ٹافی

میں ایک ایسا بچہ ہوں جس نے ٹافی تاڑ لی اور اب اس کے لیے بے چین مچل رہا ہے۔ میٹھی ٹافی۔ اس قدر میٹھی کہ ابھی تک اس کا ذائقہ منہ میں گھل رہا ہے۔ یوں کہ، دنیا میں ٹافی کے سوا کچھ نہیں ہے؟ یہ کیسا بچہ کہ اسے اپنے اور ٹافی کے سوا کچھ دکھتا ہی نہیں۔ مسلسل  روئے جاتا ہے۔ خواہ مخواہ۔۔۔ یہ ہوش مند بھی سوچتے ہوں گے کہ ایک چماٹ رسید کر کے طبیعت صاف کر دیں۔ ٹافی نہ ہو گئی، پوری دنیا ہو گئی۔ دیکھو تو، اس کی دنیا میں کتنی رنگینیاں ہیں؟ باہر کیسا بھلا موسم ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کڑاکے کی سردی ہے اور نہ ہی گرمی سے جان بے حال ہوتی ہے۔ خاص اس کے لیے ہر وقت معتدل سا موسم ہے۔ گھر کے اندر کتنی سہولتیں ہیں جس کا ادراک ہی نہیں؟ اماں باوا نے ڈھیروں کھلونے جمع کر رکھے ہیں۔ وہاں  بے بی کارٹ رنگ بھری چیزوں سے بھرا پڑا ہے۔ ابھی صرف تین سال کا ہے مگر مہنگا سا ٹوں ٹوں کرتا پیانو بھی دلا رکھا ہے۔ چاہے تو بلڈنگ بلاکس سے دل بہلا لے۔ اس کو کاہے کی روک ہے؟ نہیں۔ جی میں آئے تو ننھے ننھے پیروں پر ادھر اُدھر دوڑتا پھرے، سب انتظام ہے۔ کہیں نوک دار رکاوٹ نہیں۔ مگر نہیں، یہ ہے کہ اسے ٹافی ہی درکار ہے؟ میٹھی گولی۔۔۔ اس میٹھے زہر میں کیا رکھا ہے آخر؟ اس کے دانت میں کیڑا اور پیٹ میں شاید بل پڑ جائے۔ پچھلی بار بھی صرف ایک ٹافی کھائی تو کیسے جلاب سے بے حال ہو گیا تھا۔ جیسے پچک کر آدھا رہ گیا ہو۔ آخر اس کو یہی بے کار چیز کیوں درکار ہے؟
یہ کیسا آفت کا پرکالا ہے؟ باؤلا ہو گیا ہے۔ ٹافی نہ ہو گئی، آسمان ہو گیا۔ شور مچا رکھا ہے اور ختم ہو کر نہیں رہا۔ ماں کو الگ پریشان کر رکھا ہے۔ جیسے وہ تبھی ماں ہے اگر وہ  ٹافی دلائے گی۔ اگر اس کی سنو تو شاید یہ ماں، ماں ہی نہیں۔ ماں کی مامتا کی کہانیاں اور قصے خاک میں مشہور ہیں۔ خواہ مخواہ اس کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔ پیروں تلے کاہے کی جنت اگر یہ بچے کو ٹافی بھی نہ دلائے؟ من پسند کھٹی اور میٹھی ٹافی۔۔۔ یہ ماں، کہاں کی ماں؟ مائیں ایسی ہوتی ہیں بھلا؟ بچے نے خود کی جان ہلکان کر دی اور اس کو قطعی پرواہ نہیں؟
ٹافی چاہیے؟ ٹھہرو، میں جانتا ہوں۔ روؤں گا تو رونا ہی تو کام آئے گا۔ پہلے بھی تو یہی رونا کام آتا تھا، اب بھی آئے گا۔ کیوں نہیں آئے گا؟ یہ تو اب ہوا ہے کہ میں توتلی تت کر کے مانگ لیتا ہوں۔ جب تتلا بھی نہیں سکتا تھا، تب تو یہی رونا کارآمد تھا۔  کچھ چاہیے تو رو دھو لو۔ رونے پر ماں بھی جان جاتی تھی۔ میں بھوکا ہوں تو رو دیا۔ وہاں جلدی جلدی نپل سے لگا دودھ دلا دیا۔ ایک کونے میں کھڑا رو رہا ہوں تو شاید میں نے پھر پیمپر بھر دیا ہے۔ وہ دوڑی دوڑی نیم اب گرم پانی سے مجھے دھلوا رہی ہے۔ بے تحاشہ روئے جاتا ہوں تو شاید تاپ ہو گا۔ تاپ نہیں ہے تو پیٹ میں درد ہو گا۔ بچہ ہوں، پیٹ میں درد ہو جاتا ہے۔ سو، ایک دم میٹھا پانی پلایا اور میں روتے روتے سو گیا۔ جاگا تو درد بھی نہیں اور ماں بھی سرہانے لگی بیٹھی ہے۔ رونا ہی تو کام آتا آیا ہے، اب بھی آئے گا۔ ہونہہ، میٹھا پانی تو پلا سکتی ہے مگر میٹھی ٹافی نہیں دلائے گی۔ کون جانتا ہے، یہی دنیا ہے۔ ماں تک اب یہ چالیں جان چکی ہے۔ کتنی دیر ہو گئی۔۔۔؟ روئے جاتا ہوں مگر یہ ہے کہ اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی؟ ابھی ابھی روتے کو ڈانٹ پلا کر گئی۔ میں روؤں نہیں تواور کیا کروں؟ اتنی درشت؟ پھر ٹافی کا کیا؟ یہ ماں تو میری ماں ہی نہیں اور وہ ٹافی۔۔۔ وہ بھاڑ میں جائے، مجھے درکار ہی نہیں ہے۔
نہیں ہے تو نہ سہی۔ رونا کام آیا اور نہ ہی یوں مچلنا۔ منہ بھی بسور لیا اور دیکھو ماں سے لپٹ کر بتا بھی دیا۔ مگر ٹافی ہے کہ نہیں ملنی۔ اب پھس پھس کرتا، میں کتنی دیر تک یوں ہی موندھ پڑا رہوں گا؟ رہنے دو۔ ماں تو خیر، اس کی بات ہی نہ کرو۔ میری بلا سے یہ ٹافی بھی جائے، آگ میں جھونکی جائے۔ پھر، ٹافی میں ایسی کیا خوبی ہے؟ اس کی لیس چپک جاتی ہے۔ ٹافی کسے درکار ہے؟ ماں دے سکتی تھی، نہیں دے رہی تو کیا میں ٹافی کے لیے جان دے دوں؟ بھول بھال جاؤں گا۔ ٹافی ہے، کوئی ساری دنیا تھوڑی ہے۔ نہیں ملتی تو کیا اب جی مار دوں؟چھوڑو بھی،  میں یہ بھالو کو فرش پر گھسیٹ لیتا ہوں۔ پیانو کو دباؤں تو ٹن ٹن ہو جائے گی۔ وہ اچھا بھلا تکیہ پڑا ہے تخت پوش پر۔ اس پر سوار ہو کر شاید فوٹو کی فریم تک ہاتھ پہنچ جائے۔ بھاگ کر تکیے پر سوار ہوا تو خود تکیے سے چند انچ اوپرہاتھ  نہیں پہنچ پایا۔ دفع کرو، یہ بھی بے سود ہے۔ فریم نہ سہی، باقی تو یہ اچھی بھلی جگہ ہے۔ چنگی بھلی، جو چاہے میں یہاں کرتا پھروں۔ مجھے کچھ کمی ہے بھلا؟  یہاں پھدک کر میز پر سوار ہو جاؤں یا گھوم کر بے بی کارٹ میں گھس جاؤں۔ پلنگ پر چڑھ لوں تو سپرنگ پر اچھل سکتا ہوں۔ ننگے فرش پر دوڑ کر دروازے کے ہینڈل سے لٹک کر اسے مروڑنے کے سوا بھی کوئی کھیل ہے؟
وہ کھڑکی کے پردے سے لپٹ کر جھول لوں ۔۔۔ اچھا، پردے سے لٹک کر جھولا جھولوں گا۔ یہ کیے تو خاصے دن ہو گئے۔ ماں سے آنکھ بچا کر یہ کرتب نہیں کیا۔ پردے کو قد سے اوپر پکڑ کر ٹانگوں کے سہارے لپٹ گیا اور یہ ہلارا۔۔۔وہ ہلارا۔ تیسرے ہلارے پر بڑھتے ہوئے وزن کی وجہ سے پردے کی ہُک سریے سے اکھڑ گئی اور سارا پردا، نلکی اور میرے سمیت  چھناکے سے فرش پر آ رہا۔ میں چوٹ سے بے حال ہو گیا اور درد سے چیخ پڑا۔
ماں ہانپتی ہوئی، بھاگی بھاگی آئی۔ لپک کر مجھے بانہوں میں بھینچ لیا اور جہاں جہاں اسے لگتا کہ میں چوٹ سے بلبلاتا ہوں۔۔۔ ملنے لگی، سہلاتی گئی۔ آنسو پونچھے، بہلایا اور پھر بھینچ کر خود سے لگا لیا۔ ڈر کے مارے جیسے میری جان نکل گئی۔ ہچکی بند رہی اور میں ماں کی چھاتی سے چمٹا روتا رہا۔ اسی طرح خاصی دیر گزر گئی۔
ہدک ہدک کر روتا رہا، پھر ماں کی جھولی میں ہی سو گیا۔ بےبی کارٹ میں جاگا ہوں تو وہ سرہانے پر نہیں. جو درد تھا، وہ بھی غائب ٓہے.
ہاں یہ کہ، مٹھی میں دیکھا تو ٹافی بھینچ رکھی ہے!

( 22 مئی، 2015ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر