حلال رزق

تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہوجاتا ہے۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں جو صحرا کے اندرون پھیل جاتے ہیں۔حوالے کاآخری سنگ میل قصبہ پچپن میل ہو تو دائیں جانب سے نکلنے والے ایسے ہی اک کچے راستے پر کھوہ والا، تیرہ میل اندرون تھل ٹیلوں کے بیچوں آباد ہے۔
پکی سڑک سے نکلنے والا یہ کچا رستہ کھوہ والا کے وسط میں جہاں پنچائیت کا چبوترہ واقع ہے، پہنچ کر ختم ہو رہتا ہے۔ اس کے برابر میں کچی اینٹیں گارے سے لیپ کر ایک مسجد کھڑی ہے جو دیکھنے میں بالکل مسجد نہیں ہے۔ اول اس کے روایتی مسجدوں کی طرح کوئی مینارہ نہیں، پھر قبلہ رخ دیوار کے وسط میں محراب کا کُب بھی نہیں نکال رکھا۔مسجد کے نام پر یہ دس فٹ کا سادہ سا لمبوترہ مستطیل کمرہ ہے۔ سب سے اگلی صف کے بیچ کھردری اون کا مصلیٰ بچھا ، بغل میں بودی لکڑ کی ایک اونچے پایوں والی کرسی منبر بنا کر محراب کا دھوکہ دے رکھا ہے۔ بقایا جگہ پر صرف تین صفوں کی گنجائش ہے جو پتلی صحرائی چلوتر تیلیوں کی بُن کر اہتمام سے بچھا رکھی ہیں۔ باہر برآمدہ پکی ریت سے لیپ کر ہموار ہے جہاں کبھی کبھار تبلیغی جماعت آ نکلتی تو اپنا چولہا سلگا لیتی تھی، یہیں مولوی امین کا حجرہ بھی ہے۔ پنجائیت کے چبوترے ، مسجد اور اس کے پچھواڑے میں کنویں کے گھیر چہار پھیرکھوہ والا گاؤں آباد ہے۔ گھر، مٹی کے ڈھارے یہاں وہاں بکھرے ہیں۔ صحرا کے ٹیلوں کی مانند انکی کوئی ترتیب نہیں، پھر بھی جیسے ٹیلے یک شان ہوتے ہیں، ویسے یہ بھی ایک رنگ اور ان میں بسنے والے سیدھے سادے صحرائی، ٹیلوں کی مانندخصلت میں اندر باہر یک رنگے لوگ۔
یہ کل وقتی کاشتکار مزدوروں کی بستی ہے جنھیں کدال چلانے، گوڈی کرتے، ڈنگر چار اور وزن ڈھونے کے سوا کچھ سمجھ نہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو جز وقتی نائیوں کا کام بھی جانتے ہیں، کپڑے سینے ہوں یا جوتوں کی مرمت، یہ کام عورتیں بخوبی کر لیتی ہیں تو درزی، موچی کی کوئی حاجت نہیں۔ کمہار وں کے البتہ دو گھرانے ہیں جو کل وقتی یہی قماش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ گاؤں بھر کے لیے مٹی کے برتن گھڑتے، ساتھ بڑے چوک میں بھی بیچ آتے سو نسبتاً خوشحال بھی ہیں۔
بستی گو کاشتکاروں کی ہے مگر کاشت کرنے کو بس کچھ ہی ایکڑ ہیں جو کبھی ٹیلے ہوا کرتے تھے۔ آج کے کھوہ والا کے پشتوں نے کبھی انھیں ہموار کر کے کھیت بنا لیے تھے ورنہ یہ اسی صحرائی ریت کے چٹیل کیے میدان ہی ہیں۔ معاملہ یوں ہے کہ ریت جہنم سی گرم رہتی ہے تو زرخیز مٹی کی پرت بے بس ہو جاتی ہے۔ مزید زمین کا پانی سیسے کے بھاری پن سے کڑوا کسیلا ہے ہونے کے سبب مارچ سے نومبر تک سبزہ اگنے کا سوال ہی نہیں۔جاڑے میں بھی اس میں جان بھرنے کو سارے گاؤں کے کل نفس جت جائیں تو کہیں جا کر صرف ربیع فصل کاشت ہوتی ہے۔
-----
اکتوبر چڑھ آیا ہے، بسبب گاؤں بھر میں گہما گہمی ہے۔ وہ مرد جو پچھلی فصل اٹھا کر مزدوری کرنے نکلے تھے بیج اور کھاد لے کر واپس لوٹ آئے ہیں۔ ناریاں جنھیں ساری گرمیاں تپتی ریت سے زیادہ اپنے محبوب کی یاد جلاتی رہی ہے، دیدار نصیب ہوتے ہی ان سانولے چہروں پر لالی در آئی ہے۔ پھر بیویاں ہیں جنھوں نے سال بھر اپنے مجازیوں کے گھر بار کی رکھوالی کی ہے ان کے لیے جہاں چڑھتا جاڑا زمین کی ہریالی کا پیغام لایا ہے وہیں ارمان بھی جاگ اٹھے ہیں۔ اگلی فصل اٹھے گی تو اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ ان کی گودیں بھی بھر رہیں گی۔ صحرا کےان مضبوط جوانوں کے کمزور، بوڑھے ماں باپ بھی ہیں مگر ان کا حال کوئی نہیں بتا سکتا۔ ان کے سینے میں جو ٹھنڈ بیٹوں کی واپسی نے تانی ہے اس کا نہ تو کوئی اندازہ کر پائے گا اور نہ حساب رکھ سکتا ہے، صحرا کی حدت تک اس ٹھنڈک کے سامنے ہیچ ہے۔ اکتوبر کی تاثیر، سب سے بڑھ کر کاشتی کھیتوں پر عیاں ہے۔
یہاں، ہل کے آگے بیل کی جوڑیاں جوت کر ریت کےاوپر زرخیز مٹی اتھل پتھل کی گئی تو خدا خبر کہاں سے رنگ برنگے پرندے اڑ اڑ آئے۔ یہ ہل کے کھرپوں کے پیچھے اڑتے جاتے ہیں، چُن چُن کر صحرائی کیڑے چونچوں میں دبائے چلے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے بیل آگے ہل چلاتے ہیں، ان کے پیچھے عورتیں لمبے بانس کے سرے پر ٹکائے دستی کھرپوں سے روڑے باریک کرتی جاتی ہیں۔ پھر بڑے بوڑھوں کو کھیتوں میں بلا لیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں سارے رقبے پرپہلے زہر لگا بیج اورپھر کھاد کی بجائی کر کے ریت کو دوسرے ہل سے دبایا گیا تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کھو ہ والا کا ہر باشندہ خدا کے حضور اپنے پورے برس کی محنت یوں ویرانے میں سپرد کرنے کی عرضی ڈالتا ہو۔
ٹھنڈے پڑتے صحرا میں اصل رنگ اس وقت جوبن پر آیا جب پیٹر انجنوں سے پہلا پانی چھوڑا گیا۔جی جاندار تو رہے ایک طرف، بے جان ریت تک میں جیسے زندگی دوڑ گئی ہو۔ بچے جانگیے پہنے جہاں پانی کا منبع گرتا تھا، ریت کے کھڈوں میں کود پڑے۔ یہی پانی یہاں سے برآمد ہو کر ریت کے کھالوں سے ہوتا کھیت سیراب کرتا جاتا۔ جوان ریتلے کھالے سنبھالنے میں مگن ہیں تو بوڑھے پیٹروں کے پاس چارپائیاں ڈال کر کئی کئی گھنٹوں حقے گڑگڑاتے رہے۔
-----
گندم بو چکے تو کھوہ والا کی راتیں جاگنا شروع ہوئیں۔ شام کو ریت ٹھنڈی پڑتی تو سارا گاؤں چبوترے پر نکل آتا۔ کنویں پر آگے پیچھے کئی عورتیں سر پر مٹی کی گڑویاں اٹھائے رش لگاتیں۔ جوان لڑکیاں رنگ برنگے کپڑے پہن ، سج دھج کر نکلتیں ۔ کنویں پر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھنکھناتے قہقہے بلند رہتے، یہاں جوان لڑکے چبوترے پر بازیاں لگاتے ۔ بچے جمعراتوں کروڑہ مروڑہ کھیلنے میں مگن ہیں تو بوڑھے حقے سلگا، ریت میں دھنسی چارپائیوں پر بیٹھ کر ماضی ٹٹولتے رہتے ۔ تب ہر بار بحث گھوم پھر کر فصل پر جا ٹکتی۔ جیسے بابے سمدا ایک روز چارپائی پر لیٹے ،حقے سے دھواں بھر بھر نتھنوں سے ہوا میں اڑاتے ہوئے ساتھ مونڈھے پر بیٹھے شفیے سے کہنے لگا ،
"شکر ہے تیسرا پانی بھی لگ گیا۔ ابا تیسرے پانی پر خالص گھی میں حلوہ تلوا کر بانٹا کرتا تھا، اب تو خالص گھی بس سونگھنے کو ہی مل پاتا ہے۔ کہاں رہا اب وہ سستائی کا زمانہ۔۔۔" شمسو کمہار بابے سمدھے کو ماضی سے کھینچ کر واپس مدعے پر لے آیا تو اس نے مزید کہا، "بس دو پانی اور لگ جائیں تو کام اچھا ہو جائے گا۔ بس خدا کرے کہ ایک دو چھاٹیں بدل کی بھی برس لیں تو فصل جی اٹھے گی، اب تو بارش بھی پہلے کی طرح نہیں برستی، جب بدل آتا ہے تو خاصی دیر ہو جاتی ہے ،دانہ پک جاتاہے۔ مولا کا نام لیوا جو کم ہو گیا ہے ناں۔۔۔" اس پر شفیے نے جو ہتھیلی پر تمباکو رگڑ رہا تھا، کچھ کہنا ہی چاہا کہ مولوی صادق تسبیح کو روک لگا کر بیچ میں بول پڑا،
"باوے سمد، خدا کی رحمت تو اس کا خیال رکھنے میں ہے، اس کے گھر کی خدمت کرو گے تو وہ تمھارے رزق میں برکت ڈالے گا۔" شفیے نے مولوی صادق کی ہی ہاں میں ہاں ملائی،
"میں بھی یہی کہنا چاہتا تھا، اس بار فصل اٹھنے پر سب سے پہلے مسجد کی پچھلی دیوار اکھاڑ کر محراب بنوانی چاہیے، فرش بھی دیکھو پھر سے اکھڑ رہا ہے۔۔۔ اللہ بھلی وار کرے تو تین بوریاں سیمنٹ کی میرے زمے سہی۔۔۔"۔ مولوی صادق نے دبے لفظوں وظیفے میں اضافے کی طرف بھی توجہ دلائی توبابے سمدے نے چارپائی سے اٹھتے جھوٹے منہ یقین سا دلاتے اپنے بیٹے نور محمد کو پکارا کہ ڈھور ڈنگر تو اس نے سارا ہانک کر باہر چبوترے کے سامنے کیکر اور شریں تلے باندھ دیا تھا پر کھرلیاں ابھی تک ویسی ہی سوکھی پڑی تھیں۔
ان، جان پڑتے کھیتوں میں تب نور محمد، ڈنگر باہر باندھ کر، چبوترے پر سے نظر بچا کر نکلتا اور گاؤں سے باہر شمی سے ملنے جایا کرتا۔ نور محمد سمد کاشتکار کا بیٹا، سالہا سال صرف گندم بجائی اور فصل کٹائی کے لیے ہی گاؤں آتا۔ اس کے علاوہ پورا سال ٹھیکیدار کے ہاں سڑک کی مزدوری کرتا ، پتھر توڑتا، مسالہ گھولتا، یہاں تک جان مار کر تارکول تک چھڑکنے میں جت رہتا مگر جان کھوہ والا میں اٹکی رہتی، جہاں شمی نے اس سے پیمان کر رکھا تھا۔
شمی انیس سال کی سانولی رنگت والی، جیسے دمکتے سونے کی ڈلی ہو۔ شاویز کمہار کی بڑی لڑکی تھی جو گاؤں بھر کے لیے برتن بناتا ہی تھا، شہر کے دو ایک بیوپاری بھی اس سے لمبی گردن والی صراحیاں، گلدان اور پھولے ہوئے ڈولے بنوا کر لے جاتے تھے۔ اللہ کی دین، اچھا خاصہ دھندہ تھا، سو شمی اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے خود بھی خاصے ڈیل ڈول والے برتن بنانے لگی تھی۔ شمی کے ہاتھ چپٹے اور انگلیاں لانبی تھیں۔ شاویز کہا کرتا تھا کہ شمی سُچی کمہارن ہے، سنہری مٹی کی مورت، مٹی میں جان ڈال دینے والی۔ شاہ ویز صحیح کہا کرتا تھا، اس کا جو رنگ، قد کاٹھ نکالا تھا اور پھر جب دو سال قبل نور محمد سے پیمان باندھا تو جیسے جی توڑ مزدوری کے مارے اس مٹی کے پتلے میں واقعی جان ڈل گئی تھی۔
تیرھویں کا چاند اور ریت کے ٹیلے ٹھنڈی سپید روشنی میں چمکتے، نظر میں ایسی مٹھاس گھولتے تھے گویا مصری کی ڈلیاں کُوٹ کر یہاں وہاں ڈھیریاں بکھیر رکھی ہوں ۔شام بھر پرندے چہچہاتے اور مکوڑے بولتے۔ صحرائی سانپوں کی سنسناتی آوازیں تک دلکش معلوم ہوتیں۔ شام کے پھیلتے سائے میں جب سارا گاؤں چبوترے پر سرشار تھا،  نور محمد نظر بچاتا اور یہاں تک دیکھ بھال کر پہنچا تھا، شمی کو دیکھتے ہی بے باک ہو گیا۔ اسے اپنے مضبوط بازؤں میں بھر لیا اور یہ سمٹی ہوئی بیخود اس سے آن چپکی۔ اس پر یکدم ہی نور محمد کو اپنا گُٹھا ہوا مضبوط جسم پگھل کر شمی کے وجود میں گھلتا محسوس ہوا، جس نے اپنی نرم روئی کے جیسی پتلی بانہیں اس کے گرد یوں لپیٹ رکھی تھیں جیسے ڈر ہو کہ اگر ان کو ڈھیلا چھوڑ دے گی تو خود کلال کے تازہ مٹی کے کاسے کی طرح لڑھک جائے گی۔ نور محمد نے اپنے سینے میں کھبتا ہوا شمی کا چہرہ انگلیوں کی پوروں سے دھیرے سے اوپر اٹھایا تو اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ نور محمد ایک دم سے پیچھے ہٹ گیا اور شمی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ سہلاتے پچکارتے ، دیر بعد شمی معصوم بچے کے جیسے ہچکیاں لیتے ہوئے بتانے لگی،
"ابے نے میرے رشتے کی بات کی ہے ، تم میرا ہاتھ مانگ لو" نور محمد کو سانپ سونگھ گیا،
"مگر میرے پاس تو ابھی بیاہنے واسطے رقم نہیں ہے، تو ابے کو منا لے، بس دو سال مزید دیکھ لے۔" اس پر شمی پھٹ پڑی،
"وہ نہیں مانے گا۔ ماں نے میرا جہیز باندھ لیا ہے، چاندی تک منگوا رکھی ہے اور پھر تو جانتا ہے کمہاروں کو۔ رشتہ مانگو نہیں تو بھی ایکدم ہو جاتا ہے، تو بس مجھے اپنے ساتھ لے جا۔" نور محمد نے شمی کو بہتیرا سمجھایا کہ صحرائی لوگ یوں پیچھے نہیں ہٹا کرتے، اپنی بنیاد چھوڑنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی فکر تھی کہ شمی کہاں اس کے ساتھ پردیس میں خوار ہوتی پھرے گی۔ بالاخر یقین دلانے کو فصل کی تسلی ہی کام آئی۔ طے یہ ہوا کہ اس بار فصل اٹھے تو وہ ساری بچت اس کے باپ کے قدموں میں لٹا دے گا بس وہ بہار تک اسے منا لے۔
-----
لق و دق صحرا کے ریت کے ٹیلوں میں کھوہ والا کے باہر چند ایکڑ سبزہ بہت بھلا معلوم ہورہا ہے۔ دور سے دیکھیں تو جیسے کوئی سبز ہرا قالین بچھا ہو اور اگر فصل کے بیچ کھڑے ہو جائیں تو گویا کھیتوں کے باہر ٹیلوں کی بے جان ریت سورج کی حدت سے نہیں بلکہ اس رقبے میں پنپتی زندگی سے حسد میں جلتی ہو۔ سورج کی تپش بھی اس رقبے پر مہمیز کا کام دے رہی ہے۔  ہر جاگتے دن کے ساتھ فصل میں جان پڑتی جاتی ہے تو ویسے ویسے کھو ہ والا کے باسیوں کے بھی جی کھلتے جا رہے ہیں ۔ اس برس تو بادل بھی ابھی سے گھر گھر آ ئے ہیں، سویر کے تڑکے میں مینہ برسنا شروع ہوا ہے تو صحرا میں صبح نکھر گئی ہے اور کھیت ہیں کہ جیسے نئی آن بان سے تنے کھڑے ہیں۔ آسمان سے برسا پانی بے شک زمین سے کھینچے ہوئے سے بڑھ کر اثر دکھا رہا ہے۔ پیٹ کی آگ توبجھنی ہی ہے اب تو ایسا لگتا ہے کہ مسجد میں سفیدی کے ساتھ ساتھ مولوی امین کا وظیفہ بھی بڑھ ہی جائے گا، خدا بے شک بہت مہربان ہے۔ شمی اس شام بہت خوش ہے کہ فصل پر سویرہوئی چھاٹ نے اس کی امید بھی بڑھا دی ہے۔
صحرا میں بارش کے بعد سے فضا مرطوب ہو رہی ہے اور سبز فصل کے بیچوں بیچ کھڑے ہونا اب تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ حبس بڑھ گئی ہے تو اس کا نتیجہ کچھ ہی دنوں میں یہ رہے گا کہ فصل سنہری ڈانڈے بنی لہک رہی ہو گی۔ اسی سبب پورے کھوہ والا میں اب اور ہی سماں ہے، فصل کٹائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہاں اگر درانتیاں لوہاروں کے ہاں بھٹی میں دھاری پر تیز ہونے کو پک رہی ہیں تو وہاں عورتیں بوریاں سینے میں مصروف ہیں ۔ اگر دن میں گرمی سے لوگ نیست ہو کر سو پڑتے ہیں تو نسبتاً بہتر رات بھر دیر تک احاطوں کی صفائیاں کی جا رہی ہیں۔ تقریباً لوگوں نے مزدوریوں سے چھٹی لے لی ہے۔ گاؤں کی واحد ٹریکٹر ٹرالی والے مرشد علی کو کہلوا کر شہر سے واپس بلوا لیا گیا ہے اور گھروں میں کوٹھواروں کو صاف کر کے ابھی سے کڑوا دھواں مار کر کیڑے مار دوائی کا چھڑکاؤ بھی کر دیا گیا ہے۔ فصل سنبھالنے میں مہینہ بھر تو لگ جائے گا، سو مصروفیت رہے گی۔ اسی لیے ضروری راشن وغیرہ بھی ڈھو دیا گیا ہے اور شہر کے تمام کام نبٹائے جا رہے ہیں، تا کہ یکسوئی سے سال بھر کے رزق کا انتظام ہو سکے۔
-----
فصل کٹائی میں بس دو ہفتوں کی دیر ہو گی کہ ایک رات جب تیسرا پہر پار ہونے کو تھا، مولوی امین نے ابھی مسجد کے باہر برآمدے میں قبلہ رو کھڑے، کان پر ہاتھ دھر کر فجر کا بلاوا دینا ہی کیا، اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔ گاؤں بھر کے بڑے بوڑھے جوانوں کو سوئے پڑے کوس اور عورتوں کو چاٹیاں رڑکتے چھوڑ مسجد کا رخ ناپا۔ اذان ابھی اشہد کے وسط میں تھی کہ ایک مکوڑہ مولوی امین کی گردن پر روڑے کی طرح آن لگا اور سپٹ نیچےپیروں میں گر گیا۔ کان چھوڑ اس نے گردن کھجائی۔ نیچے دھری لالٹین کی روشنی میں دیکھتا ہے کہ ایک ٹڈی اس کے منہ کے آگے سے ہوا میں تیر گئی۔ مولوی امین کے حلق میں اشہد اللہ لرز سی گئی۔
جلد ہی سارا گاؤں پیروں پر تھا جن کے نیچے سے زمین نکل چکی تھی۔ تیار فصل پر ٹڈی دل حملہ کر گئی اور سارا انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ دعائیں، دوائیں اور محنت سب اکارت گئی۔ پھوٹتی روشنی میں دیکھتے ہی دیکھتے جہاں جہاں سبزہ دکھتا تھا ٹڈی دل ڈانڈوں تک کو چٹ کیے جا رہا تھا۔ کھلے میدان میں اگر ٹڈیاں جیسے سیاہ مرغولے اڑتی پھر رہی تھیں تو زمین پر گویا ان کی بکھائی تھی۔ کھیتوں میں تویہ حال کہ کوئی ہرا ڈانڈہ دانے تک انھوں نے کورا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ جڑوں کو بھی اوپر سے نوچ گئیں۔ سبزے پر بھر کر یہ وہیں پڑتی گئیں اور یوں دوپہر تک کھیت ٹڈیوں سے اس قدر اٹ گئے کہ اگر کوئی زمین پر پیر دھرتا تو قدموں کے نیچے بیسیوں ٹڈیاں کچلے جانے سے چر چر ا جاتیں۔
سارا کھوہ والا دن بھر اپنی بربادی تاڑ چکا تو شام میں چبوترے پر اکٹھ ہوا۔ کسی کے حلق سے کچھ برآمد نہ ہوتا تھا، نک دلی عورتیں باقاعدہ بین کر رہی تھیں اور مردوں کی جیسے آواز حلق میں رندھ کر جکڑی گئی ہو۔ اب یہ کچھ روز کا ہی معاملہ تھا، جب پچھلے سال کی گندم ختم ہو رہتی تو کھوہ والا کے باسیوں کو فاقے دیکھنے تھے۔ بیج کھاد اور دوائیاں قرض پر اٹھائی تھیں اس کا طوق علیحدہ سے ان کے گلے میں لٹکنے والا تھا۔ اب وہ پیٹ کو پالتے یا قرضے اتارتے،کسی کو کچھ سجھائی نہ دیتا تھا اور چھٹکارا تھا نہیں۔ سو دیر تک بڑے بوڑھوں میں بحث چلتی رہی۔ نور محمد بجھ کر، بوجھل قدموں کھیتوں میں جا کر بیٹھ رہا۔ رات گئے اک فیصلہ کر لیا گیا۔
-----
سویر ہوئی تو کھوہ والا کے مرد، عورتیں اور بچے بیلچے، جالی دار کپڑوں کی چادریں اور خوانچے لیے گندم واسطے سلی بیسیوں بوریوں میں کھیتوں سے ٹڈیاں جمع کرتے رہے۔ جالی دار چادریں عرض کھول کر سبزے کے آس پاس دن بھر لٹکائے رکھیں، یوں اڑتی ٹڈیوں کا شکار بھی ہوتا رہا۔ الغرض شام گئےہر گھر کے کوٹھوار میں ٹڈیوں سے بھری کئی بوریاں، گویا اس سال کی فصل ربیع محفوظ پہنچ رہیں۔ اس رات کھوہ والا کے باسیوں نے پہلی بار شریعت کی رو سے ٹڈیوں کا حلال رزق پکا کرکھایا۔
چند روز بعد نور محمد کئی نوجوانوں بشمول نوعمر لڑکوں کو ساتھ لیے ٹھیکیدار کے ڈیرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ جس بہار کا وعدہ اس نے شمی کے باپ سے لیا تھا وہ اب کئی سالوں تک لوٹ کر آنے والی نہیں تھی۔

-افسانہ-
اگست، 2013ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر