سانس بھر کی دوری

نوٹ: 'صلہ عمر' پر تحاریر صرف اظہار اور لطف کی غرض سے لکھی جاتی ہیں۔ ان میں مقصدیت تلاش نہ کریں۔ مزید براں، اگر آپ سنجیدہ موضوعات کی تلاش میں ہیں تو یہ بلاگ آپ کے لیے نہیں ہے۔ اس نوٹ کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ آپ تحریر نہ پڑھنے کا فیصلہ کریں۔ اس بلاگ پر قاری کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ شکریہ)
---
کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ کچھ لکھوں۔ ادھ بُنی 'نئی پرانی کہانی' کی تازہ قسط بھی لکھی ۔ کچھ اور بھی لکھا مگر بات یہ ہے کہ وہ ادب کیا، خود میرے اپنے اخلاق کے معیار سے بھی کہیں کمتر تھا۔ وہ کیا کہتے ہیں، گھسیٹ کر ایسی جگہ پہنچا دیا کہ کیچڑ میں لوٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ ایسی تحریروں کی نہ تو کوئی عمر ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مصرف، بس بھڑاس نکال لی۔ سو، بعد اس کے اب بھی وہی حالات ہیں، لکھنے بیٹھو تو دل اس عورت کے کوسنوں کی مانند بھرا رہتا ہے، جو جس قدر کوشش کر رہے، عادت سے مجبور، اپنی پسند سے بیاہ کر لائی ہوئی بہو سے پھر بھی لڑ پڑتی ہے۔خود دل بھی اب اس کوفت سے تنگ آ گیا ہے کہ یہ خود میری طبیعت کے منافی ہے۔
ساون بھی جوبن پر ہے۔ ایسی حبس ہے کہ بس ہو گئی ہے۔ پسینے بہہ رہے ہیں اور جی ویسے ہی تنگ رہتا ہے۔ ہر وقت اور تو کوئی کام نہیں، گو گرمی ہے مگر جی چاہتا ہے کہ چائے پیتے رہو۔۔۔ مگر نہیں پیتے۔
ہوا خوری کے بہانے باہر جاؤ تو وہاں بھی کوئی دوسرا حال تو نہیں۔ اس وقت ہوا ایسی بند ہوتی ہے جیسے شاید، آج کا کوٹہ پورا ہو گیا ہو۔ اب بس اتنی سی ہی بوجھل ہوا ہے کہ رات بارہ بجے تک کام نکل رہے اور یوں نئے دن کی اپنی ہوا پھر سے چلنے لگے گی۔
ہوا کی بات چلی ہے تو وہ جسے یار لوگ باد صبا کہتے ہیں۔ اس شہر میں، جس کے آس پاس کوئی بڑی ندی، کوئی دریا بھی نہیں بہتا تو یہاں کے باسی، رات کے تیسرے پہر میں چلنے والی ہواؤں سے نابلد ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ کیسا احساس ہوتا ہے کہ آپ حبس میں، پسینے سے تر بیٹھے خود کو کم اور موسم کو زیادہ کوس رہے ہیں۔ کچھ سوجھتا ہی نہیں اور پھر اچانک، نہ جانے کہاں سے۔۔۔ پچھلے پہر، تازہ ہوا کا ہلکا سا جھونکا تھپیڑتا ہے۔ ہلکی ہوائیں چلتی ہیں۔ بوجھل ہوا آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑتی جاتی ہے اور رات بھی جیسے ٹھہری ہوئی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ اب گزرنا شروع ہو جاتی ہے۔
رات کا یہ پہر، سکون کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس وقت کا کوئی مول نہیں۔ اس ہوا کا کوئی جواب نہیں۔
شہروں کو یہ ہوا نصیب نہیں ہوتی، یا شاید شہریوں کو اس کی قدر ہی نہیں ہوتی۔ وہ شہر جو دریاؤں کے کناروں پر آباد ہیں۔۔۔ میرا ان میں بسیرا رہا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہ شہر پوری پوری رات تپتے رہیں گے مگر ان کو اس ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ کوئی بھولا بھٹکا جھونکا، اپنے بل بوتے پر اگر شہر میں آ بھی رہے، مگر سیمنٹ اور سریے کے پختہ مکانوں میں بسر کرنے والوں کو کیا خبر کہ باہر کیسی ہوائیں چلتی ہیں؟ ان کو اس کی قدر ہی نہیں ہوتی اور وہ اپنی پوری زندگی، اس بھول میں بسر کر دیتے ہیں کہ پکے مکانوں میں ان کو جو یہ چھت میسر ہے، وہی ان کا حاصل ہے۔ وہ کبھی، اس سے باہر سوچتے ہی نہیں ہیں۔وہ سوچ ہی نہیں سکتے۔ وہ اسی میں خوش رہتے ہیں۔ بستے رہیں، ہماری بلا سے۔۔۔
بٹگرام شہر سے نکلیں تو اوپر تھاکوٹ کا علاقہ آتا ہے۔ یہ عجیب سی جگہ ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو سوچ کر ہی میرا دم گھٹتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک طرف دریا بہتا ہے اور دوسری طرف اتنے اونچے پہاڑ ہیں کہ اوپر سے روشنی بھی کھل کر نیچے نہیں پہنچ پاتی۔ سڑک ہے جو پہاڑ سے لپٹی جاتی ہے اور سڑک کے اوپر اور نیچے، ڈھلوان پر تھاکوٹ شہر آباد ہے۔مجھے تو عجیب گھٹن ہوتی ہے یہاں۔ ہر وقت جیسے کسی نے سانس کو گھونٹ رکھا ہو۔ مگر، یہاں کے جو آبائی ہیں۔ ان کا چونکہ گھر ہے، انھوں نے ساری عمر یہاں بیتائی ہے اور وہ اس کے سوا کچھ سوچتے ہی نہیں تو ان کے لیے یہی جنت ہے۔ وہ یہیں خوش رہتے ہیں۔ تھاکوٹ والے دنیا میں جہاں چلے جائیں، واپس یہیں آن رہیں گے۔ اب ان سے کوئی کیا بحث کرے کہ یہ کیسی جگہ ہے؟
مگر، صرف چند کلومیٹر دور، تھاکوٹ سے تھوڑا نکل کر دیکھیں اور الائی کی جانب نکل لیں تو سماں دوسرا ہے۔ یہاں نیچے دریا کی کھائی سے قدر اونچے ایک گاؤں ہے۔ کبھی موقع ملے تو شمالی علاقہ جات کی سیر کے شوق میں نکلے ہوں تو تھاکوٹ پہنچ کر دم سیر ہونے کے بہانے سندھ دریا میں پاؤں بھگوتے، ہو سکے تو الائی روڈ پر زیادہ نہیں، بس چند کلومیٹر اوپر نکل لیں تو اس گاؤں میں پہنچ جائیں گے۔ اب گاؤں کا نام مجھے یاد نہیں، مگر کیسی جگہ ہے، کوئی کیسے بتائے؟
یہاں جائیے بھی تو شام کو جائیے۔ پہاڑ کے تقریباً دامن میں، ڈھلوان کھائی میں آباد ہے۔ شام کو جوں ہی دھوپ ٹھنڈی پڑنا شروع ہوتی ہے، گاؤں کا ہر شخص بوڑھا جوان اور بچہ بچہ بازار میں پہنچ جاتا ہے۔ ایسی چہل پہل ہوتی ہے کہ شاید ،تھاکوٹ بازار میں بھی ایسی رنگا رنگی اچھے وقتوں میں بھی نہیں ہوتی ہو گی۔ شاید، تھاکوٹ میں بھی ایسے ہوں جن کا تعلق تو تھاکوٹ سے ہوتا ہو مگر وہ شام گزارنے اس گاؤں میں آتے ہوں۔ یا شاید، وہ اسی گاؤں کے باسی ہوں اور تھاکوٹ کے بازار میں کوئی دکان یا کاروبار کرتے ہوں مگر لوٹ کر شام کو یہیں آتے ہوں۔ کوئی یہاں تکے بھون رہا ہے تو بازار میں اس کی سوندھی خوشبو اور دھواں اٹھ رہا ہے۔ پورا بازار کریانے، منیاری والے سبھی مصروف ہیں۔ وہ دیکھیں، وہاں بوڑھوں نے تھڑوں پر چلم کی محفل سجا رکھی ہے۔ چست ٹوپیاں پہنے جوان یہاں وہاں ٹولیوں میں بیٹھے ہیں اور مغرب کی اذان کی راہ دیکھتے ہیں۔ جدھر دیکھیے، بچے ہی بچے ہیں۔ کوئی باپ کی ٹانگ سے لپٹا ہے اور دو چار جو تھوڑے بڑے ہیں تو مٹی میں اٹے لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔ چھوٹی لڑکیاں، وہ کیا کھیل ہوتا۔۔۔ ہندکو میں اسے 'چنتو' کہتے ہیں، وہ کھیل رہیں یا پھر گڈے کو گڈی سے بیاہ رہیں۔ آئے ہائے، میں اور کیا بتاؤں کہ اس گاؤں میں شامیں کیسی ہوتی ہیں؟ ہلکی ہوا، ٹھنڈی ہوتی ہوئی دھوپ اور پھر ایسی گرمجوشی۔
میں جب الائی جایا کرتا تھا، تو کوشش رہتی کہ مانسہرہ شہر سے سفر ایسے وقت میں شروع کروں کہ شام پڑنے پر اس گاؤں میں پہنچ جاؤں۔ ڈرائیور یہاں پہنچ کر بازار کی چھوٹی مسجد میں سستانے لگتا اور میں پوری پوری شام یہاں بیٹھا رہتا۔ دودھ پتی، تکے سے شغل اور بوڑھوں سے خوش گپیاں۔ اچھا، اوپر گاؤں کے چھوٹے سے بازار سے نیچے دیکھیں تو ڈھلوان پر گھر ہی گھر ہیں۔ یہ اچھا خاصہ بڑا گاؤں ہے۔ شاید، تحصیل الائی کی سب سے گنجان آبادی والا گاؤں۔ تو جب بازار میں مردوں کی بیٹھک رہتی تھی تو عورتیں ساری ان گھروں کی چھتوں پر جمع ہو رہتیں۔ دور سے آپ دیکھیں تو عورتیں نظر آتیں۔ آپ ان کے چہرے نہیں دیکھ سکتے تھے، ان میں پہچان، تمیز نہیں کر سکتے تھے کہ وہ فلاں کون عورت ہے۔ مگر ان کو دور سے دیکھ کر اندازہ لگا سکتے تھے، ان کو یوں جان سکتے تھے کہ بڑھی بوڑھیاں چارپائیوں پر ٹکی ہوئی اور نو عمر لڑکیاں چارپائیوں کی بان سے لٹکی ٹانگیں دبا رہی ہیں۔ جوان لڑکیاں ٹولیاں بنائے بیٹھی دور سے صاف اٹھکیلیاں کرتی نظر آتیں۔ اور جو، عورتیں تھیں، بیاہی ہوئی یا بچے جننے والی، وہ ایک طرف ہو کر، اطمینان سے دو دو اور چار بیٹھیں کچھ نہ کچھ کرتی ہوئی مصروف دیکھ سکتے۔
میں سوچتا ہوں، تھاکوٹ والے کتنے بدنصیب ہیں اور اس گاؤں کے لوگ کیسے خوش نصیب رہے ہیں۔ دونوں جگہوں میں سانس بھر کی دوری ہے اور دیکھیے تو کہاں بس رہے ہیں؟ ایک کل وقت گھٹن سے دوچار ہیں اور دوسرے آزادی سے پھلانگ رہے ہیں۔ شاید، تھاکوٹ صرف بازار ہے۔ یہاں پر سہولت ہے۔ سڑک بڑی ہے، پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مکان پکے ہیں اور لوگ مصروف رہتے ہیں۔ وہ اسی میں خوش رہتے ہیں۔ ان کے لیے شاید یہی سب سے بڑی بات ہے۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آزادی بھی کوئی شے ہوتی ہے۔ خوشی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔سہولت، روٹین اور جیسا ہم جانتے ہیں، پکے مکانوں اور بڑی سڑکوں والے بازار کی آسائشوں سے زیادہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
رات کو جلد سو جانے والے کیا جانیں کہ رات کے پچھلے پہر میں کیسی ہوائیں چلتی ہیں؟ شہروں کے مکانوں میں بسنے والے کبھی نہیں جان سکیں گے کہ روٹین سے آگے بھی کوئی معاملہ ہوتا ہے۔ مہین بھر فاصلے پر جو خوشی ہے، اسے پانا، اس کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے نصیب میں یہ ہے ہی نہیں۔ وہ گھن چکر کے ماننے والے ہیں۔ وہ اسی میں خوش رہتے ہیں۔ ان کو اس حال میں لے بھی آئیے تو وہ واپس اسی چکر میں جانے پر مصر رہیں گے۔ ان کا خیال ہے، شاید یہ جو بازار کی زندگی ہے، پکے مکانوں وغیرہ میں، یہ جو رات کا پہلا پہر ہے، وہی سب کچھ ہے۔
میں سوچتا ہوں، ہم انسانوں کے لیے یہ خوش و خرم زندگی کے ڈھکوسلوں، عہدوں اور رشتے ناطوں کے علاوہ بھی ایک زندگی ہے۔ اس سب سے بڑھ کر بھی ایک موجود ہے۔ ہمارا وجود، اس حال میں کسی بھی طرح پابند نہیں ہے۔ یہ جگہ جس کی میں بات کر رہا ہوں، غرض سے آزاد ہے۔ ہماری ریت، رواج، روٹین اور یہ طرح طرح سے پابند تھاکوٹ نما زندگی سے بس سانس بھر دور، ایک گاؤں ہے۔
 اسی گاؤں میں میرا بسیرا ہے۔  وہیں بستا ہوں، جو چاہو تو مجھ سے وہیں آن ملو!

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر