسے ایک ہی لمحے میں بیوقوفوں کی طرح صرف اس پر قناعت کر لیتے ہیں کہ ہمیں جیسا دکھائی دے رہا ہے، دنیا کا وطیرہ دراصل وہی ہے۔ میں جس ماحول میں موجود تھا، میرے خیال میں ساری دنیا میں ویسا ہی سرد ماحول ہے، ہر شخص اطمینان سے بیٹھا ہے اور ہرشخص فراغت سے موجود ہے۔ وہ شخص رات کے اس پہر نہ جانے کیوں سائیکل پر جا رہا تھا۔۔۔ کام سے لوٹ رہا ہو گا یا شاید رات کے اس پہر اس کی زندگی میں کچھ ہنگامی صورتحال ہے جس سے وہ نبٹنے جا رہا ہے۔

پھر ایک شخص میری نظروں کےحصار میں آیا۔ وہ شخص سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے سبزے پر سو رہا تھا۔ اس کو چھت میسر نہیں تھی، لیکن کیا اس کو خاندان بھی میسر نہیں؟ وہ اس شہر کا باسی ہے، یہاں کیا کر رہا ہے؟ دن بھر کیا کرتا رہا، صبح کو جاگ کر کیا کرے گا اور اب اسے کیا پرواہ ہے کہ اس کو اس باہر سڑک کے عین بیچ کتنے خطرات درپیش ہیں؟ وہ جو بھی تھا، اس وقت انتہائی اطمینان سے سویا پڑا تھا، بھاری بھرکم بسوں، ٹرکوں کے انجنوں کا شور، پریشر ہارن اور دنیا کا معاملہ اس پر کچھ اثر نہ کرتا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ شخص کیا ہے؟ اسے فکر دنیا ہے؟ کیا اسے فکر ہے کہ وہ ہمارے جیسا ایک انسان ہے ، ہمارے جیسا جو اپنے دن رات اس سعی میں گزار دیتے ہیں کہ کیسے ہماری ناک اونچی رہے، یہ شخص کیسا عجیب شخص ہے جسے کچھ ثابت کرنے کی حاجت ہی نہیں؟ اس شخص کو میں صرف لمحہ بھر دیکھ پایا، بس کی اڑائی دھول اور تاریکی کی وجہ سے میں اس شخص کے چہرے کے تاثرات محسوس نہ کر پایا، مگر پھر بھی میں سوچتا رہا کہ اگر میں اس شخص کی جگہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا میں بھی اتنا ہی مطمئن سو رہا ہوتا؟

میرا خیال تھا کہ یہ جو بستی تھی، وہ چھوٹی سی کوئی بستی ہو گی مگر وہ شیطان کی آنت کے جیسے بازار تھا، جو ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ شہر میں جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھتی رہی میں اس شہر کے بارے سوچتا رہا، اس شہر میں بسے انسانوں کےبارے سوچتا رہا۔ دکانوں کی لمبی قطاریں۔۔۔ ہر دکان کے پیچھے سامان لدا ہو گا اور ہر دکان کو چلانے والا اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اندرون شہر سو رہا ہو گا۔ نیند ایسی بلا ہے جس نے کروڑوں کی مالیت کو ایسے ہی چھڑوا دیا ہے اور سارا شہر اپنی کل املاک ایسے تاریکی میں چھوڑ کر بے غم سو رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے، جن املاک کے لیے سارا سارا دن یہ انسان دھوڑ دھوپ کرتا ہے، تھانے کچہری بھگتاتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، ایمانداری سے پیش آتا ہے، منت کرتا ہے اور ترلے کرتے نہیں تھکتا۔۔۔ انھی املاک کو ایسے بیچ بازار تاریکی میں چھوڑ کر سو رہا ہے؟ کیسا تضاد ہے یہ، کیسی دنیا ہے یہ؟

یہ شہر بہت بڑا ہے، آہستہ آہستہ میری دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ دھیان قائم رکھنے کو ایک اور شغل شروع کرتا ہوں۔ اس سڑک پر نظر آنے والے ہر اکا دکا شخص کو دیکھتا اور اس کی جگہ خود کو رکھ کر پرکھنا شروع کر دیتا۔ وہ چوکیدار کیا سوچ رہا ہے، یہ ویگن کے پہلو میں سویا شخص صبح کے بارے کیا جانتا ہے، کیا واقعی صبح اڈہ شروع ہونے پر اس کی ویگن اس کو کمائی کر کے دے گی؟ پتہ نہیں وہ شخص جو خراماں خراماں رواں تھا وہ اس پہر کو کیا کر رہا ہے یہاں۔۔۔ ہر شخص کیسے اپنی اپنی تکلیفیں، دکھ، سکھ، لائحہ عمل، منطق، نظریہ اٹھائے جی رہا ہے۔

پھر ایسا ہوا کہ اس شہر میں اس وقت ہر شخص، جو جاگ رہا ہے، جو سو رہا ہے، جو کھڑا یا جو بیٹھا ہے۔۔۔ ہر شخص مجھے اپنا آپ محسوس ہوا۔ ایک ہی لمحے میں یہ شہر کئی سارے عمر بنگشوں سے بھر گیا، وہ شہر جو چند لمحے پہلے میرے لیے اجنبی تھا، میرا شہر بن گیا۔ مجھے لگا، میں تمام انسانوں کو جانتا ہوں، میرا اور ان کا ایک تعلق ہے، ایک واسطہ ہے۔۔۔ کچھ ہے جو ہم میں سانجھا ہے۔ بھلے ہم مختلف لوگ ہوں، ذات جدا، پیشہ الگ، عمر یں تھوڑی یا زیادہ اور تجربہ کیسا بھی ہو، بھلے ہم اختلافات رکھتے ہوں، بھلے ہماری سوچ جدا ہو مگر کچھ تو ایسا ہے جو ایک ہے، میرا اور اس شہر کے ہر انسان کا خمیر ایک ہے، منبع ایک ہے، اصلیت ایک ہے ۔

صاحبو، بس رواں دواں رہی، مشاہدے کی فہرست طویل ہے۔۔۔ میں ایک کے بعد ایک انسان کو دیکھتا رہا، سوچتا رہا اور جانتا رہا۔ پہلی بار، اس شہر کے نام، ترتیب، اور دوسری معلومات نہ جان کر انسانوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ عجیب بات تھی، جب گاڑی اس شہر کی حدود سے باہر نکل رہی تھی تو پہلی بار ایسا ہوا کہ میں اس شہر کے بارے سطحی معلومات کی بجائے اس شہر کی روح جانچ کر نکل رہا تھا۔ خاموش، تاریک رات میں، جب وہ شہر سارا سو رہا تھا، اس شہر کے انسانوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کوئی شخص ان کے اندر تک گہرائی کو محسوس کر کے نکل گیا، اسے ہر کاروباری، ہر دکاندار، ہر مزدور اور ہر شخص کی زندگی کا حال جاننے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی بار، کسی شہر نے میرا، میرے تخیل سے رابطہ نہیں توڑا، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیا۔



(شہر: فیصل آباد)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر