قافلۂ نکہت غم

غم انسان کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ غم نہیں ہوتے  بلکہ غم کا احساس ہوتا ہے، جو توڑ پھوڑ دیتا ہے۔ غم کا احساس شعور کے ساتھ بیدار ہوتا ہے اور یکدم ، آپ کے آپ سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ غم ایسے توڑتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے بندہ   ریزہ ریزہ  ہو کر ایسے بکھرتا  چلا جاتا ہے کہ اپنے ذرات اسے مٹی میں ملے، اسی کے رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی وجود نہیں تھا بلکہ خلا ہی خلا ہے، جو ازل سے یہیں تھا اورابد تک برپا  رہے گا۔
پہلی بار غم کا احساس اپنے ابا کے مرنے کے تیسرے روز  تب ہوا ، جب میری عمر بمشکل گیارہ برس تھی۔  رات کو لیٹتے ہی ایکدم تڑاخ سے میرا اندر تڑک گیا، میرا سینہ ایسے بوجھل ہو گیا جیسے شیشہ چٹخ جائے تو تڑخے ٹکڑوں کا بوجھ ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ غم کا پہلا احساس تھا جو میرے ساتھ گیارہ برس کی عمر میں برپا ہوا اور  آج بھی جوں کا توں میرے سینے پر استادہ ہے۔   اچانک ایک ٹیس اٹھتی ہے اور غم کا احساس بوند بوند گرنے لگتا ہے، یہ غم اتنا شدید  ہوتا ہے کہ میں بوجھ سے دب کر گھنٹوں بے سدھ پڑا رہتا ہوں۔ پہلے پہل رو لیتا تھا تو من ایسے ہلکا ہو جاتا تھا جیسے پھول کی پتی ہو جائے، مگر جب سے  میری دنیا نے مجھے کولہو کا بیل بنایا ہے، رونا نہیں آتا اور یہ بوجھ بڑھ رہا ہے، ہر بار اس کے وزن میں منوں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 
سب کے ساتھ ایسی واردات نہیں ہوتی، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے۔ عورتیں جب غمناک ہوتی ہیں تو بین کر کے،  پھُوں پھُوں رو رو کر اپنا من ہلکا کر دیتی ہیں، کئی مرد آپے سے باہر ہو کر اونچی آواز میں اظہار کر گزرتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو پتہ نہیں کیسے، اپنے آپ کو سنبھالا دے پاتے ہیں۔ کئی غمناک لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ غم کی حالت میں ان کے چہرے پر وہ کرب ہوتا ہےکہ  ابھی کے ابھی  ان کا چہرے کی دراڑیں گہری ہوں گی اور سارا چہرہ بس  تڑکتا چلا جائے گا۔ 
غم ایک سے نہیں ہوتے، کہیں کیسے اور کبھی کسی روپ میں آن دبوچتے ہیں۔ عادت،  اس کے ساتھ مانوس کر دیتی ہے اورساتھ ساتھ غم کو سنبھالا دینے میں مہارت بھی عطا ہوتی  رہتی ہے۔ پہلے پہل میں ٹوٹ پھوٹ کر ادھر ادھر بکھر جاتا تھا، اور پھر عرصے تک خود کو سمیٹتا رہتا تھا، اب ایسا نہیں ہوتا۔ میں چٹختا ضرور ہوں مگر میرا وجود غم کے بوجھ تلے ایک ہی جگہ پر ریزہ ریزہ بن کر گرتا رہتا ہے،  واپس سمیٹنے میں خواری تو نہیں ہوتی مگر مزید ایک  کتبہ میرے اندر سج جاتا ہے، ایک اور دیوار گریہ نصب ہو جاتی ہے ۔ہر وقت میرے اندر،  ہر دیوار گریہ کے ساتھ  میرےوجود کا کوئی  نہ کوئی حصہ لپٹا  بوند بوند غم ٹپکاتا رہتا ہے۔
مجھے ہمیشہ ایسے لگتا ہے کہ جو غم کے سنگ میرے اندر نصب ہیں، وہ مجھ سے زیادہ دوسروں سے وابستہ ہیں۔ میری اپنی ذات ان غموں  گہری پاتال میں  کہیں دور گم ہے۔ مجھے میرے ابا کا ہر سُو غم رہتا ہے، مجھے غم جاناں بھی درپیش ہو گا، اور میں اس دنیا کے  حال پر بھی غم ٹپکاتا ہوں۔مجھے اپنے لیے کوئی غم نہیں، میری ذات خوش باش ہے، میں ہر حال میں زندہ ہوں میں ہر دور میں شکر گزار ، یقین کیجیے میں اپنے آپ کو بھلا سکتا ہوں مگر میرے ارد گرد کے میرے پیارے، ان کے غم میں بھلا نہیں پاتا۔ لوگوں کے بچھڑنے کا غم سب سے مہلک ثابت ہوا ہے۔ بچھڑنے والوں کی فہرست بہت طویل ہے، اور ان میں سے ہر شخص نے میرے اندر غم کا حال برپا کیا ہے۔ انسیت کی تعریف میری اپنی طے کردہ ہے اس لیے جن سے مانوس ہوں، ان سے ایک بار بچھڑ جاؤں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابد تک ان کی یاد میرے اندر ہی اندر مجھے بوجھل کرتی رہے گی۔ 
 ہر بار جب مجھے غم لاحق ہوتا ہے تو وہ مجھ سے تعلق تو ضرور رکھتا ہے مگر وہ خالصتاؐ مجھ سے وابستہ نہیں ہوتا، تجربات کا نتیجہ ہے  کہ اپنے لیے غم کو میں اتنا موقع کبھی فراہم نہیں کرتا ۔اس سے پہلے کہ غم مجھ کو فنا کرے، میں خود کو فنا کر دیتا ہوں۔ دوسروں کی بات اور ہے، میں دوجوں کے غم پیتا ہوں اور ان کو اپنے اندر جذب کرتا جاتا ہوں۔ ان کے  غموں کو، جو مجھ سے تعلق رکھتے ہیں، سمیٹ چکتا  ہوں تو وہ میرے اندر ایک ایسا  سنگ نصب کردیتے ہیں کہ وہ میرے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ میں اس سے ہمہ وقت لپٹ کر اندر ہی اندر رو سکتا ہوں، اندر ہی اندر بار بار تڑخ سکتا ہوں اور بار بار بکھر کر پھر سے وجود کی شکل اختیار کر سکتا ہوں۔
صاحبان! اب  غموں کا یہ بوجھ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا ہے کہ مجھے صاف محسوس ہوتا ہے میں سکت نہیں رکھتا کہ میں مزید کچھ بوجھ برداشت کر پاؤں گا۔  بعض اوقات یہ بوجھ، یہ حال اس شدت سے برپا ہوتا ہے کہ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا اور تب چڑ جاتا ہوں، الجھ پڑتا ہوں۔تب کے بعد، میں اب لوگوں سے دور بھاگتا ہوں۔ میرے دوست میرے فون پر گھنٹیوں پر گھنٹیاں کھڑکاتے رہتے ہیں، انٹرنیٹ پر پرانے دوست احباب ہر دوسرے ہفتے اپنی انٹرنیٹ پر   موجودگی کو تازہ کر کے پیش کر دیتے ہیں اور میں انہیں ٹال دیتا ہوں، اور جن کو میں اپنی موجودگی سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ان کے ساتھ میں دیر تک بیٹھ نہیں سکتا، ان کی قربت مجھے اس غم میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر کبھی وہ مجھے سے دور ہو گئے، بچھڑ گئے تو غم اور تکلیف نہایت شدید ہو گی، اتنی شدت کیا خبر میں برداشت کر پاؤں یا نہیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ میں اجنبی بن کر ان کے سامنے بیٹھا رہتا ہوں ۔ ان پیاروں کے ساتھ ہوتے یہ خیال اتنا شدید ہوتا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ مجھ  سے بچھڑ کر یا میرے اندر غم کا ستون نصب کریں، میں کرچ کرچ کر کے انھیں چبا ڈالوں، کھرچ کھرچ کر ادھیڑ ڈالوں۔مگر، جب  خلوت میں اپنے آپ سے ملتا ہوں تو اپنے پیاروں کے بارے میرے اندر شدت سے  ملال عود کر مجھے بے چین رکھتا ہے ۔ 
بازار میں لاتعلق گھومتا ہوں، اور ایک بے ثباتی کا اظہار کرتا ہوں۔ خبروں سے پرہیز  اور کوشش میں رہتا ہوں کہ کوئی اپنا حال مجھے نہ سنانے پائے اور ایسا کچھ ہو کہ کسی کو نظر نہ آؤں، بھاگ نکلوں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھوں۔ کسی کو مدد چاہیے تو حسب توفیق، اس کا حال معلوم ہونے سے پہلے اس کی ہتھیلی پر دھر دوں ۔
صاحبان، مجھے قنوطی نہ سمجھیے۔ میرے پیارو، مجھے خود غرض نہ سمجھو۔ میرا خیال کرنے والو، مجھے بے پرواہ نہ سمجھو۔ میں بہت سوں سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، ان کو سننا چاہتا ہوں۔ ان سے اپنے دل کا حال بیان کرنا چاہتا ہوں، مگر الجھ جاتا ہوں۔ سرفہرست، بی بی جی سے میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، ان کو سننا چاہتا ہوں اور ان کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دینا چاہتا ہوں مگر ایسا ہو نہیں پاتا۔ ایسے ہی، میں ان کو جن سے محبت کرتا ہوں، برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔  دوستوں سے اپنا حال بیان کرنا چاہتا ہوں، اپنے پیاروں کو کھول کر سب بتا نا چاہتا ہوں  مگر نہ جانے کیا ہوتا ہے کہ پلٹ جاتا ہوں۔ پاس بیٹھ کر ٹُک ٹک منہ دیکھتا ہوں، خاموش رہتا ہوں۔  چیٹ باکس کھول کر، حال احوال پوچھ کرخالی سکرین کو دیکھتا رہتا ہوں،ایک دم لاتعلق ہو جاتا ہوں۔ ایسے میں، سکوت طاری ہوتا ہے اور میں بھاگ نکلتا ہوں، باہر نکل جاتا ہوں، اپنے کمرے میں دُبک جاتا ہوں یا انٹرنیٹ پر سائن آف ہو جاتا  ہوں۔ صاحبو! میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، بہت سوں سے بہت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اظہار کرنا چاہتا ہوں، احوال سنانا چاہتا ہوں، گلے کرنا چاہتا ہوں، معافی مانگنا چاہتا ہوں ،بے پناہ  محبت سمیٹنا چاہتا ہوں ، اور خود کو ان کی ہستی میں ایسے فنا کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اپنا، میرے اندر کا بوجھ ہلکا ہو جائے، خالی خولی ہلکا پھلکا پن رہ جائے   مگر۔۔۔ بے بسی سی بے بسی ہے، بوجھ سا بوجھ ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر