نامعلوم کی جانب

حصہ اول: محبت؟
نامعلوم، خوفزدہ کرتا ہے یا دوسری صورت بارے اس کے آپ خوش فہمی سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ انحصار یہ ہے کہ نامعلوم کی نوعیت کیا ہے اور آپ اس سے کس طور اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہر دو صورت، بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ بے چینی خوب ہے، کہیں کا نہیں چھوڑتی، ٹکنے نہیں دیتی تا آنکہ کچھ نتیجہ برآمد نہ ہو جائے۔ مشہور کہاوت ہے کہ نمو نامعلوم میں پنہاں رہتی ہے، نامعلوم کا کچھ بھی نتیجہ برآمد ہو آپ نمو پاتے ہیں۔ صاحبو، معاملہ تب عجب رخ اختیار کرتا ہے جب نامعلوم صرف معاملہ نہ ہو، وہ بھی یوں کہ یہ کُلی طور پر صرف آپ سے متعلق نہ ہو۔ معاملہ ایسا کہ یہ کوئی کاروبار زندگی نہیں، اور سود و زیاں حالات نہیں بلکہ ہستی پر اثرانداز ہوں، آپ کے وجود پر سوال اٹھائے۔ محبت ایسا ہی کچھ عجب واقعہ ہوتا ہے۔
محبت، ہمیشہ نامعلوم رہتی ہے۔ کوئی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا اور یہ ہمہ وقت آپ کی شخصیت، وجود، ہستی کو ٹوکے لگاتی رہتی ہے۔ آپ بیک وقت خوف اور خوشی سے دوچار رہتے ہیں اور بے چینی ہر دم آپ کو گھیرے رکھتی ہے۔ سود و زیاں کا تعین نہیں ہو پاتا اور یہ طے نہیں ہو پاتا کہ کیا کھو رہے ہیں یا کتنا پا رہے ہیں؟ ہر دم، ہر طور یہ نامعلوم رہتی ہے، سولی پر لٹکائے رکھتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی ٹیسیں کُل اثاثہ ہوتی ہیں۔ یہ ہر دم آپ کے اندر کو منور رکھتی ہیں۔ وہ جان نہیں پاتے کہ یہ محبت کی ٹیسیں وہ سناسائی ہے جو آپ اس راہ سلوک میں پاتے ہیں۔ محبوب آپ کو ہانکتا ہے، سلوک کی کئی لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کر ہلکان کر دیتا ہے مگر آپ نمو پاتے رہتے ہیں۔ہاں، مستقبل بارے بے چینی ہمہ وقت طاری رہتی ہے۔ بے چینی آمد کی،  درد سلوک کا  اور خوشی نمو اور حاصل کی ہوتی ہے۔ یہ کُل اثاثہ ہے جس کی رو میں ہستی پروان چڑھتی ہے، اندر ہی اندر منور رہتی ہے۔ حاصل یہ ہوتا ہے آپ غم میں تر بھی رہتے ہیں اور تبھی طمانیت آپ کو تھپتھپاتی بھی رہتی ہے۔ لوگ بیک وقت ان جذبات کے ابھرنے کو دھوکہ سمجھتے ہیں، خود کو معلق محسوس کرتے ہیں۔
صاحبو، یہ بہت عجیب بات ہے۔ آپ یہ تو جانتے ہیں کہ نتیجہ کیا برآمد ہو سکتا ہے، بنیے کی طرح حساب بھی کر سکتے ہیں مگر آپ کبھی یہ نہیں جان پاتے کہ محبت اگلے ہی لمحے آپ سے کس طور پیش آئے گی؟ یہ ہر دم نامعلوم رہتی ہے، اس کا سلوک نامعلوم رہتا ہے؛ روکھے طریقے سے ہلکان کر دے یا اپنی شیرینی میں تر کر دے۔ ہر صورت اس کی آمد بے یقینی سے دوچار رکھتی ہے اور آپ کو بے چینی سے انتظار رہتا ہے؛ لاٹھی سے پٹنا درکار اور محبت کی آغوش میں پناہ کی طمانیت اور اواخر میں حاصل ہونے والی نمو کی خواہش بے قرار رکھتی ہے۔ یہ ایسی شدت اور لطف کا حامل دور ہووے کہ آپ خود کو فنا کرتے رہنے سے چوکتے نہیں۔
صاحبو، یاد رکھیے کہ بار بار ایک عمل، ایک ہی طور کرتے سے کبھی استحکام نہیں آتا۔ آپ کو طور بدلنے پڑتے ہیں، سوچ بدلنی ہوتی ہے اور لائحہ عمل تبدیل کرتے رہنا پڑتا ہے۔ محبت میں استحکام تب آتا ہے جب آپ تپسیا سے گھبرانا چھوڑ دیتے ہیں، اور اس سے بھی اہم یہ کہ خود سے روشناس ہو جاتے ہیں۔ اپنا آپ پا لیتے ہیں تو تب آپ جامعیت کو پاتے ہیں، خود کو مکمل کر دیتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ مکمل ہونے سے یہاں کبھی مراد وصل نہیں ہوتا، وصل دلفریب تو ضرور ہوتا ہے مگر بیزار کر دیتا ہے۔
میری سوچ کسی ایک طور ٹک نہیں رہی، ہانکے چلی جا رہی ہے۔ بہتر ہو کہ میں آج کو صرف جو بین السطور بیان کر چکا ہوں اس کو مثال سے واضع کر دوں۔ ایسا جانیے کہ جب محبت گھیرتی ہے تو آپ "ایٹم" کا حصہ بن جاتے ہیں۔ محبوب مرکز میں پڑا "نیوٹرون"، جس کی دسترس میں "محبت" کا "پروٹون" ہو اور آپ "الیکٹرون" کی مانند اس کے گرد گول گول گھومتے چلے جائیں۔ گھومتے رہنے کا تردد آپ کو توڑ کر رکھ دے گا، معلق کر دے گا۔ مگر مرکز سے نسبت آپ کو جوڑ کر رکھے گی۔ یاد رکھیے، مرکز ہمیشہ مضبوط رہتا ہے اور آپ کو رول دیتا ہے۔ مرکز کی چاہت اور رلنے کی بیزاری آپ کو ایسے معلق رکھے گی کہ آپ سب کسی سے اکتا جائیں۔ بھاگ جانے کا جی چاہے مگر اس کافر مرکز سے دور ہونا بھی گوارہ نہ ہو۔ تب، بیرونی توانائیوں سے جب جب قدر تر ہوں گے، مرکز سے دور ہوتے چلے جائیں گے مگر بالآخر خشک ہوتے ہی مرکز کی جانب دھڑام سے آ گریں گے۔ خود کو مرکز پر وار دیں گے۔ آپ، اب کے نہ صرف رُل جائیں گے بلکہ ساتھ ہی فنا بھی ہوں گے۔ خود کو طعنوں، جھڑکیوں اور بے اعتنائیوں کے لیے تیار رکھیے۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ محبت میں، مرکز سے نسبت میں غیر مستحکم ہوں، استقامت کے لیے آپ کو ہمزاد کی ضرورت پڑتی ہے، یعنی آپ کو خود کو پہچاننے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کے جیسے، ایک دوسرے "الیکٹرون" کی جو آپ کو مرکز سے دور نہیں ہونے دیتا، آپ کو آپ کا مقام بتاتا ہے،  مرکز کی نسبت آپ کو استحکام دیتا ہے۔ بیرونی توانائیوں سے، دنیا سے بے نیاز رکھتا ہے۔ آپ گول گول گھومتے ہوئے رُل جاتے ہیں مگر برباد نہیں ہوتے۔ تب، جب آپ کا ہمزاد ساتھ دیتا ہے تو کوئی سوال باقی نہیں رہتا، کوئی تقاضا حائل نہیں ہوتا اور نامعلوم سے خوف جاتا رہتا ہے بلکہ نامعلوم ہی آپ کی منزل بن جاتی ہے۔ محبت جہاں آپ کو بہا لے جائے، وہی آپ کا پڑاؤ ٹھہرتا ہے، طمانیت یہ کہ آپ میں استحکام ایک ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔
ازراہ مذاق، یہ بھی ہمیشہ یاد رکھیے کہ کہ مرکز کے گرد گھومنے والے آپ (اگر پہچان رکھتے ہیں تو بمعہ آپ کے ہمزاد) واحد الیکٹرون نہیں ہیں، دوسرے مداروں، کسی اور تعدد پر رواں دواں دوسرے "الیکٹرون" بھی ہوتے ہیں جنھیں رقیب جانیے اور ان سے بھڑنے کی بجائے انھیں ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا طواف جاری رکھیں۔

(سوچ مجھے اڑائے لے جا رہی ہے۔ مجاز اور حقیقت پر بحث، پھر سہی)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر