ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:2


ادب میلے میں شرکت کا جو بھوت میلے کے دوسرے روز، سویر تک میرے سر پر سوار تھا، وہ اب شام میں بھٹی کے ساتھ چمٹ رہا۔ بھٹی اس بابت خاصا جذباتی واقع ہوا ہے، بھوت سے یاری بنا لی اور خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا۔ اب بھلا اتوار کی سہانی صبحوں میں بھی کوئی نو سوا نو بجے جاگا کرتا ہے؟ سو، بھٹی کی خواہش کے آگے اپنا سا منہ دھو کر بیٹھ گیا مگر موصوف خود ساڑھے گیارہ بج جانے پر بھی ظاہر نہیں ہوئے۔ دنیا کے بدلے، دنیا میں ہی چکا کرتے ہیں۔ بھٹی سویر کا گھر سے نکلا، دیر تک کسی وی آئی پی کے لیے لگائے گئے روٹ میں مجھ نیمانے کی ہائے بھگتتا رہا۔
خیر، اس سے قبل کہ ہوٹل مارگلہ پہنچیں، بتائے دوں کہ یہ میلہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے منعقد کیا تھا جس میں انھیں ایک نجی بینک اور غالباً اٹلی کی حکومت کا تعاون حاصل تھا۔ ان کی محنت کا اثر تھا کہ آج تیسرے روز میلے میں خوب کھوے سے کھوا اچھل رہا ہے۔ ہم پہنچے تو پہلے پہل تو شیڈول کا جائزہ لیا کہ بھلا سویر کی کوفت میں کس قدر نقصان ہوا ہے۔ پھر ایک خاصے چھوٹی عمر کے والنٹئیر، جو کسی سکول کا طفل تھا، اس کی رہنمائی میں سینٹرل لان کی طرف چل دیے جہاں سنتے ہیں کہ غالب کو یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ جو غالب کا تذکرہ تھا، 'غالب کی دہلیز پر' کے نام سے سجایا گیا تھا جو اس نشست کے مقرر سید نعمان الحق کے ایک مقالے کا عنوان بھی ہے۔ سید نعمان الحق کا ساتھ دینے کو راحت کاظمی بھی موجود تھے اور میزبانی حارث خلیق نے سنبھال رکھی تھی۔ اسلام آباد کی چند ایک خواتین، جو غالب سے زیادہ راحت کاظمی کی دلدادہ معلوم ہوتی تھیں، ٹولیاں بنائے وہاں موجود تھیں۔ سید نعمان الحق کے گلے کی سوزش، بیچارے غالب کو بھگتنی پڑی۔ مگر ان کا شعر پڑھنے کا انداز، وہ ٹھہراؤ، معانی واضع کرتا ہوا مجھے تو خاصا پسند آیا مگر وہ کوئی تاثر جو غالب سے منسوب ہوتا، قائم کرنے میں ناکام رہے۔ سوچا کہ شاید راحت کاظمی، ماحول بنا پائیں مگر جوں ہی نے وہ اپنے مخصوص انداز میں غالب کا کچھ کلام سنا کر ہٹے تھے، یہ خواتین، تالیاں پیٹتی ہوئی لان کے احاطے سے رخصت ہو گئیں۔ سارا مزہ کرکرا ہو گیا۔ بعد میں غالب کو یاد کیا گیا ہو شاید مگر سچ کہوں تو غالب، اپنی ہی دہلیز پر کہیں نظر نہیں آیا۔
اس بار، میلے کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ مکالموں اور مباحثوں کے ساتھ ساتھ تصویری نمائشیں، موسیقی اور فلموں (فیچر اور ڈاکیومنٹریز) کو بھی خصوصی جگہ دی گئی تھی۔ بچوں کی کہانیوں اور ادب کے لیے بھی علیحدہ سے گوشے مختص تھے اور باہر جہاں کتابوں کے سٹال تھے، وہاں چند نایاب کتابوں کو بھی نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ایک کونے میں، دیسی رائٹرز کا سٹال، اور دوسری جانب ایک صاحب سبز پگڑی پہنے، عطر فروخت کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ سو، رنگ میں بھنگ ہر سو دکھائی دیتی تھی۔ علاقائی ادب کو بھی یاد میں رکھا گیا۔ پشتو شاعری کی نشست، شمالی علاقوں کی زبانوں میں ادب پر ایک اور نشست اور کتابوں کے سٹالز میں خاصا ممتاز، پنجابی ادب کا سٹال بھی دلچسپی کا سامان رہا۔ چند دلچسپ کتابیں جو مجھے بھا گئیں، وہ پشتو اور بلوچ ادب پر سیر حاصل تبصرہ تھیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ وہ اس پبلشر نے ٹھیٹھ پنجابی میں چھاپ رکھی تھی؟
اس سب پر سر دھنتے، بھٹی سے خوش گپیاں لڑاتے، کشور ناہید کی نئی کتاب "کشور ناہید کی نوٹ بک" کی رونمائی کا وقت ہو چلا، سو واپس سینٹرل لان کی جانب رخ کیا۔ کشور ناہید تو وہاں تھیں ہی، آصف فرخی بھی رنگ جمانے کو موجود تھے۔ چونکہ اس لان میں شامیانے کے نیچے اچھی خاصی گرمی پڑ رہی تھی اور پھر سٹیج پر میزبان جو گجرات یونیورسٹی کے شائد ڈائریکٹر صاحب تھے، ان کی ضرورت سے زیادہ لمبی تمہید نے ماحول اور بھی بوجھل کر دیا۔ اس موقع پر آصف فرخی نے کمال ہوشیاری سے میزبان صاحب کو مکھن میں سے بال کی طرح ایک جانب نکال باہر کیا اور کشور ناہید کو بولنے کا بالاخر موقع دیا گیا۔ انھوں نے کتاب کا پس منظر بتایا اور اپنی سروس کے دوران پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ کر اس کتاب کو چھاپنے کا مقصد بخوبی واضع کر دیا۔ کشور ناہید کا کہنا تھا کہ خواتین کو نوکریوں میں جو مسئلے درپیش رہتے ہیں، وہ اس کی ایک زندہ مثال ہیں اور حوصلہ افزاء بات یہ کہی گئی کہ اب کہیں جا کر پاکستان میں جا کر 23 فیصد کے لگ بھگ نوکریوں پر خواتین براجمان ہیں، جبکہ کسی زمانے میں کہو تو وہ نوکری کرنے نکلی تھیں تو اس قدر ستائی گئیں کہ 'بری عورت کی کتھا' لکھنے پر مجبور ہوئیں۔ کشور ناہید نے کتاب میں سے چند حصے بھی پڑھ کر سنائے، جن میں مولانا کوثر نیازی کا تذکرہ خصوصاً کیا گیا تھا۔ اسی پر ان کی ایک نظم پر بات ہوئی جو اس واقعہ پر مبنی تھی جس میں کشور ناہید نے مصافحہ کی خواہش پر وزیر صاحب کو کہا کہ فاصلہ رکھیے تو جواب ملا تھا کہ، 'فاصلے کیسے کم ہوں اگر تم ہی نہ چاہو'۔ یوں بات ان کی شاعری کی طرف نکل گئی اور پھر کچھ نظمیں سنائی گئیں، آصف فرخی نے ان نظموں کا انگریزی ترجمہ بھی سنایا۔ سوال و جواب بھی خاصے دلچسپ تھے جو خواتین کے حقوق اور ان کو پیش آنے والے مسائل پر ہی کیے گئے۔ الغرض، ہر لحاظ سے یہ نہایت دلچسپ نشست تھی۔ ہاں، وہ میزبان صاحب کو ساٹھ منٹ کی نشست میں پندرہ منٹ کی تمہید کے بعد آخر تک بولنے کا دوبارہ موقع نہیں دیا گیا۔ اللہ آصف فرخی کو پوچھے۔
کشور ناہید نے اپنے بھٹی کا اچھا خاصہ ذہن بدل کر رکھ دیا تھا، جو اس نشست کے ختم ہونے کے بعد، دو سگرٹ پھونک کر بھی اس کا دیوانہ وار سر پٹختے رہنے سے عیاں تھا۔ مجھے گماں گزرا، شاید نئے خیالات دماغ کے کونوں کھدروں میں جگہ بنا رہے ہوں۔ اس لیے ضروری تھا کہ بھٹی کے دماغ کے ساتھ ساتھ معدے کو بھی مصروف کر دیا جائے، سو کھانا کھانے بیٹھ گئے۔
جس قدر بدمزہ وہ پیزا تھا، اس سے کہیں پھیکی، میری پسندیدہ نشست "آج کا افسانہ" ثابت ہوئی۔ آج کے نامور افسانہ نگاروں حمید شاہد، نیلم بشیر، نیلوفر اقبال اور عاصم بٹ کی موجودگی سے مجھے امید تھی کہ افسانہ نگاری کے فن پر کچھ عمدہ بحث سننے کو ملے گی۔ خیال تھا کہ بالضرور کچھ نئی تکنیک سیکھ پاؤں یا اور کچھ نہیں تو آج کے رجحانات پر کچھ بات ہو جائے۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ اپنے اپنے افسانے سنانے بیٹھ گئے اور ہم ڈیڑھ افسانہ سن کر چلے آئے کہ ایک تو دل کی پوری نہ ہوئی اور دوسری جانب توثیق حیدر، جیا علی وغیرہ نے ہال میں الگ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا تھا۔ حمید شاہد، اس سب صورتحال سے خاصے نالاں نظر آئے۔
حمید شاہد تو خیر میزبان تھے، کڑھتے تھے تو ٹوک دیتے تھے مگر ہمارا تو اس قدر دل کھٹا ہوا کہ میلے سے ہی چلے جانے کی ٹھہری، مگر وہ تو بھلا ہو بھٹی کا۔۔۔ پہلی بار اس نے دھیان دیا اور ہم گیلری میں بیٹھ کر سوا پانچ بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ بات یہ تھی کہ ہمیں جاتے جاتے بھنک لگی، اس میں سب سے آخری سیشن تو تارڑ صاحب کا تھا۔ اب بھلا ایسا ممکن تھا کہ ہم تارڑ کو سنے بغیر وہاں سے چلے آتے؟ طے یہ ہوا کہ اب بس تارڑ کو ہی سنیں گے اور کسی اور کی ایک نہیں سنیں گے۔
صاحب، تارڑ جیسے ہمیشہ سے رہے تھے، ویسے ہی پائے گئے۔ آصف فرخی نے اس نشست کی میزبانی خوب نبھائی اور ان دونوں کے بیچ چٹکلوں نے ساٹھ منٹ تک سارے ہال میں قہقہے گونجتے رہے۔ چونکہ میری یہ کتھا خاصی طویل ہو چلی ہے تو اس نشست کی چند باتیں جو مجھے یاد رہیں، وہ بیان کر دوں؛
تارڑ صاحب کے کالموں کے مجموعوں تارڑ نامہ 4 اور 5 کی رونمائی کے بعد آصف فرخی نے دریافت یہ کیا کہ بھلا ایک بیج بیچنے والے کا لڑکا، کل وقتی پیشہ ور ادیب کیسے بن گیا؟ اس پر تارڑ صاحب نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ دیکھو میاں آصف، ہر کوئی تمھارے جیسا خوش نصیب نہیں ہوا کرتا جو آنکھ ہی ایک ممتاز ادیب کے ہاں کھولے۔ پھر بات یہ ہے کہ، ابا بیچ بیچا کرتے تھے، اور اس سے جو کماتے، ایک ادبی پرچہ نکال لیتے۔ سارا پیسہ اس پرچے پر برباد کر دیا۔ تارڑ کہتے ہیں کہ آخر میں ان کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بس ادب کے ہی ہو رہیں، اسی سے کمائیں اور اسی کو کھائیں اور پھر اسی کو اوڑھ کر سو رہیں۔
ان کے سفرناموں کی، جو ان کا خاصہ ہیں، انھی سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہوا۔ تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ ہر سفر کا سفرنامہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اور جو سفرنامے انھوں نے تحریر کیے ہیں، وہ دراصل ایک خاص ماحول میں تخلیق ہوئے۔ اس بات پر گرہ یوں لگائی گئی کہ تارڑ صاحب، کہنے والے تو کہا کرتے ہیں کہ چند سفرنامے ایسے بھی ہیں جن کے لیے سرے سے سفر ہی نہیں اختیار کیا گیا، بس ماحول ہی بنایا گیا؟ تارڑ صاحب زندہ دل آدمی ہیں تو ہنس دیے، اور ان کی ہنسی میں پورے ہال نے حصہ ڈال دیا۔ بات آئی گئی ہو جاتی مگر، تارڑ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور نکتے کو یوں واضع کیا کہ وہ سفر جس پر سفرنامہ لکھا جاتا ہے، وہ شاید ہفتے بھر کا ہو یا کچھ دن اس سے بڑھ کر۔۔۔ مگر اس کو لکھنے میں انھیں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا سفر دنوں سے نکل کر مہینوں تک پھیل جاتا ہے اور وہ ان مہینوں میں گویا محو سفر رہتے ہیں۔ یہ ان کے لیے لطف کا باعث تو ہوتا ہی ہے مگر یہ بھی تو سوچیے کہ دنوں کا سفر مہینوں تک، صرف تخیل کے زور پر نہیں کیا جا سکتا۔
بتانا ضروری ہے کہ اس پر ہال تالیاں پیٹتے پیٹتے ہتھیلیاں لال کر بیٹھا۔
چونکہ اب معاملہ تخیل کا تھا تو مزید بات تارڑ کے ناولوں پر ہوئی، جو گزشتہ سال کی اس روداد میں پڑھ لیجیے۔ کچھ نیا نہیں تھا۔ ہاں، تارڑ صاحب کے جو قارئین ہیں، وہ نئی خبر یہ سن لیجیے کہ تارڑ صاحب کا چین کا سفر نامہ آیا چاہتا ہے، آسٹریلیا سے وہ حال ہی میں لوٹ کر آئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تارڑ کو جانوروں اور پرندوں سے خاصی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی پر انھوں نے اپنا ایک تازہ کالم، جو ''گدھے' کی شان میں لکھا تھا، وہ سنایا اور ہم سارے ہنستے ہنستے لوٹ پھوٹ ہو گئے۔
آخری بات، تارڑ صاحب سے کہانیوں بارے دریافت کی گئی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آخر انھوں نے کبھی کہانی نہیں لکھی، کوئی افسانہ نہیں لکھ سکے۔ تارڑ صاحب نے تس پر اقرار کیا کہ یہ درست ہے۔ بقول ان کے، اس کی وجہ ان کا پنجاب سے تعلق ہے۔ لمبے لمبے قصے سننا سنان، پنجابیوں کی عادت ہے، تخیل بھگائے رکھنا ان کا شیوہ سو اب تک سفرنامے اور ناول لکھتے آئے ہیں۔ مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں انھوں نے کچھ کہانیاں بھی لکھی ہیں جو جلد ایک مجموعے کی صورت شائع ہوں گی۔ رسید کے طور پر ایک کہانی کا مسودہ انھوں نے آصف فرخی کو پیش کیا کہ وہ چاہیں تو اسے اپنے ادبی رسالے میں چھاپ دیں۔ سو، دوپہر میں ہوئی افسانے کی نشست کی بدمزگی جاتی رہی، تارڑ صاحب کی مختصر کہانیاں بھی آیا چاہتیں ہیں۔ ہم بالضرور ان کہانیوں میں 'آج کے افسانے' کی نہ صرف تکنیک دیکھ سکیں گے، بلکہ بہت کچھ نیا بھی پائیں گے۔
تارڑ، آپ جانتے ہیں، ایسے ہی ہیں۔ میں مزید کیا لکھوں؟
شام ہو چلی ہے اور بھٹی تارڑ صاحب کو سن کر ایسے تازہ دم ہے جیسے ابھی ابھی کسی خوشگوار خواب سے جاگا ہو۔ دن بھر سر پٹخ رہا تھا، اب سر دھنتا ہوا پایا گیا۔ سو، مجھے جو ڈر تھا کہ کہیں یہ ادب سے بدک ہی نہ جائے، تارڑ صاحب کا شکریہ کہ تسلی ہو رہی کہ مرغا، کہیں نہیں جا سکتا۔ سو، خوشی خوشی رخصت ہوئے۔
اسلام آباد پر شام پھیل رہی ہے اور ہم ہوٹل مارگلہ سے چھوٹتے ہی کہیں کوئی کڑک چائے کا کھوکھا ڈھونڈنے نکل پڑے۔

رپورتاژ
قسط دوئم - تمام شد

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر