ڈیوڑھی

تب جو دو منزلہ مکان تھا، اس پر اب پرانی حویلی کا گماں ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب انگریزی طرز پر تعمیر کی گئی کوٹھیوں میں بسر رہتی ہے تو ویسے مکانات ماضی معلوم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی ایک دہائی قبل کی نسبت ہے۔ آج کی عالیشان کوٹھیوں میں کچھ بھی بے ترتیب نہیں ہوتا، کچھ بھی بے مصرف نہیں رکھا جاتا جیسا کبھی اس دو منزلہ مکان میں ہوا کرتا تھا۔ دس بارہ بڑے ہیکل کمرے جن میں سے آدھے کمروں کا کوئی مصرف نہیں تھا۔ بے ڈول سا تین حصوں والا مہمان خانہ، جس کا صرف ایک حصہ استعمال میں رہتا۔ آج کل کے کمروں سے دو گنا بڑا باورچی خانہ۔ اتنا بڑا کوٹھ وار کہ ایک موسم میں تین فصلیں سمائیں۔ تنگ صحن مگر ترتیب پر کھڑے کیے گئے کمروں کے آگے لمبوترے، کشادہ کھینچے ہوئے برآمدے، جن پر ضرورت سے دو چار تخت پوش زیادہ بچھے رہتے۔ دو ایک گودام اتنے بڑے کہ پورے ڈپو کا سامان بھر رہے۔ پھر وہ ڈیوڑھی بھی تو ہوا کرتی تھی۔
مکان کا داخلی دروازہ خاصہ اونچا تھا، گویا ہاتھی اپنے پورے قد کاٹھ کے سینہ تان کر داخل کرنا مقصود ہو۔ آدمیوں کے گزرنے کے لیے بہرحال، بڑے در میں سے ایک چھوٹا کواڑ کھلتا تھا جس میں سے لاکھ چاہو، چھوٹے قد والے بھی صرف جھک کر گزر سکتے تھے۔ اس بڑے پورے پھاٹک نما دروازے سے داخل ہوتے تو خود کو ڈیوڑھی میں پاتے۔
آج کل کی تعمیرات کے نقشوں میں اصیل ڈیوڑھیاں شاذ و نادر ہی شامل کی جاتی ہیں۔ کہنے کو تو آج کوٹھیوں میں یہ نام کو ہیں مگر وہ بھی ایسے ناپ تول کر جیسے جھوٹ گھڑ دیا گیا ہو۔ تب کی ڈیوڑھی، جسے آج 'پورچ' کہا جاتا ہے، ایسی نہیں ہوا کرتی تھی کہ ایک گاڑی گھسا مٹ کر داخل کرو تو گزرنا محال ہو جائے۔ ویسے بھی ڈیوڑھی چاہے تنگ بالشتی یا کشادہ جیسے دکان کیوں نہ ہو، تب گاڑیاں یہاں گھسانے کا رواج نہیں تھا۔ ان کے لیے لوگ علیحدہ سے گیراج تعمیر کرتے یا پھر باغیچے میں روکتے۔ یہ تو اہتمام سے، خصوصی طور پر صرف داخلی راستے کا مصرف ہوا کرتی تھی۔
جس گھر میں بچے ہوں، وہاں سب کچھ بکھرا رہتا ہے۔ عورت جب ماں بن جاتی ہے تو باورچی خانے میں پھوہڑ ثابت ہوتی ہے۔ ایسے گھروں میں باورچی خانہ بے ترتیب ہی رہتا ہے۔ کمرے زیادہ تر ایک جیسے ہی، جو فرنیچر وہ بیاہ کر بیبیاں ساتھ لاتیں، عموماً آخر تک اس کو سنبھالنے میں گزر بسر رہتی۔ اس بیچ زیادہ سے زیادہ بچہ جن دیا تو کمرے میں اس کا پنگوڑا اضافی ہوتا ہے یا مرنے کے قریب ہوئے تو کمرے کے اندر سہولت سے مرنے کا سامان آ جاتا۔ پھر مہمان خانہ کو سب سے زیادہ سجا کر رکھا جاتا کہ وہ بھائی برادری میں اس گھر کا منہ ماتھا ہوتا۔ کوٹھ واروں کا ایک ہی تو کام ہے کہ اس میں جتنی خدا نے عطا کی، ساری فصل سمیٹ کر اور اچھی طرح سنبھال کر اس میں بھر دیں۔ گوداموں کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی کہ سب جانتے ہیں، ان کا مصرف سارے گھر کی بے کاریاں اور الجھاؤ بھر کر رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے میں، ایک ڈیوڑھی باقی بچ رہتی جو سدا ایک سی نہیں رہتی۔
جو بھی آدمی گھر میں داخل ہوتا یا کوئی بھی شے گھر میں لائی جاتی، سب سے پہلا ڈیوڑھی کو استعمال میں لاتا۔ عورتیں گھر میں داخل ہوئیں تو برقعہ اتار کر ڈیوڑھی میں ٹانگنی پر لٹکا دیتیں۔ پن چکی سے آٹا پس کر آیا ہے تو اس سے پہلے کہ چھان کر صندوقوں میں بھریں، ڈیوڑھی میں دھر دیا۔ بارش ہو رہی ہے تو گیلی چھتریاں گھر کے اندر نہیں بلکہ ڈیوڑھی میں تان کر رکھ دی جاتیں جو واپسی پر سوکھی ملتیں۔ اسی طرح، ڈیوڑھی میں دیکھو تو آلو دھر رکھتے ہیں جو گودام میں اس لیے نہیں ہیں کہ ہوا بند ہو کر میٹھے نہ ہو جائیں۔
پھر موسم تھے جو اس پر گزرتے۔ گرمیوں میں ڈیوڑھی کا مصرف بڑھ جاتا۔ وہ یوں کہ دن بھر بڑا داخلی دروازہ کھلا رہتا اور اس دروازے سے مکان جو پہاڑی پر تعمیر تھا، اس کے بالکل سامنے برف پوش پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوا سیٹی بجاتی ہوئی گھر میں داخل ہوتی اور باہر کی تمازت سے متضاد مکان کو ٹھنڈا رکھتی۔ ڈیوڑھی میں ایک دو کھاٹ ہر وقت دھرے رہتے۔ سردی کے موسم میں تو پٹ سن کی کھاٹوں کا اس کے سوا کوئی حاصل نہ ہوتا کہ ان پر الا بلا، کپڑے اور رضائیاں سمیٹ کر ڈال رکھتے مگر گرمیوں کے سارے موسم میں ان پر گھر کے چھوٹے بڑوں، مہمانوں اور مسافروں جس کو موقع ملتا دن بھر پڑا ٹھنڈی ہوا میں موج اڑاتا۔
باہر اگر کڑاکے کی سردی پڑ رہی تو ڈیوڑھی میں، اندر بالن بھرا ہوا ہے جو جوں جوں سردی کا موسم ڈھلتا، کم ہوتا جاتا۔ گرمیاں شروع ہوئیں تو گندم کی فصل کھیتوں سے گدھوں پر لاد کر یہاں ڈھیر کر دی، جو آنے والے کئی ہفتوں تک تھوڑی تھوڑی مقدار میں اٹھا کر دھوئی جاتی، اوپر چھت پر دھوپ میں سوکھتی اور پھر کوٹھ واروں میں بھر دیتے۔ اسی طرح ستمبر چڑھا تو سال کی مناسبت چاول یا مکئی کی فصل لا کر دھر دی، جو اچھی خاصی جگہ گھیر لیتی۔ ان دنوں، گرم دوپہریں جب ڈھل جاتیں تو شام گئے، عورتیں لانبے ڈنڈوں سے مکئی کے سٹے کوٹتی رہتیں، گپیں ہانکتیں، رات گئے تک ان کے قہقہے گونجتے اور باتیں ڈیوڑھی کی ٹھنڈک میں گویا ٹھہر سی جاتیں۔
شاید ڈیوڑھیوں کی بناوٹ ایسی تھی یا  یہ تعبیر میں شامل تھا کہ آپ یہاں کچھ بھی بھر دیں، گونج باقی رہتی تھی۔ گھر کے باقی حصے چاہے بولتے، بعض چیختے، ایسے کمرے بھی ہوتے جو بھینکر خاموشی یا پھر کسی کی سسکیاں سموتے۔ یا، برآمدوں میں بچوں کی قلقارییاں جنم لیتی ہوں اور صحن میں پھولوں کی مہک پھیلے، ڈیوڑھی میں ایک گونج سی سنائی دیتی۔ چاہے گھر میں خوشی کا ہنگامہ ہو یا غم کا دن چھا رہے، ڈیوڑھی پورے گھر کی گونج کو اپنے اندر سمیٹ کر، ایسے سنبھال کر رکھتی جیسے یہی پورے گھر کی وارث ہو۔ گم گشتہ دنوں کی وہ سرگوشیاں جو اپنا راستہ بھول جاتیں، وہ خوش کن یادیں جو دو منزلہ مکان کے دس بارہ کمروں میں اپنی جگہ نہ پاتی تو پُھر پُھر اڑتی ہوئی ڈیوڑھی میں آن بیٹھتیں۔ گھر کی بیبیوں کی سرگوشیاں جو بوجھل ہو کر باورچی خانے سے باہر قدم رکھتیں یا مردوں کے خانے میں سے جتنی بھی گہری سوچیں گھر بار کی سوچی جاتیں اور پریشانیاں پھیلتیں، انہیں ڈیوڑھی کے سوا بسیرا کرنے کو اور جا نہ ملتی۔
کوٹھیوں میں ڈیوڑھیاں نہیں ہوتیں، بس دیواریں چٗنی جاتی ہیں۔ کمرے کھڑے کیے جاتے ہیں اور صحن کشادہ کر دئیے جاتے ہیں۔ ہم جو نئے دور کے انسان ہیں، ان کو گم گشتہ سالوں کی گونج کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہم آگے دیکھنے کے عادی ہیں یا اپنا حال آسودہ رکھتے ہیں۔ اپنے ماضی کو بوڑھوں کے ساتھ ہی دفن کرتے جاتے ہیں۔ قہقہے، بین، بچوں کی حماقتیں اور ہماری تمام تر یادیں ان بے جان پتھریلی دیواروں اور ٹھنڈے سپاٹ فرشوں پر رلتی رہتی ہیں۔ تب، ان کوٹھیوں میں بھی نام نہاد ہی سہی، یہ ڈیوڑھی کسی آستان کی طرح گم سم ، سب سے الگ تھلگ گھر کی گونج کو گونجنے کے لیے ترستی رہتی ہے۔
ڈیوڑھی میں شاید؛ شاید کسی روز عالیشان کوٹھی کے باسیوں کو یہ گونج سنائی دے۔


دسمبر، 2014ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر