باقی سب افسانے ہیں

جامعہ کی رنگ برنگی دنیا میں ایک عرصہ بیتا چکے تو وہ مرحلہ آن پیش ہوا کہ تقریباً اتنے ہی سال یہاں مزید گزر بسر کرنا طے ہے۔ ہاسٹل کے بدمزہ کھانے، پانچ سات روپے کی سستی کڑک چائے، کھڑ کھڑ کرتی بسیں، بھدی عمارتیں اور ایک ہی ہئیت اور ذہنیت کے معتبر استاد۔ یوں، اکتاہٹ آن گھیرتی ہے۔
مگر ٹھہریے، ان حالات میں معدودے چند ہیں جن سے بہرحال کبھی جی نہیں بھرتا۔ یہ آپ کے جامعہ میں ہم عصر ہیں۔ یہ پود اکثر کئی سالوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک وہ ہیں جو آپ سے قبل کے برسوں سے آتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر وہ جو آپ کے ساتھ ہی وارد ہوئے ۔ اب یہ ہیں جو آپ کے یہاں ہوتے اگلے چند برسوں تک ہر بر سال آتے رہیں گے۔ ان سے آشنائی بس انھی کچھ برسوں کی ہے ۔ مگر، ایسی رغبت ہے کہ کبھی ان سے آشنائی تک نہ تھی اور اب دنیا ان کے گرد گول گول گھومتی ہے۔ یہ آپ کے بیلی ہیں اور ایسے ہیں جو بیری ہیں۔ ان سے دوستیاں ہیں، چپقلشیں اور کئی طرح کی الا بلا۔
یہ کون لوگ ہیں؟ یہ گلگت سے آئے چپٹے ناک والے چھٹ قد والے ہیں تو وہ راجن پور کا لم دھڑنگ نوجوان ہے۔ یہ جلے ہوئے رنگ کا مخلص بلوچستان کا بیٹا ہے اور گھبرو جوان فیصل آباد کی کسی چک سے دودھ مکھن میں پل کر آیا ہے۔ بڑ بڑ کرتا سخت جان وزیرستان کا محسود ہے اور من من کرتا کشمیری ہو گا۔ یہ کوہستانی اگر ترش معلوم ہوتا ہے ۔ وہ پشاور کی وادی سے آیا کیسا مغرور آدمی ہے۔ غرض، ایک اور ہی دنیا ہے۔ کئی زبانیں ہیں اور بھلے بھر رنگ ہیں۔
لوگ تو آخر لوگ ہیں۔ ساری اچھائیاں اور تمام ہی برائیاں ان سے منسوب ہیں۔ لوگ گر فرشتوں کو شرماتے ہیں تو شیطان ان کی وارداتوں پر کیسا نیچ معلوم ہوتا ہے۔ کئی قماش کے لوگ، پارسا بھی ہیں تو کئی گناہ گار جن سے ہم چاہیں بھی تو پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ نیکوکاروں سے جتنا جی لگا لو، کسی نہ کسی روز تو ڈنڈی مارنے کو دل کر بیٹھتا ہے۔
آخر ان لوگوں میں ایسی کیا بات تھی؟ شاید اس نسبت کی وجہ یہ تھی کہ ہم ایک دوسرے کو خوب پہچانتے تھے۔ نقائص سے واقف تھے۔ خوبیوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ایک دوسرے کا غم پی رکھا تھا اور خوشیوں میں اکٹھے جھومتے چلے آئے تھے۔ عجب پیمانے تھے۔ استاد، معتبر تھے ۔ جو استاد نہیں، اجات قرار پاتا۔ یوں وہی بچ رہتے جو ہم جیسے تھے۔ ہم ایک ہی لوگ تھے۔
جب جامعہ چھوڑی تو ایک ایک کر کے ان لوگوں سے نسبت چھوٹ گئی۔ وہ لوگ جن کے بغیر جینا محال تھا وہ ماضی ہو گئے۔ جیسے پہلے روز تھے، ایک دم پرائے ہو گئے۔ ایسا ہونا قدرتی تھا۔ ہماری نسبت جو تھی، وہ بودی نہیں تھی بلکہ اس کی نوعیت بدل گئی۔ لوگ پرائے نہیں ہوئے، مسائل بیگانے ہو گئے۔ غم سانجھے نہیں رہے اور خوشیاں ذاتی ہو گئیں۔
لوگ پرائے ہیں اور نہ ہی اپنے ہوتے ہیں۔ لوگ تو بس لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے کاندھے تو بس کاندھے ہیں جن پر اگر خوشی میں اٹھ کر ناچا جاتا ہے تو وہی کاندھے دکھ درد میں سر ٹکانے کو آگے آن دھمکتے ہیں۔ اسی طرح، لوگوں کی بولیاں بھی ایک سی ہیں۔ کامیابی پر ایک ہی جیسے گُن گائے جاتے ہیں اور ناکامی پر سوائے تاسف کے، کسی کو اور تو کچھ نہیں سُوجھتا۔ لوگ، ایک سے ہوتے ہیں۔ ان کے غم بھلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں یگانہ اور واقعات کیسے بھرپور؟
بھدی عمارتوں سے آپ نسبت نہیں جوڑ سکتے اور معتبروں سے آپ لاگ نہیں لگاتے۔ اجاتوں کو تو ہم کسی قابل ہی نہیں سمجھتے۔ ہم ایک دوسرے کو تبھی سن پاتے ہیں جب ہم ایک جیسے ہوں۔ ایک جیسا جانتے ہوں۔ ایک ہی تعدد پر رواں ہوں۔
لوگوں سے نسبت، لوگوں کی طرح کیونکر برتیں؟ ان کے الفاظ بودے نہیں ہوتے۔ آخر میں چاہے تسلیم کرتے پھریں کہ صرف اپنی ذات سے عشق سچا ہے یا جو باقی تھا وہ سب افسانے اور گھڑی ہوئی کہانیوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
جب ایک دور گذر رہے تو روحوں میں تہہ در تہہ ویرانے پھیلاتے، لوگوں کو اپناتے اور بیگانہ جانتے اس بابت یہ حقیقت امر رہتی ہے کہ ستار پر سُر تبھی ابھرتا ہے جب  تار ایک ہی طرح پر تان رکھے ہوں۔

(مارچ، 2015ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر