تئیس میل

اگر گاڑی کاانجن غوں غوں  کرتا  نکلنے  کو بے چین تھا تو گاڑی کے اندرالگ ہڑبونگ مچ رہی تھی۔ سفر تئیس(23) میل  بھر کا  ہی تھا پر ہنگامہ گویا ہمیشہ سے برپا ہو اور یوں ہی جاری رہے گا۔  ویگن کا ڈرائیور پکی عمر کا، دھکم پیل سے واقف معلوم ہوتا تھا، جبھی اطمینان سےاپنی نشست پر بیٹھا سکون سے سگریٹ پھونک رہا تھا۔ گاہے گاہے اپنے اردگرد نصب گاڑی کے رہنمائی والے آئینے ہلا جلا کراپنے حساب سے برابر کرتا اور پھر سگریٹ کا کش لگا، چٹکی بجاتا پھر سےآئینوں کے ساتھ مشغول ہو جاتا۔ تھوڑا سُر میں آتا تو ہلکے سے گاڑی کے ایکسلریٹر کو داب دیتا اور گاڑی کا انجن کھڑے کھڑے غُوں غُوں کی آواز دے کر پھر سے بُڑبُڑ کرنے میں جُت رہتا۔
ڈرائیور، لوگوں کے ہنگامہ سے بے نیاز تھا تو جیسے کو تیسا، لوگ بھی اس کے مشغولات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہی نہیں اس ویگن کی  پندرہ سواریاں اس بات سے بھی بے نیاز تھیں کہ جس گاڑی میں وہ سفر کرنے جا رہےہیں، آیا وہ میکانکی لحاظ سے چست ہے اور اس مشین میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں۔ یہ بھروسہ کیے، اسے ایسے ہی نظرانداز کیے اپنے ہنگامے میں مشغول تھے۔
کوئی سامان چھت پر بندھوا رہا ہے تو دوسرا اپنی نئی نویلی دلہن واسطے ٹھنڈی برف کی ڈلیاں پسواشربت ڈھو رہا تھا۔ ایک کشمیری اپنے بچوں کی مچائی اودھم اور رونے سے بیزار ہو کر گاڑی سے ہٹ کر کھڑا تھا اور اس کی بیوی ایک طرف بچوں کو چمکارتی اور دوسری جانب اپنے سیاہ برقعے کو سنبھالنے میں خوار تھی۔ دو شرمیلے سے نوجوان لڑکے ٹکٹ خریدے بغیر ہی آن بیٹھے تھے جنھیں اڈہ منشی کے چھوٹے نے ڈانٹ کر نیچے اتارا اور ٹکٹ والوں کو حکم دے کر گاڑی میں سوار کرایا۔ دو لونڈے غالباً سیر سپاٹے واسطےآئے تھے اور بے وجہ شور سا مچا رکھا تھا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سےان کی نشست پر قہقہہ بلند ہوتا تو بالکل ان کی اگلی نشست پر براجمان بزرگ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے۔ سوائے اس سفید ریش بزرگے کے، ایک سے دوسرے، اور تیسرے کو چوتھے کی فکر نہ تھی۔ ڈرائیور جب ہلکے سے گاڑی کا انجن غراتا تو  اندر باہر تمام سواریوں پر بھیڑ سی مچ جاتی کہ گاڑی اب روانہ ہوئی کہ تب ہوئی۔
خدا خدا کر، گاڑی میں سب بیٹھ رہے اور اڈہ منشی نے گاڑی کا حساب بے باک کیا تو تئیس (23) میل سفر کا آغاز ہوا۔ ایک تبلیغی نے بلند آواز میں سب کو سفر کی دعا سنائی اور گاڑی میں بعد اس کے ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ہنگامہ ایکدم سے تھم گیا۔ سامان لپٹ کر اپنی جگہ پر چلا گیا اور سواریاں ایک سے دوسرے میں ٹھنسی گویا دعا کے ادب میں خاموش ہو گئیں۔ ہارن چنگاڑا۔ ڈرائیور نے پیچھے ایک نگاہ دوڑائی اور گاڑی لاری اڈے کے باہر جانے والے رستے پر آگے بڑھا دی۔
پہلا میل  ایسے ہی طے ہوا۔ سوار تمام افراد خاموشی میں ڈوبے، غرق دکھائی دیتے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک اس بابت سوچ رہا ہے کہ وہ بالاخر اس سفر پر روانہ تو ہو چکے ہیں تو اس کے لیے انھوں نے کیا کیا کشٹ نہیں اٹھائے؟ پندرہ لوگ،جن کا پس منظر مختلف تھا، سفر کا مقصد بھی جدا تھا، مگر جس دھکم پیل سے ہو کر وہ یہاں تک پہنچے تھے وہ ایک سی نہیں تھی۔ منزل بہرطور ایک ہی مقصود تھی اور اسی وجہ سے اکٹھے اس آہنی چھت کے نیچے جمع تھے۔ یہاں تک پہنچنے میں ان کی کوششیں تھیں جو بالآخر بارآور ثابت ہوئی تھیں، مگر ہرسواری کا یہاں پڑوس اس کو قسمت سے ہی ملا تھا۔فیصلہ کر،  تدبیرکے اوزار چلا ،وہ گاڑی تک پہنچ  ہی گئے۔حرام یا حلال جیسا مال تھا خرچ کر ٹکٹ تک خرید لیا مگر ہمسفر، تقدیر نے چنے۔ اس میں وہ چاہتے تو کچھ معاملہ کر ردبدل کر سکتے تھے، دعا یا پھر ڈرائیور کے زریعے اڈہ منشی کی منت کر کے  اپنی من پسند سواری کے ساتھ تشریف تو رکھ سکتے تھے، مگر یہ ضروری نہیں کہ لازماً ایسا ہو، تقدیر آخری حرف تھا۔ پھر نصیب، کچھ اصولوں کا بھی عمل دخل یوں تھا کہ بے وجہ کا اودھم اور شور مچاتے بچوں کی ماں، بچوں سےچھٹکارا نہیں پا سکتی تھی۔ وہ اپنے نصیب لے کر گاڑی میں سوار ہوئی تھی۔ سیر سپاٹےوالے  دل سے چاہتے تھے کہ ان کو ناری جوان لڑکی کے پہلو میں بیٹھنا نصیب ہو مگر ظاہر ہے، معاشرہ ایسا ہے تو یہ ہر گز ممکن نہیں تھا۔ تو، لے دے کر ناری کے بالکل پچھلی نشست پر بیٹھنے کا سامان کر دیا، جہاں سے اور کچھ نہیں تو کالی چادر سے جھانکتی گوری گردن اور پیٹھ کی جلد کو گرچہ دیکھ نہ سکتے تھے پر محسوس کر سکتے تھے۔  اس حسین جسم  کی باس اپنے نتھنوں میں سمو سکتے تھے۔ڈرائیور کے پہلو میں بیٹھے فرنٹ سیٹ پر دو بڑی عمر کے اصحاب یہاں بیٹھنے کو اپنی اہمیت سے تعبیر کرتے، گردن میں سریا چڑھائے محسوس ہوئے۔
دوسرے اور تیسرے میل، لوگوں کے ماحول سے آشنائی ہوتے ہی پھر سے حرکت شروع ہو گئی۔ گاڑی کے شیشے کھٹ کھٹاک کھلنے اور بند ہونے لگے، بچوں کے شورمیں کبھی کبھار لے مدھم اور لونڈوں کے قہقہے تھمتے تو دو سیٹ چھوڑ بیٹھے تبلیغیوں کی انسان کے اس دنیا میں وارد ہونے کی وجہ پر ہو رہی بحث صاف سنی جا سکتی تھی۔ یہ گفتگو،  خالص تبرک میں لپٹی کافور کی مشک جیسی ہے۔  اور تبھی اگر کوئی کان لگائے رکھے تو  لونڈوں کے آخری قہقہے کی وجہ بھی بتا سکتا ہے۔ یہ اس لطیفے کا زکر کر رہے ہیں جب ایک فاحشہ عورت کا کسی مولوی کو ایڈز میں مبتلا کرنے کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک ہی چھت تلے دو انتہائیں ایک ہی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔
چوتھے میل پر کچھ دیر سے خاموش  بچوں میں ایک ایک نے پھر سے آہستہ آہستہ بین کرتے ہوئے لے پکڑی۔ ماں اس کو بہلاتے بے بسی سے اس کے باپ کی طرف دیکھنے لگی جو سامان کو  سامنے کی سیٹ کے نیچے گھسیڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ پیچھے کی نشست پر ایک جوان لڑکے نے مشورہ دیا کہ وہ سامان اوپر چھت پر رکھوا دیتے تو بہتر رہتا۔ اس پر کشمیری نے جل کر جواب دیا،
"سر پر لادے گھوم تو رہا ہوں، اب کیا خود میں گھسیڑ دوں؟"
نوجوان اتنے تیکھے جواب پر کچھ سیخ پا سا ہو گیا۔ قریب تھا کہ ان دونوں کے بیچ تلخی ہوتی، باقی کے مسافروں نے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ بچوں کی ماں، شوہر کے سامان کو سر پر لادے پھرنے کا  پیغور، طنز سمجھی تو بجھ سی گئی اور بعد اس کے بین کی لے تیز ہو یا معدوم پڑ جائےاس نے   بچے چمکارنا بند کر دیا۔
اگلے چند میل، گاڑی فراٹے بھرتے ہوئے بھاگتی رہی۔ راستہ ہموار ، حالات موزوں اور ڈرائیور نہایت مہارت سے انجن کی  رفتار کے پرت کھولے جا  رہا تھا۔  شہر سے خاصے باہر نکل کر منظر دلفریب ہونا شروع ہوا تو لونڈے ابھی سے سیر سپاٹے میں مشغول ہو گئے۔ بچے فراٹے بھرتی گاڑی سے محظوظ ہونے لگے اور باقی افراد چونکہ بے غم تھے تو ان موضوعات کو چھیڑ کر بیٹھ گئے جن سے ان کا قطعاً کوئی سروکار نہیں تھا۔ یہ چھ آٹھ میل، کچھ ایسے بیتے کہ وقت  کا کچھ اندازہ نہ ہوا۔ ایک لمحے کو تو ایسے لگا کہ فٹ سے بقایا سفر بھی یوں ہی طے ہو گا، طمانیت ہمیشہ ایسے ہی برقرار رہے گی اور حال جوں کا توں رہے گا۔ ہر سواری  خوش تھی۔ یہاں تک کہ کنبے سے بیزار کشمیری اب سنبھل گیا تھا اور بڑھ چڑھ کر گفتگو میں حصہ لینے لگا۔ نوجوان جس نے سامان بارے لقمہ دیا تھا، کرودھ تھوک رہا اور ماں پر بچوں پر جانے کیسے محبت واپس در آئی تھی۔ یہ اب اپنی پوٹلی سے کھانے کی چیزیں نکال نکال بچوں میں بانٹتے جا رہی تھی۔ بچے بھی مزے سے میٹھی گولیاں، ابلی چھلیاں اور بھنے چنے چباتے، اٹھکیلیاں کرتے گاڑی کی غُوں غوُں جیسا ہلکارے لے رہے تھے۔ ڈرائیور، جوں کا توں سنجیدگی سے گاڑی بھگائے جا رہا تھا اور اس کو پیچھے کی نشستوں پر پھیلی طمانیت سے چنداں غرض نہ تھی بعینہ ویسے ہی جیسے اس کو پہلے کے ہنگام اور پھر خاموشی سے کچھ واسطہ نہیں رہا تھا۔
یہ تیرہواں  میل تھا جب سڑک میں بل آنا شروع ہو ئے۔ گاڑی میں دھرے لوگوں اور سامان کا توازن کبھی یوں اور پھر دوسری جانب لڑھکنے لگا۔ جیسے جیسے گاڑی آگے اونچائی کی جانب بڑھتی جاتی تھی گاڑی کی رفتار دھیمی پڑتی رہی اور پھر نوبت رینگنے تک آ گئی۔ انجن جی جان کا زور لگا کر گاڑی اور مافیہا کو کھینچنے کی جست میں گلا پھاڑے جا رہا تھا۔ اوپر ہی اوپر چڑھتے، بل کھاتے موڑوں میں کبھی دائیں تو پھر بائیں جھکاؤ آتا۔ وقت تھا گویا تھم سا گیا ہو۔ گاڑی کی فضا بوجھل ہونا شروع ہو گئی۔ بحث اب گھمبیر ہو گئی اور بات لعن طعن تک پہنچ گئی۔ وہ جو تھوڑی دیر پہلے تک شیر و شکر بات کیے جاتے تھے، ایکدم سے حالات کو کوسنے دینے لگے، اور کچھ نے سُر میں تال ملکی قیادت کوغلیظ القابات نواز کرجوڑی۔  بچے، اب بین تو نہیں کر رہے تھے۔ بس، مسلسل جھول اور پے در پے موڑوں کا اثر یہ ہوا کہ ابھی ابھی کھائی سوغاتیں ایک ایک کر کے قے کی صورت واپس اگلتے جاتے اور ان کا باپ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ڈرائیور سے منمنا کر کاغذ کے لفافے طلب کرتا اور بچوں کو قہر بھری نظروں سے دیکھتا جاتا۔ بچوں کی ماں کھسیانی سی ہو کر پوٹلیاں   سامان میں اور کاغذ کی بھری تھیلیاں باہر ہوا میں اچھالتی رہی۔ لونڈوں کی دلچسپی منظر میں اب بھی برقرار تھی مگر اب وہ زیادہ توجہ سنگ میلوں پر دے رہے تھے۔ اس رینگن سے ان پر کچھ بیزاری سی چھائی تو وہ بے چین سے ہو گئے۔ جیسے ہی سڑک پر کوئی سنگ میل نظر آتا تو بیک وقت چلاتے، جیسے۔۔۔
"آٹھ میل رہ گیا!"۔
اگلی نشست کے بزرگ بڑبڑاتے اور یہ پھر سے چیڑ کے درختوں میں کھو جاتے۔
"سات میل ، اور بس!"۔ اب بزرگ بڑبڑائے اور ڈرائیور کے ساتھ براجمان صاحب نے جملہ کسا،
"مشٹنڈوں کو دیکھو، یہ نہیں سہہ پا رہے اور ارادہ  اسی میل مزید سفر کا ہے۔"
دائیں والے نے بالکل برا نہیں منایا اور گلا پھاڑ کر قہقہہ بلند کیا اور بیچ اس کے کہا،
"بزرگو، ان کھائیوں سے کیا ڈرنا۔ بس عادت نہیں ہے۔۔۔۔"
آگے کی بات کی کسی کو بھنک نہیں لگی ورنہ وہ منہ نیچے جھکا کر دبی آواز میں پہاڑوں اور ان میں بسنے والوں کی شان میں حرام کے نطفے کا کچھ عمل دخل بیان کر رھا تھا۔
ڈرائیور  کی سنجیدگی اس دوران دیکھنے لائق تھی، وہ اپنی سر دھڑ کی بازی لگا کر ان بل کھاتے موڑوں سے گاڑی کو صاف نکال لانے کو اپنی بھرپور کوشش کر رہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کا دھیان بٹا نہیں اور منزل کھوٹی ہوئی نہیں۔ پندرہ سوار ، تئیس (23) میل کے اس سفر کا یہ حال دیکھ، اپنے اپنے انداز میں واویلا کیے جاتے تھے مگر چھوڑ دینا ان کے بس میں نہیں تھا۔ جیسے گاڑی چیونٹی کے جیسے رینگ رہی تھی، ہر سوار بھی خود کو جیسے کھینچ کھینچ کر اس کے ساتھ پار کرا رہاتھا۔
انجن چنگاڑتے چنگاڑتے تھکا سا لگ رہا تھا اور ویسے ہی ہر سوار جیسے ہمت کا پلو چھوڑنے والا تھا کہ تب اٹھارہوں میل پر سب ہوا ہو گیا۔ چوٹی پر پہنچتے ہی گویا سب شانت ہو گیا اور ایک میل کا سفر اوپر کےمیدان میں یوں طے ہوا کہ مثال خلا میں ہوں۔ ایکدم سے سارا غبار چھٹ گیا۔ وہ  انجن جو لمحے پہلے چنگاڑ کر جان چھڑاتا معلوم پڑتا تھا، اب وجود ہی نہ رکھتاہو۔ ہوا کے تھپیڑے منہ پر ایسے لگتے جیسے لوری سناتے ہوں، چوٹی کے دونوں طرف کھائیاں تھیں اور منظر ایسا کہ دل مچل جاتا۔ جی چاہتا کہ اچھل کر اس سب کو خود میں سمو لیں۔ لونڈے جو اس واردات پر انگلیاں منہ میں دبائے بیٹھے تھے، ان میں سے ایک بے ساختہ بولا، "سالی، لائف یہاں ہے۔ ٹو فور سیون ہنی مون ہے، ہنی مون!"  دوسرے نے دم بخود کھڑکی سے باہر نکل کر چیڑ کے جنگل میں صاف شفاف ہوا پھیپھڑوں میں بھری تو واپس اس دھڑام سے نشست پر گرا، جیسے شرابوں کے کنستر انڈیل بیٹھا ہو۔ سیاحوں کی اس حرکت پر گاڑی میں اب کے ان کی بجائے باقی سواریوں کے قہقہے بلند ہوئے۔ خود اعتماد  لونڈے جھینپ سے گئے۔
انیسویں میل پر   ڈرائیور نے سگریٹ سلگا لی اور خراماں خراماں اترائی میں گاڑی اسی رفتار سے اتارنے لگا جس تیزی سے وہ اس چوٹی پر پہنچا تھا۔دونوں جانب کا فرق یہ تھا کہ جب اونچائی کے لیے یہ گاڑی رواں تھی تو کسی کو اس خمار، خلا کا علم نہ تھا جو چوٹی پر ان کے لیے تیار تھا، مگر اب آہستہ آہستہ جب یہ گاڑی نیچے ڈھلک رہی تھی تو ہر کوئی اس خمار، نشہ میں تھا۔ کسی کو بھی پرواہ نہ تھی۔ سب شرابور تھے، اور دو میل کی اترائی  نسبتاً زیادہ رینگ کر طے ہوئی پر پرواہ کس کو تھی؟ بچے اب نیند سے بوجھل، ماں کی زانوں پر سر دھرے ہوئے تھے۔ جوان لونڈے جھوم جھوم کر ایک دوسرے کو سُر ملا کر واہیات گانے سناتے تھے اور باقی کی سواریاں دلچسپی سے انھیں جھومتے دیکھی جاتی تھی۔ مقامی سواریوں کی گردنیں تن سی گئیں کہ وہ کس جنت کے باسی ہیں اور بڑبڑاتا بزرگ جیسے اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرتا ہو۔
آخری دو میل بچ رہے تو گاڑی میں اداسی چھا گئی۔ انجن تک کی آوازاب جیسے مغموم سی تھی۔ منزل نہایت قریب آ گئی تھی اور گاڑی ایک میدان میں دوڑے جاتے ہوئے فضا کو مزید اداس کر رہی تھی۔ پاس بہتا دریا، میدان کے کھیت کھلیان، سامنے وادی کے برف سے ڈھکے پہاڑ اور درمیان میں لکیر سی سڑک پر ایک اداس انجن، پندرہ سواریوں کو منزل پر لے کر پہنچنے کو بڑھتا جاتا تھا۔ سواریاں جو اپنا اپنا مقصد لیے ایک ہی منزل کے واسطے سوار ہوئی تھیں اور سفر شروع ہونے پرایک دوجے سے نالاں، ہنگام برپا کیے روانہ ہوئی تھیں اب افسردہ دکھائی دیتیں۔ ایک لونڈا، کھڑکی کے شیشے سے سر ٹکائے ٹکٹکی باندھے باہر دوڑتے منظرمیں کھبتا جاتا تھا اور دوجا  اپنے آگے بیٹھی ناری حسینہ کی پشت پر نظریں ٹکائیں بیٹھا تھا۔ سفر کے سارے دور میں کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ کس کمال خاموشی سے اس پردیسی بابو نے ناری پر خود کو وار دیا اور اب جبکہ سفر ختم ہونے کو تھا تو منزل پر پہنچتے ہی ان کی راہیں الگ الگ ہو جائیں گی۔  بچے سو چکے تھے اور ماں سامان سمیٹنے میں مصروف تھی۔ باپ دھیما سا ہو کر دروازے سے لگ کر بیٹھ گیا تھا ۔ پیچھے کی سواریوں میں کچھ سر اگلی نشستوں پر ٹکائے سوچ میں غرق تھیں تو باقی  حسرت سے جیسے چوٹی کے حال کو یاد کیے جاتی دکھائی دیتی تھیں۔ دور برف سے ڈھکے پہاڑ، سب کے لیے یکساں سے تھے۔ کئی پہاڑ، جن میں سے ہر ایک پر وہی حال اب بھی برپا تھا جو وہ دیر قبل محسوس کر کے آئے تھے۔ حسرت یہ تھی کہ وہ ان کی پہنچ سے دوراور ناقابل حاصل تھے۔
تئیس (23) میل کا سفر تقریباً مکمل ہونے کو تھا۔ پندرہ ہمسفر جن کا پس منظر جدا، مقصد علیحدہ اور منزل ایک تھی۔ کوئی دوسرے کو کچھ عطا کرنے جوگا کبھی نہیں رہا؛کسی نے ان تئیس (23) میلوں میں وصل کا مزہ چکھا تھا تو دوسرے نے اس سارے دوراں میں خاموشی طاری کیے رکھی۔ ایک باہر کے مناظر کے عشق میں مبتلا ہوا تو دوسرا منزل تک پہنچتے پہنچتے گاڑی کے اندر بٹتی محدود دانش سمیٹ چکا تھا۔ دو ایک بالکل آگے کی پرسکون نشست پر براجمان ہونے کے نشے میں گردن اکڑائے محروم رہے اور پیچھے کونے میں ہچکولے کھاتا ایک عاجز اس سب سے لطف اندوز ہو گیا۔ بچے ماں کی گود میں سہولت اورسکون جبکہ باپ کی آنکھ میں وحشت اور  مجبوری، سب دیکھ کر سو بھی لیے۔ بزرگ جیسے بڑبڑاتے سوار ہوئے تھے ویسے ہی بڑبڑ کرتے اتر بھی گئے۔ڈرائیور، جیسا بے تعلق اور سنجیدہ سوار ہوا تھا ویسے ہی بے نیاز اپنا کام کر کے نکل گیا۔ کسی نے دوسرے کو کچھ عطا نہیں کیا۔ چاہتے، نہ چاہتے۔۔۔ گاڑی رواں دواں رہی ، منزل پر پندرہ کے پندرہ ہنکائے ہوئے پہنچائے گئے۔
اہم، وقت تھا جو سب کا بٹا۔ حال جو سب پر یکساں طاری ہوا مگر ردعمل، جدا رہا۔
-افسانہ-
(مارچ، 2013ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر