نئی پرانی کہانی - نقطہ

بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی گزشتہ تمام اقساط اس لنک پر ملاحظہ کریں۔
قسط 2: نقطہ
٭٭٭
میری ایک خواہش ہے۔ میں یہ جاننے کو بے چین رہتا ہوں کہ آخر یہ اتنی بڑی کائنات جس میں اربوں کہکشائیں اور ان میں کھربوں ستارے ہیں ، آخر اتنی بڑی کائنات کی کہانی کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟
مجھ سے خبطی کو کیا کہیے گا، جو ہر دم ان سوالوں میں کھویا رہتا ہے اور خود ہی جواب تراشتا رہتا ہے۔ مگر میرے لیے، یہ صرف دیوانے کا خواب نہیں ہے۔ میں ہوش و حواس میں ان سوالوں پر غور کرتا ہوں اور جواب تلاشنے کو نشانیوں کا سہارا لیتا ہوں۔ یہ نشانیاں ہر جا، ہر طرف بکھری پڑی ہیں اور ان کا کوئی شمار بھی نہیں۔ اس بابت، سب سے بڑی نشانی ہمارے سر پر تان رکھا یہ وسیع آسمان ہے۔
کوئی ایسی رات، جب چہار سو اندھیرا پھیل رہا ہو اور ایسے میں ہلکی ہوا چلتی ہو۔ کبھی باہر کھلے میں نکل کر بیٹھیں تو ٹم ٹم کرتے تاروں سے بھرے آسمان میں جھانکنے سے زیادہ پُر لطف منظر کوئی نہیں ہے۔ ایسا منظر جسے دیکھ کر کوئی بھی بے خود ہو جائے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آتا کہ وہ کیسا انوکھا منظر دیکھ رہی ہیں۔ لاکھوں، بلکہ کروڑوں کی تعداد میں گویا روشن دیے ہوں، جو ہمارے سروں کے اوپر ٹمٹما رہے ہیں۔ سارا آسمان روشنیوں سے بھرا ہمیں ساکن نظر آتا ہے۔ یہ اچھا بھلا مسحور کن منظر ہے مگر یہ سارا نظارہ نہیں ہے۔ ہم جو دیکھتے ہیں، جو سنتے ہیں اور جو محسوس کرتے ہیں وہ پہلی سیڑھی ہے۔ مگر ہمارے حواس ہم کو سب کچھ دکھانے سے قاصر ہیں، یوں جب ہم خود اپنے آپ سے نکلیں تو اپنے آپ اور حواس خمسہ جیسے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت پر بھروسہ کرنے سے بھی زیادہ بڑے اشارے ہیں جو ہمیں وہ راہ دکھاتے ہیں جن کے بل بوتے پر میں اپنی خواہش کا پیچھا کرتا ہوں۔۔۔ خواب کی تعبیر پاتا ہوں۔ یہاں آنکھیں ہمیں دھوکہ دیتی ہیں۔ یہ وہی دیکھتی ہیں جو ان کو دکھتا ہے۔ دیکھنے کی صلاحیت بھلے سب سے مضبوط حس ہوا کرتی ہو، پھر بھی یہ لاچار ہے۔ جو منظر یہ دیکھ رہی ہیں، یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جو اس تاروں سے بھرپور آسمان میں ہمیں ایک نظر میں دکھ رہا ہے، وہ اس پوری کائنات کا کہیے تو بس دس لاکھ حصوں میں ایک حصہ ہے۔ روشنی کی ہر کرن کوئی ایک ستارہ نہیں، پوری کہکشاں ہے جس میں بے شمار ستارے ہیں۔ روشنی کی یہی گنتی کی بےشمار کرنیں، ہمیں اس کائنات کے ماضی، حال اور کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل کا حال بتا سکتی ہیں۔
جب ہم اس کائنات کے مستقبل کا حال بتانے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ کسی نجومی کی پیشن گوئی جیسا نہیں ہے۔ یہ کوئی پراسرار علم نجوم نہیں بلکہ یہ حیرت سے پُر ایک ایسا انکشاف ہے جو علم نجوم سے کم بھی نہیں ہے۔ یہ قابلیت ان نشانیوں کی مرہون منت ہے جو مجھے راہ دکھاتی ہیں۔ ڈھکے چھپے اشارے ہیں جن کی مدد سے آج میں یہ جان پایا ہوں۔ یہ نشانیاں کوئی طوطے کی فال نہیں بلکہ ان ستاروں کی گردش کا نشان ہے جو ہمیں اس راز کا پتہ بتاتا ہے۔
ستاروں کی گردش کا راز آسمان سے آ رہی تاروں کی چھن چھن کرتی روشنی میں پنہاں ہے۔ اس روشنی کا پیچھا کریں، اور صرف اپنی آنکھ سے نہیں بلکہ اپنی دھوکے باز آنکھوں کے ساتھ خلائی آلے نصب کر لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دکھنے میں یہ ستاروں کی روشنی ہلکی سرخی مائل ہے اور جیسے ایک تان سی تنی ہوئی ہے۔ ایک نظر میں پورا آسمان راتوں میں ہمیں ایسے نظر آئے گا جیسے کسی گلابی شیشے کے پیچھے سے دیکھ رہے ہوں۔ گویا، تاریکی میں سرخی گھول رکھی ہو۔ اسی سرخی میں یہ اشارہ ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ دراصل یہ سارا جہان پھیلتا جا رہا ہے۔
بھلا کیسے؟ آئیے باہر چلتے ہیں۔ میں اپنے گھر سے نکل کر باہر سڑک پر بیٹھ کر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتا رہتا ہوں۔ اکثر کوئی منچلا، اپنی تیز رفتار موٹر کار کے انجن کو غراتا ہوا گزرتا ہے تو دور سے آتے ہی انجن کی تیز ہوتی آواز سے مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تیزی سے میرے گھر کی طرف بڑھ رہی ہے اور جیسے جیسے، یہ قریب پہنچتی ہے تو اس کی آواز پتلی اور تیز ہوتی جاتی ہے۔ پھر جب شُوں کر کے گاڑی گزر جائے تو دھیرے دھیرے دور ہوتے، انجن کی آواز بھاری اور دھیمی ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ گم ہو کر پھر سے سکوت ہو جائے۔ گاڑی کے انجن کی آواز کا تیز اور پتلا ہونا مجھے اس کی آمد اور یوں اس کا مدھم اور بھاری ہوتے چلے جانے سے میں آنکھیں بند کر کے بتا سکتا ہوں کہ گاڑی، آیا میری طرف آ رہی ہے یا مجھ سے دور جا رہی ہے۔ روشنی کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے ہمارے کان سن سکتے ہیں، ویسے ہی ہماری آنکھیں دیکھ پاتیں تو ہمیں نظر آتا کہ گاڑی تیز رفتاری سے آتے ہوئے ہلکی نیلگوں اور دور جاتے ہلکی سرخی مائل نظر آتی ہے۔ سو، خلائی دوربین لگا کر دیکھیں تو آسمان میں تاروں کی روشنی اور اردگرد پھیلی بے پناہ سیاہی کا سرخی میں گھلا ہونا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ساری کہکشاؤں کی روشنیاں، ہم سے دور جا رہی ہیں۔ گویا، صرف وہ کہکشائیں جن کی روشنیاں ہم دیکھ سکتے ہیں وہی نہیں بلکہ پوری کائنات پھیل رہی ہے۔ کائنات میں ہر چیز دوسری سے دور ہوتی جا رہی ہے اور یہ پھیلاؤ تمام سمتوں میں ہے اور ہر گزرتے ہوئے لمحے میں اس کا پھولنا بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جیسے، کسی غبارہ میں پھونک بھرتی جا رہی ہو۔
یہ غبارہ، سدا پھولتا تو نہیں رہا ہو گا۔ جس طرح کا یہ پھیلاؤ ہے، اس کا یہ اصول تو نہیں ہوتا۔ اس بڑے غبارے کے قصے کا یہ آغاز تو نہیں ہے۔ داستان کا آغاز تو یوں، بہت پہلے کسی خاص لمحے سے ہوا تھا۔ پہلا لمحہ۔ جب اس غبارے میں کوئی ہوا نہیں تھی، حتیٰ کہ خود یہ غبارہ بھی نہیں تھا اور وہ لمحہ بھی نہیں جب یہ پھولنا شروع ہوا۔ اس لمحے کو دیکھنا ہو تو ایک ہی صورت ہے۔ یعنی، ہمیں اس غبارے میں سے ہوا نکالنی ہو گی۔
اگر پھس کر کے اس غبارے سے ہوا نکلتی ہے، تو اس غبارے میں ہر چیز واپس اپنے اصل کی طرف لوٹنا شروع ہو جائے گی۔ جیسے، کوئی وی سی آر کی فلم ریورس میں دوڑتی ہو۔ گھڑی الٹی چلتی ہو۔ یوں، ہر کہکشاں، ہر ستارہ اور ہر سیارہ واپسی کی طرف سفر شروع کرے گا۔ یوں، جس قدر یہ کائنات پھیل چکی ہے، اس کی فلم وقت کے ساتھ ریورس چلانے میں پورے چودہ ارب سال بیت جائیں گے۔ پوری کائنات اور اس میں ہر ایک ستارہ اور اس ستارے کا ایک ایک ذرہ دوسرے میں ضم ہوتا چلا جائے گا۔ ہر شے ایک دوسرے کے قریب آتے آتے اتنا قریب آ جائے گی کہ وہ خاص، پہلا لمحہ آن پہنچے گا جب پوری کائنات، ایک نقطے سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ اس ایک نقطے سے ہماری کائنات اور اس کی ہر شے کی کہانی کی ابتداء ہوتی ہے۔ یہ لمحہ، آج سے چودہ ارب سال پہلے وقوع پذیر ہوا تھا۔
اب اندازہ لگائیے، پہلے لمحے میں جب کچھ بھی نہیں تھا، خود نقطہ بھی دیکھنے میں نظر نہیں آ رہا۔ اس ایک نقطے میں، جس میں پوری کائنات سمو رکھی ہے۔ وہ ایک دھماکے سے پھٹ پڑے۔ پھر یہ دھماکہ اس قدر شدید ہو کہ اس کی دھمک آج بھی جاری و ساری ہو۔ بوجوہ، آج چودہ ارب سال کے بعد بھی اس کائنات کا ایک ایک ذرہ، حرکت میں ہے۔ پوری کائنات پھیلتی جا رہی ہے اور اندازہ ہے کہ اگلے تیس ارب سال تک یہ سب کچھ یونہی پھیلتا رہے گا۔ دھماکہ، اس قدر عظیم ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے۔ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ عدم میں ہوئے اس واقعے کا نتیجہ تھا کہ اس کی وجہ سے ہر شے پیدا ہوئی۔ یہ کہکشاؤں کے جال، دیوہیکل ستارے، نظام اور سارا کارخانہ قدرت، جس میں قدرت کے بنائے سارے اصول بھی ہیں۔ الغرض، ہر شے یہاں تک کہ اس لمحے نے بھی تبھی جنم لیا تھا، جس کے سہارے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کہانی کی ابتداء ہو چکی ہے۔ عدم میں ہوئے ایک دھماکے کے سبب آج سب کچھ ہے۔ کائنات کے ازل میں ہوئے اس دھماکے کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔
اب، بگ بینگ کے نتیجے میں جو سماں بندھا ہے اور پہلے لمحے کی پیدائش ہو چکی ہے، کائنات کی کہانی میں اس لمحے کی داستان کا آغاز ہوا چاہتا ہے!


(ماخوذ)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر