ندی کا پانی

یہ زیادہ عرصے کی بات نہیں، جب مجھے اپنے دیس کو خیرباد کہنا پڑا۔  ماں نے مجھے شفاف آنسو کی مانند اپنے وجود سے بوند بوند ٹپکا کر خود سے الگ کیا تھا۔ رخصت کرتے، جب آخری بار سینے سے لگایا تو لوگوں کے دل پر ہیبت طاری کر دینے والے میرے باپ کا رُو رُو کانپ رہا تھا۔
وہ دونوں، جیسے مجھے کسی بازی میں ہار گئے ہوں ۔ اناڑی،  جن کی سورج جیسے شاطر جواری کی تیز چبھتی کرنوں اور  قسمت کے آگے ایک نہ چلتی ہو۔ سینکڑوں برس اپنے سینے سے لگائے رکھنے کے بعد انہیں مجھ کو یوں یکدم رخصت کرنا ہی پڑا۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ میں ماں باپ سے الگ ہو، اپنی جنم بھومی کو ترک کر کے روانہ ہوا تو دنوں چیخ چیخ کر اپنی جنت کو پکارتا رہا۔ بھاری بھرکم پتھروں اور بل کھاتے ہوئے پہاڑوں کے بیچ، میں یوں تیزی سے بہا کہ میرے ایک ایک رُو سے پکار صدا ہو کر نکلی۔ اپنے مالک سے گلہ مند ہوتے، بین واویلا اور شور مچاتے وادیوں میں یوں گزرا کہ مجھ پر مجنوں پاگل کا گماں ہو۔ میرا سب کچھ تو کھو گیا تھا اور میں اس ندی کے بیچ دھار میں گم ہو کر رہ گیا۔ یوں ہی بہتا رہا۔ وادیاں، مجھے چیختا چلاتا ہوا خاموش شانت سی سنتی رہیں۔ اندھیر راتوں میں تو میری گونج اس قدر بڑھ جاتی کہ میں خود اپنی آواز پہچان نہ پاتا تو کسی دوسرے کی کیا سنتا؟ تب، کچھ سجھائی نہ دیتا۔
دنوں سے ہفتوں، چلاتے چلاتے تھک گیا تو بالاخر نقاہت سے وہ ہیجان اترا۔ ایسے میں مجھے، واقعی اپنے دیس کی یاد نے آن گھیرا، مجھے اپنی ماں کی چاہ نے آ لیا اور میری آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کا چہرہ گھوم گیا۔ اس دکھ میں، یاد کی گھنی سنیری چھاؤں میں اور روز بروز گہرے ہوتے ہوئے غم میں، جہاں ہیجان تھا، ایک  تہہ سی جم گئی۔ جیسے کسی نے پھوڑے پر بوٹیوں کی ٹھنڈی ٹکور کرتی پسائی دھر دی ہو۔ میں وادی در وادی، اپنے وطن، ماں باپ اور بیلی یار غاروں کو دل میں بسائے، یاد کرتے کرتے بنجارہ بن گیا۔
اس یاد کا یہ کہ حلق میں چیخ و پکار، بین اور ہٹ دھرمی کی جگہ رسیلے نغموں نے لے لی۔ عرصہ تک یوں ہی گاتا پھرتا رہا اور پھر ایک دن جب اس کی بھی تاب نہ رہی تو میدانوں میں آن داخل ہوا۔ وسیع میدانوں میں آتے ہی، جیسے اندر شانت ہو گیا۔ ایک چپ نے آلیا، خامشی نے پکڑ لیا۔
اب اتنا کچھ ہو گزرنے کے بعد، میں جو گدلا سا ہوں، اپنی صورت تک بھول چکا اور ٹٹولیے تو، بار بار پکارنے پر بھی جب کچھ جواب نہیں بن پڑتا۔  میں جو اس بڑے پاٹ کے دریا میں گھل مل کر جاری و ساری ہوں۔ کبھی تو کھیتوں کو سیراب کرتا ہوں اور جب برداشت نہیں ہو پاتا تو بستیوں کی بستیاں روند ڈالتا ہوں۔
میں، صاف شفاف سپید رنگت کی برف، اس قدر کہ میدانوں کے کھیتوں میں اگنے والی کپاس کا رنگ ماند پڑ جائے اور میل در میل پھیلے، جم کر مضبوطی سے پاؤں ٹکا ئے، سخت، پتھریلی پہاڑیوں پر تہہ در تہہ بچھ کر رہنے والے برفیلے گلیشیر کا بیٹا، ندی کا پانی ہوں!
(اگست، 2014ء)

!

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر