جنوبی پنجاب میں۔۔۔: ملتانی جغرافیہ

ملتان بڑا شہر ہے اور میں بڑے شہروں میں وحشت کا شکار ہو جاتا ہوں۔ یہاں میری زندگی بوسن روڈ تک محدود ہے اور اگر دائرہ وسیع کروں تو زیادہ سے زیادہ چوک کمہاراں جہاں سے میں ملتان سے رخصت یا یہاں وارد ہوتا ہوں۔ اس کے علاوہ، میرا اس شہر سے اگر ربط رہتا ہے تو وہ تمام شہر سے گزر کر فوجی چھاؤنی اور وہاں سے مظفر گڑھ، لیہ، ڈیرہ غازی خان یا پھر راجن پور کی جانب سفر ہوتا ہے۔ یہ سفر ہفتے میں کم از کم دو بار ضرور ہی ہوتا ہے۔
ملتان کو ناپنا ہو تو آپ کو چونگیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، عام لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ میں چھ نمبر اور نو نمبر چونگی کے بیچ کے علاقے میں رہائش پذیر ہوں، چوک کمہاراں نو نمبر چونگی سے آگے چوک رشید آباد کے بالکل  دوسری جانب کی نکڑ پر واقع ہے اور اگر آپ چھاؤنی کی جانب جائیں تو آپ کو سات نمبر چونگی سے ہو کر جانا پڑتا ہے۔ چونگیاں کب کی ختم ہو گئیں مگر سنگ میل جوں کے توں قائم ہیں۔ اس لحاظ سے ملتان بائیس چونگیوں پر مشتمل ہے۔ بائیس چونگیاں میرے علم میں ہیں، شاید اس سے بھی زیادہ ہوں گی ویسے ہی جیسے ملتان شہر کا مخصوص رنگ ہی میں پچھلے آٹھ ماہ میں جذب کر پایا ہوں۔
آپ نے اگر سکولوں، کالجوں اور جامعہ کی بات کرنی ہے تو نو نمبر سے اس طرف چھ نمبر اور پھر شمالی بائی پاس تک کا علاقہ ناپ میں لائیے۔ اچھا سوہن حلوہ حسین آگاہی میں ملتا ہے، کشیدہ کاری اور رنگ برنگے کڑھائی والے لباس و دوپٹے بھی حسین آگاہی سے ہی مل پاتے ہیں۔ ملتان آرٹ کونسل اور نشتر کا علاقہ ایک ہے ، ڈیرہ اڈا میرے خیال میں گاڑیوں کے سامان کے لیے مشہور ہے اور  خواہ مخواہ رش میں پھنس کر وقت برباد کرنا ہے تو گھنٹہ گھر اور آس پاس کے بازاروں میں داخل ہو جائیے۔ گھنٹہ گھر  کے بالکل اوپر ایک پہاڑی سی ہے جسے قلعے کا نام دیا گیا ہے، حالانکہ وہاں قلعہ نہیں بلکہ ملتان کے مشہور مزارات ہیں اور ساتھ ہی ملتان کا پرانا کرکٹ اسٹیڈیم واقع ہے۔  ملتان میں یہ واحد پہاڑی نما علاقہ ہے جس کی کوئی بھی صورت قدرتی نہیں ہے اور عام خیال ہے کہ یہ پہاڑی پرانے زمانے کے ملتان  شہر کا سکڑا ہوا علاقہ ہے جو کہ کسی آفت کی وجہ سے سمٹ کر پہاڑی بن گیا۔
ملتان میں ریلوے سٹیشن، نشتر میڈیکل کالج، ایک جامعہ (بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی)،  ائیر پورٹ، ملتان آرٹ کونسل، انڈسٹریل اسٹیٹ،  گھنٹہ گھر، وہاڑی چوک، ڈیرہ اڈا، جیل روڈ، عیدگاہ، کتھولک گرجا گھراور کئی دوسرے چیدہ چیدہ مقامات ہیں۔ شہر سے باہر فوجی چھاؤنی واقع ہے، جو ویسی ہی ہے جیسی ہر بڑے شہر میں ہوا کرتی ہے۔
ملتان شہر میں کئی مزارات ہیں، جن میں شاہ رکن عالم، بہاؤ الدین زکریا اور الشمس تبریز کا مزار مشہور ہیں۔ میں پچھلے آٹھ ماہ میں باوجود کوشش کے ایک بھی مزار میں داخل نہیں ہو پایا۔ ہمت بھی نہیں ہوتی، اور ساتھ مجھے ڈر رہتا ہے کہ شاید مجھ پر وہ حال  طاری ہو گا جو ایک بار لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر برپا  ہوا تھا۔ رمضان میں رات کے پچھلے پہر کوشش کی تو اس مقام سے ہی دبے پاؤں واپس لوٹ آیا جہاں داخلے کی پہلی رکاوٹ نصب ہے۔ داتا کی نگری میں ایسا نہیں ہوتا تھا، یا شاید اب بم دھماکوں کے خطرے کی وجہ سے رکاوٹیں نصب کی ہوں۔
ملتان کی ایک خصوصیت یہاں کے طوائف گھر بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب بارے ایک مفصل رپورٹ ہاتھ لگی تھی جس کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ملتان پنجاب اور کسی حد تک سندھ اور صوبہ سرحد میں طوائف گھروں کو نو عمر لڑکیوں کی فراہمی کا مرکز ہے۔ ملتان کے آس پاس کے اضلاع جیسے مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، جھنگ وغیرہ میں غربت نے خوب اپنا رنگ دکھایا ہے اور کئی قسمت کی ماری لڑکیاں وہاں سے ملتان اور پھر باقی علاقوں میں بطور جنس فراہم ہوتی ہیں۔
اس بارے، مزید تحاریر میں حال ضرور پڑھیے گا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر