مجاز کی حقیقت

دنیا اور دنیا میں موجود ہر شے جو آپ کو دکھائی دیتی ہو، اس سے  کہیں اور کبھی بھی محبت میں مبتلا ہوا جا سکتا ہے۔ اس میں انسان بھی شامل ہیں۔ یہ قماش، مجاز کہلاتا ہے اور محبت مجازی۔ مجازی، جعلی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیائے ظاہر، فرضی یا ساخت کیا ہوا۔ مجازی محبت، کبھی اور کہیں بھی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تخلیق کی جا سکتی ہے، یہ دنیائے ظاہر سے فرض کی جا سکتی ہے۔ یہ دھوکا کھایا جا سکتا ہے۔
صاحبو! پہلے پہل جب یہ سرزد ہو تو یہ غیر ارادی معاملہ ہوتا ہے، ایک حادثہ۔ یہ صرف حادثہ ہوتا ہے تو اس کے مضمرات اگر خوشگوار ہو رہیں تو اس سے کہیں زیادہ یہ اتھل پتھل کر دیں۔
ہر صورت سوال، حد کا ہے۔ اس کو لگام دینا لازم ہے،  کھلے سانڈ کی طرح نہیں چھوڑا جا سکتا۔ قابو کرنے کی کوئی سبیل ڈھونڈنی لازم ہے۔  مجازی محبت میں اگر حد مقرر نہ کی جائے تو یہ  بے نتیجہ رہے گی یا پھر ہلاک کر دے گی۔کامیابی اور ناکامی  مجازی معنوں میں جیسے کہ نظر آ رہا، کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جناب، کامیابی یا ناکامی کسی بھی معاملے کا منطقی انجام تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اب ایک فرض کی ہوئی چیز کا کیا منطقی انجام؟ یہاں یہ کامیابی یا ناکامی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ منطقی اگر کچھ ہے تو اس حادثے سے دوچار ہونا ہے، چکھ لینا۔ اور پھر چکھ کر اس سے ایک نتیجہ برآمد کرنا اہم ہوتا ہے۔ یاد ہے، سوال حد کا ہوتا ہے۔ ایک حد مقرر کرنا لازم ہے، قابو کرنے اور کرتے رہنے کی سبیل۔۔۔
مجازی محبت تہہ میں  فرض شدہ واقعے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ صاحبو! اس لحاظ سے منطقی انجام وصل، ایک دھوکے سے زیادہ  کوئی چیز نہیں۔ ویسے ہی دوسری صورت ہجر بھی  کوئی معنی نہیں رکھتا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر