کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور (بیاد عنیقہ ناز)۔

عنیقہ ناز کی ٹوئٹر پروفائل پر جائیں تو تعارف کچھ یوں ہے :'ایک پاکستانی عورت،  بلاگر اور دستاویزی فلمیں بنانے کی شوقین '۔
عورت، عجب کارخانہ قدرت ہے۔  گھر سے لے کر جامعہ اور پھر جہاں اب عرصہ سے میری فنی پرورش ہو رہی ہے، تمام ہی مقامات پر عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے اور مرد، صرف مرد ہی دکھتے ہیں۔ یہاں تھوڑا  معاملہ عجب سے زیادہ یوں معلوم پڑتا ہے کہ ہم عنیقہ ناز بابت بات  کر رہے ہیں۔ وہ خود کو پاکستانی عورت گردانتی ہیں مگر وہ پاکستانی عورتوں کی طرح  نظر نہیں آتیں۔ یوں کہ حقیقی زندگی میں تو وہ گھریلو پاکستانی عورتوں کے جیسے سمجھوتہ کرنے والی محسوس نہیں ہوتیں، نہ ہی وہ میری دفتر کی رفیق کار عورتوں کی طرح  ہیں   جو زبردستی اپنے کام سے کام رکھنے   پر مجبور ہیں اور وہ میری جامعہ کی ہم جماعت لڑکیوں سی بھی نہیں ہیں جو ضرورت سے زیادہ شوخ رہی ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کو پاکستانی عورتوں جیسا طریق نہیں ہے، مثال یوں کہ ان کی جانب سے اکثر ہم سنتے ہیں کہ وہ کھانے پکانے کے کونسے نئے طریق دریافت کر رہی ہیں یا باغبانی واسطے ان کا اگلے موسم میں کیا ارادہ ہے اور سب سے زیادہ ہر دوسرے دن ہم ان کی انتہائی پیاری صاحبزادی مشعل کی مصروفیات بابت نئی بات یوں سننے کو ملتی ہے کہ صاف دکھ رہا ہو کہ ایک ماں اپنی خوشی کو  ہم سے بانٹ رہی ہیں اور ان کو بحیثیت کامیاب ماں انتہائی فخر ہے اور جتنا میں انھیں جانتا ہوں انھیں ایک کامیاب عورت ہونے پر فخر ہے۔  بس یہیں مجھے عنیقہ ناز کا  عورتوں بابت ہر وقت کڑھنا  سمجھ میں آتا ہے کہ گر، وہ ایک ایسی بے باک پاکستانی عورت ہیں تو باقی کی پاکستانی عورتیں ایسی کیوں نہیں؟
سماجی میڈیا کے بے انتہا فوائد ہیں، مثلا عنیقہ ناز کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا  اورمیری کبھی ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر میں پھر بھی جانتا ہوں کہ وہ کراچی کی رہائشی، علم کیمیاء میں پی ایچ ڈی اور جامعہ کراچی میں تحقیق و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ مزید یہ کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی ایک صاحبزادی ہیں جس کی پرورش "ہماری آنکھوں کے سامنے" اسی سماجی میڈیا کے بدولت ہوئی۔ مزید یہ کہ ان کے سیاسی، مذہبی، معاشرتی نظریات سے میں واقف ہوں کہ اسی سماجی میڈیا پر ہر روز ان سے اس بابت مکالمہ ہوا ہے بلکہ کئی دوسرے لوگوں سے ان کے مباحثوں کا سامع رہا ہوں۔  چونکہ وہ درس و تدریس سے منسلک تھیں، تو میرے بلاگ پر اس کی چھاپ عیاں رہی۔۔۔ پہلا تبصرہ ہی  ایک لفظ بابت تصحیح   تھا اور آخری تبصرہ   ستائش، مگر اس میں بھی کان کھینچتی پائی گئیں۔ ان کا خود اتنے تواتر سے بلاگ لکھنا اور پھر موضوع پر سیر حاصل بحث  اور پھر دنوں تک اختلاف، نوک جھونک یہاں تک کہ کئی بار الفاظ کی جنگ کرتے دیکھنا عجب سا معلوم ہوا۔۔۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ کہتے پائے گئے کہ اس بی بی کو خدا واسطے کوئی اور کام دھندہ ہے یانہیں تو پوچھنے پر بولیں ،'میاں ہم ٹائم ٹیبل کے پابند ہیں۔اردو بلاگنگ شوق ہے تو اس کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ صرف اور صرف یہ شوق پورا کرتی ہیں'۔ طنز یہ اندار تحریر میں کمال حاصل تھا تو اس ہتھیار کو نظریاتی مخالفین پر بے رحم چلاتی  رہیں، نتیجہ کئی بار انتہائی تلخ برآمد ہوا مگر اپنی   روش ترک نہ کی۔ ایک بار، میں نے درخواست کی کہ آپ  جو بلاگ لکھتی ہیں، ماشاء اللہ ضرور لکھتی رہیں مگر اس کے جواب میں جو خواہ مخواہ بحث میں  توانائی ضائع کرتی ہیں تو اگر یہ وقت اردو وکیپیڈیا کو بخش دیں تو ہمیں کیمیاء  پر بالخصوص اور کئی دوسرے موضوعات پر بالعموم انتہائی قیمتی مواد دستیاب ہو سکے گا۔ جواب کچھ یوں تھا کہ ،'نہیں صاحب، ایک تو مجھے وہاں کی اردو میں اتنی ملکہ حاصل نہیں اور دوسرا میں یہاں ڈٹی رہنے میں خوش ہوں، اپنے نظریات کا دفاع کرنا مجھے زیادہ ضروری ہے'۔ ان کے خیال میں بنیاد پرست نظریات جن کی وہ مخالف تھیں، اس کی وجہ سے ان کا کافی نقصان ہوا۔  میری ان سے زیادہ تر بات چیت فیس بک پر ہوئی ،گو کئی بار اختلاف آن موجود رہا مگر ان سے کبھی تلخی نہیں ہوئی۔  اب اسے آپ کچھ کہیں، عنیقہ ناز اسے میری جھجھک اور بحث و مباحثے سے حتی الامکان گریز کی "دائمی مرض "گردانتی رہیں اور میں  جوابا اسے ان کی مجھے  غضبناک کرنے میں ناکامی۔      میری ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی  اور جیسے اس سماجی میڈیا کے توسط سے تعارف ہوا  اور ہم نے جیسے عرصہ چار سال تک  بے شمار موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔۔۔  اسی کی بدولت یہ خبر بھی موصول ہوئی کہ عنیقہ ناز اب اس دنیا میں نہیں رہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
صاحبو! یہ خبر نہایت عجب سی کیفیت سے بھرپور تھی۔ پہلے تو کچھ دیر کو سکتے میں مبتلا رہا   کہ جیسے خلا میں معلق ہوں اور پھرتھوڑی ہی دیر میں اسی سماجی میڈیا پر جیسے الفاظ میں بین کرتا کبھی یہاں اور کبھی وہاں بھاگتا پھرنے لگا۔ موبائل میں اسی دنیا کے جن لوگوں کے رابطہ نمبر تھے ان  سے یوں رابطہ کیا کہ کہاں گم ہو۔۔۔ آؤ دیکھو، ہم بلاگرز کیسے لٹ گئے، ہم بلاگرز کے خاندان میں ماتم بچھ گیا ہے۔ عنیقہ ناز کی ناجانے یہ جوان حادثاتی موت تھی، عرصہ دراز کا سماجی میڈیا کا انس پر مبنی تعلق جو مجھے روز چھ سے آٹھ گھنٹے یہاں لوگوں سے  باندھے رکھتا ہے،      ذاتی طور پر تعارف بھاویں نہ ہو۔۔۔ وہ علم اور خیالات جو ہم نے ایک دوسرے میں بانٹے رہے یا مشعل کے روزمرہ مزیدار معمولات کا دلپذیر احوال کہ میں  سہ پہر سے اب تک ماؤف بیٹھا  سوچ رہاہوں۔ عرصہ دو سال قبل ایک جوان موت جامعہ کے ایک عزیز دوست کی دیکھی تھی تو بین کر کے رویا تھا اور آج عنیقہ ناز کے لیے میں آبدیدہ ہوا۔    شام میں اور ایک یہیں کے عزیز دوست جب عنیقہ ناز کا دکھ بانٹ رہے تھے تو وہ پوچھنے لگے کہ،  "یہ سارے گلے شکوے، زندگی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں ورنہ دھویں کی طرح تحلیل ہوجاتے ہیں۔۔۔ کیوں؟" تو میں نے عرض کہ " یہ  موت کے سانحے کا نتیجہ کسی کے ساتھ  عمومی سی شناسائی اور گلے شکووں وغیرہ سے بہت زیادہ برتر ہوتا ہے۔۔۔ جب یہ سانحہ پیش آتا ہے تو صاحب، آپ کا تعلق عام  مادی سا نہیں رہتا۔ اس خاص روحانی تعلق میں ان گلوں شکوؤں کی جگہ اور نہ کوئی اہمیت باقی رہتی ہے"۔
عنیقہ ناز، ایک پاکستانی عورت اور بلاگر۔۔۔ بے باک اور بے لاگ عورت جواردو بلاگستان میں  یوں وارد ہوئیں کہ یہاں کا طریق بدل ڈالا اور اب ایسے  رخصت ہوئیں  کہ  دہلا دیا اور ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آئیے جیسے بھی رہا ہو،   اس خاتون کا اس وقت اور توجہ کے لیے شکریہ ادا کریں جو ہم میں سے ہر ایک کو وہ اپنے مقررہ انتہائی قیمتی وقت میں سے نکال کر عنایت کرتی رہی  ہیں۔    
آخر میں ان کے شوہر امر محبوب صاحب کی دو روز قبل کی  ٹویٹ  جو ایک جملے میں بہت کچھ بیان کر دیتی ہے۔
The tempest is over. The sorrow remains.

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر