لاشہ


روئے زمین پر پہلا انسانی قتل کسے یاد ہے؟  آدم کے بیٹے نے دوسرے کو قتل کر دیا۔ عابیل پہلا لاشہ جسے قابیل عرصے تک کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا اور اسےسوجھتی نہ تھی کہ اس کے ساتھ کیا کرے؟ قتل کرنا آسان تھا ، کر دیا۔ واللہ علم، کیا طریقہ رہا ہو؛ کوئی پتھر اٹھا کر سر پر دے مارا ہو گا یا شاید گھونپ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہو، یا کچھ اور۔  مگر یہ کام بہت آسان رہا ہو گا۔ آسان یوں کہ قابیل نے اس فعل بارے، اپنی تسکین کو ایک وجہ گھڑ لی جو اس کو غصہ میں قتل میں مجبور کر دیتی ہے اور  جس سے وہ مرتے دم تک اپنے دم دماغ کو خاموش رکھ سکتا تھا۔ بہرحال، قتل کو وجہ ملی اور طریقہ کوئی بھی استعمال کر کے یہ عمل آسانی سے وہ کر گزرا ہو گا۔  پھر اور باتیں ہیں، عابیل یقیناً آسان ہدف رہا ہو گا، قابیل کو حالات سازگار ملے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔
زندہ عابیل آسان تھا،  مگر عابیل کا لاشہ مشکل ثابت ہوا۔ عابیل کا دم نکلا تو قابیل کو خیال آیا ہو گا کہ یہ جو اس نے قتل کر دیا، انتقام پورا ہوا ہی مگر ایک عدد لاشہ بھی تو ہے جو ہر لمحے اس کا منہ چڑاتا رہے گا۔ زندہ عابیل سے وہ بات کر سکتا تھا، دھمکا کر مجبور کر سکتا تھا یا پھر بھائی ولی کا واسطہ ڈال کر راضی کر دیتا مگر اس لاشے سے وہ کیا بات کرے۔ اس کو   وجہ قتل اس کے دماغ کو تو تسلی دے سکتی تھی، عابیل کا لاشہ جو ہر دم اس کے سامنے پڑا رہتا تھا اس کی روح کو کچوکے لگاتا رہا ہو گا، پھر خدا جانتا ہے قابیل کے جی میں کیا گونجی ہو گی کہ نگری نگری ہر دم کہاوت ہے کہ لاشہ  کندھے پر اٹھائے پھرتا تھا۔ اس کو سمجھ نہ آتی کہ اس کے ساتھ وہ کیا کرے۔ صبح سے شام اور پھر صبح ہو جاتی۔۔۔ لاشہ اس کو ساتھ اٹھائے گھومنا پڑتا تھا۔
 اشرف المخلوقات، بے بس ہو گئی تو واقعہ ہے کہ ایک کوے نے قابیل کولاشہ  سپردخاک کرنے کی ترکیب سمجھائی۔  یہ کوے، خدا کی مخلوق تو تھےپر اشرف المخلوقات نہیں۔ یہ سوچ نہیں سکتے تھے، انھیں دماغ کی تسلی دستیاب نہیں تھی توچوری کی وجہ تلاشنے کا گُر نہیں تھا مگر کہیے تو انھیں چوری چھپانے کا حل ضرور معلوم تھا۔ وہ اپنی چوری دفن کر کے چھپایا کرتے تھے، سو کوے نے یہ طریقہ اشرف المخلوقات کو سمجھایا، قابیل نے عابیل کو سپردخاک کیا۔ نسخہ کیمیا گر ثابت ہوا، لاشہ منوں مٹی تلے دبتے ہی، آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی وقت کا  مرہم کام کر گیا۔ قابیل کو پھر کہیں جا کر تسلی ملی،  اس کےدماغ کو وجہ سے تسلی ملی  ہو گی اور روح کو قتل چھپا کر  کسی حد تک آرام آیا۔
اب کیا تھا ،چل سو چل۔انسان جو خدا نے چاہ سے تخلیق کیا تھا۔فرشتوں کی جبیں، انھیں لاجواب کر کے اس کے آگے جھکا دیں۔ فرشتوں کا امام جس کی وجہ سے شیطان بنا دیا۔ پھر، وہی انسان جنت سے بے دخل ہوا اور دنیا میں وارد ہوا تو معافی نامہ مانگ کر یہی بسر رہا تو یہاں وارد ہونے کی وجہ اور مقصد رفتہ رفتہ بھولنا شروع ہوا۔ بابا آدم نے جو معافی عرصہ لگا کر حاصل کی تھی، اس کا بھرم قائم رکھنا، اگلی نسلوں میں کچھ مدھم پڑھنے لگا۔ اب چونکہ وسائل سے بھری دنیا تھی، مقصد دماغ سے محو ہوا  اور انسان جب دوسرے انسان سے اکتا جاتا تو اسی ترکیب کو استعمال میں لاتا جو قابیل کے زیر استعمال رہی۔ قتل کرتا گیا، لاشے زمین میں دباتا گیا۔  کچھ بھی تھا، انسان اشرف المخلوقات تھا۔ایک  صرف کوے کا احسان کیونکر گوارا کرتا  اور دوسرا مہذب انسان اس طرح قتل کا ظلم برداشت کیونکر کرتا، سو قانون بنا ڈالے۔ ایک انسان اگر لاشے زمین میں دبا کر چھٹکارا پاتا تو دوسرے انسان کھود کر وہی لاشہ نکال باہر اس انسان کے منہ پر لے آتے۔ قاتل انسان کو اس طور خفت ہوئی تو لاشے بھگتانے کو اس نے دوسرے طریقے بھی ایجاد کر ڈالے۔ بہرحال، زمین میں دبا دینا، سب سے عام ، سستا ترین اور ہر ایک کے لیے دستیاب زریعہ تھا، کہ  زمین تو ہر شخص کے پاؤں تلے  ہر وقت ہی روندی جاتی ہوئی دستیاب تھی۔
زمین بھی عجب ہے۔ دونوں طرح کے انسانوں کے لیے ہے۔ اس کو پرواہ نہیں کہ اس کی پیٹھ پر قاتل قابیل پھرتا ہے یا  اس کے سینے میں عابیل کا لاشہ دبایا جاتا ہے۔ وہ ظالم اور مظلوم دونوں کے لیے یکساں ہے۔ شاید اسی لیے اسے حضرت انسان ماں کہتا ہے ۔ یہ قاتل قابیل کے گناہ پر پردہ بھی ڈالتی ہے تو لاشے عابیل کو سینے میں جگہ دے کر تسلی بھی دیتی ہے۔ یہ گر قابیل کے دماغ کی تسلی ہے تو عابیل کے لاشے کو خدا کی امانت سمجھ کر انصاف کے دن تک تسلی بھی بخشتی ہے۔ مگر زمین ہے، قاری صاحب کہتے ہیں کہ گر مظلوم کو وہ ظلم کے بعد سکون بخشتی ہے تو ظالم کو بھی وقت آنے پر بخشتی نہیں۔ قابیل ظالم ہو سکتا ہے، عابیل مظلوم ہو سکتا ہے مگر زمین، نہ ظالم ہے اور نہ ہی مظلوم، وہ تو محبت سے مجبور ہے جس کا اسے خدا نے پابند کر دیا۔ زمین خدا کی سنت پر عمل پیرا ہے؛ خدا بھی نہ ظالم ہے اور نہ مظلوم، وہ انصاف کرتا ہے صرف اور انصاف کے دن تک کے لیے زمین کو پردہ ڈالنے کا حکم ہے۔
صاحبو! قابیل نے یہ گر سیکھ لیا تھا۔ زمین میں لاشہ دباتے ہی اور کچھ ہو نہ ہو، مسئلہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ جہاں قاتل کو تسلی ہو جاتی ہے تووہیں مقتول کے وارثین کو بھی سکون سا آ جاتا ہے۔ میں نے بے تحاشے لوگ دیکھے ہیں جن کے پیارے پانی میں بہہ گئے، آگ میں جل گئے، لاپتہ ہوئے تو لاشے نہ ملے۔ ان سب لوگوں کا ایک ہی دکھ ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لاشے کو زمین میں نہ دبا سکے۔ یہ دکھ انھیں ہر دم کچوکے لگاتا ہے اور ان کو کسی پل سکون نہیں ملتا۔ مگر تب کیا ہو، جب لوگ اپنے پیاروں کے لاشے زمیں میں دبانے سے خود ہی انکار کر دیں؟ جب ماں اپنے بیٹے کا لاشہ سامنے رکھے، بیچ چوک میں انصاف کا مطالبہ کر دے؟اسے یہ تو یقین ہے کہ زمین میں دبانے سے قدرت کا تقاضا پورا ہو جائے گا، اسے روز محشر وہ لاشہ جیتے جاگتے انسان کی طرح ملے گا اور خدا انصاف ضرور کرے گا، مگر اس کو یہ گوارا نہیں کہ قابیل اس کی آنکھوں کے سامنے آج گھومتا رہے اور گھات لگائے جیسے آج اس کا بیٹا لاشہ بنا گیا، کل کو اسے بھی لاشہ بنا ڈالے۔
صاحبو، یہ بات انصاف کی نہیں ہے۔ عزیزو، یہ مطالبہ قابیل  کو پھانسی پر ٹانگنے کا نہیں ہے۔ بھائیو، یہ گزارش تم سب کی آنکھوں کے سامنے ظلم کی داستان رکھ کر ہمدردیاں سمیٹنے کی بھی نہیں ہے۔ یہ بات جینے کی ہے، جینے دینے کے حق کی ہے۔ مطالبہ انصاف نہیں، مطالبہ جینے کا حق ہے۔ یہ حق عابیل کو بھی اتنا ہی ہے جتنا قابیل کو ہے۔ یہ حق سسک سسک کر جینے کا نہیں بلکہ پوری توانائی سے جینے کا ہے جو خدا نے انسان کو آدم کو معافی بخشتے ہی عطا کر دیا تھا۔
فرق صرف یہ ہے کہ قابیل یہ حق ہاتھ میں آلہ قتل اٹھائے  واقعہ بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے تو تو عابیل اپنے لاشے کو سربازار چوک میں رکھ کر واقعہ کے نتیجے کی بنیاد پر حاصل کرنے کا متمنی ہے۔  ہر دو صورت، باقی کے انسانوں پر سوال اس توازن کو برقرار رکھنے کا ہے جو خدا کا حکم ہے۔
صاحبو! روئے زمین پر پہلا قتل کسے یاد ہے؟ عابیل کا لاشہ گرا تو اسے قابیل نے زمین میں داب لیا۔ مگر کہتے ہیں کہ اس دن سے لے کر آج تک روئے زمین پر جتنے قتل ہوئے ان گناہوں کا برابر حصہ قابیل کے کھاتے میں جاتا ہے، کہ قابیل قتل اور قتل کے ظلم کو چھپانے کا موجد ہے۔ یاد رکھیے، یہ قانون آج بھی لاگو ہے۔ آج کی تاریخ میں قتل اہم نہیں رہا، مگر جینے کا حق مانگنا اہم ترین مدعا ہے۔ آج اگر اس حق سے انکار ہوتا ہے، تو ہم ایک اور طرح کے ظلم کے موجد ہیں۔ رہتی دنیا تک جہاں جہاں اس حق سے انکار ہو گا، برابر حصہ ہمارے کھاتے میں جائے گا۔ جہاں جہاں ظلم ہو گا، ہم میں اور قابیل میں کچھ فرق نہ ہو گا۔ میرا، آپ کا اور ہر انسان کا لاشہ بالاخر زمین میں دب ہی جائے گا۔ مگر یاد رکھیے، حق  جو ہم نے فراہم نہ کیا اس کا لاشہ ہمیشہ منہ چڑاتا رہے گا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر