نئی پرانی کہانی - آغاز

بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی تمام اقساط اس لنک پر ملاحظہ کریں۔
قسط 1: آغاز
٭٭٭
میرا نام سٹیفن ہاکنگ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے اپنے تخیل سے فرصت نہیں ہے۔ میں ایک ایسا خوابیدہ شخص ہوں جس کو کہانیاں بُننے کا شوق ہے۔ سچ کہوں تو ایسی حالت میں، جبکہ اس کرسی پر سارا دن بیٹھے ہوئے میرے پاس سوچنے کے سوا کوئی کام نہیں اور خیال بُننے کے علاوہ کوئی مشغلہ نہیں۔ خواب دیکھنا ہی میرا حال ہے تو یوں، میں ہر وقت کائنات کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ کائنات کے خواب دیکھتے، میں کبھی بوریت کا شکار نہیں ہوا۔ ویسے بھی، یہ جہان اور کل عالم کائنات سوچنے اور دیکھنے کے لیے اچھی خاصی دلچسپ جگہ ہے۔ اب آپ ہی بتائیے، جب رات کو تاروں سے بھرا آسمان جگمگاتا ہے تو ان تاروں کو دیر تک دور تلک تاڑتے رہنے میں کون ہو گا، جسے لطف نہیں ملتا؟ اس سارے سماں سے ، جس کی کوئی انتہا بھی نظر نہیں آتی، اس سےکبھی کسی کا دل بھر پایا ہے؟
میرے لیے خوابوں کا بسیرا آسمان میں ہے۔ سر کے اوپر تانے ہوئے، تاروں سے بھرے آسمان میں جھانکوں تو ایسا لگتا ہے جیسے بہت سارے دیے ٹمٹماتے ہوں مگر یہ صرف ٹم ٹم کرتے دیے تو نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جگ جگ جگمگاتی ہوئی کرن پوری پوری کہکشاں کا نظارہ ہے۔ روشنی کی ہر ایک رمق میں، جو میں دیکھتا ہوں ایک جہان دیگر آباد ہے۔ بیچ ہر کہکشاں کے چہار کھرب ستارے جگمگاتے ہیں۔
میرے خواب تک، اس کائنات کی بے پایہ وسعت کا احاطہ نہیں کر پاتے۔ جیسے، ایک ایسی کہکشاں جو دور سے دیکھیے تو جیسے مرغولہ نظر آتی ہے اور اس مرغولے میں پیچ در پیچ کئی کھرب ستارے جگمگا رہے ہیں۔ ان میں ایک نہایت عام سا ذرد رنگ کا ستارہ ہے، جس کے گرد آٹھ سیارے تھکے بغیر، گول گول چکر کاٹتے پھرتے ہیں۔ صرف ایک ایسا سیارہ جس پر زندگی دوڑ رہی ہے اور زندگی کا نشان، یہاں ایک ایسی نوع کی بسر ہے جس کو تاروں سے بھرا آسمان پیارا معلوم ہوتا ہے۔ میری اور آپ کی یہ نوع انسانی کائنات کو تسخیر کرنے کا خواب بسائے بیٹھی ہے۔
ہمارے خواب بھی ہمیں کہاں سے کہاں لے گئے؟ تاروں سے بھرے آسمان کو تاڑنے کا شوق چرایا تو پچھلے سو برسوں میں آسمان کو ایسےکھنگال لیا ہے کہ شاید اب تک پوری نوع انسانی کے لیے اتنا بڑا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔ ہمارے آباء، ایک عرصہ تک ان خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھنے کی حسرت میں چل بسے۔ مجھ سے پوچھیے تو یہ خواب اب حقیقت سے قریب تر ہے۔ کائنات کی ساری داستان ہو شربا ہے۔ ہم ایک حیرت کدے کا حصہ ہیں ۔ یہ کہانی چودہ ارب برس پرانی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس سے دگنے عرصے تک نیا رہے گا۔ حیرت کا عالم ایسا ہے کہ ہم وہ دیکھتے ہیں جو ہمیں نظر آتا ہے، مگر تماشہ یہ ہے کہ ساری کائنات، اس میں اربوں ستاروں کے مجموعے والی کہکشائیں۔۔۔ یہ دنیا اور ہر وہ شے جس سے ہم واقف ہیں حتی کہ خود ہم نے بھی کبھی ستاروں کی دھول سے جنم لیا تھا اور دھول میں دھل جائیں گے۔ سارا زمان و مکان اور وہ سارے قانون جن کے بل بوتے پر یہ بساط قائم ہے، ہر شے کا خمیر فنا سے اٹھایا گیا ہے۔ یوں، یہ پرانی کہانی فنا سے جنم لینے کی اور نئی داستان فنا میں گم ہو رہنے کی ہے۔
کہانی کا آغاز، اس لمحے سے ہوتا ہے جب کسی شے کا وجود نہیں تھا اور پھر اگلی ہی ساعت میں سب کچھ تھا۔ یہ اس کے بعد بیت جانے والے ہر لمحے کی کہانی ہے۔ یہی نہیں، یہ اس وقت کی داستان بھی ہے جو ابھی ہم بیتا رہے ہیں اور ہر اس لحظے کی روداد بھی ہے جو ابھی گزرنا باقی ہے۔ یہ زمان و مکان کی کہانی ہے۔۔۔ یہ ہر شے کی کہانی ہے، جو شروع ہوا چاہتی ہے!


(ماخوذ)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر