کنہار کا کنارہ

اوپر کے پہاڑوں سے بہتا ہے اور انھی پہاڑوں میں اپنے سے بڑے دریا میں جا گرتا ہے۔ بہت شور مچاتا ہے تو اس کے قریب ہوں یا دور، نظرانداز نہیں کر سکتے۔  اسے سننا بہت مشکل کام ہے، اور پھر اسی کی رفتار سے اس کے ساتھ چلتے جانا اور بھی دشوار۔ اس کی دوستی اچھی اور نہ ہی دشمنی۔ ایسا کہیے، زیادہ  قریب ہوئے تو بہے نہیں، دور گئے تو جیے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کنہار کسی کام کا نہیں، شور مچاتے ہوئے بس بہتا چلا جاتا ہے۔ اکھڑ سا  ہے۔ اپنے قریب کسی کو پھٹکنے تک نہیں دیتا، کھیت اس سے سیراب نہیں ہو سکتے اور ہنگام دیکھو تو گویا ساری دھرتی سر پر دھرے پھرتا ہو۔ بہتا اس ٹھاٹھ سے ہے جیسے اس سا دوسرا کوئی نہ ہوگا۔ غارت ہو کہ دریا ہونے کا قرینہ اسے  ہے ہی نہیں، بپھر جائے تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا مگر  پھر بھی لوگ ہیں کہ اس کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔
 اب میں صرف برائی کیوں کروں، نظارے میں کچھ بھلا سا ہے تو لوگ تبھی اس کی جانب متوجہ رہتے ہیں۔ سویر ہوئی نہیں اور کئی من چلے اس کے کنارے ساتھ  چشم سیوا کرتے ہیں۔ تنہائی پسندوں کی یہ شام میں پسندیدہ جا ہے تو جلوت کے مارے، شور کے دیوانے سارا دن اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ جو یہاں کے مقامی نہیں تو وہ سال میں جیسے تیسے ہو سکے ایک بار پروانوں کی صورت اس کی زیارت کو پہنچتے بالضرور ہیں۔ ان دنوں میں دیکھو تو ٹولیوں کی ٹولیاں کنہار کنارے  کو آباد رکھتی ہیں۔ رونق بھلی معلوم ہوتی ہے اور یہ بل کھاتا ہوا، شور مچاتا اپنی ہی دھن میں دھنا جیسے جیسے یہ بہتا جاتا ہے لوگ اس کی چال سے مبہوت ہوئے بس اس کے کنارے بیٹھے اس کو تاڑتے رہتے ہیں۔ ہمارا کنہار بانکا سا ہےتو کوئی بھی اس موئے کو نظرانداز نہیں کر پاتا۔
بچپن میں کبھی اس کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وجہ گنوائی جاتی تھی کہ یہ قاتل کسی کو نہیں بخشتا اور بچوں کو تو بالکل بھی نہیں جانے دے ہے، ان کو گھیر لیتا ہے۔ جیسے اور، ویسے میں باغی۔ اس کے قریب جانے سے چُوکا نہیں۔ تپتی دوپہروں میں گھر سے نظر بچا کر نکلتا اور اس کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ شام تک اس کے آس پاس کبھی یہاں اور تبھی وہاں، اب کے یہ پتھر پھلانگتے اور پھر پھیلی ریت میں لوٹتا اس کو شور مچاتے سنتا رہتا اور جب تھک ہار کر گھر لوٹتا،  تو اس نافرمانی پر سزا کا حقدار ٹھہرتا۔ کنہار کے لیے خوشی خوشی لاٹھیاں کھاتا اور اگلی دوپہر  پھر کنہار واسطے مچل کر دیوانہ وار کنارے پہنچ جاتا۔ خود کے قابل ہوا تو لاٹھیاں برسنا تو ترک ہوئیں مگر کنہار کا جیسے متنبہ کیا تھا، اس نے بخشا نہیں۔ میرا من شفاف لہکتی ہوئی بانکی لہروں میں اٹک کر رہ گیا۔
اس کا قصور نہیں، کنہار کنارے بیٹھ کر میں نے اس کی سفید جھاگ سے اٹھکیلیاں کی ہیں، ریت پر دراز ہو کر سگریٹ کے کش پر کش اڑائے ہیں اور اس کے دھلے پتھروں کی اوٹ میں اس سے راز و نیاز کیا ہے۔ کنہار یاروں کا یار، دل کا دلدار اور میرے رازوں میں رازداں ہے ۔ یہ بےکار، بھلے کسی کام کا نہ ہو۔۔۔ میرا شریک بن گیا۔
ارے صرف یہی نہیں، میں نے محبت بھی تو کنہار سے ہی سیکھی تھی۔ محبوب کون ہوتا ہے، کنہار کو دیکھ کر یاد آیا تھا۔
قصہ کچھ یوں ہے اک روز میں نے کنہار کنارے ریتلے بیلے میں دراز کیکر کی چھاوں تلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مخمور، زاتی سا سوال کیا،
"میاں، یہ جو تم بانکے بنے پھرتے ہو اور فائدہ کسی کو دو ٹکے کا نہیں پہنچاتے۔ لوگوں کو دیکھو کہ پھر بھی تیرے واری چلے جاتے ہیں۔۔۔ تو تیری بے نیازی اور یہ رویہ کچھ غیر سا نہیں؟"
کنہار جیسے شانے اچکاتا ہو، ٹھنڈی ٹھار لہر، بیچ کے ڈھلکے پتھر کے اوپر سے مجھ  پر اڑائی اور فقط اتنا کہا،
"میں لوگوں بارے کیا جانوں، میں تو اپنے من کا موجی ہوں"۔
"تو ان کا محبوب ہے؟"، میں نے ریت پر سیدھے بیٹھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو وہ جھینپ گیا۔
خدا جانے اس معمولی بات پر اس کے من میں کیا سمائی؟ پورے تین دن تک بچوں کی طرح بے وجہ شور مچاتا رہا۔ اللہ غارت کرے، کانوں میں پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ اور پھر اسی حالت میں چوتھے روز وادی میں وہ طوفان برپا کیا کہ سبھی عاجز آ گئے۔ کنہار بپھر گیا۔ آبادیوں کو لتاڑتا، زمین کی مٹی کاٹتا گیا، درخت بہاتے  پورے دو دن اور تین راتیں اس نے  سب کو ہراساں کیے رکھا۔ میں بے یقینی سے بس اس کے یہ رنگ دیکھتا رہا اور اس کی اجنبیت کا کچھ بھی نہ کر سکا۔
اور جب سب شانت ہوا تو میں بجھا بجھا جا کر اس کے پہلو میں جا بیٹھا۔ کنہار نے اپنے کنارے پراتھل پتھل کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ کی پناہ، ایسی بے ترتیبی تھی کہ مجھے کنارے کا سارا نقشہ تک بھول گیا۔ من غصے میں بُھن گیا۔ اندازہ کرو، ساری عمر جس کنارے کے ایک ایک پتھر، ریت کی تہوں اور بیلے کے بوٹے بوٹے تک واقف تھا، دو دن میں سب غارت ہو گیا۔
خوب لعن طعن کر چکا تو یہ نہایت متانت سے میرے پیر گدگدا کربولا،
"تو نے ایسا کیوں کیا؟"
اب یہ اس کی ادا تھی، خود اس کی محبت میں چور یا لہجے میں عاجزی، میرا دل پسیج گیا۔ سارا کرودھ ہوا ہو گیا اور من میں غصے کی جگہ بس ٹھنڈک بھر گئی۔ میں نے بے اختیار اس کی گیلی ریت سے لپٹا مار لیا۔ کنہار کی  ہر دلعزیز ٹھنڈک میری ریڑھ کی ہڈی میں  سرایت ہوئی تو میری گرمائش اس کے وجود کو پگھلا گئی۔ کنہار، دھاڑیں مار کر رویا  اور جب  من پنکھ کے جیسے ہلکا ہو چکا تو آہستگی سے ریت کی تہہ کے نیچے سے ٹھنڈی لہروں سے میری پیٹھ تھپتھائی اور تفصیل سے پوچھنے لگا،
"تو نے ایسا کیوں کیا، محبت کو میرے منہ پر کیوں لا کھڑا کیا؟" میں اس کی بات نہیں سمجھا تو ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے لگا، "میں خوفزدہ ہو گیا تھا، سارا بانک پن ہوا ہو گیا۔۔۔ اس روز پوری رات بہتا رھا اور مجھے خبر تک نہ ہوئی کہ کب میرے اندر تلاطم برپا ہوا۔ خدا جانتا ہے کہ کیا ہوا اور صبح تک محبوب ہونے کا احساس میرے اندر اس قدر خوف بھر گیا کہ میں بے اختیار اپنے کنارے سے پھوٹ پڑا۔ تو بھی تو دیکھ، کتنا شور مچایا، تجھے پکارتا رہا مگر تو بھی تو لوٹ کر نہیں آیا اور میں نے ناحق لوگوں کو پریشان کر دیا، تو نے ایسا کیوں کیا؟"
میں لاجواب سا ہو کر چُپ چاپ اس کے پہلو سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے جسم پر لگی بھیگی ریت تک نہیں جھاڑی۔ یوں ہی واپس لوٹ آیا۔ سارے رستے تیز ہوا کنہار کی ریت کے زروں کو سکھا سکھا کر گراتی رہی۔ اور جیسے ہی کوئی ریت کا زرہ سُوکھ کر میرے وجود سے نیچے گرتا ساتھ ہی میرا اندر بھی زرہ زرہ ہو کر بکھرتا چلا گیا۔ میں پورے دو ہفتے سامنا نہیں کر پایا۔ دور کہیں اس کا بس دھیما سا شور سنائی دیتا تھا اور بعض اوقات میں خود ایسا ماؤف ہو جاتا کہ خود کو نہ سن پاتا تو کجا اس کی آواز؟
پھر ایک روز ہمت مجتمع کی۔ گم سم، جاتے ہی اس کے یخ پہلو میں دھڑام سے گر گیا اور میرا پورا وجود اس کے لمس کی ٹھنڈک سے جمتا چلا گیا۔ یہ اس کا لمس تھا جس نے میری کنہار سے محبت پر مہر ثبت کر دی۔ میں کنہار سے دور نہیں رہ سکتا تھا، اور کنہار تھا کہ اس بات سے بپھر جاتا تھا کہ وہ میرا محبوب ہے۔ ہم دونوں میں ہی محبت کو قبول کرنے کی ہمت نہ تھی اور محبت کو دیکھو تو وہ سامنے کھڑی ہمارا منہ چڑاتی تھی۔
تھک ہار کر نڈھال ہوئے تو کنہار ہی کہنے لگا،
"محبت ظالم ہوتی ہے، کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ ایک دوجے سے فرار کی سعی  ہمیں برباد کر دے گی۔ تو خود کے اندر ہی اندر غرق ہو جائے گا اور میں ایسے ہی اپنے کناروں سے بپھر کر پھوٹتا رہا ہوں گا۔  ہمیں محبت کو قبول کرنا ہو گا۔ اس کو خود میں جگہ دینی ہو گی اور اس کے ناز اٹھانے ہوں گے، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں"۔
میں بلند قہقہہ ہنسا تو وہ تھوڑا پریشان ہو گیا۔
"ہنس کیوں رہا ہے بے؟" نہایت بھنا کر بولا تو میں نے اپنا سر ریت سے اٹھا کر نیچے کہنی سمو کر اس کی اٹھتی لہروں سے آنکھیں ملا کربتایا،
"میاں، میری تو خیر ہے۔ تجھ سے محبت ہے اور میں بندہ بشر سا ہوں۔ میرا خمیر ہی ایسا ہے تو مجھے محبت قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔ گھٹنے ٹیکنے میں شاید کچھ پس و پیش کروں مگر بالاخر قبول کر لوں گا، پگھل ہی جاوَں گا۔ اس اڑی کرنے والی محبت کے دامن میں گرتا چلا جاؤں گا۔ مسئلہ تمھارا  ہے، ایک تو تم اکھڑ ہو اور پھر محبوب ہو گئے۔ تمھاری شان نرالی اور تم خاطر میں کسی کو نہیں لاتے۔ مجھے، تم پر ہنسی آتی ہے، تمھارا کیا بنے گا؟" اس پر کنہار کا رنگ فق ہو گیا۔ سٹپٹا گیا اور پھر تھوڑی دیر میں سنبھلا تو یوں بول کر ہارا کہ،
"دیکھو، مجھے قبول کرنے دو۔ مجھے گھٹنے ٹیکنے دو۔ کہاں کا محبوب۔۔۔ میں تو خود تیری محبت میں چُور چُور ہوں۔ تجھ میں اور مجھ میں کچھ بھی تو فرق نہیں رھا۔ میں اکھڑ جل ہوں تو کیا ہوا اور تم زرخیز خاک سہی تو پھر بھی کیا؟  ہم محبت کے خمیر میں گندھ کر ایک ہو جائیں تو ایک ہی ہیں۔ بانکپن، میری خصلت ہے اور بقایا رہے گی۔ میں تجھ پر واری جاؤں گا مگر دنیا واسطے وہی نکٹھو مگر سحر انگیز رہوں گا۔ اس محبت کے واسطے، تیری بات جدا ہے۔ تیرے لیے اپنی خصلت سے ہٹ جانا بھی مجھے درست لگے ہے۔" اس پر میں چونک رہا تو یہ مجھے ٹوک کر پھر بولا،
"مجھے محبت قبول ہے، مجھے تو قبول ہے ۔ اور مجھے اپنا آپ قبول ہے۔ اب  مجھے اس سے خوف نہیں آتا۔ میں بے بس ہو گیا ہوں، بھاگ جانا کوئی حل نہیں، اس سے مزید خرابی ہو جاوے ہے۔ تو مجھے، اپنے رنگ میں رنگ گیا۔۔۔ میں تو میری جان اب اپنے اندر ہر دم تیری محبت کا سوندھ پن سموئے بہتا ہوں۔ میں ایسا ہی ہوں ورنہ تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ مجھ سے نکمے پر واری کیوں چلے جاتے ہیں؟" مجھے لاجواب ہوتا دیکھ کر بھی وہ چُپ نہ ہوا۔ مزید کہنے لگا،
"میرے عزیز، ہر بار قبول کرنا مشکل رہتا ہے مگر گھٹنے میں تب ہی ٹیک جاتا ہوں جب کوئی میرے سامنے محبت لا کھڑی کرتا ہے۔ اب تک تو بس کہو تو، تیرے لیے خود کو۔۔۔ ہر شے، درست یا غلط سے بالاتر ہو کر تیار کیے جاتا تھا۔ مجھے قبول ہے، مجھے تجھ سے محبت ہے!۔"
اتنا کہا اور اس نے مجھے گیلی ریت سے اٹھا کر اپنی یخ لہروں کے حصار میں بھینچ لیا۔ میرے جسم سے پھوٹتی حرارت اور اس کی لہروں کی میں دبی ہوئی محبت کی تھپکیاں ہم دونوں کو ہی دھیرے دھیرے شانت کرتی چلی گئی۔ میرا خاکی وجود کنہار کی شفاف آبی لہروں میں جیسے گُندھتا چلا گیا۔
میرے واسطے اب بھی کنہار یکتا ہے اور وہ محبوب سا ہے۔ اب بھی کبھی کبھار بپھر جائے تو میں جان جاتا ہوں کہ ضرور پھر کسی نے محبت کو اس کے منہ پر لا کھڑا کیا ہے۔

-افسانہ-
(فروری، 2013ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر