ادب کا دھبہ

اسلام آباد شہر میں نوکری بھگتاتے اب تیسرا برس ہو چلا ہے۔ یہاں آکسفورڈ کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے والے ادب میلے کی روایت بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ جیسے ہم یہاں نو وارد، ویسے اس شہر کی روایتیں بھی ابھی طفل ہیں۔ اس میلے کو روایت کہیں یا نہیں، یہ اور بات ہے مگر شہر میں اس کی ریت چل پڑی ہے۔ اسی کی ہلچل تھی کہ اس برس ایک ہی وقت میں دو ادبی محافل سجی رہیں۔ ایک تو یہ اور دوسرا نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پانچ روزہ کتاب میلہ تھا۔
اول تو سرکاری محافل میں کوفت ہوتی ہے ۔ دوم، چونکہ ہم ادب میلہ کی مختصر روایت کا حصہ رہے ہیں تو اس بار بھی شرکت آکسفورڈ کے میلے میں رہی۔ اس سے پہلے کے دو میلوں کا احوال ہر بار تفصیل سے بیان کرتے آئے ہیں۔ جیسا اس شہر کی روایت، اپنے بلاگ پر میلے کی روداد سنانے کی روایت برقرار رکھنے کی کوشش میں آج بھی یہ لفظ گھسیٹ رہے ہیں۔
ہر بار کی طرح ذوق و شوق سے تیاری نبھائی۔ سب سے پہلے تو گھر سے رخصت لی۔ پھر دو چار جو شرکت کے متمنی نظر آئے، ان سے بات کی۔ بخاری نے حامی بھر کر اپنے بچوں کے لیے آخری وقت میں ادب قربان کر دیا۔ بخدا، یہی طور ہیں جن کے سبب کئی برسوں سے اس کی تخلیق پر گرہ پڑی ہے۔ پھر بھٹی تھا، وہ اس برس سعودی عرب میں عمرے گنوا رہا ہے۔ اس برس کہو تو جس کی رفاقت میں چاہتا تھا، اس نے ٹال دیا کہ ایسی بھی کیا حاجت، یہ حج تھوڑی ناں ہے؟ یوں 'اس چمن کی دنیا میں، ہے کلی کلی تنہا' کے مصداق اکیلے ہی شرکت کرنا ٹھہری۔
پہلے دن کی روداد ہم نہیں جانتے کہ یہ شام کی محفل تھی اور شام میں ہم آرام فرماتے ہیں۔ دوسری صبح ابھی تھلائے بیٹھے تھے کہ عُزیر کا پیغام ملا۔ 'آپ کہاں ہیں، تارڑ کا سیشن شروع ہوا چاہتا ہے'۔ عُزیر کے بارے یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہم سے بھی نیست ہو گا، مگر وہ وہاں پہلے سے پہنچ رہا تو ہمیں شرم محسوس ہوئی۔ دوڑے دوڑے پہنچے تو تارڑ، 'اے مرے ترکھان' پڑھ رہے تھے۔ اس کہانی کے دو چار جملے سُن کر خیال تازہ ہوا کہ اس برس کا ادب میلہ سانحہ پشاور کے نام ہے۔ کیا خوب استعارے استعمال میں لائے ہیں تارڑ نے۔ بوڑھے ترکھان سے کیسی فرمائش کرتے ہیں کہ دو چار نہیں، ایک ساتھ ڈیڑھ سو تابوت بنا لائے۔ بوڑھے ترکھان کو اپنی فکر اور مسائل رہے ہوں گے مگر یہ ایسا انوکھا موقع ہے کہ یہ جو بچوں کے لاشے منہ چڑا رہے، ان کے مسائل کسی طور بھی کفن دفن کے روایتی مسائل جیسے نہیں۔ ان کو توجہ درکار ہے۔ گو، تھوڑا دیر سے سنا اور تارڑ نے بھی وقت کی قلت کے سبب کچھ حصہ ترک کر دیا مگر کیا خوب حوالہ ڈھونڈا ہے۔
تارڑ کو چونکہ صرف تیس منٹ ملے تھے تو اس پر حاضرین کچھ سیخ پا نظر آئے۔ سو، ایک ہی سوال ہو پایا جو تارڑ سے ان کی کہانیوں کے بارے تھا۔ تارڑ نے کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ شاید اب وہ کبھی نیا ناول نہ لکھ پائیں، سو وہ مختصر کہانیاں لکھنا چاہتے ہیں۔
جب یہ نشست تمام ہوئی تو عُمر سے ملاقات رہی۔ عُزیر کی بدقسمتی کہ ہم جو فراز کے بارے سننے بیٹھے تھے، وہ نشست منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ اور یوں اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک اس بیچارے کو فراز کے بارے سننے کی بجائے، میری باتیں سننا پڑ گئیں۔ اس میں قصور عُزیر کا بھی ہے۔ بُت بن کر بیٹھا رہتا ہے اور سنتا رہتا ہے، مجال ہے کہ بول کر رہے۔ تو پھر، بولنا ہی پڑا۔ ہمارے لیے یوں پہلا روز اور شاید عُزیر کے لیے ملاقات کا شوق تبھی تمام ہو گیا۔ بعد اس کے میلے میں کچھ دلچسپی کا سامان نہیں تھا تو دو کتابیں، اول اسد محمد خان کی کہانیاں 'غصے کی نئی فصل' اور آکسفورڈ کے ہاں شائع نئی کہانیوں کے مجموعے 'کُوزہ' ہتھیا لیں، جس میں رائے ازلان کی کہانی 'توقعات' اور علی حسان کی 'دعا' بھی شامل ہیں۔
بات اب بلاگران کی چل نکلی ہے تو باقی کا ادب میلہ، ادب میلے کی بجائے 'بلاگر میلہ' ثابت ہوا۔ دوسرے دن ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر بلال محمود کی محبت کہ دوڑے دوڑے پہنچے۔ یہاں بلال محمود، محمد سعد، حسیب حیات (دوہرا حے) اور نورین تبسم صاحبہ جمع ہو کر بیٹھے تھے۔ کافی دیر ان احباب سے بات چیت چلتی رہی۔ چیدہ چیدہ باتیں کہوں تو نورین تبسم صاحبہ کا گلہ بجا محسوس ہوا کہ لوگ، عجیب حرکت کرتے ہیں۔ تحریر میں لکھاری کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی یہ شکایت درست بھی ہے۔ اس شکایت کا ازالہ سوائے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کے، کچھ نہیں۔ اسی دوران فیفو سے بھی جھپک میں ملاقات ہو گئی۔ ماشاءاللہ فرصت سے ہے تو کمال کرتی پھرتی ہے۔ اسی طرح اچانک ہی ایک صاحب نے آواز دی تو وہ ٹوئٹر کے جدون نکلے۔ ان سے دعا سلام تو رہی، مگر وہ جو اکثر ٹی ایل پر پشتو موسیقی شئیر کرتے ہیں، اس پر ان کا شکریہ ادا کرنا بھول گیا۔
چونکہ، ہم اردو بلاگران ہیں تو جیسے ہوتا آیا ہے، ایک دوسرے کو کتنی دیر سنتے؟ سو جن نشستوں کا بائیکاٹ کیے بیٹھے تھے، وہیں جا کر دم لینا پڑا۔ ان دو نشستوں میں سے پہلی نشست میں اصغر ندیم سید کی تازہ نظموں کا مجموعہ 'آدھی کلیات، پوری شاعری' کی رونمائی تھی۔ سید صاحب دھڑلے سے نظموں پر نظمیں سناتے چلے جاتے تھے اور کشور ناہید ان سے فرمائش کیے جاتیں۔ بیچ میں انتظار حسین بیٹھے دائیں اور بائیں ان کو ٹوک دیتے۔ ان کی ٹوک خاصی دلچسپ تھی. ان کو گلہ تھا کہ یہ جو جدید نظم ہے جس کی ابتداء غالباً ن۔ م۔ راشد سے ہوتی ہے، اور نئے لوگ ہیں، ان کا اظہار تو خاصہ دلچسپ ہوتا ہے۔ پڑھنے میں لطف دیتا ہے اور نہایت واضع ہوتا ہے، مگر جب نظم ختم ہو رہتی ہے تو قاری پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کو ان تخلیقات میں معنی تلاش کرتے دقت ہوتی ہے۔ ان کا یہ گلہ آخر تک برقرار رہا۔ ہاں، انتظار حسین جانے اصغر ندیم سید کو ن۔ م۔ راشد سے کیوں تشبیہ دیتے رہے، یہ واضع نہ ہو سکا۔ یہ کہیں کا بھی جوڑ نہیں ہے۔
دوسری نشست، زہرا نگاہ صاحبہ کی نظموں کے کتابچے کی رونمائی تھی۔ کیا خوب نظمیں سننے کو ملیں۔ کیا عمدہ لہجہ ہے ان کا۔ اچھا، اس سے پہلے کہ اس نشست پر مزید کچھ کہوں، مجھے کچھ اور یاد آ گیا۔ وہ سُن لیجیے۔ بہت پہلے کی بات ہے، پشتو زبان کے ایک مشاعرے میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ کسی دور میں پشتو شاعری میں جو تنوع تھا، وہ اب باقی نہیں ہے۔ ہر دوسرا شاعر قوم پر بیت رہی کا رونا ڈال دیتا۔ افغانستان پر جنگ کے اثرات، قبائلی علاقوں کی زبوں حالی، شدت پسندی کا ڈستا ناگ، غربت کے مارے وغیرہ وغیرہ۔ اس پر ہم سبھی کوفت میں مبتلا ہو گئے۔ تب ہم رومان کے داعی، آخر کب تک برداشت کرتے۔ اس مشاعرے کے منتظم سے یونیورسٹی کی پشتو اکیڈمی میں محدود سی علیک سلیک رہی تھی۔ ان کے پاس جا دھمکے اور شاعری کے اس طور کی شکایت کر دی۔ کہنے لگے، 'مجھے بتاؤ، آخر یہ شاعر کیا سنائیں؟ محسوس کرنے کو کچھ باقی نہیں ہے اور جو المیہ ہے وہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔' سو، برسوں بعد، ادب میلہ کی اس نشست کا خلاصہ بھی کچھ ایسا ہی ثابت ہوا۔ زہرہ نگاہ سبین محمود کے تذکرے پر آبدیدہ ہو گئیں۔ کہنے لگیں، 'محسوس کرنے کو کچھ باقی نہیں ہے۔ ہمیں رخصت ہونا تھا، یہاں ہمارے بچے اور بچیاں جا رہے۔ آخر کیا لکھیں، کیا محسوس کریں اور کاہے کو سنائیں؟' اس پر جو ایک لمحے کو خاموشی چھائی تھی، اس میں کیا کیا منازل طے کر لیں۔ وہ آگ جو کبھی دور پہاڑوں میں، چند کے گھر جلاتی تھی، آج ہمارے گھروں کو جھلسا رہی ہے۔ اور وہ تضاد کہ سبین محمود کے لیے تقریباً ہر نشست میں اختیار کی جانے والی ایک منٹ کی خاموشی پر ہر بار کوئی سیخ پا نظر آتا کہ ہمیں ایک منٹ کی خاموشی چاہیے یا فاتحہ خوانی کریں؟ نشست تھی، جاری رہنی تھی، لوگ فرمائشیں کرتے رہے اور زہرہ نگاہ جانے کس دل سے، نظمیں سناتی رہیں۔ آصف فرخی جو عام طور نشستوں کو گرنے نہیں دیتے، اس موقع پر لاجواب نظر آئے۔
بعد اس کے، اب اور بتانے کو کچھ باقی نہیں ہے۔ سوائے یہ کہ، دوستوں کے ساتھ یہاں وہاں گھومتے رہے، سگرٹ کے کش سلگائے، ناطق سے ملاقات رہی۔ یوں، شام کے آس پاس قصہ تمام ہوا۔ خود پر ادب کا ایک اور دھبہ لگائے، ہم تنہا آئے تھے، تنہا واپس ہو لیے۔

(اپریل، 2015ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر