کنواں کود لوں؟

"بھادوں کی حبس بُری ہوتی ہے" بولی تو ناک مزید چڑھا لیا، "خواہ مخواہ کی چِپ چِپ اور پھر بندہ کہیں آنے جانے کا بھی نہیں رہتا"۔ 
"آنے جانے کا کیا ہے کبھی بھی، کہیں بھی جایا جاسکتا ہے" میں نے اسے رد کیا تو بھڑ گئی،
"بدھو نہ بن۔ بارشیں شروع ہوتی ہیں تو ہوتی ہی چلی جاتی ہیں۔ آنا جانا ختم۔ بس گھر میں گھس کر بیٹھ رہواور وہاں حبس چین نہیں لینے دیتی۔ پھر دیکھو، میں تم سے ملنے کو کیسے کیسے جتن نہیں کرتی۔ پورے ایک ہفتے بعد موقع ملا ہے۔ گھر سے نظر بچائی ، ماں کو الگ رام کیا اور پھر یہ راستہ۔ توبہ، کتنا کیچڑ ہو جاتا ہے۔ فصل، وہ بھی پک رہی ہے تو حبس علیحدہ۔ یہ بھادوں بہت برا ہوتا ہے، آنا جانا مشکل کر دیتا ہے۔" اپنی بات کا رد ہونا، اسے چڑا دیتا  اور ایسے میں جب وہ بولے تو بولتی ہی چلی جاتی ،
"تمھیں تو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ تم سے کون پوچھتا ہے، وہاں  موئے موٹرسائیکل پر سوار ہوئے اور فر سے یہاں آن بیٹھتے ہو۔ کوئی روک ٹوک نہیں، منہ اٹھا کر کہیں بھی گھس جاؤ، جیسے میرے جی میں گھس گئے۔ میں یا دوسرے تمھیں زیادہ سے زیادہ کیا کہیں گے، لوفر؟ تمھیں کیا پتہ، مجھ سے پوچھو یہ آنا جانا کتنامشکل ہے، مجھے کیا کیا مسئلے ہیں؟"
"اچھا میری ماں! معاف کر دے۔ بات نکلتی نہیں منہ سے کہ تم اچک لیتی ہو۔ ہر وقت  ہی خواہ مخواہ بھڑتی ہو"، میں جنجھلاہٹ میں بولا تو اس کو روک لگی۔ مگر پھر ایک  دم سے سیدھی ہو کر بیٹھی، تو اب کے تیور کچھ اور تھے،
"دیکھ گڈو، تو مجھے ایسے مت کہا کر،مجھے تکلیف ہوتی ہے۔  مولویانی کہتی ہے کہ اپنی ماں سے بھڑوں تو مجھے گناہ پڑے گا، ابا کے سامنے سرتک نہیں اٹھا سکتی اور بھائی تو ہر وقت میری جان کو آتے ہیں، ہمت ہی نہیں پڑتی۔ اب تو بھی مجھے ایسا کہے  گا تو بول میں کدھر جاؤں، تجھ سے بھی نہ بھڑوں تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟"  
وہ ایسی ہی تھی۔ شوخ ،  ہنستی بلا کا  اور ہر وقت ۔ جلد گندمی مگر جیسے سرخی کا پرت چڑھا ہو،  اور ڈیل ڈول سے کہو تو  مومن کافر کر دے۔ کچر کچر زبان چلتی اور بولتی تو بس نہ کرتی، مگر پھر جب چپ لگتی تھی تو مت پوچھو۔ سایہ آجاتا  اس پر، گندمی جلد کی سرخی دیکھتے ہی دیکھتے میلی زردی  میں  بدل جاتی اور آنکھیں اتنی گہری ہو جاتیں کہ ان میں جھانک کر دیکھنے کی تاب نہ ہوتی۔ ایسا وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہی کرتی تھی، الجھتے ہی اس کی ہر بار بات یہیں آن کر دم توڑتی کہ تجھ سے بھی نہ بھڑوں تو بتا۔۔۔کنواں کود لوں؟
نہ معلوم، یہ اس نے کہاں سے سیکھ لیا تھا، کنواں کودنا۔ تب نوک جھونک خوب ہوتی تھی، میں نے چھیڑا،
"کنواں ہی کیوں، کوئی زہر کھا مرو، کوئی پنکھا لٹک کر جیسے؟" تو تنک کر بولی،
"ہے ہے، میں کوئی کوہڑی تھوڑی ہوں کہ ایسی ذلیل موت مر جاؤں۔ کنواں کودوں گی یا دیکھ لیجیو، مری تو دریا میں تیرتی ملوں گی۔ دفع دور، زہر کھانا بھی کوئی موت ہوئی؟"
میں اسے کبھی جان نہیں پایا۔ جب وہ مرنے کی بات کرتی تو مجھے کجا فکر نہ ہوتی، مگر جب یہ کہتی کہ
"تجھ سے بھی نہ کہوں تو  بتا۔۔۔کنواں کودلوں؟ " تو جیسے میرے جھرجھری سی آ جاتی۔ میں ڈر جاتا ۔ یہ انتہائی غیر معمولی سی بات تھی، بالخصوص جس یقین سے وہ مجھ پر یہ حق جتاتی تب یہ بالکل بھی معمولی بات نہ رہتی تھی۔ 
اس کی ماں گھریلو سی تھی، انٹر پڑھی ہوئی مگر اپنے بچوں کی خوب تربیت کی۔ ایک ہی بیٹی تھی، جس کو اس نے دل کھول کر، لڑ بھڑ کر پڑھایا۔ روز صبح خود اس کو حجاب میں چھپا کر، تاکید سے پڑھنے کو رخصت کرتی تھی اور سارا دن اپنی عزت کی حفاظت کو مصلٰی پر پڑی رہتی۔ ابا ٹیکس افسر تھےاور ٹھیٹھ مذہبی۔ خوددار اور حلال کما کر کھانے والا ، جس کی علاقہ بھر میں ایمانداری پر لوگ منہ پر خوب عزت کرتے، پر  پیٹھ پڑتے ہی  بیوقوف جانتے۔دو بھائی تھے، خوب بابو سے ، ماشاء اللہ پڑھے پڑھائے مگر بہن سے زیادہ، انھیں اس کے پردے کی فکر کھائے جاتی تھی۔ دے دلا کر یہ تھا کہ اس کی ماں اس کی ہمراز تھی جو  بات توجہ سے سنتی، اس کو سمجھتی تھی۔ مگر پھر بھی جب وہ مجھ سے کہیں الجھ جاتی تو عجب  انداز میں انتہائی جتا کر کہتی کہ،
"تجھ سے بھی نہ  کہوں تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟" 
یہی نہیں، وہ نہ جانے کیسے یکدم ہی میرے قریب تر آ گئی تھی۔ ہمیں ملے بمشکل ابھی چار ماہ بھی پورے نہیں ہوئے ہوں گے کہ وہ مجھ سے ایسے گھل مل گئی ، جیسے برسوں سے جانتی ہو۔ پہلی بار میں نے اسے کمپنی باغ میں دیکھا  اور جب دوسری بار وہاں گیا تو وہ میرا راستہ دیکھ رہی تھی۔ ویسی ہی، چادر میں لپٹی ہوئی وہ دیر تک چپ چاپ میرے پاس بیٹھی رہی اور پھر خود ہی اٹھ کر چل دی۔ جیسے، خود کو حوالے کر گئ ہو۔ بغیر کہے سب کچھ طے کر کے اٹھ گئی اور میں وہیں مبہوت بیٹھا  رہ گیا۔ جیسے بن کچھ مانگے، بغیر کسی وجہ کے غیر مشروط وہ اپنا آپ میرے حوالے کر گئی ہو۔ میں رات دیر تک  وہیں باغ کے بینچ پر بیٹھا تاریکی میں خود کو ٹٹولتا رہا۔ نجانے کیا تھا کہ تب میں ڈر کے مارے تھر تھر کانپتا رہا تھا۔ بعد اس واردات وہ دنوں تک غائب رہی، پر جب  واپس آئی تو  چنچل سی، لڑنے بھڑنے والی اور کچر کچر زبان ، گندمی جلد پر سرخی کی پرت  والی۔ گھنٹوں اپنی باتیں کرتی رہی اور مجال ہے کہ مجھ سے میری بابت ایک بھی سوال کرے۔ جیسے وہ میرے بارے سب کچھ جانتی ہے۔ مجھے تہہ تک جانتی ہو۔ اسے میری بابت کچھ بھی پوچھنے کی حاجت نہیں ہوئی مگر بڑی توجہ سے ایک ایک تفصیل اپنی بیان کرتی چلی جاتی یہاں تک کہ میری دلچسپی ختم ہو جاتی۔
تیسری دفعہ جب وہ مجھے ملی تو آتے ہی متنبہ کیا۔
"دیکھ، میں تجھ پر واری چلی جاؤں گی۔۔۔پر مجھے جان لیجیو،  میں عام  لڑکی نہیں ہوں"۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا، "کیسی عام  لڑکی نہیں ہو؟" پہلی بار مجھے اس نے گڈو کہہ کر مخاطب کیا ،
"دیکھ گڈو، میں اپنی ماں کی عزت ہوں اور ابا کی شہرت۔ بھائی میرے پردے پر واری جاتے ہیں اور میں تیرے واری چلی جاؤں گی، میرا کچھ بھی نہیں پر تو ان کا ضرور ہی خیال  کریو"۔ میں انجان بن کر بیٹھ گیا۔ پچکار کر بولی،
"مجھے بڑا مان ہے تجھ پر، مگر تجھے بتانا ضروری ہے"۔
میں بھڑک اٹھا، اپنی تربیت کا پٹارہ جھٹ سے اس کے سامنے وا کیا  اور جب لمبی بحث ختم ہوئی تو وہ یہی کہے جاتی تھی، "تجھ سے بھی نہ کہوں گی تو بتا۔۔۔ کنواں کود لوں؟" تب سے یہ اس کا معمول ہو گیا۔
میں سمجھا، اس نے یہ بحث اسی واسطے کی تھی کہ عین موقع پر وہ مجھ پر یہ حق بھی واضع کر دے۔  اس تُرش بحث کے بعد، اہم ترین واقعہ یہ ہوا کہ اجنبیت بالکل ہوا ہو گئی۔ میں اس کے لیے گڈو ہو گیا  اور  اپنے تئیں سمجھا کہ اسے جاننے لگا ہوں،  اور میری بابت اس کے لیے بھی یہی خیال تھا  ورنہ اس کی بات کچھ اور تھی۔ وہ پہلے دن سے ہی جیسے میرے بارے پورا جان چکی تھی۔ بغیر بتائے اس کو میری ہر بات سے آگاہی تھی۔ واللہ علم، کیسے اس نے میری طبیعت تک سے آشنائی کر لی تھی۔
انھیں محبت ہو جائے تو ڈھل جاتی ہیں۔  خود کو ایسے وا کرتی ہیں کہ کُوچ کر اپنے اندر سے باقی سب کچھ نکال دیں۔ مجاور ہو جاتی ہیں، اپنا آپ تک بھلا دیتی ہیں۔ ایسے بھلا دیتی ہیں کہ آپ ان کی رُو رُو میں بس رہیں ،پر آپ کو یہ دور سے کہیں ، آپ پر اپنا آپ نچھاور کرتی صرف دکھائی دیتی ہیں۔  واحد رشتہ وہ رہتا ہے جو آپ سے استوار کر دیں، باقی سب سے اجنبیت تان کر آپ کی آشنا بن جاتی ہیں۔ آپ کو مرکز مان لیتی ہیں اور خود گھیر در گھیر چکر لگاتی ہیں۔ اسی وجہ سے میں اسے کبھی جان نہیں پایا، مجھے کبھی بھی وہ سمجھ نہیں آئی۔ ایک دن اسی بات کا شکوہ کیا تو بڑی  متانت سے جیسے کچھ عرض کرے، کہنے لگی،
"گڈو، تو صرف مجھے سنا کر۔ میرے الفاظ نہیں، میری آواز۔۔۔" اور میں دیر تک ہونق بنا اسے دیکھتا رہا۔ 
جب من مندر میں کوئی مجھے پوجتا ہو، تو اس نشے میں کہاں سمجھ رہتی ہے کہ مخاطب کو کیا کیا مسئلے درپیش ہیں؟ محبت کی دلپذیر ٹھنڈک جب چادر تان لے تو کون جانے کہ بھادوں کی حبس کیسی بری ہوتی ہے؟ اپنا آپ تک  وار دینے والاجب موجود ہو تو کس کو پرواہ ہے کہ فاصلے کیا معنی رکھتے ہیں؟  اس نے بہت بڑی غلطی کر دی،  مجھے اپنی  عادت بنا لیا اور میں لت کی طرح اس کی جان کوچمٹ گیا۔
جب اندازہ ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔  پہلی نشانی گندمی جلد پر سرخی کے میلی زردی میں ڈھلنے کی صورت ظاہر ہوئی اور تب وہ گہری آنکھوں میں ڈرا دینے جیسا پاتال لے کر پہلے پہل یقین مگر اواخر دور میں انتہائی بے بسی سے کہتی جاتی،
"میں کہاں جاؤں، تجھ سے بھی نہ کہوں تو بتا ۔۔۔ کنواں کود لوں؟"۔

(افسانہ)
(ستمبر، 2012ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر