بے سبب کا حال

بے سبب اداسی عجب ہے، ہمیں ہر وقت گھیرے رکھتی ہے اور اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے ہم اردو شاعری کا حد سے زیادہ مطالعہ کیے جا رہے ہیں۔  اردو شاعری میں جہاں تک نگاہ جاتی ہے سوائے دکھ، الم، اداسی  اور بے بسی کے کچھ نہیں دیکھتے۔ اور یہ ہمیں اپنے ساتھ ہی ساتھ ڈبوئے جا رہی ہے۔ اسی عرصہ میں ہم پر یہ راز بھی وا ہوا کہ ہم تلخ لوگوں کی محفل میں زیادہ بہترمحسوس کرتے ہیں، کسی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ شاید اس کی وجہ وہ تلخی اور نکہت غم ہے جس کا تذکرہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں ۔ہمیں وہ تمام لوگ اپنی سی ہی مشکل میں گرفتار نظر آتے ہیں تو کچھ دل کو تسلی سی ہوتی ہے۔ خوش باش لوگوں میں کچھ اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں، ایسے لوگوں میں جا کر بیٹھنا ہو تو وہاں بٹتی مہر و محبت، اور خوشی کا ساماں کچھ ہضم نہیں ہوتا۔ سچ کہوں تو وہ سماں کچھ بناوٹی سا محسوس ہوتا ہے۔ 
ہم گھنٹوں بے تکان بولے جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ خود کو سن ہی نہیں پاتے یا کہیے سننا ہی نہیں چاہتے۔ لوگوں کو ہنسا ہنسا کر ان کے بل ڈال سکتے ہیں اور موضوعات کی قطار در قطار پر ہم تبصرے اور بحث و مباحثے سے عمل گرم رکھ سکتے ہیں مگر سوچتے ہیں کہ ایسا کیوں کرتے ہی چلے جاتے ہیں ۔خود کو کوسنا بھی ہمہ وقت جاری رہتا ہے کہ میاں اب تو عرصہ ہوا اپنے آپ کو تم نہیں سن رہے، کسی دوسرے کو سن کر سناتے نہیں اور بس،  یا عجب قدرت کیسا مشغلہ یہ ہے جو تم پالے جا رہے ہو؟ یہ عجب معمہ ہے لوگو، یہ عجب کہانی ہے۔
ہم سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ یہ جو عذاب مسلسل ہمارے اندر برپا ہے، وہ کیا ہے؟  اور اس پر طرح یہ ہے کہ ہم اسے طول  بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس سے بچاؤ کو ہاتھ پاؤں مارتے ہیں تو سہارے بھی ایسے تلاش لیتے ہیں جو ہمیں مزید گہری پاتال میں دھکیلتے چلے جاتے ہیں۔ اردو شاعری کی ہی مثال لیجیے۔  کلاسیکی شاعری کو پڑھتے چلے جاتے ہیں تو ایک سے بڑھ کر دوسرے  قلبی الم کا تذکرہ ہے۔ فنون لطیفہ کہتے ہیں کہ انسانی طبیعت پر چھائی اس طرح کی کیفیت کو بہت لطیف انداز میں ہوا کرتی ہے۔ تو ہم جب اردو  شاعری کو یہی سوچ کر سہارا بناتے ہیں تو وہاں ہمیں رنج و الم کی داستانوں کے سوا کچھ نہیں دکھتا۔ موسیقی کو اٹھائیں تو گو لمحہ بھر کو وہ ہمیں ٹھہراؤ پر ضرور  مجبور کر دیتی ہے پر وہ کچھ اتنا خاص فائدہ نہیں۔ دو روز قبل دوڑے دوڑے ایک مقامی گیلری میں جا پہنچے اور وہاں بھی کچھ ایسا ہی سماں پایا۔ پرانے وقتوں کے جیسے، سکیچ بک پر گھنٹوں لکیریں کھینچتے رہے، پر افاقہ ہے کہ ہو کے نہیں رہا؟ اب مثالیں کیا دوں، میرے احباب جو مجھ پر اس سوشل میڈیا میں نظر رکھے ہوئے ہیں، (بالخصوص ٹوئٹر) وہ میرے گواہ ہوں گے کہ عرصہ دس دن سے ہم اردو شاعری اور موسیقی کو نہ جانے کیوں وہاں تھونپتے چلے آ رہے ہیں؟  اور احباب ہیں کہ واہ واہ کیے چلے جاتے ہیں کہ نہایت  سماں سے کیفیات بیان ہو جاتی ہیں۔  دو ایک یار تو ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ گھنٹوں ہم بحث میں سر کھپائے چلے جاتے ہیں اور اللہ بھلا کرے ان مہربانوں کا کہ ہماری عجب داستانیں سنتے بھی ہیں اور اف تک نہیں کرتے۔ 
صاحبو!  ہم جو سہارے ڈھونڈتے ہیں، وہ  ہمیں اور گہرا پاتال میں گرائے جا رہے ہیں۔  اور وہ جو ہمارے قصہ بے سروپا کو توجہ سے سنتے چلے آ رہے ہیں، ان کی بابت ہمیں یہ قلق رہتا ہے کہ انھیں اپنے ساتھ خواہ مخواہ گھسیٹ رہے ہیں، اپنے عذاب میں انھیں خواہ مخواہ مبتلا کر رکھا ہے۔ تلخ لوگوں کی محفل ہمیں بھاتی ہے۔ وہاں، ہمیں اپنے سے ہی لوگ ملتے ہیں تو کچھ تسلی ہوتی ہے ۔ ہم یہ جان پائے ہیں کہ یہ درست نہیں۔
یہ الم کی داستان ہے۔   قدرت نہایت بھیانکر کھیل کھیلتی ہے۔ ہم خوش باش پاتال میں گرے چلے جارہے ہیں مگر عجب معاملہ ہے۔ ہمیں ان محفلوں میں بھی جانے کا حکم ہو رہا ہے کہ جہاں ہمہ وقت خوشی کا سماں رہتا ہے۔ یار دوست ایک دوسرے سے چٹکلے کرتے ہیں، اور مہر و محبت بانٹتے پھرتے ہیں۔ وہ جگہیں، ہمارے لیے سوہان روح بن جاتی ہیں۔ وہاں ہمیں ہر وقت اجنبیت گھیرے رکھتی ہے، اور ہم ہمہ وقت وہاں اس کیفیت سے دوچار رہتے ہیں کہ گویا وہاں سب کچھ مصنوعی ہو۔ صاحبو، ایسا ہمیں دکھتا ہے، اب حواس پر کوئی کتنا بھروسا کرے؟
اور جب ایسا ہوتا ہے، تو یقین جانیے اپنے بے سبب کے الم سے یہ زیادہ تکلیف دہ معاملہ ہوجاتاہے۔ ہمیں نہ اپنی پرواہ رہتی ہے اور نہ اپنے احباب کی جو گھنٹوں ہم سے سرکھپاتے ہیں۔ نہ تلخ لوگوں کی صحبت میں مزہ برقرار رہتا ہے جو ہنستے تو ہیں مگر ان کی ہنسی کے عین پیچھے چھپی تلخی کو ہم صاف تاڑ کر آنکھ مار دیتے ہیں کہ دیکھو ہم جانتے ہیں   پر اظہار نہیں کر رہے۔ 
خدا جانے کیا معاملہ ہے؟  نہ جانے یہ کس طور کا روگ ہے؟ اور اب تو ایسا کچھ ہو گیا ہے کہ ہم زیادہ تر بے ثبات سے تو رہتے ہیں، ہمیں پرواہ ایسی کچھ خاص بھی نہیں رہی مگر۔۔۔ وہ ہوک جو ہر وقت اٹھتی ہے اس کا کیا کریں؟ سینہ سے دل نوچ کر چاہتے ہیں کہ پھینک دیں۔
ایک وقت تھا کہ ہم ایسی حالت میں دوڑے جاتے تھے اور قیام اور سجدے کیا کرتے تھے۔ اس کا نام جپتے تھے تو آرام اور سکون ہمیں گھیر لیتا تھا، پر اب وہاں جاتے ہیں تو ایک خلا سا خلا  پاتے ہیں۔ کچھ دکھائی بھی تو نہیں دیتا۔ اور ایسے معاملات پے در پے برپا ہوئے جاتے ہیں کہ ہم حیران ہیں کہ اب تک کیسے ایسے جیتے چلے جا رہے ہیں؟
صاحبو،  یہ قصہ بہت طویل ہے،  ہمارے اندر کے حالات بہت تنوع رکھتے ہیں۔ اب کے عرض صرف یوں کر رہے ہیں کہ ہمارے خیر خواہ ، ہماری قدر کرنے والے ہمیں معافی عطا کریں۔ وہ جو ہمہ وقت ہماری  جانب سے برپا سوشل میڈیا پر شاعری اور موسیقی کی صورت خواہ مخواہ کی شورش کا سامنا کیے جا رہے ہیں۔ وہ جن  کی خوشی کی محفلوں میں  انھیں ہم ، بناوٹی مسکراہٹوں سے ٹھگتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ جو گھنٹوں ہم سے ہمارا خواہ مخواہ کا قصہ سنتے ہیں، اور بالخصوص وہ جن سے ہم جنجھلاہٹ میں الجھ پڑتے ہیں۔  ہمیں سب سے  خیر کی توقع ہے، معافی درکار ہے۔
ہم انتباہ کیے دیتے   ہیں کہ ہم کھیل، کھیلتے چلے جا رہے ہیں، آپ خود ہی ہم سے بچنے کا سامان کر لیں۔ہم اپنے ساتھ آپ کو بھی گہری تاریکی میں گھسیٹ رہے ہیں۔  وہ مقامات جہاں ہمیں انسیت ہوتی ہے وہ خود غرضی ہے، اور وہاں جہاں ہم اجنبیت محسوس کرتے ہیں ،ہمارا ہی بغض ہے ۔ آپ احباب ، جن کی ہمیں حد درجہ پرواہ ہے دھوکے میں مبتلا رہیں تو بھی  سکون نہ آئے گا۔ بس ہم کہیں تو اتنا ہی کہے دیتے ہیں کہ ہمیں آپ سے معافی درکار ہے۔
اپنا حال سمیٹوں تو، اب کےعجب خلا سا  برپا ہے، جو نہ جانے کس قماش کا ہے؟ یہ نہ جانے کیسے پر ہو گا اور کیسے ہم اپنے سینے میں سکوں پا سکیں گے؟

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر