ریل تال

"میں نے ریل پر سفر نہیں کیا پر اسے ٹھک ٹھک کرتے جاتے دیکھا ہے۔" صفوت مجھے بتا رہا تھا کہ، "پھاٹک یا پھر سڑک کے پاس سے پٹڑی پر گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ملتان سے مظفرگڑھ کی جانب نکلو تو شیرشاہ بائی پاس پر ریل کی پٹڑی اور سڑک کئی میل تک ساتھ چلتے ہیں۔ ریل گزر تے ہوئے کئی بار اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دی کہ اس کے ساتھ دوڑ سکوں۔ لمحہ بھر کو ایسا ہوتا ہے کہ ریل اور گاڑی ایک ہی رفتار سے چلتے ہیں اور پھر ریل کی پٹڑی مڑتی جاتی ہے۔ آپ ایک جانب اور ریل دوسری طرف بڑھ جاتی ہے۔"  میں اکتایا سا اس کو سن  رہا تھا، "ریل بڑی عجیب چیز ہوتی ہے، پھس پھس کرتا انجن بوگیوں کے لوہے کو نیچے بچھے لوہے پر رڑھتا جاتا ہے۔ تمھیں پتہ لنڈی کوتل یا  پھر وھاں بلوچستان میں کوئی جگہ،وہاں ریل کے آگے پیچھے دو انجن نصب ہوتے ہیں۔ اگلا انجن کھینچتا ہے اور پچھلا دھکیلتا جاتا ہے، تو ہی ریل پہاڑوں پر اوپر ہی اوپر چل سکتی ہے،ورنہ تو انجن آگے نکل جائے اور ریل کی بوگیاں پیچھے لڑھکتی رہیں۔ مقصد پورا ہی نہ ہو  اور نقصان۔۔۔۔"
" اوئے۔۔۔ بھوتنی کے!" میں بالکل اکتا گیا تو ہتھے سے اکھڑا،"تو ریل پر کبھی سوار  نہیں ہوا  اور  تفصیل  ایسے  بتا رہا ہے جیسے پہلی ریل تیرے باوا نے ہی روانہ کی تھی۔ بند کر یہ چُر چُر، مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔"
اسے ٹوک کر چائے کی پیالی میں نے واپس  منہ سے لگائی تو دور کہیں ریل کی چھک چھک سنائی دے رہی تھی۔ کمرے میں بیٹھ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریل اسے نظرنہیں آئے گی پر پھر بھی وہ اچک کر کھڑکی سے لگ کر کھڑا ہوگیا اور میں نے اسے منہ بھر کر گالی دی تو جھینپ کر واپس میرے پاس آن بیٹھا۔ دیر تک ہم اکٹھے رہے، وہ مجذوب سا چُپ بیٹھا اور میرا وجود اس کے لیے غلیظ گالی بنا اس کا منہ چڑاتا رہا۔
صفوت میرا ہم عمر ہی ہو گا۔ بانکا سا، جوان آدمی۔ ہم ایک سے تھے، ایک جیسے خیال رکھنے والے مگر اس میں بڑی خرابی تھی۔ کسی بھی شے پیچھے لگتا تو جیسے خود  اور وقت کو برباد کر نے کی حد تک  پیچھے ہو لیتا۔  اس کو پرواہ ہی نہ ہوتی کہ دنیا  اور بھی معاملات، اشیاء سے بھری پڑی ہے۔ اس کے دماغ میں کچھ سما جاتا تو جیسے اسی کا  ہو کر رہ جاتا۔  جیسے آجکل اٹھتے بیٹھتے اس کے سر ریل گاڑیوں کا سودا سمایا ہوا تھا۔ صبح سے شام تک وہ بس ریل کی باتیں کرتا رہتا اور ہر بار  گھنٹہ دو گھنٹہ بعد مجھ سے غلیظ گالیاں سنتا تو کہیں جا کر اس کو چُپ لگتی۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ جی دار بندہ تھا تبھی ہم  اکٹھے تھے۔ کام ایک ہی دفتر میں تو اس لحاظ سے تقریباً دن کے چوبیسوں گھنٹے ساتھ بیتتے اور جلد ہی ہمارا ایک دوسرے سے طرز تخاطب آپ سے تو، تڑاک تک پہنچ گیا۔ ہم کوئی عرصہ تین سال سے ساتھ رہ رہے  تھےاور میں نے ہمیشہ ایسا ہی دیکھا۔ بیٹھے بٹھائے اس کے دماغ میں کچھ سماتا اور پھر دنوں،ہفتوں اور بسا اوقات  مہینوں وہ اسی  کا ہو رہتا۔
ایک دن جب وہ ریل کی پٹؑڑی کے بیچ لگی لکڑی پر خدا جانے کتنی دور کی کوڑی ڈھو ڈھو مجھ پر انڈیل رہا تھا تو میں نے اس کو ٹوکا دیا،"ابے او ،شکر کر تو کسی ناری حسینہ کے پیچھے کبھی خوار نہیں ہوا۔۔۔ یہی  دیکھ ابھی، تیری ریل کی ماں کی آنکھ  بارے ہم ہفتوں سے سن رہے ہیں۔ تب تو یہ ساری زندگی کا رولا ہو جاتا۔ اللہ معاف کرے، تجھے کون برداشت کرتا؟"
صفوت نے آنکھ میچ کر کہا،"بچے، تو مجھے کیا جانے میں تو تہہ تک سے  نکال لاتا جس کے پیچھے لگ جاتا۔ اور دیکھ لیجیو ،تیری بھابھی بھی ایسے ہی ڈھونڈ ڈھانڈ کر لاؤں گا۔پھر پھرتے رہیو، اپنے اس چہرے پر اوربھی نحوست اٹھائے، تیری۔۔۔" تڑکہ لگا نے کو اس نے  ساتھ چُن کر گالی بھی دے ڈالی۔ میں کمینگی سے ھنسی ھنس رہا۔
اس کا کہنا تھا کہ اس کا کبھی ریل سے واسطہ نہیں پڑا مگر اسے ریلوں سے بولو تو عشق ہو گیا ہے۔ اب بھلے ریل سے کسی کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ مجھے معلوم تھا کہ میں اس سے پوچھوں گا تو وہ گھنٹوں ریلوں بارے بے مصرف معلومات مجھ پر اچھالتا رہے گا اور مجال ہے کہ مجھے میرے سوال کا وہ سیدھا سادہ جواب  ایک آدھ فقرے میں دے ڈالے ۔ گھماتا پھراتا، ایک سے دوسری معلومات کو ساتھ جوڑتا۔۔۔ کہانی سی بنا کر آگے پیچھے پروتا ہوا سب کی سب باتیں بتاتا رہتا۔ اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہ ہوتی کہ سامنے بیٹھا شخص شاید اس بابت واقف ہو گا یا اسے اس معلومات سے چنداں دلچسپی نہ ہو۔ صرف یہی نہیں، مثال اب کے اگر ریل سے اس  کو پتہ نہیں کیا رغبت  ہوئی تھی تو وہ ریل کو ایسے دیکھتا، اس بارے ایسے توجہ سے بات کرتا کہ کچھ پہلو تشنہ نہ صرف اس سے رہ نہ جائے، بلکہ اس کا سامع بھی محروم نہیں جانا چاہیے۔
کڑوا گھونٹ تھا مگر ایک دن میں نے جی کڑا کر کے اس سے پوچھ ہی لیا، "تو ریلوں بارے اتنا کاہے کو جی جلاتا رہتا ہے۔ ریل ہے، مسافر ڈھوتی ہے۔ انجن بوگیاں کھینچتا ہے، لوہے کی لمبی سی بدشکل گاڑی ہےاور کسی کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے اس میں؟"
صفوت شاید سُر میں تھا تو گلا کھنکار کر بولا، "ہونہہ، تو کیا جانے ریل گاڑی کیسی پیاری چیز ہے۔ تجھے اپنی شکل جیسے ہر چیز میں نحوست ہی نظر آتی۔ یہ بھلے جیسی ہو۔۔۔ دیکھ تو سہی کیسے صبر سے چھکا چھک چھکا چھک ایک ہی رو ،اپنی ہی دھن میں چلتی جاتی ہے۔بانک پن  دیکھ اس کی، تم سڑک پر گاڑی میں جاؤ یا پیدل چلو۔۔۔ تم اس سے چال ملا سکتے ہو وہ تم سے کبھی چال نہیں ملائے گی۔" چونکہ اب وہ رواں ہو چکا تھا اور اس بار ریل کی خصلت پر بیان کر رہا تھا تو میں نے دلچسپی سے سگریٹ سلگا لیا، "ریل کی سب سے بڑی خوبی اس کی بے نیازی ہے، وہ محبوب ہوتی ہے۔ تم اس کے قدموں میں قدم رکھو گے اور یہ طے ہے۔ میں اپنی گاڑی بھگا کر اس کی رفتار پکڑوں گا، وہ میری نہیں۔ پھاٹک آیا تو مجھے رکنا پڑے گا اسے نہیں۔ تم ہمیشہ اس کی زبان بولتے ہو اور وہ تمھاری زبان کبھی نہیں بولے گی۔" ادھ جلا سگریٹ مجھ سے ہتھیا یا اور مزید بولا، "ریل بانکی ہوتی ہے تو اس کی پرواہ کرنی پڑتی ہے،  پرواہ نہ کرو گے تو دیکھو، اس کے ساتھ سے محروم ہو جاؤ گے۔ ہر چیز ناپ تول کر بالکل اسی کے تعدد میں ہر وقت تمھیں رواں رکھنی پڑتی ہے، جیسے وہ خود ناپ تول کر چلتی ہے۔"
اس کی باتوں میں دلچسپی تو تھی پر اب میں  اکتا رہا تھا تو اس نے بھانپ کر بات ختم کر دی، "ریل کے ساتھ کبھی اسی کی رفتار سے چلو، اس کے رنگ میں رنگ کر تو دیکھو۔ ایکدم سے جیسے تم اور وہ ایک جان ہو جاتے ہو۔ تم بالکل  ریل سا محسوس کرتے ہو؛  بے نیاز، بانکا، من موج۔چھکاچھک چھکا چھک۔۔۔ پُوووووں!"
اس کے منہ سے اس آخری احمقانہ ریل کی آواز پر میں نے اسے غلیظ گالی دی اور سگریٹ کا ٹوٹا جو اس نے  نیچے فرش پر گرایا تھا، کوڑے کے ڈبے میں پھینکا اور محفل برخاست کر دی۔
یہ صفوت کا پاگل پن تھا۔ ہر شے جس میں اس کی دلچسپی ہوتی اس کو تہہ تک کرید کرید کر جانتا، اس بارے باتیں کرتا رہتا اور اب جیسے ریل بارے ایک فلسفہ گھڑ رکھا تھا ویسی ہی عجب خصلت  باتیں کرتا رہتاجو کم از کم میں کبھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ ریل میرے لیے ایک سہولت تھی  مگر اس نے اسے خود کے لیے کیا سے کیا بنا لیا تھا؟ میں اس کی اس عادت سے بہت زچ رہتا۔ بات صرف سننے کی نہیں تھی، اس میں اتنا ہیجان برپا ہوتا کہ باقیوں کا جینا حرام کر دیتا۔ بھلے آپ اسے لاکھ سمجھاتے پھریں۔ وہ بسا اوقات مروت میں چوک بھی جاتا مگر باز کبھی نہ آتا۔ کتے کی دُم۔
تب ریلوں بارے ہی اپنی پرانی تال پھر سنائی۔ کہنے لگا، "کیا تم جانتے ہو ریل جیسا تم چل ضرور سکتے ہو، مگر زیادہ دیر اس کی رفتار میں رفتار نہیں ملا سکتے۔ تم اس کے جیسے ہو سکتے ہو مگر زیادہ دیر یہ کیفیت برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ایسا کرو گے تو منہ کے بل گرو گے۔ بس، وہ چند لمحے ہی ہوتے ہیں جو تم اس کے جیسے، اس کے تعدد پر گزار سکتے ہو، نہ کم اور نہ ہی زیادہ۔ کم گزارو گے تو تشنگی اور زیادہ کی کوشش میں منہ کی کھاؤ گے۔" اب اس کی یہ پبتا کون سمجھتا؟
اسی روز وہ  ملتان سے راجن پورجانے کو شام میں  اکیلا نکلا تو میری گالیاں سن کر ہی روانہ ہوا تھا، تب بھی سر میں ریل کی تال الاپ رہا تھا۔ کوئی گھنٹہ بھر ہی  گزرا ہو گا کہ ہسپتال سے پیغام موصول ہوا۔ صفوت حادثے کا شکار ہو گیا۔ دوڑا دوڑا ھسپتال پہنچا تو وہ شدید زخمی حالت میں ڈاکٹروں اور مشینوں کے رحم و کرم پر تھا۔ کوئی چھ گھنٹے تک میں کبھی باہر اور پھر اندر چکر لگاتا رہا اور جب رات گئے اس کی حالت کچھ سنبھلی تو مجھے بھی سنبھالا ہوا۔ اس کا  ایک بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا جو بیرون ملک رہائش پذیر تھا۔ اس کو اطلاع کر دی گئی ۔ دو دن تک میں اس کی دیکھ بھال کرتا رہا اور جب اس کو ہوش آیا تو میں اس کے سرہانے تھا۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کر کے نکلے تو میں اس کے پہلو میں جا بیٹھا۔
تب، اس نے بڑی ہمت جمع کی۔ باوجود میرے منع کرنے کے وہ رک رک کر بولا،
"ریل   بھی،  زیبا جیسی ہی نکلی!"۔
"زیبا کون؟"
مجھے نظرانداز کر کے پھر گویا ہوا، "زیبا بھی ایسی تھی، بانکی بے نیاز۔" سانس پھر جمع کی، "میں اس سا ہونے کی چاہ کرتا رہا۔ اس کے رنگ میں رنگنے کی۔۔۔۔۔" صفوت کھانسنے لگا۔ میں نے اس کے سرکو سہارا دیا اور پیٹھ پر ہلکے سے تھپتھپایا  تو کچھ تھما۔ بولنے سے باز پھر بھی نہ آیا، "میں اس جیسا کبھی نہ رہ سکا۔ اس کی چال میں چلا تو مگر حال برقرار نہ رکھ سکا۔ وہ مجھ سے اپنا آپ کیونکر ہم آہنگ کرتی؟ ریل بھی، زیبا جیسی نکلی۔ ریل کے ساتھ بھاگا مگر وہ من موج، زیبا کی طرح اپنے ہی راستے مڑ گئی۔ میں پھر منہ کے بل گر گیا۔ میں سا۔۔۔"
اس کی سانس اکھڑ گئی۔  ڈاکٹر کو پھر سے طلب کیا اور کوئی دو گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھلی تو بمشکل سلایا۔
صفوت نے پہلی بار مجھے گالی دینے جوگا بھی نہ چھوڑا تھا، اور اب جبکہ میں اس سے گھنٹوں بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے پہلی بار کوئی حقیقت مجھ سے بانٹی تھی۔ سیدھا جواب دیا تھا۔ میں اس کو تسلی دینا چاہتا تھا، اس کی حالت بانٹنا چاہتا تھا مگر افسوس اس رات وہ جو بمشکل سلایا گیا تھا، دوسرے دن ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوشش پر بھی نہ جاگ سکا۔
صفوت، ریل تال کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔
(افسانہ)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر