چادر اور چاردیواری

شفی کے باڑے میں چوری ہوئی تو تھانے سےچوتھے ہفتے ہی کورا جواب مل گیا۔ حصے پر پلی بھینس اور تین بکریاں تو گئی ہی تھیں، تھانے کچہری کے چکر اور  گاؤں کے عذر یوں کی مدارت میں جمع پونجی، میلی چاندی کا تاری زیور اور ڈیڑھ ماہ کا اناج بھی خرچ ہو گیا۔ اس سارے قضیے میں اسے تازہ مزدوری کا موقع بھی نہ ملا تو نتیجہ گھر میں کھانے کے لالے پڑ گئے۔ چور بیٹ کے علاقے سے دھمکے تھے اور واپس وہیں جا چھپے۔ اب دریا کے ساتھ اور بیچ پاٹ کی خشکی میں پولیس انھیں تلاش کرنے سے قاصر تھی۔ قاصر تو تھانے والے رپٹ لکھنے سے بھی تھے، بس علاقہ نمبردار کی سفارش کام آئی اور رپٹ درج ہو ہی گئی۔ جب شفی کی جیب میں ٹکا بھی نہ رہا تو تھانیدار نے اسے یہ کہہ کر کُوڑے منہ ٹرخا دیا کہ اطلاع ملی تو وہ خود اسے کہلوا بلائے گا۔ سرزنش علیحدہ سے کی کہ ڈیرے کی گھیر چار دیواری ہوتی تو نقصان سے بچت ہو سکتی تھی۔
شفی کا ڈیرہ بڑے بند سے خاصہ باہر دریا سے کوئی تین میل پر بسا ہوا تھا اور اس کے باپ دادا پشتوں سے یہاں بستا چلا آ رہا تھا۔ بڑا بند بارہ فٹ چوڑا اور اس کے دگنے اونچا، دبائی ہوئی مٹی کی دیوہیکل دیوار معلوم ہوتا تھا۔ اس بند کے اندر ستر ہزار آبادی والا ایک شہر اور مال کے ریکارڈ میں داخل چالیس سے زائد دیہات آباد تھے۔ نئی اور چھوٹی چھوٹی بستیاں اس کے علاوہ تھیں، جو کبھی کسی شمار میں نہیں رہیں۔ شہر کی سہولت کے لیے سرکار نے بند کے اوپر روڑی ڈال کر پکی سڑک بھی بنا دی تھی جو آبادی سے باہر چھکڑوں کے لیے متبادل راستے کے کام آتی تھی۔ اب کچھ سال ہوئے تھے، دریا کی بدمعاشیاں پہلے سے بڑھ گئی تھیں۔ دریا ہر سال زمین کا کچھ رقبہ کاٹ کر خود میں بہا لیتا اور اپنے پیچھے چمکتی مگر بے جان ریت بھرتا جاتا۔ زاتی زرعی وراثت یوں ہی غارت ہوتے دیکھی تو شفی کے باپ نے بھی دریا کے جواب میں اپنی بدمعاشی دکھائی اور دریا سے ہٹ کر سرکاری زمین ہتھیا لی۔ جیسا باپ، ویسے ہی بیٹے نے بھی اس حرام کی زمین پر کاشت جاری رکھی اور گھر بھر کے پیٹ کا جہنم حلال اناج اگا کر بھرنے لگا۔ جیسے تیسے ہو، شفی کی اپنے ہم عصروں سے اچھی ہی بسر ہو رہی تھی پر ذمے لگی کے حساب سے اس کی مشکلات ان سے پھر بھی کسی طور کم نہیں تھیں۔ اناج تو ہو جاتا تھا مگر ہر سال وہ اپنے ہاتھ سے سارا ڈیرہ تنکا تنکا کر کے اکھاڑتا اورمہینوں کڈے اور ڈھور ڈنگر سمیت سڑک پر گھٹیا چادر اور نام نہاد چار دیواری کے آسرے تمبوؤں میں گزارہ کرتا۔ جب دریا کے زور ٹوٹ رہنے کے دن آتے تو واپس آ کر گندم اگانے سے پہلے اپنا گھر الف سے دوبارہ کھڑا کرنے کا اچھا خاصہ جتن بھی کرتا۔ ایسے حالات میں تھانیدار کی ڈانٹ کا وہ کیا جواب دیتا کہ اس کے ڈیرے کے گرد چار دیواری کیوں نہیں تھی اور اس کے ڈھور ڈنگر کاہے کو ہنکائے گئے؟
جب تک باپ زندہ رہا، یہ اس کا دایاں بازو تھا اور پھر دو بھائی بھی ساتھ تھے تو سالہا سال کی اس ہجر مشق میں کوئی کوفت نہ رہی۔ اب وہ اکیلی جان اور بھرے پرے گھر کی ذمہ داری اس کے کاندھے پر تھی۔ اس کے تئیں بیوی نرینہ اولاد نہ پیدا کر سکی کہ اس کو حوصلہ رہتا اور خود شفی کے بھائی بند بوجوہ گھر کی عورتوں کی ہی ناچاقی، علیحدہ ہو گئے تھے۔ اس سارے کشٹ سے وہ خاصا نالاں تھا اور اب رہی سہی کسر چار ہفتے پہلے ہوئی چوری نے پوری کر دی۔ کہاں تک برداشت کرتا، اس کی کہو بس ہو گئی۔ وہ ایک عرصے سے بند کے اس پار بسنے کی خواہش تو رکھتا تھا پر اس واقعے کے بعد پختہ ارادہ باندھ لیا کہ کچھ بھی بن پڑے، مر جائے پر اپنے ڈیرے کو بڑے بند کی حد میں لے جائے گا۔
بات صرف بیٹ کے کچے کی مشکلات کی نہیں تھی، خواہش اس لیے بھی زیادہ تھی کہ کچے کا متبادل،  بڑے بند کے اندر اچھا خاصا بندوبست تھا۔ شہر اور بڑی سڑک نزدیک تھے، آبادی بہتیری اور لوگ خاصے امن میں بس رہے تھے۔ چوکی والوں کو بھی آبادی کی وجہ سے خاصہ خیال رکھنا پڑتا تھا اور موسمی بیماریوں کے ٹیکے لگانے والے بھی  تنگی سے ہی سہی، بالآخر آ جاتے تھے۔ یہ سب نہ بھی ہو تو یہ کیا کم تھا کہ بڑے بند کی دیوار   نے دریا کی بدمعاشی اور بیٹ کی تنگی کو روک لگائی ہوئی تھی، سرکاری سہولتوں اور چوکی کے امن کو اپنے اندر کے علاقے میں ٹھہرایا ہوا تھا۔ شفی جب بھی شہر جاتا اور بڑے بند کے اس پار آنا ہوتا تو ادھر کے باسیوں سے اسے خدا لگی کی جلن ہوتی۔ جل مرنے کی بات بھی تھی کہ یہاں سال میں دو فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ جن میں ایک سے پیٹ اور دوسری سے جیب بھر رہتا تھا۔ پھر بندوبست کا کاشتکار جو بھی کاشت کرے، سرکار بخوشی قرضہ دے دیا کرتی۔ شہر کے بیوپاری اسی وجہ سے ادھار پر بیج، کھاد اور چھڑکنے کو دوائیں پیچھے لگ کر بیچا کرتے تھے۔ شفی جیسے کچے کے خواروں کو تو یہ سب نقد میں بھی مشکل سے اور کاشت کے موسم کے بالکل آخر میں جا کر کہیں منت ترلہ کرنے کے بعد میسر آتا تھا۔ سبب اس کے، پچھیتی کاشت کرنی پڑتی اور خرچہ بڑھ جاتا۔ پھر یہاں کھالے تھے، جن میں سرکاری پانی تھا جس کے لیے بس کدال سے کھالے کا منہ کھرچواور کھیت میں پانی جاری ہو جاتا۔ کچے میں تو ٹیوب ویل کا خرچہ ہی اتنا ہو رہتا تھا کہ شفی جیسے قسمت کے کھوٹوں کے لیے فصل کو تین سے زیادہ پانی پلانا ممکن ہی نہیں تھا۔  یوں فصل پیاسی اور بچے بھوکے رہ جاتے۔ فصل کی سہولت تو تھی ہی، ویسے بھی دیکھو تو لوگ خوشحال اور مطمئن نظر آتے تھے۔ عورتیں بھرے جسموں والی اور چاندی سے لدی پھندی۔  پھر یہاں کے بچے، بیٹ کے بچوں کی طرح گندے مندے ہی تھے پر فرق یہ تھا کہ یہ گول گپے جیسے پھولے ہوئے اور ان کے پیٹ خالی نہیں تھے۔ شفی کے لیے بند کے اندر کے بندوبست میں پناہ تھی، امن کا آسرا تھا اور دنیا مثال جنت تھی۔ اور یہ سب بڑے بند کی چہار دیوار کی بخشی نعمتیں تھی۔
 بند کے اندر جا بسنے کا شوق اتنا پلا کہ شفی نے اپنی ساری فراغت ترک کی اور شہر میں مزدوری ڈھونڈ لی۔ فصل کے ایام کے علاوہ کوئی دن خالی نہ چھوڑا۔ سویرے منہ اندھیرے گھر سے روانہ ہوتا اور دن بھر کی کڑی مزدوریوں میں گھل کررات گئے واپس لوٹنا ہوتا تو جسم چکی میں پسا چورا محسوس ہوتا۔ تھک ٹوٹ جاتا مگر شوق اس کو دوڑائے جاتا رہا۔  ڈیڑھ سال کی جان توڑ مزدوری کے علاوہ شفی نے اپنے پورے کڈے کا پیٹ کاٹا، تول مول میں حسب حال ڈنڈی بھی ماری اور دو فصلوں میں جتنی ممکن تھی بچت بھی کر ڈالی۔ مگر آخر میں جب حساب سامنے رکھا تو عیاں یہ ہوا کہ اس سب کے باوجود بڑے بند کے اندر کا آسرا ممکن نہ تھا۔ اس کے اندازوں کے برعکس بند کے اندر زمین خریدنی اتنا سہل نہیں تھا۔ آخر جب مجبور ہوا تواپنے دادے کا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا جو شفی کے باپ نے ترک کر دیا تھا۔ شیدے ماچھی سے سُن گھن لے کر ایک رات اسی کی کشتی میں سوار ہوا اور دریا کے پاٹ میں خشک کچے پر اتر گیا۔ رات دونوں دریا کے ساتھ ہی ریت میں دبکے رہے اور جوں ہی تیسرے پہر موقع ملا، چوہدری سلامے کی تین بھینسیں عارضی  باڑے سے ہانک کر کشتی میں لاد لائے۔ باپ اور دادے کی اپنائی عادت پھیرنے پر شرمندگی تو تھی پر کیا کرتا، بڑے بند کے اندر کا سکھ بھی تو آسان نہیں تھا۔ خود کو تسلی یوں بھی دی کہ وہ باپ کی آل اولاد کے آرام کے لیے ہی تو منکر ہوا تھا ورنہ اکیلے نفس کو بیٹ کے کچے میں بس رہنے میں کیا دشواری ہوتی؟
شفی نے بڑے بند میں ڈیڑھ بیگھے زمین کا انتقال اپنے نام چڑھایا تو ڈھور ڈنگر چوری ہوئے دو سال بیت چکے تھے۔ شفی کے لیے بڑے بند کے گھیرے میں زمین کا ٹکڑا ملنا جنت میں یاقوت سے بنا فرش عطا ہونے جیسے تھا۔ ڈیڑھ سال کی سخت مزدوری، باپ کے منہ کی بات رد کرنے کے علاوہ بند کے اندر کے زمینداروں کو زمین بیچنے پر راضی کرنا اچھا خاصہ تردد تھا۔ اور پٹواریوں کی جھڑکیاں اور مال کے منشیوں کا تحکم اس تمام کے علاوہ۔ اس نے تو اچھی خاصی قیامت کا صراط بھگتا کر یہ زمین حاصل کی تھی۔ اپنی جنت پائی تھی۔ اب بڑے بند کی دیوار کے اندر امان مل گئی تھی۔ بس چھوٹی سی خلش تھی کہ جتنا پیسہ وہ خرچ کر پایا تھا اتنے میں یہ زمین کا ٹکڑا اسے آبادی کی آخری بستی سے بھی کوئی ڈیڑھ میل دور ملا تھا۔ شفی اس بابت خود کو یوں سنبھالا دے رہا کہ بڑے بند کے اندر کوئی بھی چیز کم مائیگ نہیں ہوتی۔
یہاں وہ اپنے ارمانوں کا مستقل مکان کھڑا کر سکتا تھا اور ایسا کر بھی دکھایا۔ اپنے ہاتھ سے بنیادیں کھودیں اور اس پر جہنم جیسی تپتی دوپہروں میں بھی یک تنہا کچی اینٹیں دھوپ میں سُکھا کرخود ہی دیواریں چُنیں۔ اندر کی لیپا پوتی اور سدھار میں بیوی اور بیٹیوں نے ہاتھ بٹایا۔ چھت تاننے کو ایک گدھا گاڑی کا انتظام کر کے بیٹ سے چُن کر پرانے ڈیرے کا کاٹھ اٹھا لایا۔
اپنا گھر اگر جگرے کا حوصلہ بنا تھا تو بڑے بند کی دیوار کا شفی کے دل میں گھر تھا۔ یہ دیوہیکل دیوار، جیسے کہ  ظاہر تھا امن اور حفاظت کی ضمانت تھی اوریہ بھی تاڑ رکھا تھا کہ بڑے بند کے اندر کی جتنی آبادیاں تھیں اس میں ہر مکان کی اپنی چار دیواری کھنچی ہوئی تھی۔ بیٹ کے کچے میں اس کے کڈے کا تو ایک بھی کواڑ تک کورا نہیں تھا۔ بیٹ میں چار دیوار کا کوئی فائدہ رہا ہو یا نہیں، یہ ممکنات میں بہرحال نہیں تھا کہ ہر سال فصل سے پہلے وہ بمشکل کوٹھے کی دیواریں چن پاتا تھا، چار دیواری کہاں سےاٹھاتا؟ بندوبستی لوگ بے شک خود کی ہوشیاریوں کے سبب سہولت سے بستے ہوں پر یہ بات طے تھی کہ ان کی زندگیوں میں یہ امن بڑے بند کی دیوار نے ہی کرامت کیا تھا۔ بڑا بند لوگوں کے دیوتا جیسے تھا۔ یہ دیوتا اگر ان بندوبستیوں کے لیے کچے کی مشکلات کے سامنے تنا کھڑا تھا تو وہیں ہر سہولت اٹھائے سامنے کورنش بجا رکھتا تھا۔ جس کے لیے یہاں کا ہر گھر دیوتا کی شکر گزار پرستش میں چاردیواری ضرور کھینچتا ہے۔ یہ چار دیواری بند کو ہر بندوبستی گھر کی بلی تھی، جو ان گھروں کو پہلے سے بڑھ کر تحفظ بخشتی تھی۔ بند کے اندر اس رواج کے پاس میں شفی نے بھی نئے گھر کی چاردیواری کھینچنے کی سوچ لی۔
جیسے بندوبست میں زمین کا شوق اس کے لیے کٹھن تھا ویسے ہی گھر کی چار دیواری بھی لوہا نگلنے جیسا ثابت ہوا۔ دونوں ہی  کام اس کی اپنی مرضی تھے۔ اپنی مرضی ہمیشہ اپنے ساتھ تلخی لاتی ہے۔ رغبت تو تھی مگر شکرگزار ہونا اور بے مصرف نظر آنے والی سہولت پر خرچنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جیسے شیطان بہکاتا ہے، من بھی بھاؤلا ہو جاتا ہے۔ شکرگزاری کی چاردیواری گو مزید امن دیتی، یہ عبادت جیسے مشکل ہی محسوس ہوئی۔ ایک بار پھر گھر کا پیٹ کاٹنا پڑا، چند ماہ کٹھن مزدوری اور اب کی بار فصل کی بجائے اپنی بوڑھی ماں کے علاج میں ڈنڈی مار گیا۔ اس کا اپنا گھر جیسے تیسے تعمیر ہو گیا تھا اور اس میں جو بھی ٹیڑھ تھی ہوتی رہے، یہ ریت رسم اورعبد عباد کا معاملہ تھا تو اس کے لیے ایک پورا ہفتہ مستری بھی بلایا کہ کوڑ کونجھ رہنے کی گنجائش نہ رہے۔ یوں گھر کے چار چہار آٹھ فُٹ اونچی دیوارکھڑی ہو گئی۔
پھر آرائش کی باری آئی تو وہ بھی نرالے ڈھنگ سی کی۔ بیوی اور بیٹیاں گارا گھول کر اسے تھماتیں اور وہ دیوار پر نرمی سے لیپ تھوپ کر گھنٹوں لکڑی کا گرمالا پھیر کر برابریاں کرتا رہا۔ چونا گھول کر جہاں باقی گھر میں ایک پرت پھیرا تو چار دیواری پرخصوصاً اندر سے دو اور باہر تین پرت گرائے۔ اسی طرح مزید شوق میں باہر دھاریاں ڈال کر ڈیزائن بھی بنائے۔ بڑے شہر کے مکانوں کی نقل میں بازار سے کانچ کی ڈیڑھ سینکڑا بوتلیں اٹھا لایا اور کرچی کرچی، ھاتھ پر موٹی ربڑ کے دستانے چڑھا، ساری کانچ چار دیوار ی کی موٹائی میں گاڑھ دیں۔ ناتجربہ کاری کے سبب ہاتھ جا بجا چر کر لہولہان ہو گئے اور پھر کئی ہفتے درد سے کراہتا معذور ہوا پھرتا رہا۔
چند ماہ میں گھر ہر لحاظ سے مکمل تھا۔ یہاں ماں کے لیے علیحدہ کمرہ تھا۔ اپنی بیوی کے ساتھ اپنے کمرے میں سوتا تھا اور بیٹیوں کے لیے تیسرا بڑا کمرہ الگ تھا جو دن میں بیٹھک بنا دیا جاتا۔ ہر کمرے کا اپنا کواڑ بھی تھا اور برآمدہ ہر وقت جھاڑو پھیر کر اور پانی چھڑکے تازہ رہتا تھا۔ شفی نے گھر کے اندر کچھ پھل دار درختوں کی قلمیں اور کونے میں مرلہ دو پر سبزیاں بھی بھی اُگا لی تھیں اور ادھار پر نلکا بھی کھدوا لیا۔ ڈھور ڈنگر کے لیے بھی باڑے کا چھپر علیحدہ بنا، جس کے اندر کھرلی اور پانی کا تالاب سیمنٹ سے بنوایا۔ اب شفی پوری توجہ سے فصل کو وقت دیتا اور شہر قریب تھا تو مرضی سے مزدوری کرتا۔
یہ سب کرامت تھی۔ عطا تھی۔ یہ سب تقدیرکا لکھا اور تدبیر کا کھرچا ہوا اسم تھا۔ بڑے بند کا سایہ اور چار دیواری کا تحفظ اس کی زندگی میں امن اور سکون تو لایا ہی، ساتھ دولت بھی آنے لگی۔ سال بھر بعد ہی گھر کے باڑے میں دو بھینسیں بندھی تھیں اور کئی بکریاں ممیا رہیں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس نے اپنی بیٹیوں کے لیے کچھ جہیز کا سامان، گوٹے والے کپڑوں کے جوڑے اور اپنی حیثیت کے مطابق چاندی بھی جڑوا لی تھی۔ شفی کو خود کی قسمت پر ناز تھا اور جاننے والے اس کی عقلمندی کی مثالیں دیا کرتے، یہ سب سوچ سن کر شفی کا اندر پھول کر کُپا ہو جاتا۔
جب تدبیر، تقدیر سے برتر لگنے لگے تو ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ روز و شب یوں ہی بسر ہوتے جاتے تھے مگر ایک رات جب دوسر پہر گزرتا ہو گا، شفی اپنے کمرے میں بیوی سے لپٹا سویا پڑا تھا کہ باہر کچھ آہٹ سنائی دی۔ بیٹ کا کچا ہوتا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا مگر جب سے چاردیواری ضامن ہوئی تھی، یہ عادت بھی آئی گئی ہوئی۔ دوسرے کمرے سے ماں نے پکار کر ہوشیار بھی کیا پر شفی نے توجہ نہ دی۔ کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ شفی کے کمرے کی سانگل ایک چھناکے سے چھپکے کے ساتھ اکھڑی اور کواڑ دھماکے سے چار وا ہو گیا۔ یہ دونوں بوکھلا کر جاگے توکیا دیکھتے ہیں کہ دو نقاب پوش کمرے میں گھسے چلے آرہے ہیں۔ دائیں طرف والے نے بندوق آگے کو جھکا کر گگھو کی طرح گھمائی۔  بندوق کا دستہ شفی کے کندھے میں ہتھوڑے کی طرح رسید ہوا اور یہ کراہتا ہوا فرش پر پیٹھ کے بل گر گیا۔ نقاب پوشوں نے پھر اسے اوپر ابھرنے کا موقع نہیں دیا اور پیٹ پیٹ کر ادھ مویا کردیا۔ اسی دوران ایک نقاب پوش نے گھگھیاتی ہوئی بیوی کو چوٹی سے پکڑ کر کونے میں دبکا لیا اور اس پر بندوق تان، ہاتھ پاؤں باندھے اور منہ میں اسی کی چادر ٹھونس دی۔ ایک ایک کمرے کی تلاشی لی گئی اور جو کچھ ہاتھ آتا رہا، گتھیوں میں بھرتے گئے۔
حملہ آور حلیے اور چال ڈھال سے بیٹ کے کچے والے دکھتے تھے پر جس اطمینان سے وہ لُوٹ مار کر رہے تھے اور یوں بے دھڑکے گھر کے اندر گھسے، یہ کسی طور بھی ان کا طریق نہیں تھا۔ کچے فرش پر پٹے ہوئے جسم سے ٹیستے درد کو نگلتے ابھی شفی اسی نکتے پر وچار کر رہا تھا کہ برابر کے کمرے سے بڑی بیٹی کی دبائی چیخ سنائی دی۔ اسے سنتے ہی بیوی  تڑپ کر اٹھی تو اس کے سر میں بندوق کی نال سے وار ہوا۔ یہ وہیں گر پڑی اور لگتا تھا کہ اب نہ اٹھ سکے گی۔ اس سے جھپک کر شفی نے پھر دیکھا کہ بوڑھی ماں کو ایک نقاب والے نے لڑھکا کر برآمدے میں آن ڈھایا ہے۔ بیوی کا حال دیکھ کر اس نے اٹھنے کی ہمت ہی نہ کی مگر جب نقاب پوشوں نے باہر کھلے صحن میں اس جگہ پر جہاں باہر کے لیے ٹیلوں پر سے بھی چاردیواری کی پوری اوٹ تھی، اس کی دوسری بیٹی کے ساتھ باری باری زبردستی کرنے کو چادر کھینچی تو شفی اک زرا اوپر کو ابھرا اور ویسے ہی واپس گرایا گیا۔ آنکھوں کے سامنے اب تارے ناچ گئے اور ہلنے سے بھی رہ گیا۔ جوں جوں بیٹی کی چیخیں اونچی ہوتی گئیں، ہولے ہولے اس کے دل کی دھڑکن جواب دیتی چلی گئی اور بالآخر سینے کو تھامے شفی کا جسم ایک طرف کو لڑھک کر ٹھنڈا ہو گیا۔
اگلی  صبح لوگوں نے دیکھا کہ شفی کے گھر میں کچھ ڈھور ڈنگر توویسا ہی کھرلی سے لگا چر رہا ہے مگر زنانہ چادروں کے چیتھڑے چاردیواری کی کانچ میں الجھ کر تار تار ہو رہے ہیں۔ جو سکون اور تحفظ شفی نے چار دیواری سے اپنے آنگن میں تانا تھا، پچھلی رات اس سے کہیں زیادہ بے خوف ہو کر نقاب پوش گھر کی عزت سے چادریں کھینچ کر اسے نوچتے رہے۔

(افسانہ)
(اپریل، 2013ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر