چوکیدار کاکا

درمیانہ قد، کُوٹا جسم اور گہرارنگ جو وقت کے ساتھ جھلس کرمزید پک گیا تھا۔ بکھری اور بے ہنگم داڑھی جیسے تاریں، دائیں آنکھ  کانی، سامنے کا دانت ادھ ٹوٹا اور ٹانگ پر کتے کے کاٹے کا دھبہ۔ سر پر ہمیشہ میلی ٹوپی ٹکائے، کئی جوڑے کپڑے پہنتا، جن میں اوپر میلا اور نیچے ستھرے جوڑے۔ پھر گرمی یا سردی، میلی کچیلی ہی  واسکٹ  پہنے  چوکیدار کاکا ہیئت سا نظر آتا تھا۔ پیدائش آزادی سے خاصی پہلے کی تھی، سو عمر کا اندازہ نہیں۔ ہمارے یہاں وہ چھتیس برس رہا، جس میں میری اٹھارہ برس عمر اس کو گواہ رہی۔
چوکیدار کاکا کے بارے واقعہ یوں ہے کہ ابا میڈیکل کالج سے فارغ ہو کر سرکاری بھرتی ہوئے تو سال دو میں ہی اکتا کر نوکری چھوڑ دی۔ اپنے ہسپتال کی تعمیر شروع کروائی تو رات کے چوکیدارے واسطے کسی کی ضرورت تھی۔ یہ جوان،  جس کا تعلق   کاغان کے مضافاتی علاقے جرید سے  تھا اور مزدوری واسطے نشیب کے علاقے میں آن بسا تھا، بھرتی کر لیا۔ سادہ دور تھا، تھوڑے پر خوش رہنے کی لوگوں کی خصلت تھی۔ یہ تعمیر کے دوران دلجمعی سے اپنی زمہ داری نبھاتا رھا اور جب ہسپتال کی تعمیر ہو گئی تو اس نے ابا سے رخصت چاہی۔ ابا نے  اجازت  نہ دی کہ ہسپتال کے بعد گھر کی تعمیر شروع ہونے کو تھی۔ یوں چوکیدارہ چند سال مزید جاری رہا۔
اب کا دور ایسا ہے کہ دہائیاں گزر جاتی ہیں اور معین سی آشنائی تک نہیں ہو پاتی۔ تب لوگ دو چار سالوں کے تعلق میں اتنے پختہ ہو جاتے تھے کہ جس در سے عزت اور کریمت ملتی بس اسی کے ہو رہتے۔ چوکیدار کاکا بھی اسی گھر کا ہو رہا۔ پہچان کے لیے چوکیدارکا نام پختہ پڑ چکا تھا۔
چوکیدار کاکا کے رہنے کے لیے گھر کے ساتھ  کچا مکان مخصوص تھا۔ اس مکان کا ایک ہی کمرہ تھا، جس کے باہر برآمدہ اور ڈیوڑھی جس پر ایک تندور دبا تھا۔ ڈیوڑھی بالن کی لکڑیوں سے بھری رہتی اور تندور کا کڑا علیحدہ سے جگہ گھیرے ہوئے تھا تو کاکا کے لیے ایک برآمدہ اور کمرہ بچ رہتے۔ کمرے میں روشندان نہ تھا تو تاریک سیاہ اور اندر تعمیراتی لکڑی کے بڑے برگ سموئے تھے۔ اس کمرہ میں چوکیدار کاکا کے سوا کسی کو جانے کی سعی نہ تھی۔ اس کمرے کے پچھلے کونے میں سکھوں کے ساتھ جنگ کے ایک شہید کی یادگار تھی، جس کا احاطہ ایک چبوترے پرطے تھا۔ لوگ کہتے کہ یہ شہید رات میں، اور بالخصوص جمعرات کی رات میں سفید نورانی کفن پہنے وہاں آتا ہے اور چبوترے پر بیٹھا رہتا ہے اور فجر سے پہلے جیسے آیا، ویسے پیدل چلا جاتا ہے۔ دوسرا، سنتے تھے کہ اس کمرے کی چھت میں ایک سانپ کا بسیرا ہے۔ سانپ تو کبھی نظر نہیں آیا بس سال بھر میں اس کی ایک کھوچلی سی مل جاتی تھی یا کبھی کبھار اندر برگوں میں شپ شپا سی آہٹ سنائی دیتی جیسے کوئی شے لپک کر رینگ گئی ہو۔ عرصے تک مشہور رہا کہ یہ سانپ چوکیدار کاکا نے پال رکھا ہے جو اسے کچھ زک نہیں پہنچاتا اور یہ بھی اس کا برا نہیں کرتا۔ برآمدے کے ایک کونے میں کچا چولہا تھا جو خیر خیرات میں دیگ کا پانی گرم کرنے کو استعمال ہوتا تھا یا پھر شدید سردی میں  چوکیدار کاکا تاپنے کو آگ کا بندوبست کرتا۔ چولہے کے بالکل پاس چارپائی بچھی رہتی جس کے سر کی جانب کپڑے کی تھیلی لٹکائی رہتی، جس میں چلم کا تمباکو بھرا ہوتا۔ بستر ایسے تھا کہ رات میں تہہ در تہہ تلائیاں اور اوپر اوڑھنے کو رضائی پھیل جاتیں اور صبح ہوتے ہی سویرے تڑکے کو چوکیدار کاکا یہ سب لپیٹ کر گولائی میں کس کر باندھ دیتا اور اسے چارپائی کی پائنتی پر ٹکا دیتا۔ اس سے اتنا بڑا گولہ بن جاتا کہ پائنتی کے سوا بھی آدھی چارپائی بھر جاتی۔ اس کسے ہوئے بستر کے بیچ وہ اپنے تئیں استعمال کی قیمتی چیزیں جیسے آئینہ، کنگھی، تمباکو کی اضافی تھیلی، جمع کیے ہوئے بے مصرف  میلے کاغذ وں کے ڈھیر، چند روپے اور دو ایک اور تھیلیاں جن میں بھی الا بلا بھرا ہوتا، عین درمیان میں ٹھونس دیتا۔ یہ اس کی تجوری جیسی محفوظ جگہ تھی کہ کسا بستر اس کے علاوہ کوئی کھول ہی نہ سکتا تھا۔ ہر گرہ ایسے ڈالی ہوتی کہ ول پے ول گھما پھرا کر سوتر کی رسی جلد آزاد نہ ہوتی اور رسی کی ہر تان ایسے تنی  ہوئی کہ ریشے صاف ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے۔ پھر لکڑی کی پرانی میز تھی، جس پر میل کی تہیں  چڑھتی رہتیں۔ میلا کچیلا سلور کا جگ گلاس اور میز کے ساتھ نیچے کچے فرش پر بھی چلم کی باس والا پانی، تمباکو کی پھانک اور ماچس کی جلی تیلیاں بکھری رہتیں۔ چلم کی نلکی کو دھاتی تاریں لپیٹ کر جفت کر رکھا تھا اور تمباکو کی کُپی اور نیچے پانی کی ڈولی پر طرح طرح کی رنگین کپڑے کی دھاریاں بنا کر ایسی لٹکائی ہوتیں جیسے گلی میں گھومتا فقیر اپنا تُومبہ سجاتا ہے۔ چلم کی تمباکو والی کُپی پر لمبے سخت دھاگے میں ماچس کی ڈبیا پروئی رہتی، جو زائد تیلیاں ٹھونسنے کی وجہ سے پھول جاتی جس کی وجہ سے ایک آدھ دن میں ہی نئی ماچس پرونی پڑ جاتی اور نئی ماچس کا پیٹ پہلی والی سے زیادہ ابھر آتا۔ گرمیوں میں یہ چارپائی، میز، جگ گلاس اور تمباکو کی پھانک اوپر گھر کے برآمدے میں پھیل جاتیں اور یہ وہیں پسار رہتا۔
اس کی ذمہ داریاں کبھی کسی نے طے نہیں کیں۔ گھر سے باہر اس نے سب کچھ خود ہی اپنی زمہ داری بنایا ہوا تھا۔ بازار سے سودا سلف ڈھوتا، لکڑیاں چیرتا، گیس کے سلنڈر بھروا کر لاتا، چکی سے آٹا پسواتا اور اگر ہاری گدھا لانے میں دیر کرتا تو خود ہی پیٹھ پر لادے بڑبڑاتا ہو ا اپنی پیٹھ پر ڈھو دیتا۔ فصل کی خبر کو زمینوں میں بلا ناغہ چکر لگاتا اور روز کے روز ہاری کی شکایت کرنا اس کے دلپسند مشغلوں میں سے تھا۔ گھنٹوں کھیتوں میں کھپ کر ساگ چُنتا اور  گھر میں گٹھڑیوں کی گٹھڑیاں پڑی سوکھتی رہتیں۔ بچے گھر میں روتے تو باہر اس کی گود میں کھلانے کو بجھوا دیے جاتے اور   یہ انھیں کوٹھے کی منڈیر پراٹھائے گھومتا رہتا۔ وہ بچے  جو گود لائق نہ تھے ان پر بھی برابر نظر رکھتا۔ مٹی کھاتے ہوئے اس نے مجھے ایک دن پکڑا تو پہلے منع کیا، دوسرے دن چماٹ رسید کی اور تیسرے دن میں اس کو دیکھتے ہی بھاگنے لگا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اگلے ہی روز میٹھی گولیاں لا کر مجھے کھلائیں کہ اس سے میری مٹی کھانے کی عادت چھوٹ جائے گی۔ علاوہ اس سب کے، اسکی ایک ذمہ داری اور تھی جس سے مجھے سخت چڑ تھی۔ تپتی دوپہروں کو ہم چھپ کر ندی میں نہانے جاتے تو یہ ہمیں ڈھونڈ کر زبردستی واپس کھینچ لاتا۔ چونکہ واپسی پر پٹائی یقینی ہوتی تو ہم رستے میں اس سے جان چھڑانے کو بھلے اس کی داڑھی نوچ ڈالیں، کاٹ لیں یا سر پر مکے برسائیں  یہ بے غم اپنے کندھے  پر لادے یا بغل میں دابے مطمئن چلتا جاتا اور ہم بونوں کی طرح اس کے ساتھ لٹکے، چیختے اور ہاتھ پیر چلاتے رہ جاتا۔
ہماری مدرسے سے  واپسی عشاء کے بعد ہوتی۔ کھانا کھا کر ہٹتے تو چوکیدار کاکا کے لیے کھانا تھما دیاجاتا۔ یہ گرمیوں میں باہربرآمدے اور سردیوں میں نیچے کوٹھے میں پڑا رہتا۔ آہٹ سنتے ہی اٹھ بیٹھتا۔ یہ کھانا کھائے جاتا اورہم اس کے پاس بیٹھے اس کے منہ، زبانی گھڑے ہوئے قصے سنتے۔ دن بھر کے بعد رات کا یہ ایسا وقت ہوتا تھا جب اس کی بابت ہمارے من میں کچھ بھی نہ رہتا۔  دن سکول کے باغیچے میں اس کا زبردستی کھانا کھلانے پر غصہ،  دوپہر میں ندی سے واپس گھسیٹنے کا کرودھ اور نہ ہی شام میں گھر سے باہر قدم رکھتے ہی اس کی جاسوس نظر کا ڈر۔ رات کے اس پہر یہ بھی  مزے مزے سے قصے سناتا۔ جیسے ایک کردار "بربانڑو" کا تھا۔ اس کے بقول یہ ایک بلا تھا جو کہیں سے بھی زمین کو پھاڑتا ہوا کسی کی بھی شکل  دھارے، دہاڑ لگاتے نکل سکتا تھا اور آن کی فان کسی کو بھی ہڑپ کر جائے، اسے فرق نہیں۔ کالے سیاہ بربانڑو کسی سے نہیں ڈرتا تھا اور بعض اوقات وہ اشارہ کر کے سامنے کے پہاڑ کی جانب انگلی اٹھاتا کہ بربانڑو کا ٹھکانہ وہاں کالے جنگل میں ہے۔ میں بربانڑو کے ذکر سے سہم جاتا اور اس کا طریق بیان ایسے ہوتا کہ میری آنکھیں نیچے فرش کے چپے چپے کا طواف کرتیں کہ  بربانڑو  یہاں سے برآمد ہو گا یا وہاں سے نکلے۔ جیسے جیسے قصہ آگے بڑھتا، میں سمٹ کر اس کے ساتھ جڑتا جاتا۔ بعض راتوں کو جب اندھیرا کچھ گہرا سا ہوتا اور زرد روشنی میں چوکیدار کاکا آگے کو جھک کر نوالے چباتے بات کرتا تو اس کی شکل بگڑ جاتی۔ خود اس پر بربانڑو کا گماں ہوتا۔ میں برتن وہیں چھوڑ کر اندر  دوڑ لگا دیتا اور گھر میں دبک جاتا۔ اس پر وہ زور سے قہقہہ لگاتا تو آواز اندر تک  گونج جاتی۔ روشن راتوں میں ہم اس کو چھیڑتے کہ "یہ جو بربانڑو ہر جا سے ابھر سکتا ہے تو کیا مسجد کا فرش بھی پھاڑ سکتا ہے؟ خدا سے تو وہ ڈرتا ہی ہو گا ناں!" اس پر وہ تھوڑا کھسیانا ہو جاتا اور اپنی ٹانگ پر کتے کے کاٹے کا نشان دکھا کر ہمیں چمکارتے ہوئے سمجھاتا کہ یہ بربانڑو نے مسجد کے دروازے میں تب وار کیا تھا جب وہ باہر فرش پر قدم  ٹکانے ہی والا تھا۔
اس کے منہ، مسجد کا صرف یہی ذکر سنا۔ اس کے ہاں، خدا کے گھر کی بس یہی برکت تھی۔ پھر بھی ایک چھوٹی تسبیح جس کی لڑی میل سے کالی سیاہ  اورلکڑی کے منکے گھس گئے تھے، اس کی جیب میں دھری رہتی۔ جیسے چوکیدار کاکا کا وجود تھا، ویسے ہی اس تسبیح سے  بھی تمباکو کی بو کے بھبھوکے اڑتے رہتے۔ دو ایک بار کے سوا کبھی میں نے اسے مسجد جاتے نہیں دیکھا۔ گرمیوں میں ایک بار، صبح سویرے اس کے من میں خدا جانے کیا آئی کہ مسجد جا پہنچا۔ فجر ادا کی اور واپس آیا تو اس کا پڑوسی سائیں کاکا جو پنج وقتی نمازی مشہور تھا، اس روز اس کی آنکھ نہ کھل سکی اور وہ جماعت سے رہ کر چھت پر سویا پڑا تھا۔ چوکیدار کاکا جو غالباً پہلی بار اتنی رغبت سے باجماعت فجر پڑھ کر آیا تھا، چارپائی کو زور سے ہلایا اور سائیں کو ٹہوکا دیا۔ اونچی آواز میں برا بھلا کہا کہ، "او سائیاں! تجھے ایمان کی کوئی فکر بھی ہے یا نہیں؟ یوں ہی مردار پڑا رہے گا یا جاگ کر خدا کی عبادت بھی کرے گا؟" سائیں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور چوکیدار کاکا کے تازہ ایمان افروز انداز پر پاس گلی میں گزرتے نمازی ہنس کر دوہرے ہو گئے۔
ایسے ہی جب اس سے پوچھا جاتا کہ، "کاکا، تو یہ اتنے جوڑے کپڑوں کے کیوں پہنے پھرتا ہے؟ صرف ایک جوڑا پہن، باقی سنبھال کر رکھ"۔ اس پر وہ نہایت سنجیدگی سے آگاہ کرتا کہ "کھلے پڑے رہ رہ کر دھول پڑتی ہے، کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ کیڑا ٹُک لگا سکتا ہے اور پھر چوری کا ڈر علیحدہ کا غم ہوتا ہے"۔ اس پر لوگ ہنس پڑتے اور وہ بس گھوریاں دیے جاتا۔
چلم کا  شوق اتنا  کہ ہر بیس منٹ بعد سلگا کر بیٹھ جاتا۔ ہم اس کے قریب کھڑے اس کو دیکھتے کہ کیسے غرق ہو کر وہ تمباکو ہتھیلی پر رگڑتا اور کُپی میں بھر کر ماچس کی ڈبیا سے سطح برابر کرتا اور اوپر کی پھانک نیچے گراتا۔ ایک ھاتھ سے نلکی تھامے، اسے منہ سے جوڑ کر ماچس کی بھڑکتی تیلی کُپی کی سطح پر پھیرتا اور ایکدم نلکی سے دھواں کھینچتا تو چلم بُڑ بُڑ کرتی سلگتی چلی جاتی۔ منہ نلکی پر ٹکائے، جب تیز تیز سانس لیتا تو اس قدر دھواں پھیلتا کہ جسم کا اوپری حصہ مرغولوں میں لمحے بھر کو غائب ہو جاتا اور نتیجتاً آنکھیں سُرخ ہو جاتیں۔ ہم نتھنوں سے دھواں نکالنے کی فرمائش کرتے تو وہ سانس کھینچ کر دھواں سینے میں جھونکتا اور آہستہ آہستہ نتھنوں سے دیر تک پُھوں پُھوں دھواں اڑاتا۔ ہم اس کو دیکھ کر ہنستے تو دھواں اڑاتے ہمارے ساتھ ہنسنے کی کوشش کرتا تو اس کی سانس اکھڑ جاتی۔ پھر پختہ مگر بے ضرر کھانسی دیر تک ایک رو میں جاری رہتی۔
خونی رشتوں میں ایسا نہیں تھا کہ کاکا لاوارث ہو۔ مہینے دو بھر میں یہ اپنے گھر چکر لگاتا اور تین چار دن بسر کر کے واپس آ جاتا۔ ماں باپ عرصہ پہلے چل بسے تھے تو ایک بھائی اور بھتیجے کا خاندان اس کا خون تھے۔ کچھ زمین والدین نے وراثت میں چھوڑی تھی جس پر اگر چاہتا تو کاشت کرکے خود سے اپنا گزارہ کر سکتا تھا مگر جانے اس شخص کے من میں کیا آئی کہ ابا کے ایک کہے پر اس نے اپنی جائیداد اور گھر بار سب متروک کر دیا۔ کبھی شادی بھی نہیں کی۔
ابا سے اس کو نا معلوم کیسی انسیت تھی۔ ابا ہفتہ کی شام کو آتے اور اتوارکا دن  گزار  کر شام کو پھر لوٹ جاتے۔ یہ ولی ہفتہ والے روز دوپہر سے تیاری میں جٹ جاتا۔ باہر کچے کوٹھوں پر صفائی کر دیتا، بیٹھک میں بار بار جاتا اور ترتیب دیکھتا کہ موجود اور سہی رہے۔ شام پڑتے ہی جا منڈیر پر بیٹھتا۔ ہمیں بھی ابا کا انتظار ہوتا تو کاکا کے پہلومیں جا گھستے۔ گھر اوپر چوٹی پر تھا تو شہر  نیچے قدموں میں نظر آتا۔ دیر تک بیٹھنے سے خمار سا آ جاتا اور ہم ادھر ادھر اندھیرا تکتے۔ تبھی جانے اسے کیسی خبر تھی کہ انتہائی وثوق سے چلاتا، "ڈاکٹر صاحب. روشنی ان کی گاڑی کی  ہی ہے۔" ہم مزاق اڑاتے کہ تین چار میل دور سڑک پر بھاگتی ٹریفک جس کی صرف روشنیاں نظر آتی ہوں، ان میں ایک گاڑی کی کیسی پہچان ہو سکتی ہے۔ مگر ہمیشہ اس کااندازہ درست نکلتا اور تھوڑی دیرمیں اوپر گھرکی سڑک پر ابا کی گاڑی ھارن بجاتے مڑتی نظر آتی۔ یہ لپک کر پہنچتا اور گاڑی سے سامان اتار کر ڈھوتا، اور ہم ابا کوچھوڑ گاڑی سے چمٹ جاتے۔
دوسرے دن شام تک یہ ابا کے ساتھ سائے کی طرح چمٹا رہتا، ابا جاتے جاتے اس کو کچھ رقم دیتے؛ کتنی رقم، کبھی علم نہ ہوا۔ چلم اور تمباکو اس کی عادت تھی توابا اسکو علاوہ بھی کچھ پیسے دے دیتے۔ یہ اگلا پورا ہفتہ اس رقم سے بازار میں چائے اڑاتا، تمباکو کی تھیلیاں بھرتا، ہم بچوں کو میٹھی گولیاں اور مونگ پھلیاں کھلاتا اور باقی کی رقم گھر میں خرچ کر دیتا۔ بہتیرا منع کرتے مگر یہ باز نہ آتا۔
ابا کے ساتھ  یہ حکم کا پابند جن ہوئے رہتا تھا۔ وہ فوت ہوئے تو لوگوں کو میں نے روتے دیکھا، بعض نے بین کی اور کچھ بے حال ہوئے۔ جنازے کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے میں ںے اسے دھندلی آنکھوں لڑکھڑاتے ہوئے جاتا، بس جھلک سی دیکھا اور پھر تین دن یہ مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔ چوتھے دن شام کے وقت کیا دیکھتا ہوں کہ جب راستہ اور قبرستان دونوں ویران تھے، وہ ابا کی قبر پر بیٹھا ہلکے ہلکے رو رہا تھا اور قبر کی تازہ مٹی کو درمیان میں دونوں ہاتھوں سے تھپکیاں دیے جاتا تھا۔ میں دور سے اسے ویسا ہی مصروف چھوڑ کر واپس ہو لیا۔ بعد اس روز کے، میں نے اسے کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا۔
ابا کی وفات کے بعد اس کا معمول ہو گیا کہ وہ ہماری خبرگیری کو ہفتے میں ایک بار ضرور سفر کرتا۔ مگر ابا کے بعد اس کی ہمت جیسے جواب دیتی چلی گئی۔ ہر چڑھتے دن کے ساتھ بڑھاپے نے جیسے در کر اسے گھیرا، اس کی مثال نہیں۔ جب بھی آتا اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ ڈھو کر لاتا۔ میں سکول سے واپس پہنچتا تو وہ اوپر بالکونی میں باہر کو کھاٹ ڈالے نست پڑا ہوتا۔ مجھے دیکھتے ہی اچک کر بیٹھ جاتا اور اپنی میلی واسکٹ سے میٹھی گولیاں، پتاسے یا بسا اوقات بھنی مونگ پھلی نکال کر ہاتھ پر دھر دیتا۔ میں اسے منع کرتا کہ اب میری عمر میٹھی گولیاں کھانے کی نہیں ہے تو وہ میری پیٹھ تھپتپھا کر ہنس رہتا۔ اب بڑھاپے کے سبب روز بروز اس کی صحت جواب دے رہی تھی اور جب اس کے بال، سب سفید ہوئے تو وہ زیادہ بیمار اور لاغر رہنے لگا۔ ایک تو پہلے ایک آنکھ سے معذور تھا پھر دوسری میں بھی روشنی کم ہوتی جاتی تھی، ہاں سنائی اسے اب بھی خوب دیتا تھا۔ ھاں وزن ڈھونے اور گھومنے سے وہ تب بھی باز نہ آتا تھا اور منع کرنے کے باوجود بازار میں الا بلا کھاتا رہتا۔ ایک روز اسے بخار اور پیچشوں نے آ لیا۔ دوا کرتے تھے تو وہ کڑکڑاتی سردی میں جا کر یخ پانی سے نہا کر آجاتا۔ گھر میں ٹکا کر محدود کرتے تو بھڑ جاتا۔ یوں چوتھے دن ہی کہو تو پچک کر آدھے سے بھی کم رہ گیا۔
چند دن میں طبیعت تو قدرے سنبھل گئی مگر دیکھو اس کو کیا سوجھی؟ اپنے گھر کے چکر زیادہ کاٹنا شروع ہوگیا اور ہر دوسرے روز اپنے بھائی بھتیجے سے ملنے پہنچ جاتا۔ اپنے خون کی یاد کے علاوہ اس کو ڈر تھا کہ وہاں اس کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے گا۔ میں نے ایک روز پوچھا کہ "کاکا تجھے کیا حاجت ہے جائیداد کی؟ بندہ خدا، ہم اور ہمارا سب کچھ، تیری جائیداد ہی تو ہیں۔" اس نےجذب میں آگاہ کیا کہ وہ اپنی زمین بیچ کر میرے بڑے بھائی کے لیے دکان کھولے گا، اسے یہاں وہاں تعلیم اور نوکری کے لیے خواری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم اس کی بات پر ہنس پڑے اور دوسروں نے یہ سنا تو یہ جو اس کا خلوص تھا، پچھلی عمر میں سٹھیا جانا سمجھا کہ اب وہ بعض اوقات ادھر ادھر کی زیادہ ہانکنے لگا تھا۔ مثلاً ایک روز ذکر اقبال کا ہو رہا تھا تو چوکیدار کاکا نے لقمہ دیا، "ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، بہت بڑا ڈاکٹر تھا۔ ناف کا علاج کرتا تھا اور اس کے لیے وہ کاغان تک جایا کرتا تھا۔" ایسی باتوں پر آ س پاس لوگ ہنستے تو وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا، چڑچڑا جاتا۔
2002ء کا واقعہ ہے، ابا کی وفات کو سات سال ہونے کو آئے تھے۔ ایک روز دوپہر کے کھانے میں قدرے دیر ہو گئی تو بغیر بتائے بڑبڑاتا ہوا اٹھ کرباہر نکل گیا۔ میں کھانا لے کر نکلا تو وہ کھاٹ پر موجود نہیں تھا۔ بعد اس روز، چوکیدار کاکا کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ اس کے گھر خبر لینے گیا، اس کے بھتیجے کے مدرسے سے معلومات لیں اور تھانے میں گمشدگی کی رپٹ بھی لکھوا لی اور اک عرصے تک شناختی کارڈ پر جیسے درج تھا، محمد فریدون کو ہسپتالوں میں تلاش کرتا رہا، مگر اس نے نہ ملنا تھا، نہں ملا۔ اور تو کچھ نہیں، اس کے یوں چلے جانے سے ایک چوبھ سی تھی جو دل کو اندر ہی اندر سے گلائے جاتی تھی۔ ایک احساس جرم تھا جو چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔
تب، انھی دنوں ایک رات چوکیدار کاکا میرے خواب میں آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جس راستے سنا تھا کہ گیا ہے، اسی پر دھیرے دھیرے ٹیک لگاتا واپس آ رہا ہے۔ میں دیوانے وار دوڑ کر اس سے لپٹ گیا اور روتے ہوئے اس سے یوں چلے جانے کا گلہ کرنے لگا۔ اس نے مجھے کس کر بھینچ لیا جیسے وہ کبھی ندی پر تلاشتے ہی جکڑ لیا کرتا تھا، پھر میری پیٹھ سہلاتے ہوئے نہایت محبت سے گویا چمکارتے ہوئے بولا، "ارے، میں یہیں تو ہوں۔ بس، چپ کر جا۔۔۔ بھلا ایسے بچوں کی طرح بھی کوئی رویا کرتا ہے؟"۔ اور میری ہچکیاں تھیں کہ تھمنے میں نہ آتی تھیں۔
جاگا تو رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ اس خواب سے من پتی کے موافق ہلکا ہو رہا اور کچھ چین بھی آ گیا پر اب غور کرتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ اٹھارہ برس اس کے ساتھ بیتا کر بھی وہ اجنبی ہی تو رہا۔ ہم جو کاکا سے آشنا تھے، محمد فریدون کو کہاں سمجھ پائے؟ محمد فریدون کو لوگ ہمارے گھر کی نسبت سے جانتے تھے، چوکیدار کاکا کو کہاں تلاش کرتے؟
بات اتنی سی ہے کہ چوکیدار کاکا حُب اور خدمت کی ایسی پود تھا جسے علاوہ اس کے کچھ سروکار نہ رہا۔ یہ مثال وادی کے جنگل کی طرح رہا جو رقبہ گھیرے بے مصرف سا نظر آتا ہے۔ اس جنگل کی جوانی دھرتی کو غیر محسوس انداز میں سکھ بانٹتے اور زمین کی شان بڑھاتے بیت جاتی ہے جبکہ بڑھاپا جل کر سردیوں میں  ٹھٹھرتوں کو گرماتے ہوئے کٹ جاتا ہے۔ آخر کو بس راکھ بچ رہتی ہے جو زمانے کی مٹی میں بکھر کر یوں گندھ جائے کہ وجود تو کہیں باقی نہیں رہتا البتہ موجود تادیر کھیتیوں کو زرخیز رکھتا ہے۔

(مارچ، 2013ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر